011 - بنیاد پرست دوسری قسط تحریرندیم اختر سلسلے وار ترجمہ (دوسری قسط)

تحریر : ندیم اختر

بنیاد پرست دوسری قسط

کیا تم ان داغ دار جینز میں ملبوس لڑکیوں کو دیکھ رہے ہو؟ اُن میں، اور ہمارے قریب کی نشستوں پر براجمان خاندان کی خواتین میں جو واضح فرق ہے وہ ان خواتین کے روایتی لباس کی وجہ سے ہے۔ نیشنل کالج آف آرٹس یہاں سے بس چند ہی قدم دور ہے سو اکثر وہاں پڑھنے والے اور والیاں چائے پینے یہاں چلے آتے ہیں۔ اُن میں سے ایک لگتا ہے تمہیں کچھ زیادہ بھاگئی ہے، خیر وہ ہے بھی خاصی خوبصورت۔ کیا تم بتانا چاہو گے کہ اپنے ملک میں، بِلا لحاظِ جنس، کوئی رومانوی سلسلہ چھوڑ کر آئے ہو۔ ویسے تمہاری نگاہوں کی حدّت سے رجحان کا پتہ تو چل رہا ہے۔

جس طرح تم نے کندھے جھٹک دیے، مجھے کچھ اندازہ نہیں ہوسکا۔ مگر میں اپنے متعلق ضرور بتاؤں گا۔ امریکا میں میری ایک محبوبہ تھی جس کا نام ایریکا تھا۔ گریجویشن کے بعد گرمیاں یونان میں گزارنے کے لئے پرنسٹن سے ایک گروپ بنا: ہم دونوں اس کا حصہ تھے اور وہی ہماری ملاقات کا سبب ٹھہرا۔ ایریکا اور گروپ کے دیگر زیادہ تر ممبر پرنسٹن کے خوش خوراکی کے لیے مشہور کلب "آئیوی" میں شامل تھے اور اپنے والدین کے تحائف یا اپنے ٹرسٹ فنڈز کی مہربانی سے اس سفر کے قابل ہوئے تھے۔ جبکہ میرے اخراجات اور زادِ سفر انڈروُڈ سیمسن کی جانب سے ملے سائننگ بونس کے رہینِ منت تھے۔ میری اس گروپ میں شمولیت ایک فٹبال کے وقتوں کے دوست اور "آئیوی" کے ممبر چَک کے سبب ممکن ہوئی تھی اور چَک ہی کے توسط سے گروپ کے کچھ دیگر لوگوں سے واقفیت بھی تھی جو میرے خیال کے مطابق مجھے "پسندیدہ شناسا" کا درجہ دیتے تھے۔

ہم مختلف فلائٹس کے ذریعے ایتھنز میں اکھٹے ہوئے۔ ایریکا کو پہلی بار دیکھتے ہی میں خود کو اس کا بیک پیک اٹھانے کی پیشکش کرنے سے نہ روک سکا۔ ایسی غضب کی پرتمکنت اور حسین تھی وہ۔ اس کے بال سر پر دلکش انداز میں بندھے تھے اور چیئرمین ماؤ کی تصویر والی مختصر ٹی شرٹ سے باہر جو جسم دِکھتا تھا وہ بےحد موزوں اور متناسب تھا۔ یہ میں نے بعد میں جانا کہ اس کا حصول برسوں کی تائی کوانڈو کی پریکٹس کا نتیجہ تھا۔ ہمارے تعارف اور مصافحے کے دوران اس کی مسکراہٹ میری وجاہت کے سبب تھی یا اسے مجھ میں کچھ مشرقی پراسراریت سی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ میں نہ جان سکا۔ اور پھر ہم نے گروپ کے ساتھ ساحلی شہر پیراؤز کا رخ کیا۔

