014 - عالمی جاسوس از دلپسند سیال

"عالمی جاسوس"

جاسوسی کا کردار ہر دور میں رہا ہے۔ بادشاہ ہوں یا ایک عام انسان۔ اپنے دشمن کےحالات و خیالات اور اس کی کمزوری جاننے کے لیے جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ بادشاہ دشمن کے راز جاننے کے لیے اپنے خاص لوگ جو کہ جاسوسی کرنے کے ماہر ہوتے تھے، انہیں دشمن کی صفوں میں داخل کر لیتے۔ اور پھر یہ جاسوس دشمن کے اندر کے راز اور کمزوریاں اپنے بادشاہ تک پہنچاتے تھے۔ جس سے بادشاہ اپنے دشمن پر کاری ضرب لگا کر اس کا علاقہ چھین لیتا تھا۔ ہندوستان کے پہلے راجہ چندرگپت موریہ کے استاد اور وزیر اعظم کوٹلیہ چانکیہ جوکہ ٹیکسلا یونیورسٹی کے پروفیسر تھے، نے سیاست پر ایک کتاب”ارتھ ساستر‘‘ لکھی جو کہ سیاست اور جاسوسی پر مبنی ہے۔ چانکیہ کے مشوروں سے ہی چندرگپت نے ہندوستان کے بہت سے علاقے فتح کیے۔ چندرگپت کے بعد اس کے جانشین بندوسرا نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی تو اسے بھی چانکیہ کی خدمات حاصل رہیں۔ چانکیہ کے بعد اس کی کتاب موریہ خاندان کے لیے ایک چراغ راہ کا کام دیتی رہی۔ بندوسرا نے اپنے بیٹے اشوک کو خاص طور ارتھ ساشتر کا مطالعہ کرنے پر زوردیا۔ تاکہ وہی سیاست اور جاسوسی بارے سمجھ سکے۔ چانکیہ اپنی کتاب ارتھ شاستر میں لکھتا ہے کہ ہمسایہ حکومتوں کو ہمیشہ اپنے دباؤ میں رکھا جائے ان سے دوستی نہ کی جائے۔ دوسرا ان کی جاسوسی کی جائے تاکہ ان کی کمزوریاں ہاتھ آسکیں۔ یہ حکومت کرنے اور اسے وسیع کرنے کے گر ہیں۔
آج بھی انڈیا چانکیہ کے ان فرمودات پر عمل پیرا ہے کہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس کی ٹھنی رہتی ہے۔ اور سبھی ہمسایہ ممالک میں اس کے جاسوس پائے جاتے ہیں۔
دنیا کا پہلا باضابطہ جاسوسی کا نیٹ ورک انٹیلی جنس 'سر فرانس والسنگ' نے قائم کیا تھا۔ جوکہ ملکہ برطانیہ الزبتھ اول کا خصوصی جاسوس تھا۔
جبکہ سب سے پہلے سزائے موت پانے والا جاسوس میجر آندرے تھا جوکہ برطانوی فوج کا جاسوس تھا۔ میجر آندرے کو نیویارک کے علاقے ویسٹ پوائنٹ میں 2اکتوبر 1780 کو پھانسی دی گئی تھی۔
لیفٹینٹ سڈنی ریلی کو جاسوسوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ این فلمنگ نے اپنا مشہور کردار جیمزبانڈ سڈنی ریلی سے متاثر ہوکر لکھا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں جنگی سازو سامان میں جدّت آئی تلواروں اور نیزوں کے بجائے گولی، بم اور جہازوں سے جنگیں لڑی جانے لگی، وہاں جاسوسی کے بھی بہت سے آلات منظر عام پر آئے۔ اب تو جاسوسی کرنے کا کام جاسوس طیارے بہت اچھے طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں۔ جن میں کیمرے نصب ہوتے ہیں ۔جو کہ تصویریں بنانے کے علاوہ لائیو فوٹج بھی دیکھاتے ہیں۔ مگر یہ سب ہونے کے باوجود۔ شخصی جاسوسی کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ کیونکہ خفیہ فائلیں اور راز چرانا کسی شخص کا ہی مرہون منّت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جاسوس دشمن کی صفوں میں گھس کر جو کارنامہ انجام دے سکتا ہے، وہ الیکٹرونک کے ذریعے سر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ لارنس عریبیہ نے عربوں کی گود میں بیٹھ کر مسلمانوں کے خلافت کی لٹیا ڈبو دی تھی۔ ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتیں جاسوسی کے شعبہ میں زیادہ اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
شو بزنس سے تعلق رکھنے والی اداکارائیں اور ماڈل گرلز ہمیشہ سے ہی اپنی تمام تر وفاداری کے باوجود انٹیلی جینس ایجنسیوں کی نظر میں مشکوک رہی ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیکس اور تجسس کا آپس میں ہمیشہ سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے، دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا جاسوس ادارہ ہو جس نے شو بزنس سے وابستہ خواتین کو اپنے منصوبوں پر عمل در آمد کے لیے استعمال نہ کیا ہو، حتٰی کہ اسلامی ممالک میں بھی انٹیلی جینس ایجنسیاں بہت سارے معاملات میں اداکاراؤں اور ماڈل گرلز پر انحصار کرتی ہیں، تھیٹر اور نائٹ کلبوں میں کام کرنے والی خواتین بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ جبکہ بازارِ حسن میں بیٹھی ہوئی کوئی نہ کوئی طوائف بھی کسی نہ کسی لحاظ سے انٹیلی جینس ایجنسیوں سے وابستہ ہوتی ہے۔
حسّاس ادارے شو بزنس سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کو خصوصی طور پر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جن کی خوبصورتی اور فن کے چاہنے والے دوسرے ملک میں موجود ہوتے ہیں، جبکہ اپنے وطن میں رہنے والوں میں سے ان حساس اداروں کا نشانہ وہ سیاست دان، بیو روکریٹ، جرنیل اور مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے وہ اہم افراد ہوتے ہیں جو معاشرے میں اعلٰی قدر و منزلت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم ایجنسیاں شو بزنس سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ذریعے ان افراد کو بلیک میل کرنے کے لیے بہت سا ایسا مواد بھی حاصل کر لیتی ہیں جن کے منظرِ عام پر آنے سے ان کا معاشرے میں استوار عزت و وقار کا محل جس کی بنیاد ریت کی دیوار پر کھڑی ہوتی ہے، آناً فاناً زمین بوس ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے حسّاس اداروں کا شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ قریبی رابطہ رہتا ہے۔
ذیل میں چند مشہور جاسوس خواتین بارے ذکر کیا جارہا ہے۔ جنہوں نے جاسوسی میں عالمی شہرت حاصل کی۔

ماتاہری
ماتاہری کا اصل نام مارگریٹا گریٹ ریوزیلا تھا۔ وہ 7اگست 1876 میں ہالینڈ کے شہر لیوارڈن میں پیدا ہوئی۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھی۔ اس کاوالد آدم زیلا، لوہے کا کاروبار کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اس نے آئیل انڈسٹری میں بھی انویسٹمنٹ کر رکھی تھی۔
1889ء میں ماتا ہری کے ماں باپ میں طلاق ہوگئی۔ اور مارگریٹا اپنے باپ کو چھوڑ کر انڈونیشیا کے جزیرے بالی چلی گئی۔ جہاں اس کی ملاقات ایک ڈچ اخباری رپورٹر ریڈولف جوہن میکلوڈ سے ملاقات ہوئی اس وقت مارگریٹا کی عمر 18 سال تھی۔
30جنوری 1897ءمیں مارگریٹا نے ریڈولف سے شادی کرلی۔ کچھ عرصے بعد ماگریٹا نے انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں ایک ڈانس سکول جوائن کرلیا جس میں اس نے کیبرے ڈانس سیکھا اور ماتا ہری کا نام اختیار کیا۔ ماتا ہری ملائشین اور انڈونیشین زبان کے لفظ ہیں جن کے معنی ہیں سورج کی آنکھ ۔
ریڈولف ایک سیدھا سادہ انسان تھا۔ مگر جزیرہ بالی کی گرمی نے اس کی مت ماردی اور رہی سہی کثر شراب نوشی نے پوری کردی جس کی وجہ سے وہ ماتا ہری اور اپنی بیٹی کو زیادہ توجہ نہ دے سکا۔ ماتاہری نے بیٹی کو ایک عزیز رشتے دار کے حوالے کیا اورخود فرانس کی طرف عزم سفر ہوئی۔ اور پیرس میں ایک ڈانس کلب جوائن کرلیا۔ بہت جلد ہی اس کی شہرت چاروں طرف پھیل گئی۔ ماتا ہری کو کیبرے ڈانس میں مہارت حاصل تھی جبکہ اس کا حسن اور رکھ رکھاؤ بڑے بڑے لوگوں کو اس کا گرویدہ کردیتا تھا۔ ماتا ہری کا اثر رسُوخ بلند مرتبہ لوگوں اور حکومت کے اعلٰی عہدیداروں تک تھا۔

انہیں دنوں پہلی جنگ عظیم اپنے زور پر تھی۔ فرانس کے حکومتی عہدے داروں نے اسے جرمنی کی جاسوسی پر لگا دیا۔ مگر یہ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ ماتا ہری پہلے ہی جرمنی کی جاسوس ہے اور یہ کہ وہ فرانس کے بہت خفیہ راز جرمنی والوں کے دے چکی ہے جس کی وجہ سے جرمنی ہر جگہ فوجی فتوحات کرتا جارہا ہے۔جرمنی کی طرف سے ماتا ہری کو جاسوسی کا خفیہ کوڈ نیم H-2 دیا گیا تھا۔
ماتا ہری جب ڈانس کرتے ہوئے اپنا لبادہ کھول دیتی تھی تو اس میں فرانس کی فوج کے لیے یہ اشارہ ہوتا تھا کہ جرمنی افواج ٹینکوں سے حملہ کرنے والی ہے۔ اگر وہ جسم کا کوئی اور کپڑا اتار کر ہوا میں بلند کرتی تو اس کا اشارہ ہوتا تھا کہ جرمنی افواج فضائی حملہ کرنے والی ہے۔ ویسے حیرت کی بات یہ ہے کہ ماتا ہری اصل میں ایک گھریلو خاتون تھی مگر اسے یا تو گھریلو زندگی راس نہ آئی یا پھر شامت اعمال اسے جاسوسی میں لے آئی۔
جب فرانسیسوں کو پتہ چلا کہ جسے وہ غلطی سے اپنا ایجنٹ سمجھتے رہے وہ تو ڈبل ایجنٹ ہے تو اسے گرفتار کرلیا گیا۔ اور اس پر غدّاری کا مقدمہ چلا۔ اور بلآخر اسے 15 اکتوبر1917ء کو فرانس کے شہر وینس میں اکتالیس سال کی عمر میں فوجی فائرنگ اسکواڈ میں گولیوں سے بھون دیا گیا۔
جبکہ ماتا ہری پر چلائے گئے مقدمے کے شواہد کو سو سال کے لیے سر بہ مہر کردیا گیا۔ جوکہ 2017ء میں عوام الناس کے سامنے وہ شوائد آجائیں گے۔

