012 - دنیا کا پل صراط تحریر روشنی

دنیا کا پل صراط

دوسرا حصہ اور آخری حصّہ

وقت اپنی مخصوص رفتار سے گزر رہا تھا۔ موسم سرما نے الوداع کہہ کر بہار کی آمد کا اعلان کر دیا۔ باغ پھولوں سے سجنے لگے، خوشبو ہوا کے آنچل میں محو رقصاں ہونے لگی، اور فضا تازگی اور مہک سے معطر ہو گئی۔ چھ ماہ کے قلیل عرصے میں عمر نے ناظرہ قرآن ختم کر لیا اور دین کا بنیادی مطالعہ مکمل کر لیا۔ خالد علوی اس کی لگن اور محنت سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے۔ اور دل ہی دل میں اسکے لیے کچھ خاص سوچنے لگے۔

"عمر بیٹا، گھر بسانے کے بارے میں بھی کچھ سوچا ہے؟" آخرکار ایک دن مدعا زبان پر لے ہی آئے۔

"جب زندگی کی ڈور اپنے ہاتھ میں تھی، تب کچھ سوچا تھا مگر اب تو سب کچھ بدل گیا ہے۔ " عمر نے سوچوں کے قافلے کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے کہا

"اگر آپ کہو تو میری نظر میں اک ہم وطن بچی ہے۔ نیک اور شریف گھرانے سے تعلق ہے۔ " خالد علوی نے احتیاطاً ڈھکے چھپے انداز میں بات کی۔

"میں آپ کو اپنا سرپرست مانتا ہوں۔" عمر نے رضامندی دے دی۔

"مجھے امید ہے اس فیصلے کاآپ کی آنے والی زندگی پر اچھا اثر پڑے گا اور آپ کی آئندہ زندگی خوش آئند ہوگی۔" خالد علوی نے متانت سے کہا۔۔

عمر کے جانے کے بعد خالد علوی نے گھر فون کیا اور تحریم کی والدہ ( رقیہ بیگم) سے رائے لینا چاہی۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭

"میں بہت دنوں سے ایک بات سوچ رہا ہوں۔۔" وہ یہ کہہ کر خاموش ہو گئے پھر کچھ لمحے توقف کر کے بولے ۔۔

"ہم عمر کو اپنی فرزندی میں لے لیں ۔آپ کا کیا مشورہ ھے ؟"ائیر پیس سے آواز ابھری۔۔

"آپ استخارہ کرلیں' اوپر والے سے زیادہ کس کا مشورہ قابل اعتبار ہو گا ۔۔" رقیہ بیگم نے رائے دی۔

"بہت نیک خیال ہے ،میں آج ہی سے استخارہ کی نیت کر لیتا ہوں۔۔" خالد علوی نے کہہ کر فون رکھ دیا۔

***************
استخارہ سے مطمئن ہونے کے بعد خالد علوی نے تحریم اور عمر کے ساتھ کا فیصلہ کر لیا۔ اور حتمی بات کے لیے گھر فون کیا۔

"بی اماں ،تحریم اور عمر کے نکاح کے لیے جمعہ کا دن کیسا ریے گا ؟" خالد علوی نے اپنی والدہ سے اجازت چاہی۔

"خالد بیٹا ! کس عمر کی بات کر رہے ہو ،اپنی برادری میں تو عمر نام کا کوئی جوان نہیں۔۔" بی اماں نے استفسار کیا۔

"میں نومسلم غیر ملکی کی بات کر رہا ہوں ۔۔" خالد علوی نے وضاحت کی۔۔

باؤلے ہو گئے ہو کیا ؟جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اسے مسلمان ہوئے ،اس کا کیا بھروسہ ،آج مسلمان ہوا ہے ،کل پھر بدل جائے ۔۔" بی اماں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

"دل دہلانے والی باتیں نہ کریں اماں ! مولانا صاحب کے سامنے اسلام قبول کیا ہے اس نے ، اس کو دیکھیں نا تو ہمارے جیسے پیدائشی مسلمان شرما جائیں ،ایسا ایمان عطا ہوا ہے اسے ، ایمان کسی کی میراث تو نہیں ،رب جسے چاہے عطا کرے اور کون کتنا ایمان پر قائم رہے گا ،اس کی تو کوئی گارنٹی نہیں ،نہ میری ،نہ آپ کی ،نہ کسی اور کی۔۔" خالد علوی نے خاصی ناگواری سے کہا۔۔

اماں بیٹے کی آواز میں ناراضگی محسوس کر کے چپ سی ہو گئیں اور فون رقیہ بیگم کی طرف بڑھا دیا۔۔

"اللہ بہتر کرے گا ،آپ نے استخارہ بھی تو کیا ہے نا،تو پھر اللہ کا نام لے کر بسم اللہ کریں۔" رقیہ بیگم نے رائے دی اور فون کا اسپیکر آن کر دیا۔

ٹھیک ہے بی اماں ۔ ! "بیٹے نے اجازت چاہی۔۔۔۔اسپیکر سے آواز ابھری

"جیسے تم لوگوں کی مرضی پتر ۔" اماں یہ کہہ کر اندر کو چل دی ۔

**************************************************

"اے بہن! تجھے اپنی برادری کا کوئی لڑکا نہیں ملا جو وطن سے دور بیاہ کر رہی ہو وہ بھی نو مسلم ،اور سونے پہ سہاگا غیرملکی ۔کوئی اونچ نیچ ہو گئی تو کون اسے پکڑے گا تم سے ایسی بھول کی امید نہ تھی ۔۔"
پڑوسن خالہ نے اپنی رائے کا اظہار کیا ۔۔

"ہمیں جو بہتر لگا ،ہم کر رہے ہیں ۔ماں باپ بھی اولاد کا برا چاہ سکتے ہیں بھلا ۔اب ایسی باتیں کر کے ماحول خراب نہ کرو۔۔" رقیہ نے تحریم کو باہر آتے دیکھ کر پڑوسن کو تنبہیہ کی ۔۔