مجھے فی الفور اندازہ ہوگیا تھا کہ میں وہاں ایریکا کا واحد پرستار نہیں تھا۔ ہمارےجزیرے کےلیے فیری میں سوار ہونے کے ذرا دیر بعد ہی عرشے کے دوسری طرف کھڑے ایک چوڑے چکلے نوجوان نے۔۔۔۔ جس کے گلے میں ایک دانت نما لاکٹ جھول رہا تھا۔۔ اپنا گٹار بجاتے ہوئے کچھ گانا شروع کردیا تھا اور صاف معلوم ہوتا تھا کہ مقصد ایریکا کو لبھانا ہے۔
"یہ کونسی زبان ہے؟" ایریکا نے میری جانب جھکتے ہوئے پوچھا، اس کی سانسیں میرے کانوں کو چھو رہی تھی۔
"میرا خیال ہے انگلش!" میں نے خاصی توجہ سے سننے کے بعد کہا۔ "یہ برائن ایڈمز کا "سمر آف سکسٹی نائن" ہے" ۔۔ وہ ہنسی، "ٹھیک کہتے ہو۔" پھر دھیمی آواز میں بولی۔۔
"واؤ، کتنا بے سرا ہے یہ!"۔ میرا اتفاق کرنے کو جی چاہا، مگر اب جبکہ مجھے اس گویے سے کوئی خطرہ نہیں رہا تھا، میں نے ایک باوقار خاموشی کو ترجیح دی۔۔

نسبتاً بڑا چیلنج چَک کے قریبی دوست مائیک کی طرف سے سامنے آیا۔ اگلے روز جب ہم آتش فشاں کے دہانے کے پاس بنے ریستوران میں بیٹھے تھے، مائیک نے اپنا بازو بڑھا کر ایریکا کی کرسی کی پشت پر رکھ دیا اور گھنٹا بھر، جب تک ہم بیٹھے رہے، وہ اسی حالت میں رہا۔ ایریکا کے انداز سے ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ اسے کوئی الجھن ہورہی ہو، البتہ اس بات نے مجھے بہت حوصلہ دیا کہ جب کبھی میں بات کرتا تو وہ بہت توجہ اور دلچسپی سے اسے سنتی تھی، اس دوران مسکراتی بھی تھی اور اس کی سبز آنکھیں مجھ پر جمی رہتی تھیں۔ لیکن بہرحال، واپسی میں جب ہم اپنی عارضی رہائش گاہوں کی طرف بڑھ رہےتھے، مائیک اور ایریکا باتیں کرتے ہوئے ہم سے پیچھے رہ گئے، اور اس رات مجھے سونے میں خاصی مشکل پیش آئی۔

اگلی صبح یہ بات میرے لیے اطمینان کا باعث تھی کہ وہ ناشتے کے لیے اکیلی اتری تھی اور یہ کہ شروع میں خاصی دیر بس وہاں ہم دونوں ہی تھے۔ اس نے سلائس پر جیم لگا کر آدھا میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
"تمہیں پتہ ہے میں کیا کرنا چاہتی ہوں؟" میرے پوچھنے پر بولی۔ "میں چاہتی ہوں اکیلی یہاں رہوں۔ ان جزیروں میں ایک کمرہ لے لوں اور بس لکھتی چلی جاؤں۔" میں نے اس سے کہا کہ اسے ایسا ضرور کرنا چاہیے جس پر وہ سر ہلانے لگی۔ "میں ایک ہفتہ بھی نہیں رہ سکوں گی۔ مجھے اکیلے رہنےکی عادت نہیں ہے۔ لیکن تم۔" اس نے سر کو قدرے ترچھا کیا اور ہاتھ باندھ لیے۔ "میرا خیال ہے تم یہاں اس طرح رہ لوگے۔"

جہاں تک مجھے یاد پڑتا تھا، مجھے کبھی تنہائی کے خوف سے سابقہ نہیں پڑا تھا لہٰذا میں نے اتفاق کرتے ہوئے وضاحت پیش کی، "میرے بچپن کے دنوں میں، ہم آٹھ کزن تھے جواپنے اپنے والدین کے ہمراہ ایک ہی چاردیواری میں بستے تھے۔ یہ ہمارے دادا کا وہ مکان تھا جو انہوں نے اپنے بیٹوں کے لیے چھوڑا تھا۔ ہمارے ساتھ ہمارے تین کتے بھی رہتے تھے، اور کچھ دنوں کے لیے ہم نے ایک بطخ بھی پالی تھی۔" وہ زور سے ہنسی اور بولی۔