بندا یا وندا
بندا 1910ء میں جزیرہ بالی میں پیدا ہوئی۔ جب ماتا ہری کو 1917ءمیں گولیوں سے بھون دیا گیا تھا۔ اس وقت بندا کی عمر سات سال تھی۔ بندا ماتا ہری کی اکلوتی بیٹی تھی۔ جسے ماتا ہری نے صرف ڈیڑھ سال کی عمر میں ایک عزیز رشتے دار کے سپرد کر کے پیرس چلی گئی تھی۔ پھر کبھی ان ماں بیٹی کی ملاقات نہ ہوئی۔ بندا کو اپنی ماں کی شکل تک یاد نہیں تھی۔ بس اسے اتنا معلوم تھا کہ اس کی ماں ایک کلب ڈانسر ہے۔ جس کے ڈانس کی شہرت بہت دور تک پھیلی ہوئی۔ اس کے علاوہ اس کے پاس ماں کا صرف ایک خط تھا جسے ماتا ہری نے اپنے مرنے سے پہلے اسے لکھا تھا۔ ماتا ہری نے اسے خط میں تاکید کی تھی کہ وہ کسی کو بھی نہ بتائے کہ وہ ماتا ہری کی بیٹی ہے۔ بندا بہت سمجھدار تھی اس لیے اس نے اس خط کا ذکر کسی سے نہیں کیا۔ وہ اپنی ایک منہ بولی خالہ کے پاس رہتی تھی۔ اسے اسی خالہ نے ہی پالا تھا۔

جب بندا کو یہ خط ملا تو بندا نے وہ گھر چھوڑ دیا۔ جب وہ پناہ کی تلاش میں بھٹک رہی تھی تو اس کی ملاقات ایک ڈچ افسر سے ہوگئی۔ ڈچ افسر کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی وہ اپنی بیوی کے ساتھ ایک بڑے سے گھر میں رہتا تھا۔ ڈچ افسر اور اس کی بیوی نے بندا کو اپنی بیٹی بنالیا۔ بندا نے ٹیچر کورس کرنے کے بعد ایک اسکول کھول لیا۔ ڈچ میاں بیوی کے سمجھانے کے باوجود بھی بندا نے شادی کے لیے حامی نہ بھری۔ کچھ عرصے کے بعد ڈچ افسر کی بیوی کا انتقال ہوگیا۔ 1935ء میں جب بندا کی عمر 35 سال تھی ۔ڈچ افسر بھی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ بندا یوریشن تھی۔ جبکہ ہر کوئی اسے ڈچ سمجھتا تھا۔ دوسرا ڈچ افسر نے اسے اپنی بیٹی بنایا ہوا تھا اور وہ بڑے عہدے پر فائز رہا تھا۔ اس لیے بھی بندا کا اعلٰی ڈچ فیملی میں آنا جانا تھا۔ اس وجہ سے اس کے تعلقات اعلٰی سرکاری عہدے داروں سے بھی ہوگئے۔ ہر کوئی اسے عزّت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔
ڈچ افسر جب زندہ تھا تو اس کے گھر میں روزانہ شام کو محفل سجتی تھی جس میں شہر کے روساء عام لوگ اور سرکاری لوگ بھی شرکت کرتے تھے۔ ڈچ افسر کی موت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ بندا کی اس محفل میں بوٹاویہ کے امرا اور سیاسی شخصیتوں کے علاوہ شہر کے عام لوگ بھی شریک ہوتے تھے۔ امیر غریب کا کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ فنکار، ادیب، صحافیوں، جرنل، کرنل، پولیس کے افسران سے لے کر ایسے جاسوس اور مخبر بھی وہاں آتے تھے، جو وہاں بیٹھ کر اپنے مطلب کی معلومات کی سن گن لیتے رہتے تھے۔
اسی وجہ سے بندا مشکلات کا شکار ہوئی 1939ء میں اچانک یورپ میں جنگ کے شعلے بھڑکنے لگے اور ایک دن جاپان نے پرل ہاربر کی بندرگاہ پر چڑھائی کردی۔ اس کے علاوہ جاوا پر بھی حملہ کردیا دیکھتے ہی دیکھتے جاپانی فوج جاوا، سماٹرا اور بالی پر قابض ہوگئی۔
ایک دن جاپانی بحریہ کی وردی میں ملبوس ایک کمانڈنگ آفیسر بندا کے گھر پہنچ گیا اور اس نے بندا کو ماتاہری کی بیٹی کے طور پر پہچان لیا۔ اور اسے جاسوسی پر مجبور کیا۔ اس کمانڈنگ آفیسر نے کہا کہ وہ اپنے گھر یہ محفل برقرار رکھے اور ہمارے لیے جاسوسی کرے۔
یوں نا چاہتے ہوئے بھی بندا کو ماں کے نقش قدم پر چلنا پڑا۔ انہیں دنوں انڈونیشیا بھی اپنی آزادی کے لیے ہاتھ پیر مارنے لگا۔ انڈونیشیا کے کچھ سیاسی اور آزادی پسند لوگوں کا خیال تھا کہ جاپانی ہی انہیں آزادی دلا سکتے ہیں۔ اس لیے وہ جاپانیوں کے ساتھ شامل ہوگئے، مگر جلد ہی پتہ چل گیا کہ ہاتھی کے دانت کچھ اور ہیں۔ انہیں دنوں بندا کی ملاقات ایک انڈونیشی نوجوان عبدل سے ہوئی جس نے ایک خفیہ تنظیم بنا رکھی تھی۔ جس کا نام تھا ”آزاد گروپ انڈونیشیا‘‘ بندا عبدل سے بہت متاثر ہوئی اور اس تنظیم کے لیے جاپانیوں کے راز انہیں بتاتی رہتی تھی۔ جس سے اس تنظیم کو پتہ چل جاتا تھا کہ جاپانیوں کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ اس جاسوسی کے حوالے سے بندا دنیا کی خطرناک ترین جاسوسہ ماتا ہری کی بیٹی بن گئی۔ جو بیک وقت بہت سی تنظیموں اور ملکوں کے درمیان جاسوسی کررہی تھی۔ بعد میں جاپانیوں کو بندا کے بارے میں پتہ چل گیا تھا مگر اس وقت پانی سر سے گزر چکا تھا۔ یہ بندا کی بھیجی ہوئی معلومات کا نتیجہ تھا کہ برٹش فوج جاوا پہنچ گئی تھی۔ برٹش فوج کو اچانک دیکھ کر جاپانی گھبرا گئے اور وہاں سے بھاگنے کی تیاری کرنے لگے۔ انہی دنوں انڈونیشیا کی آزادی کی تنظیموں نے کھلم کھلا اعلان کردیا کہ انڈونیشیا کسی کے ہاتھوں یرغمال بن کر نہیں رہنا چاہتا اسے آزادی چاہیے۔ جاپانیوں کے جانے کے بعد ڈچ اور انگریزوں نے ان آزادی پسند تنظیموں کو کُچلنے کی کوشش کی مگر بندا کی خفیہ معلومات کے باعث ان کو پہلے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ ڈچ فوج کب اور کہاں ان پر حملہ کرنے والی ہے۔
انہی دنوں بندا کی ملاقات ایک کورین نوجوان سے ہوئی جس کا نام موٹو تھا۔ موٹو ڈچ فوجی بیرک کے کچن میں کام کرتا تھا، بندا کو موٹو سے ہی کافی معلومات مل جاتی تھیں۔ آخرکار 1948ءمیں ڈچ فوج اور انڈونیشیا کی آزاد فوج کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ بندا نے خود کو اپنے وطن کی آزادی کے لیے سونپ دیا۔
ایک دن وہ امریکہ پہنچ گئی اس نے امریکہ میں اپنے وطن انڈونیشیا کی آزادی بارے تقریریں کیں اور چندہ مانگا جس میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اسی امداد سے بندا نے فوجی ساز و سامان اور جہاز خریدے اور واپس اپنے وطن بوٹاویہ آگئی۔ بوٹاویہ کا نام اب جکارتہ رکھ دیا گیا۔ ابھی اسے جکارتہ آئے کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ ایک دن اس کے پاس امریکہ کا ایک جاسوس ملنے آیا اور اسے ایف بی آئی کا ایک خط دیا۔
ایف بی آئی نے اسے لکھا تھا کہ ہم سب جانتے ہیں۔ اور تمہاری ہمت، بہادری اور چالاکی سے بہت متاثر ہیں۔ ہم تمہاری ماں ماتا ہری کے بارے میں بھی بہت کچھ جانتے ہیں۔ اس لیے واشنگٹن کی طرف سے تمہیں امریکہ سیکرٹ سروس میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ تم ہماری اس شاندار پیشکش کو نہیں ٹھکراؤ گی۔ سب سے پہلے تمہیں چین جانا ہوگا وہاں پہنچ کر تم سے ہمارا رابطہ ہوگا۔ اور اس طرح نا چاہتے ہوئے بھی بندا ماتاہری کی بیٹی بن کر چین پہنچ گئی۔ اور بہت جلد ہی چین کے ایسے سرکردہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا جن کے کاندھوں پر بیٹھ کر وہ اعلٰی سرکاروں عہدوں پر معمور لوگوں تک پہنچ گئی۔
چینی فوجی افسروں اور سیاست دانوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور ان میں سے کسی ایک کے ساتھ رات گزارنا اس کا معمول بن گیا۔ وہ انتہائی چالاکی سے ان سے خفیہ اور مفید راز اگلواتی اور ان رازوں کو ایف بی آئی کے ذرائع سے امریکہ بھیج دیتی۔
چین کے عظیم لیڈر ”چیانگ کائی شیک‘‘جب خفیہ طور پر ملک سے فرار ہوئے تو خود چینیوں کو معلوم نہیں تھا امریکہ کو کائی شیک کے ملک سے فرار ہونے کی خبر بندا نے ہی پہنچائی تھی جو بعد میں امریکہ کے لیے مفید ثابت ہوئی۔
1950ءمیں بندا کو امریکہ کی طرف سے کوریا جانے کو کہا گیا۔ کوریا میں رہتے ہوئے بندا نے کئی اہم اور خفیہ معلومات امریکہ کو پہنچائی۔ جن میں سے ایک یہ خفیہ خبر بھی تھی کہ بہت جلد شمالی کوریہ، جنوبی کوریا پر حملہ کرنے والا ہے۔ جس کی تمام تر تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ مگر امریکہ کو اس بات کا یقین نہ آیا۔ کہ شمالی کوریا ایسی جرأت کرسکتا ہے۔ اس لیے بندا کی خبر کو جھٹلا دیا گیا۔ مگر ٹھیک پندرہ دن بعد شمالی کوریا نے جنگ کا اعلان کردیا تو بندا کی خبر سچ ثابت ہوئی۔
جکارتہ(بوٹاویہ) میں ڈچ فوجی بیرک میں کام کرنے والا کورین جوان موٹو جو کہ بندا سے معاوضہ لےکر خفیہ معلومات دیتا تھا۔ وہ واپس شمالی کوریا آ گیا تھا اور جاسوسی کے محکمے میں اب ایک بڑا افسر تھا۔ موٹو نے ایک تقریب میں بندا کو دیکھ لیا اور خفیہ اس کی نگرانی شروع کرادی۔ جب اسے بندا کی مشکوک حرکتوں کی ٹھوس معلومات حاصل ہوگئیں۔ تو وہ ایک دن بندا کے گھر پہنچ گیا۔ اور اسے امریکہ کی جاسوس کے طور پر گرفتار کرلیا اور پھر بندا پر کوئی مقدمہ چلائے بغیر اسے فوجی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے گولیوں سے بھون دیا گیا۔
قدرت کی بات بھی کس قدر حیرت انگیز اور عجیب ہے کہ جس مہینے، جس تاریخ اور جس وقت کو ماتا ہری کو فائرنگ کرکے بھون دیا گیا تھا۔ ٹھیک اسی مہینے اسی تاریخ اور اسی وقت کو اس کی بیٹی بندا کو بھی فائرنگ کرکے بھون دیا گیا۔
پالائن کشمین
ماتا ہری جیسی اہم جاسوس خاتون کو فرانس اور جرمنی کے حسّاس اداروں نے محض اس لیے اپنا ایجنٹ بنانے کی کوشش کی تھی کہ اس خاتون کا اٹھنا بیٹھنا اعلٰی حلقوں میں تھا، تاہم ماتا ہری کی پیدائش سے بہت پہلے امریکہ میں ایک ایسی خاتون پیدا ہوئی جس نے سول وار کے ایام میں ابراہم لنکن کے لیے انتہائی اہم خدمات انجام دیں۔ 10 جون 1833ء میں پیدا ہونے والی پالائن کشمین Pauline Cushman نامی اس خاتون کو انٹیلی جینس کے ساتھ کسی قسم کا لگاؤ نہ تھا، وہ اٹھارہ سال کی عمر میں اداکاری کے شوق میں نیو یارک پہنچی تھی جہاں اس نے خانہ جنگی کے ایّام میں زبردست طریقے سے جاسوسی کی۔
امریکہ کے علاقے کینٹکی میں ایک ڈرامے کے دوران کنفیڈریٹس کے دو فوجی افسروں نے اسے اپروچ کیا اور کہا کہ جیفرسن ڈیوس تم سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور وہ تمہیں تین سو ڈالر دیں گے، پالائن کشمین شمالی فوج کی حمایتی تھی چنانچہ یہ سن کر اس نے فوراً اقرار یا انکار نہیں کیا اور نہ ہی کنفڈریٹس کو بتایا کہ میری وفاداری کس کے ساتھ ہے، پالائن کشمین نے صدر جیفرسن سے ملاقات سے پہلے یونین آرمی سے رابطہ کیا، انہوں نے کہا ٹھیک ہے جاؤ ممکن ہے ہمارے کام آ سکو، اس طرح وہ کنفڈریٹس کے دو سپاہیوں کو دوبارہ ملی اور اہم فوجی معلومات حاصل کیں، لیکن ایک مرتبہ پالائن کشمین سے ایسے کاغذات برآمد ہوئے جن سے پتہ چلا کہ وہ شمالی افواج کے لیے جاسوسی کر رہی ہے، جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ چلا اور اس کو دس دن کے اندر پھانسی کی سزا ہوئی، تاہم ان ہی دنوں میں یونین آرمی نے حملہ کردیا اور پالائن کشمین کو پھانسی کی سزا سے قبل ہی رہائی مل گئی، یونین آرمی کے جنرل ولیم اور صدر ابراہم لنکن نے اس کی خدمات کے عوض اسے میجر کا عہدہ دیا۔
پالائن کشمین اپنی بعض بُری عادات کے باعث جاسوسی کے شعبے میں آگے نہ بڑھ سکی۔ وہ میجر کا یونیفارم پہن کر دوسروں کو مرعوب کرتی کہ جاسوسی کے شعبے میں میری بڑی خدمات ہیں۔
پالائن کشمین نے 1893ء میں افیون کھانا شروع کردی۔ جس کے باعث اس کی ذہانت، بہادری اور دیگر صلاحیتیں پس پردہ چلی گئیں، وہ زندگی کے آخری حصّے میں ڈپریشن اور ذہنی اضطراب کا شکار ہوگئی جن کے باعث 2 دسمبر 1893ء کو اس نے خودکشی کر لی، پالائن کشمین کو فوجی قبرستان میں پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا، پالائن کشمین کی زندگی پر ایک کتاب بھی لکھی گئی ہے جس کا نام Spy of the Cumberland ہے

