013 - شئیرز از امان

شیئرز

موجودہ دور کی تجارت میں ایک نئی چیز کا اضافہ ہوا ہے، جس کو آج کل کی اصطلاح میں "شیئر" (Share) کہتے ہیں، چونکہ شیئرز کا کاروبار آخری صدیوں میں پیدا ہوا، اس لیے قدیم فقہاء کی کتابوں میں اس کا حکم اور اس کے بارے میں تفصیلات نہیں ملتیں۔ اس لیے اس وقت شیئرز اور اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والے دوسرے جدید معاملات کے بارے میں مختصراً عرض ہے:

شیئرز کی ابتداء

پہلے زمانہ میں جو "شرکت" ہوتی تھی، وہ چند افراد کے درمیان ہوا کرتی تھی، جس کو آج کل کی اصطلاح میں پارٹنرشپ کہتے ہیں۔ لیکن پچھلی دو، تین صدیوں سے شرکت کی ایک نئی قسم وجود میں آئی، جس کو "جوائنٹ اسٹاک کمپنی" (Joint Stock Company) کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے کاروبار میں نئی صورتحال پیدا ہوئی، اور اس کے حصص (شیئرز) کی خرید و فروخت کا نیا مسئلہ وجود میں آیا۔ اس کی بنیاد پر دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹس کام کر رہی ہیں۔ اور ان اسٹاک مارکیٹس میں کروڑوں، بلکہ اربوں روپے کا لین دین ہوتا رہتا ہے۔ اور اس کی مختلف صورتیں ہیں۔

شیئرز کی حقیقت کیا ہے

پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ شیئرز کیا چیز ہیں! کمپنی کے شیئرز کو اردو میں "حصّے" سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور عربی میں اس کو "سھم" کہتے ہیں۔ یہ شیئرز درحقیقت کسی کمپنی کے اثاثوں میں شیئرز ہولڈرز کی ملکیت کے ایک متناسب حصّے کی نمائندگی کرتا ہے۔ مثلاً اگر میں کسی کمپنی کا شیئر خریدتا ہوں تو وہ شیئر سرٹیفیکٹ جو ایک کاغذ ہے، وہ اس کمپنی میں میری ملکیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ لہٰذا کمپنی کے جو اثاثے اور املاک ہیں، شیئرز خریدنے کے نیتجے میں، میں ان کے متناسب حصے کا مالک بن گیا۔

پہلے زمانے میں تجارت چھوٹے پیمانے پر ہوتی تھی کہ دو چار آدمیوں نے مل کر سرمایہ لگا کر شرکت کی اور کاروبار کرلیا۔ لیکن بڑے پیمانے پر تجارت اور صنعت کے لیے جتنے بڑے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بسا اوقات چند افراد مل کر اتنا سرمایا مہیا نہیں کر پاتے، اس واسطے کمپنی کو وجود میں لانا پڑا، اور اس کے لیے جو طریق کار عام طور پر معروف ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب کوئی کمپنی وجود میں آتی ہے تو پہلے وہ اپنا لائحہ عمل اور خاکہ (Prospectus) شائع کرتی ہے اور اپنے شیئرز جاری کرتی ہے۔ اور شیئرز جاری کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کمپنی لوگوں کو اس کمپنی میں حصّے دار بننے کی دعوت دے رہی ہے۔

جب کمپنی کی ابتداء وجود میں آتی ہے، تو اس وقت وہ کمپنی بازار میں اپنے شیئرز فلوٹ (Float)کرتی ہے اور لوگوں کو اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ وہ یہ شیئرز خریدیں، اب اس وقت جو شخص بھی ان شیئرز کو خریدتا ہے وہ شخص درحقیقت اس کمپنی کے کاروبار میں حصہ دار بن رہا ہے۔ اور اس کمپنی کے ساتھ شرکت کا معاملہ کر رہا ہے۔ اگرچہ عرف عام میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے شیئرز خریدے۔ لیکن شرعی اعتبار سے وہ خرید و فروخت نہیں ہے۔ بلکہ جب میں نے پیسے دے کر وہ شیئرز حاصل (Subscribe) کیے تو اس کے نتیجے میں مجھے کوئی سامان نہیں مل رہا ہے، اس لیے کہ کمپنی نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا، اور نہ ہی اب تک کمپنی کے املاک اور اثاثے وجود میں آئے ہیں۔ بلکہ کمپنی تو اب بن رہی ہے۔ لہٰذا جس طرح ابتدا میں دو چار آدمی مل کر پیسے جمع کر کے کاروبار شروع کرتے ہیں اسی طرح کمپنی کی ابتدا لوگوں کو اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ تم اس کاروبار میں ہمارے ساتھ شریک بن جاؤ، لہٰذا جو شخص اس وقت میں شیئرز حاصل کر رہا ہے وہ گویا کہ شرکت کا معاملہ کررہا ہے۔

اب شرکت کا معاملہ کرنے کے نتیجے میں اس کو جو "شیئرز سرٹیفیکٹس" حاصل ہو، وہ درحقیقت اس شخص کی اس کمپنی میں متناسب حصّے کی ملکیت کی نمائندگی کررہا ہے۔ یہ ہے شیئرز کی حقیقت۔