"گویا تنہائی کا مل جانا تمہارے لیے عیاشی تھی۔ ہوں؟" میں نے سر ہلایا۔"تمہارے ہاں گھر کا تصور مختلف ہے۔" وہ بولی۔"بڑا خاندان، زیادہ لوگ، ڈھیروں رشتے۔ اچھا ہوتا ہوگا یہ سب۔ بندہ خود کو زیادہ مضبوط محسوس کرتا ہوگا۔"
مجھے لگا کہ میں اس کی بات پوری طرح نہیں سمجھ پایا ہوں، پھر بھی مجھے خوشی سی ہوئی۔ پھرکچھ ہچکچاتے ہوئے، کیونکہ میں ایکدم سے بہت آگے بڑھنے کا تاثر نہیں دینا چاہتا تھا، میں نے سوال کیا۔
"اور تم؟ تم خود کو مضبوط محسوس کرتی ہو؟"

اس نے لمحہ بھر کو سوچا، پھر جب وہ بولی تو مجھے لگا کہ اس کی آواز میں اداسی دَر آئی تھی۔ "بعض اوقات۔ لیکن نہیں۔ شاید نہیں۔"
اس سے پہلے کہ میں اس کی بات کا جواب دیتا، چک اور پھر مائیک ہمارے ساتھ شریک ہوگئے اور گفتگو کا رخ ساحلوں، تفریحی مقامات اور فیریوں کے اوقات کی جانب مڑگیا۔ لیکن جب میں نے ایریکا کی طرف دیکھا اور اس کی نظریں مجھ سے ملیں تو مجھے لگا کہ شاید ہم دونوں ہی اپنے بیچ نئے نئے استوار ہونے والے دوستی کے رشتے کو بڑھانا چاہتے ہیں، چنانچہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش ہمیں اپنی گفتگو کے سلسلے کو وہیں سے جوڑنے کا جلد از جلد موقع مل جائے۔

یہ موقع میسر آنے میں ڈھیر سارا وقت لگا، کوئی ہفتہ بھر۔ لیکن اگر تمہیں لگ رہا ہے کہ میں اس دوران یاسیت کا شکار ہونے لگا ہوں گا، تو ایسا نہیں تھا۔ یہ ذہن میں رکھو کہ میں زندگی میں پہلی بار اپنی چھٹیاں اس انداز میں گزار رہا تھا۔ ہم نے موٹر اسکوٹریں کرائے پر لے رکھی تھیں جنہیں سڑکوں پر گھماتے پھرنے کا اپنا مزہ تھا اور ہم نے چٹائیاں بھی خریدی تھیں تاکہ انہیں آتش فشاں گزیدہ ساحل کی تپتی ہوئی سیاہ ریت پر بچھا کر دھوپ سینک سکیں۔ ہم ایسے شاندار مکانوں میں رہ رہےتھے جنہیں عمر رسیدہ جوڑے گرمیوں کے موسم میں ہم جیسے سیاحوں کے لیے کرائے پر اٹھادیا کرتے تھے۔ ہمارے شب و روز گِرِل کیے ہوئے آکٹوپس کھاتے اور سوڈا واٹر اور سرخ وائن سے دل بہلاتے ہوئے گزرتے تھے۔ میں پہلی بار یورپ گھوم رہا تھا اور سمندر میں پیراکی کرنے کا بھی یہ میرا اولین اتفاق تھا۔ مختصر یہ کہ میں اپنے خوشحال اور بے فکرے ساتھیوں کے ہمراہ بہت یادگار وقت گزار رہا تھا۔

میں اعتراف کروں گا کہ کچھ معاملات ایسے تھے جو میرے لیے الجھن کا سبب بنتے تھے۔ مثلاً جس انداز میں وہ پیسے خرچتے ہوئے بالکل سوچ بچار نہیں کرتے تھے، چاہے کھانے کی قیمت فی کس پچاس ڈالر ہی کیوں نہ ہو۔ یا جس طرح وہ اپنےحقوق کے معاملے میں بالکل آسرا نہ کرنے کے قائل تھے۔"یہ کیا طریقہ ہے؟" یا " تم نے تو کچھ اور بتایا تھا۔" وہ خود سے دگنی عمر کے یونانیوں سے کام لیتے ہوئے بنا لگی لپٹی رکھے سنادیتے۔ میرے اپنے پاس بہت محدود سی رقم تھی جسے احتیاط سے خرچ کرنا میری مجبوری تھی اور جیسا ان کا بڑوں کے ساتھ رویہ تھا، ایسا میرے ملک میں اُن جاہل گنواروں کا ہوتا تھا جن کے پاس اچانک کہیں سے دولت آجائے۔