ماروساڈیسٹریلز
،جنگ عظیم اوّل کے اختتام پر فرانسیسی انٹیلی جینس نے کئی خواتین کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر کے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے ہلاک کیا۔ ایک اندازے کے مطابق پہلی جنگ عظیم کے دوران اور بعد فرانس میں 300 سیکرٹ ایجنٹ ہلاک کیے گئے۔ جن میں درجنوں خواتین بھی شامل تھیں، تاہم بعض خواتین فرانسیسی انٹیلی جینس ایجنسی کے سربراہ کیپٹن لوڈکس کی انتقامی ذہنیت کے باعث موت سے دوچار ہوئیں، ایسی ہی ایک خاتون ماروسا ڈیسٹریلز (Marussa Destrlles) تھی، بیسوی صدی کے شروع میں پیرس میں ماتا ہری کے علاوہ درجنوں خواتین نے شو بزنس کی دنیا میں داخل ہوکر نمایاں مقام حاصل کیا، فرانس ماضی کی طرح آج بھی رقص و موسیقی کی محفلوں اور تھیٹر میں ہونے والے پروگراموں کے باعث سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ماروسا ڈیسٹریلز بھی 1900ء کے اوائل میں پیرس میں شو بزنس کی دنیا میں داخل ہوئی۔ پیدائش کے لحاظ سے اس کا تعلق رومانیہ سے تھا لیکن فرانس کو اس نے ذاتی پسند کی وجہ سے رہائش کے لیے منتخب کیا تھا۔ وہ ذہین، خوبصورت اور اداؤں کے فن سے پوری طرح آشنا تھی، فرانسیسی انٹیلی جینس ایجنسی ان دنوں شو بزنس سے تعلق رکھنے والی خواتین کو شک کی نظر سے دیکھ رہی تھی، کیپٹن لوڈکس کے حکم پر کسی نہ کسی اداکارہ یا ماڈل گرل کو تفتیش کے لیے طلب کر لیا جاتا تھا، ماروسا اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے سوئیٹزر لینڈ بھی جاتی تھی، اس لیے کیپٹن لوڈکس نے یہ فرض کر لیا کہ یہ خاتون جرمنی کے لیے کام کر رہی ہے اور اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے شو بزنس کا سہارا لے رکھا ہے، کیپٹن لوڈکس نے ہی ماتا ہری جیسی خاتون ڈانسر کو یہ کہہ کر اپنے دفتر طلب کیا تھا کہ تم ہمارے لیے کام کرو اور ہم تمہیں اس کا معاوضہ دیں گے، یہی پیشکش اس نے ماروسا کو بھی کی، تاہم ماروسا سے خود ملاقات کرنے کی بجائے اپنے ایک ذہین ایجنٹ کو اس کے پاس بھیجا جس نے ایک روز اسے فرانسیسی انٹیلی جینس ایجنسی کے دفتر میں طلب کیا۔

اتفاق سے جب ماروسا وہاں پہنچی تو مذکورہ ایجنٹ جسے کیپٹن لوڈکس نے اس کے تعاقب میں لگا رکھا تھا اسے خوش اخلاقی سے ملا، اس کی میز پر اس وقت ایک ایسی فہرست موجود تھی جس میں فرانس کے ان جاسوسوں کے نام تھے جو روس اور دوسرے ممالک میں اہم عہدوں پر کام کر رہے تھے۔ ماروسا نے فرانسیسی انٹیلی جینس ایجنسی کے اس ایجنٹ سے کہا کہ میں کسی ملک کے لیے جاسوسی نہیں کر رہی تاہم اگر میری وجہ سے آپ کو فائدہ ہوسکتا ہے تو مجھے بتائیں میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے فرانس کی خدمت کر کے خوشی محسوس کروں گی۔ اس ایجنٹ نے کیپٹن لوڈکس کو ماروسا کا پیغام پہنچایا۔