بی اماں کی پریشانی ،خاندان والوں کی چہ میگویئاں ،ہمسائیوں کے تبصرے سب مل کر ایک ہو گیے اور دل کی زمین بےاعتبار ہو کرشک کے بیج کے لیے زرخیز ہو گئی
__________________
اک عجیب سا درد لیے بوجھل،سیاہ اور گہری شام ڈھلنے کو تھی، سورج منہ چھپانے کو آڑ ڈھونڈ رہا تھا۔ ۔ پرندے دن بھر کے سفر کے بعد واپسی کی اڑان لیے اپنےاپنے گھونسلوں کی طرف گامزن تھے۔ عمر نے اس منظر کی اداسی کو اپنے دل میں اترتے محسوس کیا۔
وہ کوئین میری ہسپتال کے باہر اپنی کار میں بیٹھا کیتھی کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کی نظر جانے پہچانے رستے پر بچھی جا رہی تھی۔ کان قدموں کی چاپ کے منتظر ،دل آنے والے کرب سے آشنا اور دماغ اک بے نام رشتے کی شام کا فیصلہ کیے مطمئن ۔۔۔۔۔

انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور کیتھی سفید کوٹ پہنے کار پارک کی طرف آتی دکھائی دی۔

عمر گاڑی سے باہر نکل آیا اور کیتھی کے ساتھ ساتھ چلنے لگا

"میں پاکستان جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ یہ کہہ کر خاموش ہو گیا

"شادی کرنے کے لیئے۔۔۔"کچھ لمحوں بعد اس نے کہا

کیتھی کے چلتے قدم رک گئے۔ اس نے عمر کی طرف شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا اور گویا ہوئی:

"پانچ ماہ سے سولہ گھنٹے کی سخت ترین جاب کے بعد اپنی پر سکون نیند اور آرام کا وقت اسلام کو جاننے میں لگا رہی ہوں' اور اب جب میں منزل کے اتنے قریب ہوں کہ اسے محسوس کرنے لگی ہوں تو مجھے معلوم ہو رہا ہے۔ یہ تو سراب ہے۔ صحرا میں پیاسی روح کی مانند جو ریت کو پانی سمجھ بیٹھی۔ تم جانتے تھے' صرف اور صرف تمہاری کشش و محبت مجھے یہاں تک لائی ہے۔ اسلامک سنٹر میں بارہا تم نے مجھے دیکھا، اسمتھ کی منتیں کرتے ہوئے، خالد علوی سے گفتگو کرتے ہوئے، یہاں وہاں سے معلومات لیتے ہوئے تب تم نے یہ صور کیوں نہیں پھونکا؟ تمہیں آج یاد آئی۔"
وہ اس پر برس پڑی۔۔
"کیوں عمر! مجھے اک بار بس اتنا بتا دو۔ اب تو میں مسلمان ہونے جا رہی ہوں۔ اب تم یہ ظلم کیوں کر رہے ہو؟"

"میں تمہاری طلب میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔ چاہو تو اپنی طلب کو خالص کر کے اس ہستی کا نشاں پا لو جس کی محبت کے بعد سب محبتیں ہیچ ہیں۔ اور چاہو تو اپنی اس زندگی کی طرف لوٹ جاؤ جو مجھ سے ملنے سے پہلے تھی۔ اس زندگی میں میرا اور تمہارا نصیب کہیں بھی نہیں ملتا۔

ہاں، میں تمہیں یہاں وہاں خوار ہوتا دیکھتا رہا، اسلئیے کہ شاید تم اس سچائی کا سرا پالو جو تمہیں ہلاکت سے بچا لے۔ اس محبت کی وجہ سے جو مجھے کبھی تم سے تھی۔ "
عمر نے کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چل کر اپنی کار میں بیٹھا اور زن سے اپنی کار لے گیا۔

کیتھی اس کے کہے آخری فقرے کی گونج اپنی روح میں اترتی محسوس کر رہی تھی۔ ” اس محبت کی وجہ سے جو مجھے کبھی تم سے تھی۔ " تھی' تھی!تھی!"
وہ بے دردی سے آنسو پوچھنتے گاڑی میں بیٹھ گئی۔

*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
خالد علوی اور عمر کی پاکستان روانگی چھ دن بعد طے پائی۔ اماں شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئیں۔ تحریم کے مزاج کو دیکھتے ہوئے انتہائی سادگی کی بجائے قدرے اہتمام سےتقریب نکاح کا سوچنے لگیں۔ ویسے بھی تحریم کی اس شادی کے لیے رضامندی کے بعد غیر معمولی خاموشی انہیں ہولائے دے رہی تھی۔ اس کی چیدہ چیدہ سہیلیوں کو بلا کر اس کی مرضی سے شادی کی خریداری کے لیے رقم دے دی۔

شادی کی ساری خریداری تحریم نے اپنی مرضی سے کی۔ نت نئے مہنگے ترین ملبوسات اور زیورات خریدے۔ نکاح کے دن تحریم کو تیار کرنے کے لیے شہر کی مہنگی ترین بیوٹیشن کی خدمات لی گئیں۔

اماں آنے والی جدائی کاغم دل میں لیے، اسے من مانی کرتے دیکھتی رہیں۔

تقریب نکاح اور عام پہننے کے لیے اماں نے عمر کے چار چھ جوڑا شلوار قمیص لے لیے۔

نکاح سے اک رات پہلے خالد علوی اور عمر پاکستان پہنچ گئے۔ اماں نے سنجیدہ اور بردبار عمر کو دیکھا اور پسندیدگی کی سند دے دی۔
__________________

نکاح کے بعد سجی سنوری تحریم اپنے ہی گھر کے زیریں حصے سے بالائی حصے میں رخصت ہو کر آگئی۔ دلہن بنی وہ حسین سی گڑیا لگ رہی تھی۔

"ماشا ء اللہ، چشم بدور ۔ "اماں نے محبت بھری نطر ڈالی اور اس کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کر دی۔ وہ دعائیں دے کر چلی گئی۔