میں یہ باتیں تفصیل سے اس لیے بتا رہا ہوں تاکہ تمہارے ملک کے لیے میرے آگے چل کر پیدا ہونے والے جذبات کی وضاحت ہوسکے۔ خیر، باقی سارا گروپ تو میرے لیے کسی پس منظر کی طرح تھا، جس کے پیشِ منظر پر ایریکا سورج کی مانند دمکتی تھی اور اس کی آب و تاب نے میری نگاہوں کو خیرہ کر رکھا تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اسے تنہائی پسند نہیں تھی، اور واقعی وہ بہت کم تنہا نظر آتی تھی۔ اس میں کچھ منفرد سی مقناطیسی کشش تھی جو لوگوں کو اپنی جانب کھینچتی تھی۔ اگرکوئی فطرت نگار اس کا مشاہدہ کرتا تو شاید اسے ایک ہرنی سے مشابہ قرار دیتا جس کی موجودگی دشت اور جنگل دونوں میں ہی حسن اور خوشگواریت کا سبب بنتی ہے۔

اس کے باوجود، اپنی تمام تر دوستانہ فطرت اور گھلنے ملنے کے باوجود، واضح طور پر محسوس ہوتا تھا کہ اس کی ذات کا ایک بڑا حصہ اپنے اطراف سے کٹا ہوا، کہیں اور کھویا ہوا ہے۔ شاید اس سے بھی اس کی اپیل میں اضافہ ہی ہوتا تھا۔ اگر تم اپنے ملک کی دورِ حاضر کی مشہورخواتین سے تقابل کرنا پسند کرو تو وہ اسپیئرز کے مقابلے میں پالٹرو سے زیادہ قریب تھی۔

لیکن تم تو میرے ثقافتی حوالوں کو خاطر میں ہی نہیں لارہے! تمہاری توجہ لگتا ہے پھر سے نیشنل کالج آف آرٹس کی پیاری پیاری لڑکیوں کی طرف مبذول ہوگئی ہے۔ یا پھر شاید اس آدمی کی طرف جس کی داڑھی مجھ سے بھی لمبی ہے اور جو ان لڑکیوں کے پاس آکر ٹھہر گیا ہے۔ کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ وہ انہیں ان کے لباس۔۔۔ جینز اور ٹی شرٹ کی وجہ سے جھاڑ پلائے گا؟ میرا نہیں خیال کہ ایسا کچھ ہونے لگا ہے۔ یہ لڑکیاں یہاں روز آنے جانے والی ہیں اور انہیں اس طرح کوئی پریشان نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ لاہور کے بازاروں کا ایک اصول ہے: اگر کسی عورت کو کوئی بندہ تنگ کرے تو اس عورت کو حق ہوتا ہے کہ وہ مجمع کی برادرانہ غیرت کو آواز دے ڈا لے، اور پھر اس مجمع کی بہن کو چھیڑنے والے کی خوب پٹائی ہوتی ہے۔ دیکھا تم نے، وہ آگے بڑھ گیا۔ وہ تو بس ایسے ہی کسی چیز کو گھور رہا تھا جو اسے دلچسپ یا شاید عجیب لگی ہوگی۔