ماروسا کسی قسم کا وعدہ کیے بغیر واپس آگئی، تاہم اس ملاقات کے چند دن بعد فرانس کا ایک ایسا شخص جرمنی میں پر اسرار انداز میں قتل ہوگیا جس کا نام مذکورہ ایجنٹ کی میز پر پڑی فائلوں میں سر فہرست تھا، اپنے سیکرٹ ایجنٹ کی ہلاکت پر کیپٹن لوڈکس انتہائی مشتعل ہوگیا، اس نے ان افراد کی فہرست تیار کرنے کا حکم دیا جو گزشتہ چند ماہ کے دوران اس دفتر میں آئے تھے جہاں سیکرٹ ایجنٹوں کے متعلق کوائف ہوتے ہیں، یوں تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ ماروسا اس روز فرانسیسی انٹیلی جینس ایجنسی کے دفتر میں موجود تھی جب مذکورہ قتل ہونے والے ایجنٹ سے متعلق فائل میز پر موجود تھی، چنانچہ کیپٹن لوڈکس نے فوراً حکم دیا کہ اس خاتون کو ہلاک کردیا جائے، تاہم یہ مسئلہ درپیش تھا کہ کسی کے پاس ماروسا کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت نہیں تھے، چنانچہ لوڈکس نے اپنے ایجنٹ کو، جو ماروسا کے ساتھ چند ملاقاتیں کر چکا تھا، یہ مشن سونپا کہ وہ ماروسا کے ساتھ کھانا کھائے اور اس دوران اسے زہر دے کر ہلاک کردیا جائے، چنانچہ اس طرح فرانسیسی انٹیلی جینس ایجنسی نے ماروسا کو کافی میں زہر دے کر ہلاک کردیا، مذکورہ خاتون کا بھی ان جاسوس خواتین جیسا انجام ہوا جنہیں کیپٹن لوڈکس نے محض شک کی بنیاد پر گولی مروا کر ہلاک کردیا تھا۔

مس سٹیفن بابا
دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے جاسوس اپنے وطن کے لیے فراض انجام دیتے وقت جان کی بازی لگا دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ تاہم ان میں بعض ایسے مرد و خواتین بھی شامل ہیں جو مالی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے قومی وقار کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ آناً فاناً ان کے ذہن سے وہ حلف نکل جاتا ہے جو وہ حساس اداروں میں ملازمت اختیار کرتے وقت اٹھاتے ہیں۔ یہ ضمیر فروش لوگ اپنے وطن کی خفیہ معلومات دشمن کے جاسوس اداروں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ اگرچہ اس قسم کی حرکت کرنے والوں میں خواتین کا ذکر کم ہی آتا ہے لیکن پھر بھی ان خواتین کی کمی نہیں ہے جو دفاعی اور حساس نوعیت کی معلومات دشمن تک پہنچاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں.

مس اسٹیفن بابا (Stephen Baba) امریکی نیوی کی ایک ایسی ملازمہ تھی جسے یکم اکتوبر 1981ء میں ساؤتھ افریقہ کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ یقیناً ساؤتھ افریقہ کے لیے وہ ایک اثاثہ تھی اور ساؤتھ افریقہ کی انٹیلی جینس کا یہ کارنامہ تھا کہ اس نے امریکہ کی نیوی میں ملازم ایک ایسی خاتون تک رسائی حاصل کی جسے امن و جنگ کے دنوں میں استعمال ہونے والے مختلف آلات اور ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں اہم معلومات تھیں، وہ امریکی نیوی کے اس شعبے میں تھی جہاں اسے معلوم ہوتا رہتا تھا کہ امریکہ نے سمندر کے نیچے کون کون سے خفیہ اڈے قائم کر رکھے ہیں؟ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کسی ملک کی بحری صلاحیت کیسی ہے؟

اس کے پاس ایسی فائل بھی موجود تھی جس میں نیول انٹیلی جینس سے متعلقہ اہم دستاویزات شامل تھیں، اسے ایف بی آئی (FBI) 'نے یکم اکتوبر 1981ء کو 'کے جی بی (KGB) کے ایجنٹ کا روپ دھار کر گرفتار کیا اور حقیقتِ حال کی خبر ہونے پر اس کے پاس اعترافِ جرم کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ اس پاداش میں اس کا کورٹ مارشل ہوا اور اسے آٹھ سال کی قید ہوئی، مس اسٹیفن بابا کو گرفتار کرنا ایف بی آئی کا ایک کارنامہ تھا لیکن ساؤتھ افریقہ کی انٹیلی جینس ایجنسی کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان تھا۔

سٹیلا ریمنگٹن
،برطانیہ جسے ترقی یافتہ ممالک میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اس لحاظ سے ہمیشہ دنیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے کہ وہاں لوگوں کو زندگی گزارنے کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔ برطانیہ کے بارے میں کبھی کہا جاتا تھا کہ یہ وہ عظیم سلطنت ہے جس کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ برطانیہ کی دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اجارہ داری تھی۔ برطانوی زیرِ تسلط علاقوں میں سے اگر ایک حصّے میں دن کا سماں ہوتا تو دوسرے حصّے میں رات ہوتی تھی، لیکن اس عظیم الشان سلطنت میں بھی ہمیشہ سے عورتوں کو صنفی بنیاد پر استحصال کا سامنا رہا ہے۔ اگرچہ برطانیہ میں عورت کی آزادی اور اس کے حقوق کی حفاظت کا بہت شور ہے تاہم برطانیہ میں چند خواتین کے علاوہ اقتدار ہمیشہ مرد حضرات کے پاس رہا ہے۔ وہاں عورتوں کو مساوی حقوق حاصل ہونے کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے، لیکن کیا برطانیہ میں کسی عورت کو فوج کا سربراہ بنایا گیا ہے؟

اسی طرح برطانوی سیکرٹ سروس میں بھی خواتین کو تمام تر صلاحیتوں اور بہترین کارکردگی کے با وجود ترقی دیتے وقت نظر انداز کیا گیا ہے، لیکن برطانوی تاریخ میں ایک خاتون سٹیلا ریمنگٹن (Dame Stella Rimington) نے اس وقت دنیا کو حیرت میں ڈال دیا جب اپنی صلاحیتوں کے باعث اس نے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حضرات کو مجبور کردیا کہ وہ اسے سیکرٹ سروس MI5 کا سربراہ بنائیں، یوں برطانوی سیکرٹ سروس کی 83 سالہ تاریخ میں ایک عورت کو پہلی مرتبہ فروری 1992ء میں MI5 کا سربراہ بنایا گیا، سٹیلا ریمنگٹن کی اس حسّاس ادارے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی ادارے کے مرد انٹیلی جینس حکام کو ایک نظر نہ بھائی، برطانوی اخبارات میں خصوصی طور پر ایک طوفان امڈ آیا، حالانکہ اس سے پہلے جب یہ عہدہ مرد حضرات کو تفویض کیا جاتا تھا تو اس کی خبر چند سطروں سے زیادہ نہ ہوتی تھی لیکن سٹیلا ریمنگٹن کی حمایت اور مخالفت میں خبروں اور مضامین کی اشاعت کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا.

سٹیلا ریمنگٹن کو کبھی سیکرٹ سروس کا ڈائریکٹر جنرل نہ بنایا جاتا اگر وہ سینیارٹی کے اعتبار سے یہ عہدہ حاصل کرنے کی اہل نہ ہوتی، اپنی تعیناتی پر ایک بیان میں سٹیلا ریمنگٹن نے کہا کہ ہمارے محکمے کے اوپر اہم ذمہ داریاں عائد ہیں میں کوشش کروں گی کہ ان ذمہ داریوں اور مستقبل میں درپیش چیلنجز سے عہدہ بر آ ہو سکوں، ممکن ہے کچھ لوگ میری تعیناتی پر حیرت کا اظہار کریں، میں کوشش کروں گی کہ حکومت خصوصاً وزیرِ اعظم کے اعتماد پر پوری اتر سکوں، سٹیلا ریمنگٹن کی تعیناتی کے بعد MI5 میں کام کرنے والی جاسوس خواتین کو خصوصی مراعات دی گئیں اور وہ اپنے پیش رو مردوں سے زیادہ بہتر خدمات انجام دینے میں کامیاب رہی، مئی 1935ء میں پیدا ہونے والی یہ خاتون ایک انجینئر کی صاحبزادی تھی، اس نے 1958ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی، سٹیلا ریمنگٹن کی 25 سال کی عمر میں جان ریمنگٹن (John Rimington) سے شادی ہوئی، وہ 1969ء میں سیکرٹ سروس میں شامل ہوئی اور کئی برس تک مختلف شعبوں میں کام کرتے کرتے 1992ء میں سیکرٹ سروس کی سربراہ بنی، برطانوی سیکرٹ سروس میں وہ سیاسی موضوعات پر تجزیاتی رپورٹ لکھنے میں اتھارٹی سمجھی جاتی تھی، اسے اپنے پیشے سے اس قدر لگاؤ تھا کہ وہ کبھی کسی خبر کا حصّہ نہ بنی اور نہ ہی اس کی کوئی تصویر اخبار میں شائع ہوئی، تاہم ایک مرتبہ جب اس کے شوہر سے ایک صحافی نے تصویر حاصل کر کے اخبار میں شائع کی تو وہ ہکا بکا رہ گئی، سٹیلا نے اپنے شوہر سے وعدہ لے رکھا تھا کہ وہ اسے کبھی بے نقاب نہیں کرے گا اور کسی کو یہ پتہ نہیں چلنے دے گا کہ اس کی اہلیہ سیکرٹ ایجنٹ ہے، سٹیلا ریمنگٹن جب سیکرٹ سروس میں اہم عہدوں پر تعینات تھی تو وہ سیاستدانوں خصوصاً اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کے فون ٹیپ کر کے حکمرانوں تک پہنچایا کرتی تھی۔ سیکرٹ سروس میں اسے کوڈ نام Mrs. R سے پکارا جاتا تھا.