گھڑی کی سوئیاں ٹک ٹک کر کے وقت کے گزرنے کا احساس دلا رہی تھیں کہ دروازے کے پاس قدموں کی چاپ سنائی دی۔

عمر نے اندر آ کر سلام کیا اور تحریم کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔

"پاکیزگی، خوبصورتی اور حیاء کا امتزاج ہی حسن کی جامع تعریف ہے۔ " اس نے زیر لب کہا اور تحریم کی سماعتوں نے اسے جا لیا۔

نکاح کے بول کیسے دل کی زمیں کو محبت سے سیراب کرتے ہیں، اسےآج محسوس ہوا۔

وہ ٹکٹکی باندھے بڑی محویت سے اسے تکتا رہا۔ پھر آہستگی سے گویا ہوا۔

"کیا کہوں تمہیں، زندگی کا حسیں باب یا قدرت کا انعام؟ "

تحریم نے گھونگھٹ کی اوٹ سے اسے دیکھا اس کی دلکش گہری سیاہ آنکھوں میں بے پایاں محبت کا احساس ہلکورے لیتا محسوس ہوا۔

"میں اس قابل تھا کہ اتنا نوازا جاتا ؟" اس نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔

تحریم نے بےیقینی سے اسے دیکھا پھر اس کی آنکھوں میں سچائی کا رنگ دیکھ کر سرشاری سے آنکھیں موند لیں۔

عمر کو پا کر تحریم بہت خوش تھی، اسکے خوابوں کو سچ ہونے کے لیے کسی ایسے ہی شہزادے کی ضرورت تھی جو اسے نصیحتوں کے اس زنداں سے دور لے جائے جہاں اس کے سپنوں کی حکومت ہو،اس کی خواہشوں کا راج ہو، بناء کسی شرکت غیری کے۔ وہ اس کے لیے ایسا غار تھا جس کی دوسری جانب راہ فرار اور آزادی اس کی منتظر تھی۔

عمر کی عاجزانہ طبیعت اس کے مزاج شاہی کے لیے سیڑھی بن گئی جو وہ آسماں تک جا پہنچی ، عمر کے دل میں کافرانہ طرز میں گزری ہوئی زندگی کا قلق، اس کے پیدائشی مسلمان ہونے کے احساس غرور کو شے دے گیا،اس کی اکڑی ہوئی گردن کو اور کلف لگا اور وہ دل ہی دل میں عمر کے مرعوب ہونے پر مسکراتی رہی۔

* * * *

کیتھی اپنے کمرے میں بند اداس اور مضحمل بیٹھی ہوئی تھی،اس کی انگلیاں پاس پڑے ٹیبل لیمپ کے سوئچ سے کھیل رہی تھی، جس سے کمرے میں اک پل کو روشنی آتی اور دوسرا پل گھنی تاریکی میں ڈوب جاتا، بہت سی سوچوں کی آماجگاہ بنا اس کا ذہن اس دھچکے کو قبول نہیں کر رہا تھا،دل و ذہن میں اک جنگ سی جاری تھی، ذہن عمر کی آخری خواہش کا ایندھن بننے سے انکاری تھا اور دل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل تو سدا سے اس کا ہی تھا۔ محبوب کے قدموں کے نشاں تک چومنے پر بضد۔ وہ محبوب جو اس کا نہیں رہا تھا۔
اس نے چہرے پر بہتے آنسوؤں کو پونچھا اور بے دلی سے اسلامک سنٹر چل دی۔

خالد علوی سنٹر میں موجود نہیں تھے، مگر وہاں اسے ماضی کی ایک رقاصہ جیری مل گئی۔ لمبے سے اوورآل اور اسکارف میں ملبوس اس کا سراپا بہت پر وقار لگ رہا تھا ۔ کیتھی اسے یہاں دیکھ کر بہت حیران ہوئی اور اس کی داستان پوچھے بناء نہ رہ سکی۔۔

"ایک نیک دل انسان کو کوئی شرارت سے بار میں لے آیا، انہوں نے وہیں دیوار کی طرف منہ کر کے وعظ دینا شروع کردیا سب لوگ تو وہاں نشے میں دھت تھے، میں وہاں رقص کر رہی تھی اور ایک ساتھی ڈرم بجا رہا تھا ، ہم دونوں پر اللہ کی رحمت ہوئی اور ہم نے اسلام قبول کر لیا۔ میں نے وہیں میز پر پڑی چادر سے اپنا جسم ڈھانپا اور آج تک دوبارہ اس جسم سے پارسائی کو جدا نہیں ہونے دیا۔ "
کل کی چیری اور آج کی خدیجہ نے پراعتماد لہجے میں اپنی بات بیان کی۔

"اتنی سی دیر میں تم مسلمان ہو گئی؟بناء کچھ جانے۔؟" کیتھی نے حیرت سے استفسار کیا

"میری دوست! مجھ جیسے لوگ جو اپنی ذات اور ماحول کے گھپ اندھیرے میں کھو جاتے ہیں،انہیں اس گھنی تاریکی کا ادراک ہو ہی جاتا ہے۔ اور ان کے لیے روشنی کی اک کرن ہی تاریکی کے اس سمندر کا سینہ چیر دیتی ہے۔ بات تو صرف شعور کی ہے۔ جب میں نے روشنی کو پا ہی لیاتو کیسا تردد اور کیسی دیر۔ "

وہ اسے اپنی آپ بیتی سنا کر چل دی اور انجانے میں اسے اس کشمکش سے آزاد کر دیا جو اسے جکڑے ہوئی تھی۔

کیتھی سنٹر میں ہی رک گئی اور اسمتھ کو یہاں بلانے کے لیے فون کر دیا۔

ان دنوں عکرمہ سنٹر میں وقت نکال کر آجاتا تھا۔ آج بھی وہ آیا تو اس نے کیتھی اور اسمتھ کو یہاں منتظر پایا۔