جہاں تک میرا تعلق ہے، یونان میں وہ گرمیاں گزارتے ہوئے میری پوری کوشش تھی کہ ایریکا کو گھورنے سے گریز کروں۔ لیکن جب ہمارا تفریحی دورہ قریب الختم تھا تو ایک موقع پر۔۔جب ہم جزیرہ رہوڈز کے ساحل پر تھے۔۔۔ میں ایسا کرنے سے خود کو باز نہ رکھ سکا۔ تم رہوڈز گئے ہو؟ ضرور جانا، مجھے تو وہ ان سب جزیروں سے کہیں مختلف محسوس ہوا جہاں ہم اس دوران گئے تھے۔ اس کے شہر ترکوں سے محفوظ رہنے کے لیے قلعوں کے اندر بسائے گئے تھے۔۔۔ اب جدید یونان کی بری، بحری اور فضائی افواج یہی مقصد سرانجام دیتی ہیں۔ یہ تو خیر جملہ معترضہ ہوا۔ میں تمہیں کچھ اور بتا رہا تھا۔ یونان کے ساحلوں پر یورپین عورتیں جس عالم میں دھوپ سینکتی ہیں، پرنسٹن میں یہ رواج نہیں تھا۔ لیکن رہوڈز کے ساحل پر ایک روز میں نے اپنے سے دو ہاتھ دور لیٹی ایریکا کو اسی حالت میں جاتے دیکھا۔

کچھ لمحوں بعد، نہیں بلکہ وہ کچھ سے زیادہ لمحات تھے، اس نے سر گھما کر میری طرف دیکھا اور مجھے خود کو گھورتے پایا۔ اس موقع پر میرے پاس ردعمل ظاہر کرنے کے لیے بہت سے آپشن تھے، جیسے یہ کہ میں فوراً نظر ہٹا کر اس پر ثابت کردیتا کہ نہ صرف میں اسے گھور رہا تھا بلکہ اسے اس عالم میں دیکھنا میرے لیے ڈسٹربنس کا باعث بھی تھا۔ یا پھر میں کچھ ساعت اسی طرح دیکھتا رہتا اور پھر یوں دوسری طرف دیکھنا شروع کردیتا جیسے یہ میرے لیے معمول کی بات ہو۔ یہ بھی ممکن تھا کہ میں اسی طرح گھورنا جاری رکھ کر اسے یہ پیغام پہنچا دیتا کہ یہ نظارہ اپنے اندر میرے لیے بہت دلکشی لیے ہوئے ہے۔ یا میں اپنی علمی قابلیت کو بروقت ثابت کرتے ہوئے اس کی توجہ اس امر کی طرف دلاتا کہ "مسٹر پالومر" کے ایک پیراگراف میں جیسے میرا موجودہ المیہ ہی بیان کیا گیا ہے۔

پر میں ان سب میں سے کچھ نہ کرسکا۔ اس کے بجائے میرے منہ سے ایک شرمیلی سی آواز برآمد ہوئی۔
"ہیلو۔"
اس نے بھی جواب مجھے ایک جھینپی سی مسکراہٹ سے نوازا اور بولی۔ "ہائی۔"
میں نے سر ہلایا اور سوچا اب کیا کہوں۔۔ کچھ اور کہنے کی کوشش میں منہ سے ایک بار پھر "ہیلو" ہی نکلا۔ میرا جی چاہا کہ کسی طرح وہاں سے غائب ہوجاؤں کیونکہ میرا طرزِ عمل ناقابل یقین حد تک احمقانہ تھا۔ وہ زور زور سے ہنسنے لگی، پھر بولی۔
"میں تو تیرنے جا رہی ہوں۔" کچھ دور جاکر وہ مڑی اور مجھ سے پوچھا۔ "تم آنا چاہتے ہو؟"

میں اس کے پیچھے چلتے ہوئے اس کی چال کے لیے موزوں تشبیہات سوچتا رہا۔ پانی نیم گرم اور بے حد شفاف تھا، اتنا کہ تہہ میں بچھے گول پتھر اور تیرتے ہوئے چھوٹی مچھلیوں کے غول واضح دکھائی دیتے تھے۔ ہم نے قدرے گہرائی میں جاکر تیرنا شروع کیا۔ اس نے ابتدا کی اور تیزی سے تیرتی ہوئی خاصی آگے چلی گئی۔ میں بھی ذرا دیر میں اس کے پاس پہنچ گیا۔ کچھ دیر ہم خاموشی سے ایک ہی جگہ رکے رہے۔
"مجھے نہیں لگتا"۔ بالآخر وہ بولی۔ "کہ میں نے اپنی زندگی میں تمہاری عمر کا کوئی اسقدر نرم مزاج فرد دیکھا ہو۔"
"اچھا۔ واقعی؟" میرے ہونٹوں پر خود بخود مسکراہٹ آگئی۔
"بالکل۔ تم ادب آداب کا حد سے زیادہ خیال رکھتے ہو۔ لوگوں کوان کی حیثیت کے مطابق، یا شاید بڑھ کر عزت دیتے ہو۔ بہت اچھی بات ہے۔ اور یہ خصوصیت بہت عام نہیں ہے۔"