سٹیلا ریمنگٹن نے برطانوی سیکرٹ سروس میں تعیناتی کے دوران ایک پرائیویٹ کمپنی کے لیے بھی خفیہ طور پر خدمات انجام دیں۔ اس نے اس کام کا معاوضہ بھی وصول کیا، 1996ء کو سیکرٹ سروس میں ملازمت پوری ہوجانے پر سٹیلا ریمنگٹن نے اپنی یاد داشتیں قلمبند کر کے ایک برطانوی اخبار کے حوالے کردیں۔ جس کے باعث برطانیہ میں طوفان بپا ہوگیا۔ سیکرٹ سروس کے مردوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ ایک عورت کو محکمے کا سربراہ بنانے کا یہی انجام ہونا تھا۔ اس کی یہ یاد داشتیں 2001ء میں Open Secret کے نام سے شائع ہوئیں.

ریٹائرمنٹ کے بعد سٹیلا ریمنگٹن نے جاسوسی پر پانچ ناول بھی لکھے جو یہ ہیں:

2004ء میں At Risk
2006ء میں Secret Asset
2007ء میں Illegal Action
2008ء میں Dead Line
2009ء میں Present Danger

یہ ناول کافی مقبول ہوئے۔ جبکہ کچھ دیگر تصانیف دوسرے مصنفین کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر لکھے گئے ہیں.

نورالنساء عنایت خان
،جب بھی دنیا کی عظیم جاسوس خواتین کی تاریخ لکھی جائے گی شہزادی نور النساء عنایت خان کا نام ضرور شامل ہوگا۔ نور النساء جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، وہ یکم جنوری 1914ء کو موسکو روس میں پیدا ہوئی، اس کا تعلق ٹیپو سلطان کے خاندان سے تھا، شہزادی نور النساء کے والد عنایت خان اپنے وقت کے صوفی سمجھے جاتے تھے۔ وہ روحانی طریقے سے مختلف امراض کا علاج کرنے کی وجہ سے دور دراز کے ممالک میں بھی شہرت کے حامل تھے۔ ایک مرتبہ روس کے شاہی خاندان کے بعض افراد بیمار ہوئے تو راسپوٹین نے انہیں روس آنے کی دعوت دی۔ صوفی عنایت خان نے جو بر صغیر میں پیر عنایت خان کے نام سے جانے جاتے تھے، زندگی کے سفر میں ایک امریکی مسلمان خاتون بیگم شاردا کا انتخاب کیا تھا، شہزادی نور النساء ان کی بیٹی تھی۔ انگریز کا زمانہ تھا، جب انگریز کی سلطنت تیزی سے پھیل رہی تھی۔

بر صغیر میں انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان 1857ء کی جنگ آزادی ختم ہوئے نصف صدی سے زائد گزر جانے کے با وجود رنجش اور چپقلش کا سلسلہ جاری تھا۔ ایک طرف انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے مجاہدین اور صوفی مل کر سلطنتِ برطانیہ کا مقابلہ کر رہے تھے، دوسری طرف اسی خطۂ زمین سے تعلق رکھنے والے اور قابلِ احترام سمجھے جانے والے مذہبی خاندان کے افراد انگریزوں کے دربار میں جوتیاں اُتار کر سر جھکائے فرش پر آلتی پالتی مار کر بیٹھنے میں فخر محسوس کر رہے تھے.

پیر عنایت خان کا تعلق ٹیپو سلطان کے خاندان سے ضرور تھا لیکن مزاج اور ترجیحات کے اعتبار سے ان کی سوچ اور رائے مختلف تھی، وہ ہر حاکم کی خدمت اپنا اولین فرض سمجھتے تھے، اس لیے جب راسپوٹین نے انہیں بلایا تو وہ شاہی خاندان کا علاج کرنے کے لیے روس چلے گئے، وہ 1917ء میں روس پہنچے، ان کی اہلیہ اپنے شوہر کی مصروفیات کو محسوس کر کے پیرس چلی گئیں، وہاں وہ بچوں کے لیے کہانیاں لکھ کر گزر اوقات کرتی تھیں جبکہ نور النساء جوان ہونے پر لندن میں سکونت پذیر ہوگئی، اسے وہاں ائیر فورس میں ملازمت مل گئی، جاسوسی کے شعبے میں جن خواتین نے باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی ان میں نور النساء کا نام بہت نمایاں ہے، سلطنتِ برطانیہ سے وفاداری اس کا ایمان تھا، اسے ایک خاتون کی حیثیت سے حساس نوعیت کی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ خود کو متوقع مشکلات سے بچانے کے لیے مختلف انداز میں تربیت دی گئی.

1943ء میں وہ ایک نائب جاسوس بن چکی تھی، برطانیہ نے اسے جاسوسی کے لیے فرانس میں نہایت خفیہ طریقے سے داخل کیا۔ وہ وہاں ایک حسّاس ادارے میں وائرلیس آپریٹر کی نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ لندن سے ملنے والی ہدایات کے تحت کبھی فرانسیسی تو کبھی جرمن جرنیلوں کی جاسوسی کرتی۔ اس نے نہایت محنت سے ایک ایسا کمیونیکیشن سسٹم تیار کر لیا تھا جس کے باعث لندن میں موجود اس کے باس لمحہ بہ لمحہ معلومات سے با خبر رہتے۔ وہ جانتی تھی کہ جنگ یا امن کے ایام میں پکڑے جانے والے جاسوس کا کیا حشر ہوتا ہے، بہت سے واقعات وہ خود بھی دیکھ چکی تھی، جب فرانس اور جرمنی میں برطانوی باشندوں کو گرفتار کر کے گولی مار دی گئی، ان پر شبہ تھا کہ وہ برطانیہ کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں، شہزادی نور النساء کو اس کے ایک اہم ترین ساتھی نے ڈبل ایجنٹ بن کر گرفتار کرا دیا۔ اسے گرفتار کرنے کے بعد جرمنی کو اندازہ ہوا کہ انہیں اس قدر بھاری نقصان پہنچانے والی شخصیت ایک خاتون جاسوس ہے.

نور النساء کے خلاف جرمنی میں نومبر 1943ء کو مقدمہ شروع ہوا، اس پر بد ترین تشدّد کیا گیا، لالچ دیا گیا لیکن اس کی زبان بند رہی، آخر کار 13 ستمبر 1944ء میں اسے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا، جان بچانے کا اس کے پاس آخری موقع تھا، وہ جانتی تھی کہ اس کے ساتھ ڈرامہ نہیں کیا جارہا اور اگلے چند لمحوں میں اس کا جسم بے جان ہو جائے گا، انسان ہونے کے ناطے موت کا خوف چند لمحوں کے لیے اسے متزلزل کر گیا۔ اس سے آخری مرتبہ پوچھا گیا کہ کیا تم اقرارِ جرم کرتی ہو اور تعاون کے لیے تیار ہو؟ نور النساء نے دھڑکتے ہوئے دل اور رکتی ہوئی سانسوں کے درمیان ایک جرمن انٹیلی جینس افسر کی طرف دیکھا اور اسے اشارے سے قریب آنے کو کہا، جب وہ قریب آگیا تو اس نے سجھ نہ آنے والے لہجے میں کوئی بات کی، وہ جرمن سمجھا کہ شاید موت کے خوف نے اس کو خوفزدہ کردیا ہے، اس نے کہا ہم تمہیں آزاد کردیں گے کیا تم ہم سے تعاون کے لیے تیار ہو؟

نور النساء نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور مضبوط لہجے میں کہا: ” Not in my life ”

اس جرمن افسر نے چند قدم پر کھڑے ہو کر فائرنگ سکواڈ کی جانب دیکھا، ایک اشارہ ہوا، گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور ایک چیخ فضاء میں گونجی، یہ نور النساء کی زندگی کا آخری دن تھا.

1949ء میں حکومت برطانیہ نے نور النساء کو جارج کراس George Cross ایوارڈ سے نوازا، اس کی زندگی پر کئی کتابیں بھی لکھی گئیں، آخری کتاب 2006ء میں شائع ہوئی جس کا نام سپائی پرنسس Spy Princess ہے.

شلمینا کشک کوہن
،اسرائیل کی جو شکل آج ہمیں نظر آتی ہے یا یوں کہیے کہ اسرائیل آج ہمیں اگر درخت کی صورت میں نظر آتا ہے تو اس کی ایک تاریخ ہے۔ اس درخت کو درخت بنانے میں بہت سے عوامل کارفرما تھے۔ اسرائیل مٹھی بھر یہودیوں کی کوشش کے باعث صفحہ ہستی پر نہیں ابھرا تھا۔ بلکہ اس کو معرض وجود میں لانے کے لیے ایک طویل منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس کی جھلک ہمیں اس خاتون جاسوس کی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے دکھائی دے جاتی ہے جو یہودی تھی، جس نے جاسوسی کے ذریعے یہودیوں کی اس قدر خدمت کی کہ وہ قطرہ قطرہ دریا بننے کے مصداق ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہوئی۔ یہ خاتون شلمینا کشک کوہن Shulamina Kishak Kohen تھی جو یہودیوں میں شولا Shula کے نام سے جانی جاتی ہے، اسے تاریخ میں مڈل ایسٹ کی ماتا ہری کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ شولا ایک بہت با ہمت اور بہادر خاتون تھی، اپنی قوم سے محبت اس کے خون میں رچی بسی تھی، اپنے مشن کو وہ عبادت سمجھتی تھی، اپنے کام سے اس قدر مخلص اور سنجیدہ تھی کہ اس کا ایک ایک لمحہ یہودیوں کے لیے ایک الگ خطۂ ارضی حاصل کرنے کی کوششوں میں صرف ہوا۔ وہ اتنی خوبصورت تھی جتنی ایک حسینۂ عالم ہوسکتی ہے۔ ویسے تو حسن اللہ تعالی نے ہر مذہب اور رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیا ہے لیکن خوبصورتی کے اعتبار سے اہلِ مصر اور یہودی اپنی مثال آپ ہیں۔ شولا جسمانی ساخت اور خد و خال کے ساتھ ساتھ ایک سمجھدار اور تعلیم یافتہ خاتون تھی۔ اسے اپنے حسن پر فخر تھا اور اپنے فن پر اعتبار بھی تھا۔ وہ جانتی تھی کہ مردوں کو اپنے مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے، وہ باہر نکلتی تو مردوں کی نظر بے ساختہ اس پر آجاتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ کئی للچائی ہوئی نظریں اس کا تعاقب کر رہی ہیں، لیکن بہت کم افراد کو معلوم ہوتا تھا کہ وہ خود شکار بن کر شکاری کی تلاش میں نکلتی ہے، شولا اسرائیل کی انٹیلی جینس موساد کے ہتّھے اس وقت چڑھی جب اسرائیل کا قیام عمل میں بھی نہیں آیا تھا، یہودی موساد کے نام سے ایک انٹیلی جینس ایجنسی بنا کر ایک الگ خطۂ ارضی حاصل کرنے کے لیے عرصۂ دراز سے کام کر رہے تھے.