"میرے ذہن میں اک الجھن ہے، مجھے اک شخص کی محبت اسلام کے در پہ لے آئی ، اب جب میرا دل اس ہدایت کو قبول کرچکا ہے، تو وہ شخص مجھے چھوڑ گیا ہے، اس کا کہنا ہے وہ میری طلب میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔ میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں مگر مکمل اطمینان کے ساتھ ۔ مجھے سکون چاہیے۔ " کیتھی نے روتے ہوئے کہا

"انسانی محبت کا فلسفہ و حقیقت ایک آیت کے سامنے ہیچ ہے۔"

.(المعارج٧٠: ٨-١٤)
''جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہو جائے گا۔ اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی مانند ہو جائیں گے۔ اور کوئی دوست بھی کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔وہ ان کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم تمنا کرے گا کہ کاش، اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی اور اپنے اس کنبے کو جو اس کی پناہ رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے۔''

عکرمہ نے آیت بیان کی اور کیتھی متحیر سی اپنے دل سے ہٹتے بوجھ کو محسوس کرتی رہی۔ اسے اپنے اوپر بہت افسوس ہوا جس محبت کو وہ سینچ سینچ کر دل کے نہاں خانوں میں سجا رہی ہے۔ کل آزمائش کی گھڑی میں وہ اسے اپنے فدیہ میں آگ کوپیش کرنے میں تامل نہ کرے گی۔

ایک طویل رات کی صبح اس کی زندگی میں آگئی تھی، اس نے اسلام قبول کر لیا۔

اسمتھ اسے دیکھتا رہا ،اور پھر عکرمہ نے اس سے پوچھا:

"آپ بھی تو اسلام کو جان رہے ہیں آپ کا سفر کہاں تک پہنچا؟"

"میں کسی معجزے کے انتظار میں ہوں ، یا شاید ابھی میرا وقت نہیں آیا۔ آپ کیا کہتے ہیں ،آپ کی والی ہدایت کن لوگوں کا نصیب ہوتی ہے ؟ " اسمتھ نے ٹالتے ہوئے کہا

"آپ جو بھی سوال کریں قرآن اس کا جواب دے گا ،اس سے بڑا معجزہ کیا ہے؟ آپ کی باتوں کا جواب ان دو آیات میں ہے۔"
عکرمہ نے سورہ رعد کی دو آیات کا مفہوم بیان کیا۔

(۲۶) اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو (اس کی طرف) رجوع ہوتا ہے اس کو اپنی طرف کا رستہ دکھاتا ہے

(۳۰) اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بےشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا

اسمتھ نے حیرانی سے اس شخص کو دیکھا اور اس کلام کو سنا ،وہ لاجواب ہو کر خاموش ہو گیا۔

* * * *

سہ پہر کا وقت تھا، درختوں کے سائے لمبے ہو گئے، مؤذن عصر کی اذان کی صدائیں بلند کرنے لگے

عمر اپنی مسواک لیے وضو بنانے چل دیا ،اماں تحریم کو ادائیگی فرض کی تاکید کر کے نماز قائم کرنے چل دی۔ عصر کی تسبیحات اور مغرب کے بعد جب اماں جو اٹھیں تو تحریم کو ساڑھی میں ملبوس رات کا کھانا لگانے میں مصروف دیکھا۔۔

"نماز پڑھ لی بچے ؟" اماں نے استفسار کیا۔۔

"اماں پہلے تو کھانا پکانے میں مصروف تھی اور اب تو ساڑھی پہن لی ہے، تھوڑی دیر تو پہننے دیں ۔ آپ بالکل فکر نہ کریں رات ساری قضاء نمازوں کی ادائیگی کر کے ہی سوؤں گی ۔ آخر آپ کی ہی بیٹی ہوں۔" اس نے اپنی دانست میں اماں کی پریشانی دور کرتے ہوئے کہا

اماں نے اک یاس بھری نظر اس پر ڈالی اور عمر کو آتے دیکھ کر خاموش ہو گئیں۔

حسب معمول اماں اور عمر نے فرش پر بچھے دسترخوان پر کھانا نوش کیا اور تحریم ڈائننگ پر ساڑھی سنبھالے آہستہ آہستہ کھانا کھاتی رہی۔

کھانے کے بعد تحریم نے برتن سمیٹے اور عمر کی توجہ چاہنے کے لیے درد سر کا بہانہ کر کے اماں سے دوا چاہی۔

"اماں سر درد کی گولی کہاں رکھی ہے۔؟" اس نے دریافت کیا

اماں سرسوں کا تیل نکال لائی اور تحریم سے کہنے لگیں۔۔ "آؤ! تیرے سر کی مالش کر دوں، سنت میں بڑی شفاء ہے۔ "

"اماں ! ساڑھی پہن کر تیل سر پہ تھوپ لوں ۔۔"اس نے اماں کے آگے ہاتھ جوڑ دیے
عمر اماں کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور اپنا سر حاضر کر دیا۔

پہلی اذان کی آواز پر عمر کو مسجد جاتے اور خود ساختہ مصروفیات میں مصروف تحریم کو نماز کی تاکید کرتے کرتے وہ کبھی اپنے ان خدشات پر مسکرا دیتیں جو شادی سے پہلے ان کے دل میں تھے اور کبھی دل سے اک ہوک سی اٹھتی کہ ایسی اولاد جس کے کانوں میں پہلی صداہی سوہنے رب کے نام کی پڑی ،پہلا لفظ اللہ سکھایا گیا،نظر،سماعت،ذائقہ ،لمس،غرض ہر طریقے کو حلال سے مزین کیا،حرام سے اجتناب کیا ،اس کے دل کی زمین ایسی بنجرجہاں نفس کا ناگ پھن پھیلائے کھڑا ہو گیا، اور دوسری طرف ایسا شخص جس کے جسم کی بوٹی بوٹی میں حرام کی آمیزش ،اسے وہ دل نصیب ہوا جس کی زمین ہدایت کے لیے ایسی نرم و زرخیز ہو گئی۔ تیری قدرت میرے مولا!