ہم آمنے سامنے کھڑے پانی میں ہاتھ پاؤں چلاتے رہے۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ وہ مجھ سے جواب میں کچھ سننے کی توقع رکھتی ہے۔ مگر الفاظ میرا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ مجھے الٹا یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ اپنے چہرے کے تاثرات کو کیسے قابو میں رکھوں کہ اس پر حماقت کے آثار نہ دکھائی دیں۔ پھر وہ مڑی اور اپنا سر پانی سے باہر رکھتے ہوئے ساحل کی طرف تیرنے لگی۔ میں نے بھی بالآخر اپنے عارضی گونگے پن پر قابو پا کر تیرنا شروع کیا اور اس کے پاس جاکر بولا۔
"ایک ڈرنک کے لئے آبادی کی طرف واپس چلنےکا خیال کیسا ہے؟"
اس نے بھنویں اچکا کر بدلی ہوئی سی آواز میں جواب دیا۔"میں اس کے لئے آپ کی شکر گزار رہوں گی، سر!"

ساحل پر پہنچ کر اس نے ایک شرٹ پہن لی، مجھے یاد ہے کہ وہ ایک نیلے رنگ کی مردانہ شرٹ تھی جس کے کالر مسکے ہوئے تھے، پھر تولیہ اور تیراکی کا لباس ایک بیگ میں ڈال لیا۔ چونکہ ابھی دھوپ کی تمازت ڈھلنے میں کم ازکم ایک گھنٹہ باقی تھا اس لیے ہمارے باقی ساتھیوں میں سے کسی نے واپسی میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ ہم دونوں سڑک کی طرف گئے اور ایک بس میں جاکر ساتھ ساتھ بیٹھ گئے۔ میں نے یونہی بات شروع کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا وہ شرٹ اس کے والد کی تھی۔
"نہیں۔" اس نے شرٹ کے کپڑے کو اپنی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے سے مسلتے ہوئے کہا۔"میرے بوائے فرینڈ کی۔"
"اوہ اچھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہارا کوئی بوائے فرینڈ بھی ہے۔"مجھ سے بس یہی کہا گیا۔
"پچھلے سال اس کا انتقال ہوگیا۔" وہ بولی۔"اس کا نام کِرِس تھا"۔ میں نے اس پر دلی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ شرٹ بے حد نفیس تھی، یقیناً کِرس ایک باذوق فرد رہا ہوگا۔
"بے انتہا خوش لباس۔ حتٰی کے ہسپتال میں بھی چاہتا تھا کہ نِک سِک سے درست رہے۔ اتنا پیارا تھا کہ نرسیں تک اس پر فدا تھیں۔" ایریکا کے لہجے سے کرس کے لیے لگاوٹ جیسے چھلک رہی تھی۔

آبادی میں واپس پہنچ کر ہم نے بیٹھنے کے لیے ایک ایسے کیفے کا انتخاب کیا جس کی میزیں نیلی اور سفید چھتریوں تلے دھری تھیں۔ ہم دونوں نے بیئر کا آرڈر دیا۔
"تو پاکستان کیسا ہے، کیا ہے؟" اس نے پوچھا۔
میں نے اسے بتایا کہ پاکستان بیک وقت بہت کچھ ہے۔ پاکستان ساحل اور صحرا ہے، کھیت کھلیان ہے، پہاڑ اور وادی ہے، دریا اور ندی ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں اپنے والدین کے ساتھ شاہراہِ قراقرم کے راستے بذریعہ کار چین جاچکا ہوں۔ راستے میں ہم جن وادیوں سے گزرے تھے ان میں سے اکثر الپس کی چوٹیوں سے زیادہ بلندی پر واقع ہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ پاکستان میں مسلمانوں کے الکوحل خریدنے پر پابندی ہے چنانچہ مجھے اس کے حصول کے لیے اپنے ایک عیسائی دوست کی خدمات حاصل کرنا پڑتی تھیں۔ وہ میری باتیں لبوں پر ایک دلنشیں مسکراہٹ لیےدلچسپی سے سنتی رہی۔ پھر میرے چپ ہونے پر بولی۔

