018 - تم ساتھ ہو جب میرے از رضوان

"تم ساتھ ہو جب میرے"

"آپ کو پتہ ہے انسان کی جسامت جیسی بھی ہو جو اس کے حقیقی احساسات ہوتے ہیں وہ بہت نازک ہوتے ہیں۔ ظاہری حسن بے شک متاثر کرتا ہے مگر جو باطنی حسن ہے اس کو محسوس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اور اگر ان احساسات کو توڑ دیا جائے تو انسان جتنی مرضی جسامت رکھتا ہے اندر سے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔" بادِصبا بڑی آہستگی سے اپنے شوہر کو سمجھا رہی تھی۔

"تم آج تو بہت فلسفیانہ باتیں کر رہی ہو۔ کہنا کیا چاہتی ہو۔" اس کے شوہر نے درمیان میں ٹوکتے ہوئے جواب دیا۔۔

"وہی جو آپ سننا نہیں چاہتے۔" بادِصبا نے غصیلے لہجے میں جواب دیا۔

"دیکھو بیگم آج چھٹی کا دن ہے ایک تو گرمی اوپر سے لائٹ آف اور اب میرا دماغ خراب مت کرو اور مجھے اخبار پڑھنے دو۔"

"ہاں ہاں اب میں آپ کا دماغ خراب کر رہی ہوں" بادصبا نے اپنے بھاری بھرکم وجود کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جلدی سے کچن سے نکل کر اپنے شوہر کو جواب دیا اور پھر اتنی ہی تیزی سے کچن میں واپس گھس گئی۔

اسے اس طرح آتا اور جاتا دیکھ کر ایک دفعہ تو اس کے شوہر کی ہنسی چھوٹ گئی پھر وہ بولا "احتیاط سے اور آرام سے آؤ موٹو بیگم اگر فرش ٹوٹ گیا تو دوبارہ فرش لگوانے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔"

"ہاں ہاں کر لیں جتنی مرضی باتیں۔" کچن سے روتی ہوئی آواز میں بادِ صبا بولی۔
“آپ کے ان طنز کے تیروں کی وجہ سے تو میں اتنی دُبلی پتلی ہو گئی ہوں مگر آپ کو پھر بھی موٹی ہی لگتی ہوں۔"

مجھے ایک بات بتائیں، "میں موٹی سہی، چھوٹی سہی مگر ہوں تو آپ کی بیوی نا؟"

"ہاں تو میں نے کب انکار کیا ہے اب بڑوں کے فیصلے کو نا مان کر میں ان کی نافرمانی تو نہیں کر سکتا تھا" اس کے شوہر نے ہونٹوں تلے مسکراہٹ دباتے ہوئے جواب دیا۔

"اگر میں آپ کی بیوی ہوں تو مجھے پھر اپنے ساتھ باہر کیوں نہیں لے کر جاتے۔"
"ہر دوسرے دن آپ دوستوں کی دعوت میں اکیلے جاتے ہیں کبھی مجھے لے کر گئے ہیں؟"باد صبا نے اپنے شوہر سے روٹھے ہوئے انداز میں بولا۔

"آہو میری موٹو بیگم کیا بچوں کی طرح روٹھنا شروع کر دیتی ہو۔ اچھا تم پہلے دبلی پتلی ہو جاؤ بالکل "کترینہ کی طرح " ہم ہر جگہ جایا کریں گے جدھر تم بولو گی۔" بادصبا کے شوہر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

"ابھی میں رسک نہیں لے سکتا۔"

"کیسا رسک؟" باد صبا نے کچن سے منہ نکالتے ہوئے پوچھا۔

"تمھیں پتہ تو ہے ہم کہیں سیر سپاٹے نہیں کر سکتے، ابھی تو ہماری سوزوکی مہران کی سائیڈ والی کمانی بھی بہت دب گئی ہے تمھارے وزن کی وجہ سے۔
یہ نہ ہو کہ اس بار تم کو میں باہر لے کر جاؤں اور گاڑی میں بیٹھاؤں تو وہ سرے سے ہی ٹوٹ جائے۔ اور دعوتوں کو تو تم معاف ہی کرو۔" اس کے شوہر نے ایک بڑے قہقہے کے ساتھ جواب دیا۔