نئی کمپنی کے شیئرز کا حکم

لہٰذا جب کسی کمپنی کے "شیئرز" ابتداء میں جاری ہو رہے ہوں، اس وقت ان شیئرز کو ایک شرط کے ساتھ لینا جائز ہے وہ یہ کہ جس کمپنی کے یہ شیئرز ہیں، وہ کوئی حرام کاروبار شروع نہ کر رہی ہو، لہٰذا اگر کسی حرام کاروبار کے لیے وہ کمپنی قائم کی جارہی ہے، مثلاً شراب بنانے کی فیکٹری قائم کی جارہی ہے یا مثلاً سود پر چلانے کے لیے ایک بینک قائم کیا جارہا ہے، یا انشورنس کمپنی قائم کی جا رہی ہے، تو اس قسم کی کمپنی کے شیئرز لینا کسی حال میں بھی جائز نہیں۔ لیکن اگر بنیادی طور پر حرام کاروبار نہیں ہے بلکہ کسی حلال کاروبار کے لیے کمپنی قائم کرنے کے لیے شیئرز جاری کیے گئے ہیں، مثلاً کوئی ٹیکسٹائل کمپنی ہے یا آٹو موبائل کمپنی ہے۔ تو اس صورت میں اس کمپنی کے شیئرز خریدنے میں کوئی قباحت نہیں، جائز ہے۔

خرید و فروخت کی حقیقت

جب ایک آدمی نے وہ شیئرز خرید لیے تو اب وہ آدمی اس کمپنی میں حصّہ دار بن گیا لیکن عام طریق کار یہ ہے کہ وہ شیئرز ہولڈر وقتاً فوقتاً اپنے شیئرز اسٹاک مارکیٹ میں بیچتے رہتے ہیں۔ لہٰذا جب کمپنی قائم ہوگئی اور ایک مرتبہ اس کمپنی کے تمام شیئرز Subscribe ہوگئے، اس کے بعد جب اس کمپنی کے شیئرز کا اسٹاک مارکیٹ میں لین دین ہوگا، وہ شرعاً حقیقت میں "شیئرز کی خرید و فروخت" ہے، مثلاً جب ابتدا ایک کمپنی قائم ہوئی، اس وقت میں نے اس کے دس شیئرز حاصل کیے، اب میں ان شیئرز کو اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کرتا ہوں، اب جو شخص وہ دس شیئرز مجھ سے خرید رہا ہے، حقیقت میں وہ میری ملکیت کے متناسب حصّے کو خرید رہا ہے، جو میرا کمپنی کے اندر ہے، لہٰذا اس خرید و فروخت کے نتیجے میں وہ شخص میری جگہ اس حصّے کا مالک بن جائے گا۔

چار شرطوں کے ساتھ خرید و فروخت جائز ہے

لہٰذا اگر کسی شخص کو "اسٹاک مارکیٹ" سے شیئرز خریدنے ہوں، تو اس کو ان شیئرز کی خریداری کے لیے چار شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:

پہلی شرطپہلی شرط یہ ہے کہ وہ کمپنی حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو، مثلاً وہ سودی بینک نہ ہو، سود اور قمار پر مبنی انشورنس کمپنی نہ ہو، شراب کاروبار کرنے والی کمپنی نہ ہو، یا ان کے علاوہ دوسرے حرام کام کرنے والی کمپنی نہ ہو، ایسی کمپنی کے شیئرز لینا کسی حال میں جائز نہیں، نہ ابتدا جاری ہونے کے وقت لینا جائز ہے اور نہ ہی بعد میں اسٹاک مارکیٹ سے لینا جائز ہے۔

دوسری شرط

دوسری شرط یہ ہے کہ اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں (Liquid Assets) یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہو، بلکہ اس کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے (Fixed Assets) حاصل کرلیے ہوں، مثلاً اس نے بلڈنگ بنا لی ہو، یا زمین خرید لی ہو۔ لہٰذا اگر اس کمپنی کا کوئی فکسڈ اثاثہ وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کے تمام اثاثے ابھی سیال (Liquid) یعنی نقد رقم کی شکل میں ہیں، تو اس صورت میں اس کمپنی کے شیئرز کو فیس ویلیو (Face Value) سے کم یا زیادہ (Above Par or Below Par) میں فروخت کرنا جائز نہیں، بلکہ برابر برابر خریدنا ضروری ہے۔

یہ سود ہوجائے گا

اس کی وجہ یہ ہے کہ جتنے لوگوں نے اس کمپنی میں اپنی رقم Subscribe کی ہے اس رقم سے ابھی تک کوئی سامان نہیں خریدا گیا اور نہ اس سے کوئی بلڈنگ بنائی گئی، نہ کوئی مشین خریدی گئی اور نہ ہی کوئی اور اثاثہ وجود میں آیا، بلکہ ابھی وہ تمام پیسے نقد کی شکل میں ہیں، تو اس صورت میں دس روپے کا شیئر دس روپے ہی کی نمائندگی کررہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دس روپے کا بانڈ دس روپے ہی کی نمائندگی کرتا ہے، یا جیسے دس روپے کا نوٹ دس روپے کی نمائندگی کرتا ہے لہٰذا جب دس روپے کا شیئر دس روپے کی نمائندگی کررہا ہے تو اس صورت میں اس شیئر کو گیارہ روپے میں، یا نو روپے میں خریدنا یا فروخت کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ یہ تو دس روپے کے نوٹ کو گیارہ روپے میں فروخت کرنا یا نو روپے میں فروخت کرنا ہو جائے گا، جو سود ہونے کی وجہ سے قطعاً جائز نہیں۔