"کیا تمہیں گھر یاد آتا ہے؟"

میں نے کندھے اچکائے۔ مجھے گھر اکثریاد آتا تھا، مگر اس وقت میں جہاں تھا وہیں کا ہوکر سوچنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی نوٹ بک نکال کر ایک پنسل کے ہمراہ میری طرف بڑھائی۔۔۔۔ اس کی جلد نارنجی رنگ کی تھی اور میں فرصت کے لمحوں میں کئی بار ایریکا کو اس نوٹ بک میں کچھ تحریر کرتے دیکھ چکا تھا۔

"تمہارا رسم الخط کس طرح کا ہے؟ مجھے لکھ کر دکھاؤ"۔

"اردو عربی کی طرح لکھی جاتی ہے، لیکن ہمارے حروفِ تہجی زیادہ ہیں۔" میں نے کچھ لکھ کر نوٹ بک واپس اس کی طرف سِرکادی۔
"واہ۔ بیحد خوبصورت۔" اس نے نوٹ بک سے نظر ہٹا کر میری آنکھوں میں دیکھا۔
"کیا لکھا ہے یہ؟"۔ "یہ تمہارا نام لکھا ہے۔" میں نے جواب دیا۔
"اور اس کے نیچے یہ میرا نام ہے۔"

سورج رفتہ رفتہ غروب ہورہا تھا۔ ہم اپنی میز پر بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ اس نے مجھے کِرس کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ وہ دونوں بچپن سے ساتھ پلے بڑھے تھے، ان کی رہائش آمنے سامنے کے فلیٹس میں تھی اور دونوں ہی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ عقل و شعور کی منزلوں تک پہنچنے سے بہت پہلے وہ ایک دوسرے کے بہترین دوست بن چکے تھے۔ کِرس کے پاس یورپین کامک بکس کا بہت بڑا مجموعہ تھا اور اس کی طرح ایریکا بھی ان کی دیوانی تھی۔۔ اکثر دونوں کا گھنٹوں وقت انہیں پڑھنے اوراپنی کامکس بنانے میں صرف ہوتا تھا۔۔۔ کِرس ڈرائنگ کرتا تھا اور ایریکا اس کے مطابق کہانی لکھتی تھی۔ پھردونوں کا ایک ساتھ پرنسٹن میں داخلہ ہوا لیکن کِرس وہاں نہ جاسکا کیونکہ اسے پھیپڑوں کا کینسر تشخیص ہوا تھا۔ اس نے زندگی میں صرف ایک بار سگریٹ پی تھی، وہ بھی اس روز جب اس کے ٹیسٹ کی رپورٹ موصول ہوئی۔ ایریکا نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا۔ پھر بتانے لگی کہ وہ خود ہمیشہ اس بات کو یقینی بناتی رہی کہ کبھی بھی جمعے کو اس کی کلاس نہ ہو تاکہ وہ ہر ہفتے تین دن مکمل طور پر کِرس کے ساتھ گزار سکے۔ تین سال بعد جب ایریکا کے جونئیر ایئر کے آخری سمسٹر کا اختتام ہونے کو تھا، کِرس کا انتقال ہوگیا۔
"تو مجھے بھی ایک طرح سے گھر یاد آتا ہے۔" وہ بولی۔"بس یہ ہے کہ میرا گھر ایک پتلی پتلی مخطروطی انگلیوں والا لڑکا تھا۔"