شولا اچانک ہی موساد کے ایک ایجنٹ سے ٹکرا گئی، وہ اس کی صلاحیتوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، ذاتی تفتیش اور تحقیقات سے اس موساد ایجنٹ کو اندازہ ہوا کہ شولا اس کے کام آسکتی ہے، وہ اسے لبنان میں ملا تھا، اس کی سفارش پر شولا کو جاسوسی کی تربیت دی گئی، اسے بتایا گیا کہ مردوں کے ساتھ اظہار محبت کیسے کرنا ہے اور کس کو کس انداز سے یہ یقین دلانا ہے کہ وہ شخص جس کی تلاش میں میری روح بھٹک رہی تھی وہ آخری ہے، یہ وہ فن ہے جو سخت ریاضت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا، شولا کو جسمانی خوبصورتی استعمال کرنے کا فن بخوبی آتا تھا، وہ بیروت پہنچی جہاں اس نے آہستہ آہستہ ان تمام یہودیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹّھا کرنا شروع کردیا، جو ایک آزاد وطن میں رہنے کے لیے بے چین تھے۔ بیروت میں رہنے والے یہودی اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ خوشگوار زندگی بسر کر رہے تھے، وہیں ان کے آباء و اجداد کی یادگاریں تھیں، انہیں اپنے آباء واجداد کی چھوڑی ہوئی اشیاء سے محبت تھی، وہ اپنا کاروبار اور پر سکون زندگی چھوڑ کر محض ایک سہانا خواب دکھائے جانے پر نقل مکانی کے لیے تیار نہ تھے۔

لیکن شولا نے انہیں فلسطین میں جاکر ایک مخصوص علاقے میں آباد ہونے کے لیے رضا مند کیا۔ آہستہ آہستہ اس کی کوششوں سے یہودی اس جگہ پر منتقل ہونے لگے جہاں کھلے میدان تھے اور آباد کاری کا تصّور تک نہ تھا، اس طرح یہودی جو کئی دہائیوں سے فلسطین پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کر رہے تھے، کچھ ہی عرصے میں بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں پر قابض ہونے کی پوزیشن میں آگئے، موساد نے شولا کو جو تربیت دی تھی وہ ضائع نہ گئی، اس نے سینکڑوں یہودیوں کو مجوزہ اسرائیل کے لیے مختص علاقے میں آباد کرایا، اس کے خاندان کے دیگر سات افراد بھی اس کی کوششوں میں شامل رہے، وہ لبنان اور شام میں بیٹھ کر موساد کے لیے جاسوسی کیا کرتی تھی.

موساد نے اس کی سفارش پر بیروت میں قائم ایک نائٹ کلب کو مالی امداد بھی فراہم کی تھی، یہ نائٹ کلب شولا کے ایک بوائے فرینڈ کا تھا جو یہودی تھا، شولا وہاں لبنان اور شام سے آنے والے متعدد اعلٰی افسران اور تاجروں کے ساتھ خصوصی طور پر تعلقات بڑھا لیا کرتی تھی۔ آخر کار لبنان کے ایک انٹیلی جینس افسر نے یہ ثابت ہوجانے پر کہ وہ لبنان اور شام کے اہم قومی راز موساد تک پہنچا رہی ہے، اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ شولا آخری وقت تک یہ سمجھتی رہی کہ اس نے لبنان کے ایک خوبصورت نوجوان کو یہودی انٹیلی جینس کے لیے کام کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے، لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ وہ جس جال کو پھیلا کر بیٹھی ہوئی ہے اس میں خود پھنس جائے گی، لبنانی انٹیلی جینس افسر نے شولا سے دوستی کی اور اسے اس وقت پکڑا جب وہ موساد کے لیے لکھی جانے والی ایک اہم رپورٹ کسی کے حوالے کر رہی تھی، یہ رپورٹ لبنان کے دفاعی منصوبوں سے متعلق تھی، شولا کے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا.

اپنی تمام تر دلفریب اداؤں اور حُسن کے جادو کے با وجود انٹیلی جینس کے ایک افسر کے ہاتھوں گرفتار ہوگئی، اس کے خلاف مقدمہ چلا، لبنان کی ایک عدالت نے اسے موت کا حقدار قرار دیا، لیکن پھانسی سے قبل موساد نے لبنان کے ساتھ ایک ڈیل کی جس کے تحت شولا کی پھانسی کی سزا کو سات برس کی قید میں بدل دیا گیا، وہ قید بھگت نہ پائی تھی کہ موساد نے لبنان کے ان جاسوسوں کو رہا کرانے کے بدلے شولا کو آزاد کرالیا جو یہودیوں کی تحویل میں تھے۔

لیڈیا دارہ
،امریکہ جو دنیا میں سُپر پاور بن کر حکمرانی کر رہا ہے کبھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، امریکہ کو ایک آزاد اور عظیم ملک بنانے میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، ان عورتوں نے جاسوس کے روپ میں ایسے کارنامے انجام دیے ہیں جو آج بھی تاریخ میں زندہ جاوید نظر آتے ہیں، ان ہی عورتوں میں ایک عظیم جاسوس لیڈیا دارہ (Lydia Barrington Darrah) (اس نام کے ہجے Darragh اور Darrach بھی کیے جاتے ہیں) تھی جو 1729ء میں آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں پیدا ہوئی، لیڈیا نے 2 نومبر 1753ء میں ایک فیملی ٹیوٹر ولیم دارہ (William Darragh وفات 8 جون 1783ء) سے شادی کی اور امریکہ جاکر فلاڈیلفیا میں آباد ہوگئی، وہ مڈ وائف تھی، اس کے شوہر کی تنخواہ کم تھی، لیڈیا کے نو بچے تھے جن میں سے پانچ بچے (Charles Darrah, Ann Darrah, John Darrah, William Darrah, and Susannah Darrah) زندہ رہے، اس کا بڑا بیٹا چارلس فوج میں ملازم تھا جس کے ذریعے لیڈیا دارہ اہم معلومات امریکی جرنیلوں تک پہنچایا کرتی تھی۔

امریکی انقلاب کے دنوں میں جارج واشنگٹن نے جنگی حِکمت عملی کے ساتھ ساتھ مؤثر جاسوسی نظام سے مدد لیتے ہوئے زبردست کامیابی حاصل کی، اس نے کانگریس سے خفیہ فنڈ منظور کرائے تاکہ جاسوسی کرنے والی خواتین اور مردوں کو معاوضہ دیا جا سکے کیونکہ معاشی مسائل بعض اوقات بہتر خدمات انجام دینے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔

لیڈیا دارہ نے جنرل جارج واشنگٹن کی فوج میں خدمات انجام دیں، جن کے باعث امریکہ کی آزادی کی راہ ہموار ہوئی، جب برطانیہ نے امریکہ کی ریاست فلاڈیلفیا پر قبضہ کیا تو لیڈیا نے بہترین خدمات انجام دیں، امریکہ پر مصیبت کے ایام میں وہ سوچ رہی تھی کہ یہ سر زمین تو وہی ہے لیکن آزادی کہاں ہے؟ غلامی کے احساس نے اسے عجیب الجھن میں مبتلا کردیا تھا، اس نے غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے مؤثر لائحہ عمل تیار کیا، برطانوی فوج فلاڈیلفیا میں داخل ہوئی تو تمام اچھے گھروں پر قبضہ کرنا شروع کردیا تاکہ ان کو اپنے خصوصی مقاصد کے لیے استعمال کر سکے، برطانوی فوج کے جنرل ہو (General William Howe) نے فلاڈیلفیا میں موجود فوجی افسر جان لیڈ والڈر کے گھر پر قبضہ کر کے اسے اپنا ہیڈ کواٹر بنا لیا، لیڈیا کا گھر اتفاق سے اس کے گھر کے سامنے تھا، جنرل ہو کو لیڈیا کا گھر بھی پسند آگیا، کیونکہ اس کا گھر محلِ وقوع کے اعتبار سے خوبصورت اور اہم جگہ پر واقع تھا، لیڈیا ایک ذہین اور خوش اخلاق عورت تھی، جس کے برطانوی فوجی افسروں سے خوش گوار مراسم تھے، جس کے باعث انہیں اس بات کا احساس نہ ہوا کہ وہ امریکی جاسوس ہے، یہی وجہ تھی کہ برطانوی جنرل ہو نے لیڈیا کے گھر کو ایک مرتبہ انتہائی اہم فوجی اجلاس منعقد کرنے کے لیے منتخب کرلیا، اس سے قبل بھی بعض فوجی افسروں کا معمول تھا کہ وہ خفیہ اجلاس کے بہانے لیڈیا کے گھر آجاتے اور گھنٹوں آرام کر کے چلے جاتے، جس کے باعث لیڈیا کے گھر والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا، لیکن اس روز خصوصی طور پر جنرل ہو نے لیڈیا کو احکامات جاری کئے کہ جب وہ اجلاس کے لیے یہاں آئیں تو گھر والوں کو باہر نکال دیا جائے، تاہم بعد میں لیڈیا اور اس کے گھر والوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس نے انہیں گھر میں رہنے کی اجازت دے دی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں کہا گیا کہ وہ اجلاس کے دوران اس طرح گھر میں رہیں گے کہ برطانوی فوجی جرنیلوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، لیڈیا نے جنرل ہو سے ان معاملات پر اتفاق کر لیا، لیڈیا برطانوی فوجی افسروں کے ساتھ انتہائی شائستگی اور مہمان نوازی سے پیش آتی تھی، اس وقت لیڈیا کی عمر 48 سال تھی، لیکن اس نے چہرے سے اپنے دکھ کا اظہار نہیں کیا، یہی وجہ تھی کہ برطانوی فوجی افسروں کو کبھی شک نہ گزرا کہ وہ ان کی جاسوسی کر رہی ہے، اس کے حسنِ سلوک کے باعث برطانوی سپاہی اس کو اپنا ہمدرد سمجھنے لگے، لیڈیا نے بیمار اور دکھی سپاہیوں کی بھرپور خدمت کی، وہ ان کے لیے کھانا اور ادویات لے کر جاتی تھی، وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ آپ ہمارے دوست اور مہمان ہیں آپ کی خدمت ہمارا فرض ہے.