لیکن اگر کمپنی کے کچھ اثاثے منجمد (Fixed Assets) کی شکل میں ہیں، مثلاً اس رقم سے کمپنی نے خام مال (Raw Material) خرید لیا، یا کوئی تیار مال (Produced Goods) خرید لیا، یا کوئی بلڈنگ بنا لی یا مشینری خرید لی، تو اس صورت میں دس روپے کے اس شیئر کو کمی یا زیادتی پر فروخت کرنا جائز ہے۔

اس کے جائز ہونے کی وجہ ایک فقہی اصول ہے، وہ یہ ہے کہ جب سونے کو سونے سے فروخت کیا جائے، یا پیسے کا پیسے سے تبادلہ کیا جائے تو برابر سرابر ہونا ضروری ہے لیکن بعض چیزیں مرکب ہوتی ہیں مثلاً سونے کا ایک ہار ہے اور اس میں موتی بھی جڑے ہوئے ہیں، تو اب سونے کے بارے میں یہ حکم ہے کہ وہ بالکل برابر برابر کر کے خریدنا اور فروخت کرنا ضروری ہے لیکن یہ حکم موتیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ اس لیے دس موتی کے بدلے بارہ موتی لینا جائز ہے لہٰذا اگر ایک ایسا ہار خریدنا ہو، جو سونے اور موتی سے مرکب ہے، تو اس کی صورت یہ ہے کہ اس ہار میں جتنا سونا ہے، اس سے تھوڑا سا زیادہ سونا دے کر اس کو خریدنا درست ہے۔ مثلاً فرض کیجئے کہ اس ہار میں ایک تولہ سونا ہے اور کچھ موتی لگے ہوئے ہیں، اب اگر کوئی شخص اس ہار کو ایک تولہ اور ایک رتی سونے کے عوض خریدنا چاہے تو اس کے لیے خریدنا جائز ہے، اس لیے کہ یہ کہا جائے گا کہ ایک تولہ سونا تو ایک تولہ سونے کے عوض میں آ گیا۔ اور ایک رتی سونا موتیوں کے مقابلے میں آ گیا۔ اس طرح معاملہ درست ہوگیا۔

اسی طرح یہاں یہ بھی سمجھ لیجئے کہ اگر کمپنی کے کچھ اثاثے نقد روپے کی شکل میں ہوں اور کچھ اثاثے فکسڈ یا خام مال کی شکل میں ہوں، تو وہاں بھی فقہ کا یہی اصول جاری ہوتا ہے۔

اس بات کو ایک مثال کے ذریعے سمجھئے، فرض کریں کہ ایک کمپنی نے سو روپے کے شیئرز جاری کیے اور دس آدمیوں نے وہ شیئرز خرید لیے، ایک شئیر دس روپے کا تھا۔ ہر شخص نے دس دس روپے کمپنی کو دے کر وہ شیئرز حاصل کرلیے۔ اس کے بعد کمپنی نے ابھی تک اس رقم سے کوئی سامان نہیں خریدا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دس شیئرز جو سو روپے کے ہیں۔ وہ سو روپے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ لہٰذا اگر فرض کریں کہ ایک شخص "A" کے پاس ایک شیئر ہے، اب وہ اس شیئر کو دس کے بجائے گیارہ میں فروخت کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے دس روپے دے کر گیارہ روپے لے لیے۔ کیونکہ کمپنی نے ابھی تک اس رقم سے کوئی چیز نہیں خریدی ہے۔ بلکہ ابھی تک وہ رقم نقد کی شکل ہی میں اس کے پاس موجود ہے۔

لیکن اگر کمپنی نے یہ کیا کہ جب اس کے پاس سو روپے آئے تو اس نے چالیس روپے کی مثلاً بلڈنگ خرید لی، اور بیس روپے کی مشینری خرید لی، اور بیس روپے کا خام مال خرید لیا، اور دس روپے اس کے پاس نقد موجود ہیں اور دس روپے لوگوں کے ذمّے مال فروخت کرنے کی وجہ سے واجب الاداء ہوگئے۔ اسی بات کو نقشے سے سمجھ لیں:

کمپنی کی کل رقم: 100 روپے
-واجب الوصول قرضے: 10 روپے
- بلڈنگ: 40 روپے
- مشینری: 20 روپے
- خام مال: 20 روپے
- نقد: 10 روپے

اب اس صورت میں کمپنی کے اثاثے پانچ حصوں میں تقسیم ہوگئے، اب "A" کے پاس جو دس روپے کا شیئر ہے وہ اسی تناسب سے تقسیم ہوجائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ "A" کے پاس جو دس روپے کا شیئر ہے، اس میں سے ایک روپے واجب الوصول قرض کے مقابل ہے، ایک روپیہ نقد کے مقابل ہے، چار روپے بلڈنگ کے ہیں، دو روپے مشینری کے ہیں اور دو روپے خام مال کے ہیں۔ اب اگر "A" دس روپے کا شیئر 12 روپے میں فروخت کرنا چاہے تو اس کے لیے جائز ہے۔ اس لیے کہ اس کو فروخت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ "A" نے ایک روپیہ میں ایک روپے کا قرض فروخت کیا، ایک روپیہ نقد ایک روپیہ کے عوض فروخت کیا، اور باقی دس روپے کے عوض دوسری چیزیں فروخت کیں، اور اس طرح "A" کا یہ مسودا درست ہوگیا، اس لیے "A" جو دو روپے نفع لے رہا ہے وہ نقد اور قرض کے مقابلے پر میں نہیں لے رہا، بلکہ دوسری اشیاء پر منافع لے رہا ہے اور ان پر منافع لینا جائز ہے۔