وہ آنکھوں سے آنسو پو نچھنے لگیں اور دل کو دلاسہ دیا ،وقت کے ساتھ عمر بھی تحریم کو اپنے رنگ میں رنگ لے گا ۔ اللہ کی رحمت، اپنی دعاؤں اور عمر کی محبت کا حصار تحریم کے گرد دیکھ کر مطمئن ہو گئی۔

اماں اس کے بالوں میں تیل لگا کر آستہ آہستہ مالش کرنے لگیں،وہ آنکھیں موندھے سکون کی وادی میں اتر گیا۔۔

اپنی اولاد کے دل پر جمی کائی کو صاف کرتے کرتے کئی بار ان کے اعصاب شل ہوئے، اس کے قلب میں خود رو اگنے والی جھاڑیوں کو ہٹاتے ہٹاتے بارہا ان کے ہاتھ زخمی ہوئے اور اب جب تھوڑی سی لذت سے محرومی کا دکھ نہ سہ پانے پر اس نے مزاحمت کرنا شروع کر دی تھی ،تو وہ عمر کے درد کے بارے میں سوچ کر ملول ہو جاتیں اس شخص نے کیسے اپنے ہی ہاتھوں ، اپنے دل کی زمیں کو نوچا ہو گا، یہی سوچ سوال بن کر ان کے لبوں پر آگئی۔

"عمر بیٹا ! ایمان تک پہنچنے کا سفر کیسے طے کر لیا؟"

"میں جہاں بستا ہوں وہاں اونچی اونچی عمارات کا بے جان جنگل ہے،جہاں زندگی کی آسائشیں اور مراعات تو ان گنت ملیں گی مگر رشتے ،جذبے اور اخلاص کم ہی ملے گا، میں بھی کسی ایسے ہی بے روح رشتے کی پیداوار تھا، جو میری پیدائش پر ہی دم توڑ گیا۔"
آج آپ کے ہاتھوں کی جنبش میں مجھے پہلی بار ممتا نصیب ہوئی۔ اس نے نم آنکھوں سے کہا اور اپنی بات جاری رکھی۔۔
"ایک طوفان نے میری ذات کو آلیا، اک زلزلہ سا میرے دل میں برپا ہو گیا، کائی خس و خاشاک کی طرح بہہ گئی ، جھاڑیاں اکھڑنے لگی، درد بڑھتا رہا، لہو رستا رہا، اور میں زخم زخم دل وجاں میں ایماں کا بیج بوتا گیا۔ جب طوفان تھما اور ایمان کی ننھی ننھی کونپلیں وجود میں آگئی تو میں نے اپنی خواہشات و تمناؤں کو اک الاؤ میں ڈالتا رہا اور پھر مجھے اس پہلے قدم کا اعجاز مل گیا جو پیدائشی مسلمانوں کو ماں کی گود میں مل جاتا ہے۔ اور جو مجھے پاتال کی گہرایئوں سےایمان کی عمودی چٹان پر لے آیا۔

لیکن اک ملال نہیں جاتا ہے۔ میری روح تو پاکیزہ ہو گئی مگر میرا جسم ، اس میں بہنے والا خون آلودہ ہے۔ اس میں کفر کی نشانیوں کا زہر ملا ہوا ہے جو میں چاہ کر بھی نہیں نکال سکتا۔ اک ان دیکھی آگ میں جل رہا ہوں یہاں آکر میری بے چینیوں کو قدرے قرار آیا ہے، محبتوں کا مرہم ملا ہے مگر اس الاؤ کی تپش تھوڑی دیر کو مدھم ہو کر پھر بھڑکتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔" وہ ایک گہرا سانس لے کر خاموش ہوا۔۔

"کاش تم میرے بیٹے ہوتے۔؟" اماں نے فرط جذبات سے کہا

"کسی بھی نو مسلم کے لیےیہ پہلا قدم بڑا مہنگا ہوتا ہے ، اس پہلے قدم پر ہی اخلاص کی ساری عمارت تعمیر ہو گی۔ اس اخلاص کے لیے ہی میں نے اک دل کو توڑ دیا میں نہیں چاہتا تھاکہ میری محبت سیاہ بادل بن کر اس کے دل پر چھائی رہے اور ہدایت کے نور اور اس کے دل کے بیچ آڑ بن جائے۔ اس لیے اخلاص میں شک کی ذرا سی رمق بھی نہ رہ جائے میں نے اپنی ذات کو اس کے لیے شجر ممنوعہ بنا دیا۔ میں ٹھیک کیا اماں! میں تو محروم نہیں رہا، دعا ہے رب اسے بھی نواز دے۔" اس نے اماں کے سامنے دل ہلکا کیا

وہ اس کا حال دل سن کر سوچ میں پڑ گئی ،آج اگر ایمان کو جانچنے کا پیمانہ ہوتا تو کون سر اٹھا کر کھڑا ہوتا۔

**********************

مالش کروانے کے بعد عمر ہشاش بشاش چھت پر گیا تو تحریم کو محو انتظار پایا، آسمان کسی آنچل کی صورت جا بجا ٹانکے ہوئے ستاروں سے سجا بہت حسیں دکھائی دے رہا تھا۔ دور تک پھیلی ہوئی چاندنی ماحول کو مسحور کر رہی تھی۔

عمر نے تحریم کا ہاتھ تھاما اور اس کا سراپنے سینے سے ٹکا لیا ۔ دونوں مل کر چاند کو تکنے لگے۔
"میرا من کرتا ہے کہ میں اس چاند کے ساتھ ساتھ ساری دنیا گھوموں ،اس جہان کی ساری روشنی کو اپنے اندر اتار لوں ۔۔" تحریم نے اس منظر کے طلسم میں کھو کر کہا۔۔

"میرا بھی من کرتا ہے، ساری دنیا میں پھروں،زمیں کے ہر کونے پر میری پیشانی کی مہر ہو۔۔" عمر صدق دل سے گویا ہوا