اس نے ان کے کوٹ اور ہیٹ سے یہ اندازہ کر لیا تھا کہ اجلاس میں شریک ہونے والے افسران اعلٰی ہیں اور یہ اجلاس انتہائی اہم نوعیت کا ہے، تاہم لیڈیا دارہ نے اپنے رویّے سے یہ یقین دلایا تھا کہ اجلاس میں کسی قسم کی مشکلات یا مداخلت نہیں کی جائے گی، جس کے باعث برطانوی فوجی افسران نے آخری فوجی افسر آنے کے بعد کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔ جس کے بعد لیڈیا دارہ نے گھر کے سامنے والا دروازہ بھی بند کردیا، برطانوی فوجی افسر جان اینڈر نے لیڈیا سے کہا کہ دوران اجلاس بیڈ روم سے باہر نہ نکلنا، جب اجلاس ختم ہوگا تو خود آگاہ کردیا جائے گا، لیڈیا یقین دہانی کرانے کے بعد اپنے بیڈ روم میں آگئی، جہاں اس کا شوہر گہری نیند سو رہا تھا، لیڈیا کو برطانوی فوجی افسروں کی آمد اچھی نہ لگتی تھی لیکن اسے تجسّس تھا کہ آج رات کیا اہم فیصلے ہونے ہیں؟ اجلاس شروع ہونے کے بعد لیڈیا پنجوں کے بل چلتی ہوئی آئی اور اندھیرے میں ہی اس کمرے کی دیوار تک پہنچ گئی جہاں اجلاس ہو رہا تھا، اس نے دیوار کے سوراخ سے دیکھا کہ تمام فوجی افسر سرگوشیوں میں دبے ہوئے لہجے کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، جس سے لیڈیا کو اندازہ ہوگیا کہ امریکہ کے بارے میں اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال ہورہا ہے، اسی دوران ایک برطانوی فوجی افسر نے کہا کہ جارج واشنگٹن کی فوج تیاری کی حالت میں نہیں ہے، اس نے برطانوی فوج کی فوجی تیاریوں اور طاقت کے بارے میں بریفنگ دی۔

اس خفیہ اجلاس میں ایک حُکم نامہ تیار ہوا جس میں کہا گیا کہ 4 دسمبر کی صبح فوج فلاڈیلفیا سے روانہ ہوکر واشنگٹن پر حملہ کردے گی، برطانوی فوج کو یقین تھا کہ وہ واشنگٹن کی فوج کو غفلت کی حالت میں تباہ و برباد کردیں گے۔ کیونکہ وہ سوچ رہے تھے کہ واشنگٹن کی فوج بے سروسامانی اور مشکلات کا شکار ہے۔ جب کہ فلاڈیلفیا پر قبضہ کرنے کے بعد برطانوی فوج نے کئی روز جشن منایا جس کے باعث جارج واشنگٹن کو اپنی پوزیشن بہتر بنانے کا موقع مل گیا، انہی دنوں لیڈیا نے جنرل جارج واشنگٹن کو اہم معلومات دینے کا سلسلہ شروع کیا، وہ برطانوی سپاہیوں کے پاس جاتی جو زخمی ہوتے اور ان کی خدمت کرتی جبکہ بعض سپاہیوں کو کھانا اور دیگر اشیاء فراہم کرتی، اس خدمت اور دوستی کے ماحول میں برطانوی سپاہیوں نے اندر کے راز دینا شروع کردیے جو لیڈیا جارج واشنگٹن تک پہنچانے لگی، لیڈیا کا ایک بیٹا فوج میں تھا جس کو وہ اہم معلومات فراہم کرتی تھی، برطانوی فوج نے فلاڈیلفیا پر قبضہ کیا تو جنرل واشنگٹن کے سپاہیوں کے پاس ساز وسامان کی کمی تھی، ان کے پاس خوراک اور کپڑے بھی انتہائی قلیل تھے جس کے باعث وہ لڑنے کے قابل نہ تھے، سردیوں کا موسم تھا، سپاہیوں کے پاس گرم کپڑے نہ ہونے کے باعث جنرل واشنگٹن نے ان سے کہا کہ وہ آرام کریں، اس کے برعکس برطانوی فوجی پُر آسائش زندگی گزار رہے تھے۔ آہستہ آہستہ برطانوی فوجی افسروں نے فلاڈیلفیا میں عیاشی شروع کردی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ واشنگٹن کے سپاہیوں کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ وہ جنگ کرنے کے قابل نہیں ہیں، لیڈیا دارہ تمام حالات سے واشنگٹن کو باخبر کرتی رہی، جنرل واشنگٹن نے اسی دوران برطانوی فوج کی حرکات وسکنات پر گہری نظر رکھی، تاکہ اس دوران برطانوی فوج کی غفلت اور عیاشی کا فائدہ اٹھا کر ان سے مقابلے کے لیے اپنے سپاہیوں کو تیار کر سکے۔

لیڈیا دارہ کے گھر 2 دسمبر 1777ء کو ہونے والے اجلاس میں واشنگٹن کی فوج پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ضروری تھا کہ لیڈیا یہ اطلاع فوراً جنرل جارج واشنگٹن کو فراہم کرے، اس کا دماغ بہت تیزی سے کام کر رہا تھا کہ کس طرح فوری طور پر اطلاع دی جائے؟ اس سوچ میں وہ اپنے بیڈ روم میں واپس آگئی، ابھی کچھ دیر گزری تھی کہ برطانوی فوجی افسر نے دروازے پر دستک دی، لیڈیا اس صورتحال سے نبٹنے کے لیے تیار تھی، وہ انتہائی خود اعتمادی کے ساتھ اٹھی اور اس طرح دروازہ کھولا کہ وہ گہری نیند میں ہے، برطانوی فوجی افسر میجر اینڈر دستک دینے کے بعد معذرت کی اور کہا کہ اجلاس ختم ہوچکا ہے، کمرے میں موم بتیاں بجھا دو، ہم جارہے ہیں، لیڈیا اس کمرے میں گئی جہاں اجلاس ہو رہا تھا، اس نے آتش دان میں دہکتے ہوئے کوئلے کو بجھانا شروع کیا تاکہ کسی طرح وقت گزرے اور صبح ہوجائے، وہ ذہنی اضطراب میں مبتلا تھی کیونکہ وہ اہم اطلاع جنرل واشنگٹن تک پہنچانا چاہتی تھی، لیڈیا نے صبح ہونے پر اپنے شوہر دارہ سے کہا کہ مجھے فوراً فرینکفرٹ جانا ہے تاکہ کچھ آٹا لے آؤں، دارہ نے کہا: آٹا ملازم لے آئے گا۔ لیڈیا نے کہا: نہیں میں خود جاؤں گی، اس کا اندازِ گفتگو دیکھ کر دارہ خاموش ہوگیا کیونکہ لیڈیا ہر قیمت پر خود جانا چاہتی تھی، آٹے کی مِل لیڈیا کے گھر سے 5 میل دور تھی اور عموماً عورتیں پیدل جاکر آٹا لاتی تھیں، فلاڈیلفیا پر قبضہ ہونے کے بعد جنگی صورتحال تھی، جس کے باعث کہیں جانے کے لیے پاس لینا پڑتا تھا، لیڈیا پاس لینے کے لیے جنرل ہو کے ہیڈ کوارٹر آئی، اسے فوج کے اعلٰی افسران کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے باعث پاس مل گیا، راستے میں بعض مقامات پر اسے برطانوی سپاہیوں نے روکا، لیکن لیڈیا نے آٹے کے خالی بیگ دکھائے تو اسے آگے جانے کی اجات مل گئی، ان دِنوں آٹا لینے کے لیے خالی بیگ ساتھ لے جانے پڑتے تھے، لیڈیا نے آٹے کی مل پر جاکر خالی بیگ دئے کہ ان میں آٹا ڈالو میں ابھی ایک دوست سے مل کر آتی ہوں۔

لیڈیا وہاں سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئی، اسے وائٹ مارش جانا تھا، جہاں جارج واشنگٹن کی فوج ٹھہری ہوئی تھی، شدید سردی کا موسم تھا، برفباری اور ٹھنڈی ہواؤں نے ماحول کو مزید سرد بنا دیا تھا، لیڈیا کو راستے میں ایک امریکی سپاہی نظر آیا جو برطانوی فوج کی نقل وحرکت کا جائزہ لے رہا تھا، اس نے حیرت سے پوچھا: "لیڈیا! تم یہاں کی کر رہی ہو؟" جس پر لیڈیا نے تمام صورتحال کی وضاحت کی کہ میں اس اہم اطلاع کے ساتھ جنرل واشنگٹن کو ملنا چاہتی ہوں کہ برطانوی فوج 13 توپوں اور چھ ہزار فوجیوں کے ساتھ اس پر حملہ کرنا چاہتی ہے، لیفٹیننٹ کرنل تھامس گریٹ لیڈیا کی بات سن کر حیران و پریشان ہوگیا، اس نے کہا میرے ساتھ جنرل واشنگٹن سے ملنا پسند کروگی؟ جس پر لیڈیا نے جواب دیا ”نہیں” یہ اطلاع تم پہنچا دو کیونکہ میرا وہاں جانا مناسب نہیں ہے میں چاہتی ہوں کہ کسی کو بھی معلوم نہ ہو کہ یہ اطلاع کس نے دی ہے؟ کیونکہ اگر برطانوی فوج کو تمام صورتحال کا علم ہوگیا تو مجھے اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