لیکن اگر کسی وقت نقد رقم اور واجب الوصول قرضہ دس روپے سے زیادہ ہو جائے تو اس صورت میں "A" کے لیے دس روپے کا شیئر دس سے کم یعنی 9 روپے میں فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا، مثلاً فرض کیجئے کہ جب کمپنی کا کاروبار آگے بڑھا اور کمپنی نے ترقّی کرلی، تو اس کے نتیجے میں یہ واجب الوصول قرضہ سو روپے ہوگیا اور سو روپے نقد ہوگئے، اور چالیس روپے کی بلڈنگ، بیس روپے کا مال، بیس روپے کی مشینری۔ اس طرح کمپنی کے کل اثاثوں کی مالیت 280 روپے ہوگئی، اور ایک شیئر کی بریک اپ ویلیو (Brake up Value) اب 28 روپے ہوگئی۔

مندرجہ ذیل نقشے سے سمجھ لیجئے:

کمپنی کی موجودہ کل مالیت: 280 روپے
ایک شیئر کی موجودہ قیمت: 28 روپے
بلڈنگ: 40 روپے
مشینری: 20 روپے
خام مال: 20 روپے
نقد: 100 روپے
قرضے واجب الوصول: 100 روپے

اس صورت میں اگر "A" اپنا شیئر فروخت کرنا چاہتا ہے تو 21 روپے سے کم میں اس کے لیے فروخت کرنا جائز نہیں۔ اس لیے کہ اب دس روپے ان قرضوں کے مقابلے میں ہوں گے جو لوگوں کے ذمے واجب الاداء ہیں، اور دس روپے نقد دس روپے کے مقابلے میں ہو جائیں گے، اور ایک روپیہ دوسرے اثاثوں کے مقابلے میں ہو جائے گا۔ اس طرح یہ معاملہ درست ہو جائے گا۔ لہٰذا اگر "A" نے اس شیئر کو 21 کے بجائے 19 روپے میں فروخت کردیا تو یہ اس کے لیے جائز نہیں۔ اس لیے کہ یہ تو ایسا ہو جائے گا جیسے 20 روپے کے عوض 19 روپے وصول کرلیے، جو جائز نہیں۔

لہٰذا جب تک کمپنی نے اثاثے نہیں خریدے، بلکہ تمام رقم ابھی تک نقد کی شکل میں ہے، یا واجب الوصول قرض (Reciveable) کی شکل میں ہے، اس وقت تک اس کمپنی کے شیئر کو کمی زیادتی (Above Par or Below Par) کے ساتھ فروخت کرنا جائز نہیں۔ بلکہ فیس ویلیو (Face Value) پر خریدنا اور بیچنا ضروری ہے۔

لہٰذا جس کمپنی کا ابھی تک کوئی وجود نہیں ہے۔ لیکن اسٹاک مارکیٹ میں اس کے شیئرز کی خرید و فروخت شروع ہو جاتی ہے جیسے پرویژنل لسٹڈ کمپنی (Provisional Listed Company) ہوتی ہے، اور عام طور پر اس کمپنی کا ابھی تک وجود نہیں ہوتا۔ ایسی کمپنی کے شیئرز کو بھی کمی زیادتی پر فروخت کرنا جائز نہیں۔ مثلاً ابھی کچھ عرصہ پہلے اسٹاک مارکیٹ میں بہت تیزی آگئی تھی، اور بہت سی کمپنیاں Float ہو رہی تھیں اور زبردست سودے ہو رہے تھے۔ اس وقت ایک کمپنی نے اپنے شیئرز دس روپے میں جاری کیے اور ابھی تک اس کمپنی کی کوئی چیز وجود میں نہیں آئی تھی۔ مگر اسٹاک مارکیٹ میں اس کا شیئر 180 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

بہرحال دوسری شرط کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک کسی کمپنی کے منجمد اثاثے وجود میں نہ آ جائیں، اس وقت تک اس کے شیئرز کو کمی یا زیادتی پر فروخت کرنا جائز نہیں۔

تیسری شرط

تیسری شرط سمجھنے سے پہلے اس بات کو جاننا ضروری ہے کہ آج جتنی کمپنیاں اس وقت قائم ہیں، ان میں سے اکثر کمپنیاں ایسی ہیں کہ ان کا بنیادی کاروبار تو حرام نہیں ہے، مثلاً ٹیکسٹائل کمپنیاں، آٹو موبائل کمپنیاں وغیرہ۔ لیکن شاید ہی کوئی ایسی کمپنی ہوگی جو کسی نہ کسی طرح سودی کاروبار میں ملوث نہ ہو، یہ کمپنیاں دو طریقے سے سودی کاروبار میں ملوث ہوتی ہیں:

پہلا طریقہ یہ ہے کہ یہ کمپنیاں فنڈ بڑھانے کے لیے بینک سے سود پر قرض لیتی ہیں، اور اس قرض سے کام چلاتی ہیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کمپنی کے پاس جو زائد اور فاضل / سرپلس (Surplus) رقم ہوتی ہے وہ سودی اکاؤنٹ میں رکھواتی ہیں۔ اور اس پر وہ بنک سے سود حاصل کرتی ہیں، وہ سود بھی ان کی آمدنی کا ایک حصّہ ہوتا ہے۔

لہٰذا اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ میں ایسی کمپنی کے شیئرز خریدوں جو کسی بھی طریقے سے کسی سودی کاروبار میں ملوث نہ ہو تو یہ بہت مشکل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر تو کسی کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں ہونی چاہئے!

ایسی کمپنیوں کے بارے میں موجودہ دور کے علماء کرام کی آراء مختلف ہیں۔ علماء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ یہ کمپنیاں حرام کاموں میں ملوث ہیں، اب چاہے تناسب کے لحاظ سے وہ حرام کام تھوڑا ہے لیکن چونکہ حرام کام کر رہی ہیں لہٰذا ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کمپنی کے ساتھ حرام کام میں حصّہ دار بنے، اس لیے کہ جب اس نے شیئر خرید لیا تو وہ اس کے کاروبار میں شریک ہوگیا۔ اور کاروبار کا ایک شریک دوسرے شریک کا وکیل اور ایجنٹ ہے، اب گویا کہ شیئر ہولڈر ان کو اس کام کے لیے ایجنٹ بنا رہا ہے کہ تم سودی قرضے لو، اور سودی آمدنی بھی حاصل کرو۔ اس لیے ان علماء کے نزدیک کسی کمپنی کے شیئرز اس وقت تک خریدنا جائز نہیں، جب تک یہ اطمینان نہ ہو جائے کہ یہ کمپنی نہ سود لیتی ہے اور نہ سود دیتی ہے۔

علماء کرام کی دوسری جماعت کا یہ کہنا ہے کہ اگرچہ ان کمپنیوں میں یہ خرابی پائی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود اگر کسی کمپنی کا بنیادی کاروبار مجموعی طور پر حلال ہے، تو پھر دو شرطوں کے ساتھ اس کمپنی کے شیئرز لینے کی گنجائش ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت مفتی محمد شفیع رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی موقف رہا ہے۔

وہ دو شرطیں یہ ہیں:

پہلی شرط یہ ہے کہ وہ شیئر ہولڈر اس کمپنی کے اندر سودی کاروبار کے خلاف آواز ضرور اٹھائے، اگرچہ اس کی آواز مسترد ہو جائے، اور میرے نزدیک آواز اٹھانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کمپنی کی جو سالانہ جنرل میٹنگ (A.G.M) ہوتی ہے اس میں یہ آواز اٹھائے کہ ہم سودی لین دین کو درست نہیں سمجھتے، سودی لین دین پر راضی نہیں ہیں۔ اس لیے اس کو بند کیا جائے۔ اب ظاہر ہے کہ موجودہ حالات میں یہ آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ہوگی اور یقیناً اس کی یہ آواز مسترد ہوگی، لیکن جب وہ یہ آواز اٹھائے تو حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے قول کے مطابق ایسی صورت میں وہ انسان اپنی ذمہ داری پوری ادا کردیتا ہے۔

چوتھی شرط

چوتھی شرط، جو حقیقت میں تیسری شرط کا ایک حصّہ ہے، وہ یہ ہے کہ جب منافع / ڈیویڈنڈ (Dividend) تقسیم ہو، تو وہ شخص انکم اسٹیٹ منٹ (Income Statement) کے ذریعہ یہ معلوم کرے کہ آمدنی کا کتنا فیصد حصّہ سودی ڈیپازٹ سے حاصل ہوا ہے۔ مثلاً فرض کیجئے کہ اس کمپنی کو کل آمدنی کا 5 فیصد حصّہ سودی ڈیپازٹ میں رقم رکھوانے سے حاصل ہوا ہے، تو اب وہ شخص اپنے نفع کا پانچ فیصد حصّہ صدقہ کر دے۔

لہٰذا کمپنی کا اصل کاروبار اگر حلال ہے، لیکن ساتھ میں وہ کمپنی بینک سے سودی قرض لیتی ہے یا اپنی زائد رقم سودی اکاؤنٹ میں رکھ کر اس پر سود وصول کرتی ہے تو اس صورت میں اگر ان مذکورہ بالا دو شرطوں پر عمل کر لیا جائے تو پھر ایسی کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت کی گنجائش ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ جواز کا موقف معتدل اور اسلامی اصولوں کے مطابق ہے۔ لوگوں کے لیے سہولت کا راستہ فراہم کرتا ہے۔

اوپر کی تفصیل سے یہ معلوم ہوگیا کہ شیئرز کی خرید و فروخت کے جواز کے لیے کل چار شرطیں ہوگئیں:

1) اصل کاروبار حلال ہو۔

2) اس کمپنی کے کچھ منجمد اثاثے وجود میں آ چکے ہوں۔ رقم صرف نقد کی شکل میں نہ ہو۔

3) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے تو اس کی سالانہ میٹنگ میں آواز اٹھائی جائے۔