اس کی بات اور انداز سے تحریم چونک گئی، اس کی سوچ کی سوئی اماں پر آ کر اٹکی، کہیں عمر اماں سے زیادہ متاثر تو نہیں ہو رہا، نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے، میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔ اس نے باتوں باتوں میں عمر سے اپنے ویزے کی بابت پوچھا تو عمر نے اسے تسلی دی، ایک آدھ ہفتے میں مثبت جواب آ جائے گا، اور آخر اس کا ویزہ لگ گیا، جدائی کی گھڑی آپہنچی،اماں کی آنکھوں کے گوشے پانیوں سے بھرنے لگے،اور تحریم کی آنکھوں میں خواب تاروں کی طرح سجنے لگے، گھر اور گھر والوں سے دوری کا دکھ آنے والی آزادی و بے فکری کی آہٹ تلے دب گیا،جانے والے ،پیچھے رہ جانے والوں کے غم سے بے خبر ، اپنی ہی دنیا کی خوشیوں میں مست رہتے ہیں اور رہ جانے والوں کے آس پاس کی فضاء بین کرتی رہ جاتی ہے۔

پل پل ماں کی ممتا سلگتی ہے
بیٹی کی پالکی جب اٹھتی ہے
درودیوار روتے ہیں گھر کے
وداعی بین کرتی ہے۔

اماں اور بی اماں کے دکھ کے پیش نظر خالد علوی نے پاکستان مستقل قیام کا فیصلہ کر لیا۔

********************************

ہانگ کانگ ائیر پورٹ سے گھر تک کا سفر اسے کسی خواب کی طرح لگا، عمر کا گھر بھی بہت ہی خوبصورت اور شاندار تھا،ایک دو دن کے آرام کے بعد ہی اس نے گھر کو اپنے انداز سے سجانا سنوارنا چاہا، کئی چیزوں کی جگہ بدلی اور اس دوران اسے عمر اور کیتھی(مریم ) کے ماضی کی جھلک نظر آئی ،جس نے اسے سیخ پا کر دیا، اور دل میں کہیں سویا ہوا شک بیدار ہو گیا

اسی وقت دستک ہوئی ،تحریم تصویریں پٹختے ہوئے دروازہ کھولنے چل دی۔ سامنے عکرمہ اور مریم کو دیکھ کر اس کا جی اور مکدر ہو گیا۔ ان دونوں نے اسے شادی کی مبارک باد دی اور تحائف پیش کئے،جو اس نے بے دلی سے لے کر رکھ دیے۔ اتنی ہی دیر میں عمر بھی آگیا، عکرمہ اور مریم کو اکٹھے دیکھ کر اسے بہت حیرت ہوئی۔

"مریم (کیتھی) نے پچھلے ماہ اسلام قبول کر لیا تھا، اور اب ہم نے زندگی ایک ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔" عکرمہ نے خوشگوار لہجے میں کہا۔۔
اور مریم نے مسکرا کر اس کی بات کی تائید کی۔

"اگلے ہفتے ہماری تقریب نکاح ہے۔ امید ہے آپ ہماری خوشیوں میں شامل ہو کر رونق بخشیں گے۔" اس نے بات جاری رکھی

عمر نے مطمئن انداز میں مریم کو دیکھا آخر اس کو بھی منزل مل گئی۔

تحریم نے کچھ دیر پہلے ملی تصاویر کو عکرمہ کے سامنے میز پر رکھتے ہوئے مریم سے پوچھا

"یہ تصویر والی شخصیت آپ ہی ہیں نا؟ " لمحے بھر کو عمر کا چہرہ متغیر ہوا ۔

عکرمہ نے تصاویر کو اٹھا کر پھاڑ دیا اور متانت سے کہا ۔۔"ان کی حقیقت بس اتنی ہی تھی۔ زندگی حال سے عبارت ہے۔ ماضی کی راکھ سے چنگاریاں ڈھونڈنا دانشمندی نہیں ہوا کرتی۔ مریم کو میں نے آج قبول کیا ہے، اس کے ماضی اور حال کے بیچ اک حد فاصل ہے، جو صرف دیکھنے والوں کو ہی نظر آتی ہے۔ " اور عمر سے مصافحہ کر کے واپسی کا قصد کیا۔۔

"مریم! ہونہہ۔۔۔" تحریم نے تنفر سے سر جھٹکا۔۔

مریم نے عکرمہ کو اک پل رکنے کا اشارہ کیا اور عمر سے مخاطب ہوئی۔۔۔

"اپنی محبت کے بادلوں کو راہ سے ہٹانے ،زندگی کی نئی راہ چن کر میری امید ختم کرنے اوردین کی طرف میرے پہلے قدم کو خالص کرنے کے لیے، آپ کا شکریہ۔" اس کی آنکھیں نم تھیں اور عکرمہ کے سنگ چل دی۔۔

ان کے جانے کے بعد تحریم نے عمر سے کہا۔۔" دو ٹھکرائے ہوئے لوگ اکٹھے کیسے لگیں گے۔" اور استہزائیہ انداز میں ہنس دی۔۔

عمر اس کے خوبصورت چہرے پر لگے غرور کے مکروہ گرہن کی کراہت محسوس کیے بناء نہ رہ سکا۔

*********************************

بہت دنوں بعد عمر ،تحریم کو تائی مو شان لے کر آیا، یہ وہ جگہ تھی،جہاں اس کی زندگی کا رخ بدل گیا تھا، وہ بڑی عقیدت سے قدرت کی حسین مصوری کو اپنی آنکھوں مین جذب کرتا رہا۔۔

وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا، کافی دیر بعد انہوں نے واپسی کی راہ لی، پہاڑیوں کے گرد،پیچ در پیچ سڑک سےدور کھڑی عمارتوں کے جلنے بجھنے کا خوبصورت منظر دکھائی دے رہا تھا، ان مصنوعی روشنیوں کی چمک تحریم کی آنکھوں کو خیرہ کیے جا رہی تھی،کہ اچانک ایک خطرناک موڑ پر گاڑی بند ہوگئی۔ عمر نے مدد کے لیے کسی کو بلانا چاہا مگر فون کے سگنل نہیں مل رہے تھے، اک گھمبیر سناٹا ماحول پر طاری تھا،اپنی پریشانی دور کرنے کے لئے عمر نے اپنے فون میں تلاوت لگا دی۔ تحریم کے ماتھے پر شکنوں کا جال بننے لگا، سناٹے میں تلات کی آواز اس کے اعصاب پر بہت بھاری پڑ رہی تھی۔ اس نے عمر کے ہاتھ سے فون لے کر تلاوت بند کردی۔

"اس شور سے ماحول کو اور ڈراؤنا تو نہ بناؤ۔" اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔

"مجھے بہت دکھ تھا کہ میں پیدائشی مسلمان نہیں ہوں مگر آج تم نے میرا یہ دکھ یہ تاسف ختم کر دیا، میں شکر کرتا ہوں اللہ تعالٰی کا ،کہ اس نے مجھے ایمان تب دیا جب میں اس کی حرمت کا پاس بھی رکھ سکوں، اپنے ہم مذہب ساتھیوں کی بے اعتمادی کا دکھ فنا ہو گیا ،کم سے کم یہ مجھے مبتلاء غرور سے تو بچا کر رکھتا ہے،میرے قدم زمین پر رہتے ہیں،بہت بہت شکریہ تحریم علوی صاحبہ۔" اس نے آگ برساتے لہجے میں کہا۔۔

ندامت کا موہوم سا احسا س تحریم کے دل میں نمودار ہوا مگر غرور نے اسے زیادہ دیر اپنی سلطنت میں جگہ نہ دی۔

عمر نے پھر گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی اور گاڑی چل پڑی، کبھی کبھی ایک چھوٹی سی بات ذہن پر لگی گرہ کھول دیتی ہے، عمر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔

************
بہت دنوں سے تحریم سے بات نہ ہوئی تھی، اماں کے دل کو اک پل قرار نہ تھا، وہ تحریم کی جدائی کا غم مٹانے اس کی سہیلی شہلا کے گھر گئی،وہاں انہیں شہلا نے تحریم کی بھییجی ہوئی تصاویر دکھائیں ، اماں ان تصویروں کو ہاتھ میں اٹھائے جیسے ساکت ہو گیئں۔ جس اولاد کی پرورش انہوں نے سارے دینی لوازمات سے کی ،اس اولاد پر اس تربیت کا رنگ اتنا کچا ہو گا کہ چند مہینوں میں ہی پھیکا پڑ جائے گا، انہوں نے سوچا تک نہ تھا۔ وہ بت بنی ان جامد تصاویر کو دیکھتی رہیں۔ اور اک پھر بھاری دل کے ساتھ گھر کو چل دیں۔

گردش ایام پھر رمضان تک آ پہنچی، اماں رو رو کر رب سے فریاد کرتی رہیں" میری اک ہی اولاد ہی الٰہی! میری تمام عمر کی محنت، اسے قبول کر لے، میرے سجدے تیرے آگے دست بستہ کھڑے ہیں، میرے آنسو سوالی بن گئے ہیں، میری جھولی بھر دے مولا!"

***************

تحریم پاکستان کلب کی رکن بن گئی،وہاں اس کی دوستی آزاد خیال پنکی سے ہوئی،یہاں کے ماحول میں تحریم کو ڈھالنے کے لیے کافی محنت کی۔ دن ،ہفتوں اور مہینوں میں ڈھلتے گئے،پھر پنکی نے اسے ایک میگزین کے لیے ماڈلنگ کی پیشکش کی،جو اس نے تھوڑے سے تامل کے بعد قبول کر لی۔ اس کے بدلتے رنگ ڈھنگ دیکھتے ہوئے کئی بار عمر نے اسے سمجھانا چاہا مگر وہ اس کی ہر نصیحت کے سامنے اس کا داغدار ماضی کھڑا کر دیتی۔

"کیوں خود کو داغدار کر رہی ہو۔۔" عمر نے اسے سمجھانا چاہا۔

"تم غم نہ کرو ،جب تمہارے جیسوں کے داغ اسلام کا لیبل دھو سکتا ہے، تو میں تو پھر پیدائشی مسلمان ہوں ، اللہ بڑا غفور الرحیم ہے، وہ مجھے بھی معاف کر دے گا۔" اس نے بے فکری سے کہا اور پنکی سے ملنے چل دی۔۔

ٹائم اسکوئر کے باہر پنکی کا انتظار کرتے کرتے کئی بار وہ دستی گھڑی پر وقت دیکھتی ،پھر نظر گھما کر آس پاس کا نظارہ کرتی اور کبھی بلڈنگ پر لگے جحیم ٹی وی پر نظر جما دیتی۔ ماہ رمضان تھا مگر اس کا روزہ نہیں تھا،آج اس کی پہلی شوٹنگ تھی ،تو تروتازہ نظر آنا اس کے لیے روزے سے زیادہ ضروری تھا۔ نظر گھوم کر پھر ٹی وی پر رکی اور وہیں ساکت ہوگئی، اک قیامت صغرٰی اس کے سامنے تھی، اس کا شہر مظفرآباد تباہ ہو چکا تھا، زلزلہ کی تباہی کا سماں اس کے سامنے ٹی وی اسکرین پر آ رہا تھا