"دوستوں کی دعوت میں تو میں تم کو اس لئے نہیں لے کر جاتا کہ مجھے ان کا بھی تو خیال رکھنا پڑتا ہے اب ماشاء اللہ تمھاری خوراک اتنی ہے اور اتنا کھانا ارینج کرنا آج کل کے دور میں کہاں آسان کام ہے۔" بادصبا کے شوہر نے بڑے شوخ اور مزاحیہ انداز میں اپنی بیوی جیسے وہ پیار سے "موٹو بیگم" کہتا تھا ساری وجوہات گنوائی۔

یہ سب سننا ہی تھا کہ کچن میں سے کچھ برتنوں کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی اور پھر "باد صبا" ایک بڑا سرخ چہرہ لئے اس کے سامنے دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو گئی۔

بادصبا کو یوں آتا دیکھ کر اس کا شوہر چپ کر کے دوبارہ اخبار پڑھنا شروع ہو گیا۔ اور ایسا محسوس کرنے لگا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

"کیا میں اتنی بری ہوں کہ آپ مجھے ساتھ لے کر جانا اپنی توہین سمجھتے ہیں؟ کیا میں انسان نہیں ہوں؟ میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ باہر جاؤں گھوموں پھروں۔ "یہ بولتے ہوئے بادصبا کی دونوں آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔

"ارے ارے یہ کیا تم تو سچ میں رو رہی ہو۔" اس کے شوہر نے بڑے سنجیدہ لہجے میں اس کو بولا۔ اس نے بادصبا کو جلدی سے اپنے پاس بٹھایا اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا۔

"بیگم تم سب جانتی ہو کہ میں تم سے مذاق کرتا ہوں۔ اور تم یہ بھی جانتی ہو کہ میری ان باتوں میں کتنا حقیقی پیار چھپا ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی تم سچ میں رونا شروع کر دیتی ہو۔ اب جیسی بھی ہو میری بیوی ہو زندگی کے ہر سفر کی ساتھی،تم کو کس چیز سے ڈر لگتا ہے یہی نا کہ کہیں میں تم کو چھوڑ نہ دوں یا تمھارے اس موٹاپے کی وجہ سے میں کسی اور میں دلچسپی لینا شروع کر دوں گا۔ تم کو لاکھ بار کہا ہے کہ مجھے تم ایسے ہی اچھی لگتی ہو۔ اور مجھے کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ میری "موٹو بیگم" دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہے۔ اگر کوئی میری آنکھ سے دیکھے۔" بادصبا کا شوہر بڑے جذباتی انداز میں اس کو سمجھا رہا تھا۔

یہ سب سن کر بادصبا نے آنسو پوچھتے ہوئے اپنے شوہر کو جواب دیا۔
"میں جانتی ہوں آپ مذاق کرتے ہیں اور آپ کو میرے موٹاپے سے کوئی پرابلم نہیں۔ مگر پھر بھی میں چاہتی ہوں کہ جب آپ کے ساتھ باہر نکلوں تو مجھے لوگ عجیب نظروں سے نہ دیکھیں۔ میری وجہ سے آپ کو کہیں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔
مجھے پتہ ہے آپ صرف میرے لئے کہ کوئی مجھے دیکھ کر ہنسے نا عجیب عجیب باتیں یا کوئی طنز نہ کرے۔ گھمانے نہیں لے کر جاتے، دعوتوں میں نہیں لے جاتے۔"

"اس کا کوئی حل نہیں ہے بولیں میں اس الجھن سے کیسے نکلوں؟" بادصباد رو دینے کے انداز میں بولی۔