4) جب منافع تقسیم ہو، اس وقت جتنا نفع کا جتنا حصّہ سودی لین دین سے حاصل ہوا ہے، اس کو صدقہ کردے۔

ان چار شرطوں کے ساتھ شیئرز کی خرید و فروخت جائز ہے۔

شیئرز خریدنے کے دو مقصد

آج کل اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کے جو سودے ہوتے ہیں، وہ دو مقصد کے تحت ہوتے ہیں:

نمبر ایک: بعض لوگ انویسٹمنٹ کی غرض سے شیئرز خریدتے ہیں، ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم شیئرز خرید کر کسی کمپنی کے حصّہ دار بن جائیں، اور پھر گھر بیٹھے اس کا سالانہ منافع ملتا رہے۔ اس کی تفصیل تو میں نے اوپر بیان کردی کہ ایسے لوگوں کے لیے چار شرطوں کے ساتھ شیئرز خریدنا جائز ہے۔

نمبر 2: شیئرز اور کیپٹل گین (Capital Gain)

دوسری طرف بعض لوگ شیئرز کی خرید و فروخت انویسٹمنٹ کی غرض سے نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد کیپٹل گین ہوتا ہے، وہ لوگ اس کا اندازہ کرتے ہیں کہ کس کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے، چناچہ اس کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں اور پھر چند روز بعد جب قیمت بڑھ جاتی ہے تو ان کو فروخت کرکے نفع حاصل کر لیتے ہیں۔ اور یا کسی کمپنی کے شیئرز کی قیمت گھٹ جاتی ہے تو اس کے شیئرز خرید لیتے ہیں اور بعد میں فروخت کردیتے ہیں اس طرح خرید و فروخت کے ذریعے نفع حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس کمپنی میں حصّہ دار بننا اور اس کا سالانہ منافع حاصل کرنا ان کا مقصود نہیں ہوتا بلکہ خود شیئرز ہی کو ایک سامانِ تجارت بنا کر اس کا لین دین کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے شرعاً اس طریقہ کار کی کہاں تک گنجائش ہے!

اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح شیئرز خریدنا جائز ہے۔ اسی طرح ان کو فروخت کرنا بھی جائز ہے۔ بشرطیکہ ان شرائط کو پورا کر لیا جائے جو ابھی اوپر ذکر کی گئی ہیں اور جس طرح یہ جائز ہے کہ ایک چیز آپ آج خرید کر کل فروخت کردیں، اور کل خرید کر پرسوں فروخت کردیں، بالکل اسی طرح شیئرز کی بھی خرید و فروخت جائز ہے۔

ڈیفرنس برابر کرنا سٹہ بازی ہے

لیکن اس خرید و فروخت کو درست کہنے کی دشواری اس سٹہ بازی کے وقت پیش آتی ہے جو اسٹاک ایکسچنج کا بہت بڑا اور اہم حصّہ ہے، جس میں بسا اوقات شیئرز کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا بلکہ آخر میں جا کر آپس کا فرق / ڈیفرنس (Difference) برابر کر لیا جاتا ہے اور شیئرز پر نہ تو قبضہ (Delivery) ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ پیش نظر ہوتا ہے۔ لہٰذا جہاں یہ صورت ہو کہ قبضہ بالکل نہ ہو، اور شیئرز کا نہ لینا مقصود ہو اور نہ دینا مقصود ہو بلکہ اصل مقصد یہ ہو کہ اس طرح سٹّہ بازی کر کے آپس کے ڈیفرنس کو برابر کر لینا مقصود ہو تو یہ صورت بالکل حرام ہے اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں۔

شیئرز کی ڈیلیوری سے پہلے آگے فروخت کرنا

دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایک شخص شیئرز خرید لیتا ہے لیکن ابھی تک اس شیئرز پر قبضہ اور ڈیلیوری (Delivery) نہیں ہوتی اس سے پہلے وہ ان شیئرز کو آگے فروخت کر دیتا ہے۔ مثلاً ایک کمپنی کے شیئرز آج بازار میں جاری ہوئے، لیکن ابھی اس کے شیئرز کے اجراء کا عمل مکمل نہیں ہوتا کہ اس سے پہلے ہی ان شیئرز پر دسیوں سودے ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ عام طور پر شیئرز کی خریداری کے بعد حاضر سودوں میں بھی ڈیلیوری ملنے میں کم از کم ایک ہفتہ ضرور لگ جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح قبضہ اور ڈیلیوری ملنے سے پہلے ان کو آگے فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں۔

اس سلسلے میں پہلے ایک اصول کو سمجھ لیں، اس کے بعد صورت واقعہ کا جائزہ لینا آسان ہوگا۔ وہ اصول یہ ہے کہ جس چیز کو آپ نے خریدا ہے، اس چیز پر قبضہ کرنے سے پہلے اس کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں۔ لیکن قبضہ کے اندر ہمیشہ حسی قبضہ (Physical Possession) ضروری نہیں ہوتا۔ بلکہ حکمی قبضہ (Constructive Possession) بھی اگر ہو جائے، یعنی وہ چیز ہمارے ضمان / رسک (Risk) میں آ جائے تو اس کے بعد بھی اس چیز کو آگے فروخت کرنا جائز ہے۔