اس شام ہم اپنے گروپ کے ہمراہ ڈنر کے لیے نکلے تو ایریکا نے میرے سامنے والی نشست کا انتخاب کیا۔ چک ہم سب کی مزاحیہ انداز میں نقلیں اتار کر ہمیں ہنساتا رہا۔ میرا خیال تھا کہ میری نقل کرتے ہوئے اس نے ذرا بے ڈھنگے پن کا مظاہرہ کرڈالا تھا البتہ باقیوں کی زبردست تھی۔ پھر اس نے سب سے پوچھا کہ ہم مستقبل میں کیا بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جب میری باری آئی تو میں نے امید ظاہر کی کہ ایک روز میں ایک جوہری صلاحیت کے حامل مسلم ملک کا مطلق العنان ڈکٹیٹر بن جاؤں گا۔ قریباً سب ہکّا بکّا رہ گئے اور مجھے بتانا پڑا کہ میں مذاق کر رہا تھا۔ صرف ایریکا مسکراتی رہی: یوں لگتا تھا کہ وہ میری حسِ مزاح سے واقف ہوتی جارہی تھی۔

ایریکا نے کہا کہ وہ ناول نگار بننا چاہتی ہے۔ اس کا فائنل ایئر تھیسس ایک طویل افسانے پر مشتمل تھا جس نے پرنسٹن میں ایوارڈ بھی جیتا تھا: ایریکا کا ارادہ اسے ادبی ناشرین کو بھیجنے کا تھا تاکہ ان کا رد عمل دیکھ سکے۔ عام طور پر وہ اپنے متعلق کم ہی بات کرتی تھی اور اس روز ایسا کرتے ہوئے اس کی آواز دھیمی تھی اور نظریں اس دوران زیادہ تر مجھ پر رہی تھیں۔ اپنے ساتھیوں کی موجودگی کے باوجود۔۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح وہ جن کی توجہ کا مرکز تھی۔۔۔۔ مجھے یہ محسوس ہوتا رہا کہ ہمارے بیچ کوئی جذبہ پروان چڑھ رہا ہے اور اس خیال کو مزید تقویت تب ملی جب اس نے مجھے مچھلی کھاتے وقت کانٹوں سے الجھتے دیکھا تو میرے کہے بنا بڑھ کر انہیں گوشت سے علیحدہ کرنے میں میری مدد کی۔

یونان میں ہمارا تعلق بس یہیں تک محدود رہا، حتٰی کہ ہاتھ تھامنے کی نوبت بھی نہیں آئی۔ لیکن واپسی سے پہلے اس نے اپنا نمبر مجھے دیا اور چونکہ اس کی رہائش بھی نیویارک میں تھی اور مجھے بھی وہیں جانا تھا لہٰذا اس نے پیشکش کی کہ وہ سیٹل ہونے میں میری مدد کرسکتی ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے: میں خوش تھا کہ جس لڑکی پر پہلی بار دل و جان سے فدا ہوا تھا اس سے تعلق شناسائی سے بڑھ کر دوستی کی حدوں میں داخل ہوگیا تھا، اور آگے کی زندگی دلچسپیوں اور رعنائیوں سے بھرپور دکھائی دیتی تھی۔

لیکن یہ کیا ہے؟ اچھا، تمہارا موبائل فون۔ مگر یہ کوئی عام فون تو نہیں لگتا۔ میرا خیال ہے کہ یہ ان میں سے ہے جو بذریعہ سیٹلائٹ کام کرتے ہیں اور ایسی جگہوں پر بھی چلتے ہیں جہاں اور کوئی سروس موجود نہیں ہوتی۔ تم کال نہیں اٹھاؤ گے؟ فکر مت کرو، مجھے تمہاری باتیں سننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن تم غالباً کال وصول کرنے کے بجائے ٹیکسٹ میسج کررہے ہو۔ عقلمندی کا ثبوت دیا تم نے۔ کبھی کبھی چند الفاظ بھی بات پہنچانے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ جب تک تم اپنا میسج ٹائپ کرو، میں بخوشی انتظار کرنے کو تیار ہوں۔ پھر یہ کہ وہ نیشنل کالج آف آرٹس کی لڑکیاں بھی تو اپنی چائے ختم کرکے روانہ ہونے لگی ہیں۔ ان کی موجودگی سے گلی میں جو رونق تھی، ان کے جانے کے بعد کس قدر ماند پڑجائے گی۔