کرنل تھامس نے لیڈیا کو کچھ کھانے پینے کا سامان دیا اور گھوڑے پر سوار کر کے فلاڈیلفیا کے قریب چھوڑ دیا۔ جہاں سے وہ واپس آٹے کی مل پر گئی اور آٹا لے کر گھر روانہ ہوگئی، اس صورتحال کے بعد لیڈیا کافی تھک چکی تھی، اس نے گھر کی کھڑکی میں سے دیکھا کہ برطانوی فوج روانگی کے لیے تیار ہے، جنرل ہو کو یقین تھا کہ انہیں فتح حاصل ہوگی، لیکن جب روانہ ہوئے تو جنرل ہو کو کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئی جہاں امریکی فوج غفلت میں ہوتی، جس کے باعث برطانوی فوج کو حملہ کئے بغیر ہی واپس آنا پڑا، جنرل واشنگٹن اس کا پیچھا کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے سپاہیوں کی صورتحال ایسی نہ تھی، کچھ دنوں کے بعد میجر جان اینڈر چند فوجیوں کے ہمراہ لیڈیا کے گھر آیا اور پوچھا کیا گزشتہ دنوں تمہارے خاندان کا کوئی فرد فوجی افسروں سے ملا ہے؟ لیڈیا نے کہا: 2 دسمبر کی رات آپ کے حکم پر گھر والے جلدی سوگئے تھے، میجر جان اینڈر نے کہا میں جانتا ہوں کہ سب سو رہے تھے، لیڈیا نے کہا پھر آپ یہ سب کچھ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ میجر جان اینڈر نے کہا کسی نے جنرل واشنگٹن کو ہمارے منصوبے کی اطلاع دے دی۔ کیونکہ امریکی فوجی ہر جگہ مقابلے کے لیے تیار تھے اس طرح برطانوی فوج کے تین دن ضائع ہوئے، میجر اینڈر نے کہا کہ اگر انسانوں نے نہیں تو لیڈیا کے گھر کی دیواروں نے کچھ نہ کچھ سنا ہوگا۔

لیڈیا کی جنرل واشنگٹن کو جاسوسی کے باعث امریکہ کی قسمت بدل گئی کیونکہ اگر برطانوی فوج حملہ کر دیتی تو غلامی کی زندگی مزید طویل ہوجاتی، اس واقعہ کے پچاس سال گزرنے کے بعد لیڈیا کی بیٹی نے اپنی والدہ کے عظیم کارنامے سے پردہ اٹھایا، لیڈیا نے جاسوسی کو بطور پیشہ نہیں اپنایا، اس نے حِب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر جاسوسی کی، وہ اگر جاسوسی کو بطور پیشہ اپناتی تو بہت کامیابیاں حاصل کرتی، لیڈیا نے امریکی انقلاب میں عظیم کارنامہ انجام دیا، اس نے 28 دسمبر 1789ء میں وفات پائی۔
kgb
،کے جی بی (KGB) دراصل Комите́т Госуда́рственной Безопа́сности (یعنی: کومیتیت گوسودارستوینوی بیزوپاسنوستی) کا مخفّف ہے، یہ سابقہ سوویت یونین کی انٹیلی جینس ایجنسی یا جاسوسی کا ادارہ ہے جسے 20 دسمبر 1917ء کو فلیکس ڈزرزہینسکی (Felix Dzerzhinsky) کی قیادت اور صدر ولادیمیر لینن کی سرپرستی میں قائم کیا گیا تھا، اپنے قیام سے ہی اسے بلشفی انقلاب (Bolshevik Revolution) یا انقلابِ اکتوبر اور کمیونسٹ پارٹی کی تلوار سمجھا جاتا رہا ہے، اپنے ابتدائی دور میں ہی 'کے جی بی' نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں، جب مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ اور امریکہ نسبتاً سکون کی حالت کے مزے لوٹ رہے تھے، 'کے جی بی' نے اس کا فائدہ اٹھایا اور نہ صرف ان ممالک کے حکومتی اداروں میں، بلکہ عسکری اداروں میں بھی اپنے ایجنٹ شامل کردئے، 'کے جی بی' نے مین ہٹن پراجیکٹ جس سے امریکہ کو ایٹم بم حاصل ہوا، سے ایٹم بم کے راز چوری کر لئے تھے۔ جو شاید 'کے جی بی' کی سب سے بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے، سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کو ”ایک پارٹی ملک” کے طور پر قائم رکھنے میں 'کے جی بی' نے بڑا اہم کردار ادا کیا اور کمیونسٹ پارٹی کی ہر مخالف سیاسی فکر کی قلع قمع کی، یورپ اور امریکہ میں 'کے جی بی' کا نیٹ ورک اتنا بڑا اور اس قدر فعّال تھا کہ وہ ہر جدید ٹیکنالوجی کو فوراً ہی سوویت یونین منتقل کردیتے تھے۔

اہم کامیابیاں

سرد جنگ سے پہلے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی نسبت امریکہ 'کے جی بی' کے لئے اتنا زیادہ اہم ہدف نہیں تھا چنانچہ امریکہ میں 'کے جی بی' کا نیٹ ورک بڑی سست روی سے بڑھا، مگر سرد جنگ کے شروع ہونے کے بعد یہ سب تبدیل ہوگیا اور 'کے جی بی' نے امریکہ میں اپنا ایک بہت بڑا نیٹ ورک قائم کر لیا، اور جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ 'کے جی بی' کی سب سے بڑی کامیابی امریکہ کے ایٹم بم کا فارمولا حاصل کرنا تھا۔ جس نے ایٹم بم کے بل پر ساری دنیا کو ڈرایا ہوا تھا۔ چنانچہ سوویت یونین بھی ایٹم بم بنا کر امریکہ کے برابر آکھڑا ہوا اور معاہدوں کے ذریعہ امریکہ کو اس کے استعمال سے باز رکھا، ایٹم بم کے علاوہ 'کے جی بی' کے ایجنٹوں نے کئی اہم ایجادات کے راز اور فارمولے سوویت یونین منتقل کئے۔ جیسے جیٹ انجن، ریڈار، انکرپشن کے طریقے اور دیگر، 'کے جی بی' کی ان پے در پے کامیابیوں کی وجہ سے پورے امریکہ میں سوویت ایجنٹوں سے ڈر کی ایک لہر دوڑ گئی جسے اس وقت ”سرخ ڈر” (Red Scare) کا نام دیا گیا، سینیٹر جوزف مکیرتھی (Joseph McCarthy) کی سربراہی میں 'کے جی بی' کے خلاف کئی مہمیں بھی چلائی گئیں (جو بعد میں مکیرتھزم McCarthyism کے نام سے جانی گئیں) اور ہر اس شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا جو کمیونزم کے لیے ذرا سا بھی نرم گوشہ رکھتا ہو، یہ مہمیں شمولی (totalitarian) ممالک کی غسل دماغی یا برین واش مہموں سے مشابہ تھیں۔ چنانچہ امریکی اس سے کافی خوفزدہ ہوگئے کیونکہ وہ اس کے عادی نہیں تھے، ان مہموں سے 'کے جی بی' امریکہ میں کافی حد تک متزلزل ہوا، برطانیہ میں 'کے جی بی' خود برطانوی انٹیلی جینس میں اپنے جاسوس شامل کرنے میں کامیاب رہا۔ حتٰی کہ برطانوی انٹیلی جینس میں 'کے جی بی' کی روک تھام کے شعبے کا سربراہ بھی 'کے جی بی' کا ایجنٹ تھا !! اس طرح 'کے جی بی' کے ایجنٹ برطانیہ کے عسکری، سیاسی اور علمی راز سوویت منتقل کرتے رہے، 'کے جی بی' کا کام دوسرے ممالک کی جاسوسی کرنا ہی نہیں تھا بلکہ اس کے ایجنٹ سوویت یونین کی عمومی زندگی پر بھی نظر رکھتے تھے اور حکومت مخالف ہر آواز کو کچلنا اس کی اوّلین ترجیحات میں شامل تھا۔

'کے جی بی' کا خاتمہ

2 دسمبر 1777ء کو میجر جان اینڈر جو برطانوی فوج کا اہم افسر تھا۔ لیڈیا کے گھر آیا اور اس سے ملاقات کے دوران کہا لیڈیا دارہ! آج ہمیں تمہارے گھر کی بہت ضرورت ہے، کوئی انتہائی اہم اجلاس منعقد کرنا ہے، ازراہ کرم گھر کے اس حصّے کو چھوڑ کر دوسرے کمروں میں منتقل ہوجائیں تاکہ اجلاس میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہوسکے، لیڈیا نے میجر جان اینڈر سے اتفاق کر لیا، بعد ازاں اس نے گھر والوں کو گھر کے دوسرے کمروں میں منتقل کرادیا، تاہم لیڈیا نے اس اجلاس کی کاروائی سننے کا فیصلہ کر لیا تاکہ جنرل جارج واشنگٹن کو برطانوی فوج کے اقدامات سے آگاہ کر سکے، اس رات 8 بجے برطانوی فوجوں کے افسروں کی لیڈیا کے گھر آمد شروع ہوگئی، لیڈیا دارہ نے بڑے تپاک اور گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا۔
1991ء میں کے جی بی کا سربراہ ولادیمیر کریوچکوو (Vladimir Aleksandrovich Kryuchkov) صدر میخائیل گوربا چوو کی قتل کی سازش میں ملوث پایا گیا۔ چنانچہ 23 اگست 1991ء میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس کی جگہ جنرل ویڈم بکٹین (Vadim Viktorovich Bakatin) کو کے جی بی کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا اور اسے کے جی بی کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ذمّہ داری سونپی گئی اور اس طرح کے جی بی کے کردار کی ایک ایسی دنیا میں ضرورت باقی نہ رہی جس میں کوئی سوویت اتّحاد باقی نہیں رہا تھا، چنانچہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد 11 اکتوبر 1991ء میں 'کے جی بی' کو مکمّل کیا۔