وہ وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئی ،اس کا شہر تباہ ہو چکا تھا، اماں ،بی اماں اور بابا کے چہرے اس کی نگاہوں کے سامنے گھوم رہے تھے، اس نے شل اعصاب لیے ایک ٹیکسی کو روکا اور گھر آگئی۔ عمر کو بھی خبر مل چکی تھی، وہ وطن فون کر رہا تھا،مگر لائن نہیں مل رہی تھی۔ اس نے پاکستان جانے کے لئے سیٹیں بک کرا لیں، وہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے، اک موہوم سی امیدتھی ،شاید شاید ان کا گھر بچ گیا ہو، سب ٹھیک ہو۔
واپسی کا سفر اتنا کٹھن ہو گا یہ تحریم نے کبھی نہ سوچا تھا، اس کا گھر اسے کہیں نظر نہیں آیا ، یہاں تو بس مٹی ،گردوغبار، اور دھند باقی رہ گئی تھی، حد نظر تک دھول اڑاتی ہوئی شوریدہ ہوا ماتم کر رہی تھی، خاموشی نوحے سنا رہی تھی، اور وہ اپنے سامنے پڑے ملبے میں اپنے حسین ہاتھوں سے مٹی کھرچ کھرچ کر اپنے اپنوں کا نشاں ڈھونڈ رہی تھی ،آج اک زلزلہ اس کے وجود میں بھی آیا تھا ،جس نے اس کی خواہشات کا محل زمیں بوس کر دیا ،اس کی تمناؤں کے ملبے تلے دبی محبت بیدار ہوئی مگر شاید دیر ہو چکی تھی ،وقت ریت کی طرح اس کی مٹھی سے پھسل چکا تھا، جانے والے یوں گئے تھے کہ اپنا نام و نشاں بھی نہ چھوڑا تھا۔ آج اسکی سسکیاں سننے والا کون تھا۔

ہوائیں نوحے سناتی ہیں ،
خاموشی آہیں بھرتی ہے
سسکیوں کی گونج میں
جدائی بین کرتی ہے۔

دو ہفتے کی ناکام تلاش کے بعد بھی جب کچھ نشاں نہ ملا تو عمر نے واپسی کی ٹھانی ،ویسے بھی موسم کی تندی شدت سے پر اور فضاء کا تعفن برداشت سے باہر تھا۔

*********************************

پچھتاوے کسی آسیب کی طرح اس کے ساتھ چمٹ گئے تھے، وہ راتوں کو سو نہ سکتی تھی، انسان اپنی ہی نظر سے گر جائے تو بیرونی سہارے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔ عمر ،مریم اور عکرمہ اس کو زندگی کی طرف لوٹانے کی طرف کوشش کرتے، اور وہ اک قیامت نگاہوں مین بسائے اور اک آفت دل میں لئے گم صم ہی رہتی۔

اس کی اماں کی پسندیدہ دعا کی گونج اس کے دل میں اتر رہی تھی،

یا رب میں گنہگار ہوں، توبہ قبول ہو
عصیاں پہ شرمسار ہوں، توبہ قبول ہو
جاں سوز و دل فگار ہوں، توبہ قبول ہو
سر تا پا انکسار ہوں، توبہ قبول ہو
توبہ قبول ہو، مِری توبہ قبول ہو

گزری تمام عمر مِری لہو و لعب میں
نیکی نہیں ہے کوئی عمل کی کتاب میں
صالح عمل بھی کوئی نہیں ہے حساب میں
دستِ دُعا بلند ہے تیری جناب میں
توبہ قبول ہو میری توبہ قبول ہو

عیش و نشاط ہی میں گزاری ہے زندگی
ہر زاویے سے اپنی سنواری ہے زندگی
میرا خیال یہ تھا کہ جاری ہے زندگی
لیکن یہ حال اب ہے کہ بھاری ہے زندگی
توبہ قبول ہو میری توبہ قبول ہو
(نعت خواں: محمود الحسن اشرفی)
اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، وہ پیدائشی مسلمان تھی ،اس کو رب کی طرف لوٹایا گیا تھا ،لیکن واپسی کی راہ کانٹوں سے بھری تھی اور اسے ننگے پاؤں چلنا تھا۔

نعت جاری تھی۔

تیرے کرم کو تیری عطا کو بُھلا دیا
اعمال کی جزا و سزا کو بُھلا دیا
طاقت ملی تو کرب و بلا کو بُھلا دیا
ہر ناتوا کیا ہے رسا کو بُھلا دیا
توبہ قبول ہو میری توبہ قبول ہو

میں تو سمجھ رہا تھا کہ دولت ہے جس کے پاس
اُس کو نہ کوئی خوف ہے اُس کو نہ کچھ ہراس
ہوگا نہ زندگی میں کسی وقت وہ اُداس
لیکن وہ میری بھول تھی، اب میں ہوں محوِ یاس
توبہ قبول ہو میری توبہ قبول ہو

میں ہوں گنہگار مگر تُو تو ہے کریم
میں ہوں سیاہ کار مگر تُو تو ہے رحیم
میں ہوں پناہ پذیر مگر تُو تو ہے قدیم
میں ادنیٰ و حقیر سہی تُو تو ہے عظیم
توبہ قبول ہو میری توبہ قبول ہو

یا رب تِرے کرم تیری رحمت کا واسطہ
یا رب تِری عطا تیری نعمت کا واسطہ
یا رب تیرے جلال و جلالت کا واسطہ
یا رب رسولِ حق کی رسالت کا واسطہ
توبہ قبول ہو میری توبہ قبول ہو

میں اعتراف کرتا ہوں اپنے قصور کا
میں ہوگیا تھا ایسے گناہوں میں مبتلا
جن کی ہے آخرت میں کڑی سے کڑی سزا
لیکن مجھے تو تیرے کرم سے ہے آسرا
توبہ قبول ہو میری توبہ قبول ہو

********************

انہی دنوں کچھ عربی مولانا صاحب کو ڈھونڈتے ان تک آپہنچے ، ان کی رحلت کا سن کر ان کے جسد خاکی کو عرب لے جانے کا فیصلہ کیا گیا، ان کی امانتاً دفنائی ہوئی میت جب لحد سے نکالی گئی ، تو وہ پہلے دن کی طرح تازہ اور پر نور لگ رہی تھی، عمر کے ساتھ آئے اسمتھ اور دو اور غیر مسلم نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ عمر قبرستان کی فضاؤں میں اس دعا کو محسوس کر رہا تھا، جس کی گونج جانے والا اس ہوا میں چھوڑ گیا تھا۔ اک ایسی دعا جو سفر میں تھی۔
************
ختم شد