شیئرز کا قبضہ

اب دیکھنا یہ ہے کہ شیئرز کا قبضہ کیا ہے! اس پر قبضہ کس طرح ہوتا ہے۔! یہ کاغذ جس کو ہم شیئرز سرٹیفیکٹ کہتے ہیں۔ اس سرٹیفیکٹ کا نام "شیئر" نہیں بلکہ "شیئر" اس ملکیت کا نام ہے جو اس کمپنی کے اندر ہے۔ اور یہ سرٹیفیکٹ اس ملکیت کی علامت اور اس کا ثبوت اور اس کی شہادت ہے۔ لہٰذا اگر فرض کریں کہ ایک شخص کی ملکیت تو اس کمپنی میں ثابت ہوگئی۔ لیکن اس کو ابھی تک سرٹیفیکٹ نہیں ملا، تب بھی شرعی اعتبار سے یہ کہا جائے گا کہ وہ شخص اس کا مالک ہوگیا۔

اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھیے مثلاً آپ نے ایک کار خریدی، وہ کار آپ کے پاس آ گئی لیکن جس شخص سے آپ نے خریدی ہے، وہ کار اب تک اسی کے نام پر رجسٹرڈ ہے، رجسٹریشن تبدیلی نہیں کرائی۔ اب چونکہ آپ کا قبضہ اس کار پر ہو چکا ہے، اس لیے صرف آپ کے نام پر رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ آپ کا قبضہ مکمل نہیں ہوا۔

رسک کی منتقلی کافی ہے

اسی طرح شیئرز سرٹیفیکٹ ایسے ہی ہیں، جیسے رجسٹرڈ کار، اب سوال یہ ہے کہ کمپنی کا وہ اصل حصّہ جس کی یہ شیئر نمائندگی کر رہا ہے وہ اس کی ملکیت میں آ گیا یا نہیں۔! اب ظاہر ہے کہ وہ حصّہ ایسا نہیں ہے کہ وہ شخص کمپنی میں جا کر اپنا حصہ وصول کر لے اور اس پر قبضہ کر لے، ایسا کرنا تو ممکن نہیں۔ لہٰذا اصل حصّے کے مالک بننے کا مطلب یہ ہے کہ اس حصّے کے فوائد اور نقصانات، اس حصّے کی ذمے داریاں (Liabilities)، اور اس کے منافع کا حق دار بن گیا یا نہیں۔!

مثلاً آج میں نے اسٹاک مارکیٹ سے ایک شیئر خریدا، اور ابھی تک شیئر سرٹیفیکٹ کی وصولیابی یا ڈیلیوری نہیں ہوئی، اس دوران میں وہ کمپنی بم گرنے سے تباہ ہوگئی اور اس کا کوئی اثاثہ باقی نہیں بچا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ نقصان کس کا ہوا، اگر نقصان میرا ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شیئر کا رسک میں نے لے لیا، اس صورت میں اس کو آگے فروخت کر سکتا ہوں، اور اگر نقصان میرا نہیں ہوا بلکہ بیچنے والے کا نقصان ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شیئر کا رسک میری طرف منتقل نہیں ہوا تھا۔ اس صورت میں میرے لیے اس شیئر کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں۔ جب تک شیئر سرٹیفیکٹ پر قبضہ نہ کر لوں۔

اب سوال یہ ہے کہ حقیقی صورتحال کیا ہے! واقعتاً شیئرز کے خریدنے کے فوراً بعد اس کا رسک منتقل ہو جاتا ہے یا نہیں۔! یہ ایک سوال ہے جس کے جواب میں مجھے ابھی تک قطعی صورتحال معلوم نہیں ہو سکی۔ اس لیے اس کے بارے میں کوئی حتمی بات اب تک نہیں کہتا۔ اور اصول میں نے بتا دیا کہ رسک منتقل ہونے کی صورت میں آگے بیچنا جائز ہے، البتہ احتیاط کا تقاضہ بہرصورت یہی ہے کہ جب تک ڈلیوری نہ مل جائے اس وقت تک آگے فروخت نہ کیا جائے۔

"بدلہ" کا سودا جائز نہیں

اسٹاک ایکسچنج میں شیئرز کی خرید و فروخت کا ایک اور طریقہ بھی رائج ہے جس کو "بدلہ" کہا جاتا ہے، یہ بھی فیانانسنگ(financing) کا ایک طریقہ ہے۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک شخص کو پیسوں کی ضرورت ہے اور اس کے پاس شیئرز موجود ہیں۔ وہ شخص دوسرے کے پاس وہ شیئرز لے کر جاتا ہے، اور اس سے کہتا ہے کہ میں یہ شیئرز آج آپ کو اتنی قیمت پر فروخت کرتا ہوں، اور ایک ہفتہ کے بعد میں قیمت بڑھا کر اتنے میں خرید لوں گا۔ گویا کہ فروخت کرتے وقت یہ شرط ہوتی ہے کہ یہ شیئرز قیمت بڑھا کر واپس کرنے ہوں گے۔ دوسرے شخص کو آپ فروخت نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ یہ "بدلہ" کی صورت شرعاً جائز ہے یا نہیں۔

جواب ظاہر ہے کہ یہ صورت جائز نہیں۔ اس لیے کہ فقہ کا اصول ہے کہ کسی بھی بیع کے اندر ایسی شرط لگانا جو مقتضاء عقد کے خلاف ہو، جائز نہیں۔ اور خاص طور پر قیمت بڑھا کر واپس لینے کی شرط لگانا حرام ہے اور یہ شرط فاسد ہے۔ لہٰذا "بدلہ" کی یہ صورت خالصتاً سود ہی کا ایک دوسرا عنوان ہے، شرعاً اس کی اجازت نہیں۔

شیئرز پر زکوٰۃ کا مسئلہ

ایک مسئلہ شیئرز پر زکوٰۃ کا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ان شیئرز پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر زکوٰۃ واجب ہے تو پھر کس طرح اس کا حساب کیا جائے اور کس طرح ادا کی جائے۔ جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ شیئرز اس حصّے کی نمائندگی کرتا ہے جو کمپنی کے اندر ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخص نے شیئرز صرف اس مقصد کے تحت خریدے ہیں کہ میں اس کو آگے فروخت کر کے اس سے نفع حاصل کروں گا۔ گویا کہ کیپٹل گین مقصود ہے۔ ان شیئرز کا سالانہ منافع وصول کرنا مقصود نہیں۔ تو اس صورت میں ان شیئرز کی مارکیٹ قیمت کے حساب سے اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔

لیکن اگر خریدتے وقت اس کا مقصد کیپٹل گین نہیں تھا، بلکہ اصل مقصد سالانہ منافع (Dividend) حاصل کرنا تھا۔ لیکن ساتھ میں یہ بھی خیال بھی تھا کہ اگر اچھا منافع ملا، تو بیچ بھی دیں گے، تو ایسی صورت میں زکوٰۃ اس شیئرز کی مارکیٹ قیمت کے اس حصے پر واجب ہوگی، جو قابل زکوٰۃ اثاثوں کے مقابل ہوگی، اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھ لیجئے:

مثلاً شیئرز کی مارکیٹ ویلیو 100 روپے ہے۔ جس میں سے 60 روپے بلڈنگ اور مشینری وغیرہ کے مقابل میں ہیں، اور 40 روپے خام مال، تیار مال اور نقد روپے کے مقابلے پر ہے، تو اس صورت میں چونکہ ان شیئرز کے 40 روپے قابل زکوٰۃ حصوں کے مقابلے میں ہیں، اس لیے 40 روپے کی زکوٰۃ ڈھائی فیصد کے حساب سے واجب ہوگی۔ 60 روپے کی زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔ نقشے سے یہ بات اور واضح ہو جائے گی:

شیئرز کی مارکیٹ قیمت: 100 روپے

ناقابل زکوٰۃ:
بلڈنگ: 30 روپے
مشینری: 30 روپے

کل: 60 روپے

قابل زکوٰۃ:
تیار مال: 15 روپے
خام مال: 15 روپے
نقد: 10 روپے

کل: 40 روپے

کل اثاثے: 100 روپے

دوسرے لفظوں میں، شیئر کی قیمت سو روپے ہے اور چالیس فیصد اس کمپنی میں قابل زکوٰۃ مال پڑا ہوا ہے، تو اس 100 روپے کے بجائے 40 روپے پر زکوٰۃ ادا کریں۔ اور اگر کسی کمپنی کے اثاثوں کی تفصیل معلوم نہ ہو سکے تو اس صورت میں احتیاطاً ان شیئرز کی پوری بازاری قیمت پر زکوٰۃ ادا کردی جائے۔

یہاں ایک مسئلہ کمپنی کا شیئرز پر زکوٰۃ کی کٹوتی کا بھی ہے۔ جب کمپنی شیئرز پر سالانہ منافع تقسیم کرتی ہے تو اس وقت وہ کمپنی زکوٰۃ کاٹ لیتی ہے، لیکن کمپنی ان شیئرز کی جو زکوٰۃ کاٹتی ہے وہ اس شیئرز کی فیس ویلیو (Face Value) کی بنیاد پر زکوٰۃ کاٹتی ہے، حالانکہ شرعاً ان شیئرز کی مارکیٹ قیمت پر زکوٰۃ واجب ہے۔ لہٰذا فیس ویلیو پر جو زکوٰۃ کاٹ لی گئی ہے وہ تو ادا ہوگئی البتہ فیس ویلیو اور مارکیٹ ویلیو کے درمیان میں جو فرق ہے اس کا آپ کو اس بنیاد پر حساب کرنا ہوگا جس کی تفصیل اوپر بیان کی گئی ہے مثلاً ایک شیئر کی فیس ویلیو 50 روپے تھی اور اس کی مارکیٹ قیمت ساٹھ روپے ہے، تو اب کمپنی والوں نے پچاس روپے کی زکوٰۃ ادا کر دی، لہٰذا دس روپے کی زکوٰۃ آپ کو الگ سے نکالنی ہوگی۔

خلاصہ:

صرف ایسی کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت جائز ہے جن کا بنیادی کاروبار جائز اور حلال ہو، اور ان شرائط کے ساتھ جائز ہے جو اوپر ذکر کی گئیں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو شریعت کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

بحوالہ:

1) فقہی مقالات
مفتی محمّد تقی عثمانی

2) جدید مسائل اور فقہی نظر