"اوہو جل گئی جل گئی ہانڈی جل گئی۔" میں ایک منٹ آئی۔

"افف موٹو بیگم ہفتے بعد آج چھٹی والے دن گھر میں گوشت پک رہا تھا وہ بھی تمھارے اس رونے دھونے کی وجہ سے جل گیا ہے۔" اس کا شوہر غصے میں بولا۔

بادصبا کچن سے واپسی پر مسکراتے ہوئے۔ "نہیں بچ گئی ہے بس تھوڑی سی جلی ہے وہ میں نے باہر نکال دی ہے۔"

"اچھا سنیں پلیز مجھے بتائیں میں کیسے اس مصیبت (موٹاپے) سے نجات پاؤں؟"

"بیگم تم کو بولا ہے کہ تم مجھے ایسے ہی پسند ہو۔ ویسے بھی موٹاپے سے نجات کے لئے تم کو بہت سخت محنت کرنی پڑے گی وہ بھی مسلسل اور تم کرو گی نہیں۔"

"نہیں نہیں میں سب کچھ کروں گی آپ بس مجھے بتائیں کرنا کیا ہے ۔" بادصبا بڑی بے صبری ہو کر بولی۔

"ڈائیٹنگ کر لیں گی۔ دن میں ایک بار کھانا وہ بھی بہت ہلکا کھا لیں گی؟" اس کے شوہر نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔

"ہاں ہاں میں سب کچھ کر لوں گی آپ میرے ساتھ ہو نا؟"
ہمم "اچھا کل جب میں آفس سے آؤں گا تو تمھارے ساتھ اچھے سے سلمنگ سینڑ جاؤں گا۔ پھر دیکھیں گے آگے کیا ہوتا ہے۔"

پھر اگلے دن بادصبا بیگم اور ان کے شوہر شہر کے مشہور سلمنگ سنڑ "کوکک سلمنگ سینڑ" گئے۔

ریسپشن پر بیٹھی بڑی سمارٹ اور پیاری سی لڑکی نے بڑی جاندار مسکراہٹ کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور آنے کی وجہ پوچھی۔

بادصبا کے شوہر نے اس کو بتایا کہ وہ اپنی بیگم کے موٹاپا کے سلسے میں ایڈوائس لینے آئے ہیں۔

لڑکی نے بادصبا کو بڑے غور سے دیکھا اور پھر دوبارہ اس کے شوہر کی طرف متوجہ ہوئی اور بولی کتنا وزن کم کرانا ہے۔

شوہر نے جھٹ بول دیا "بس کترینہ کیف جتنا ہو جائے کافی ہے۔ "

لڑکی پھر حیران ہوئی اور باد صبا سے مخاطب ہو کر بولی آپ کا ابھی کتنا وزن ہے۔

باد صبا نے شرماتے ہوئے بتایا" 455 پونڈ۔"

یہ سن کر لڑکی بڑی دیر اپنی مسکراہٹ روکتی رہی پھر بولی۔ "میڈم کترینہ کیف کا وزن 155 پونڈ ہے اور آپ کا اس سے 300 پونڈ زیادہ اور اتنا وزن کم کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن کام ہے۔ ہم اس سلسے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔"

یہ سن کر دونوں وہاں سے مایوس لوٹ آئے۔
"لو جی اب تو سلم سنڑ والوں نے بھی میرا وزن کم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔" بادصبا نے واپسی میں روتے ہوئے اپنے شوہر کو بولا۔ اس کے شوہر نے کوئی جواب نہیں دیا مگر سارے راستے وہ کچھ سوچے جا رہا تھا گھر پہنچ کر بادصبا کے شوہر نے اس کو بولا۔

"دیکھو موٹو بیگم ٹاسک تو بہت مشکل ہے مگر تم ہمت کرو تو ہم اس کو پورا کر سکتے ہیں۔ جو میں بولوں گا تم کرو گی ۔"

بیگم بادصبا بڑی بے قراری سے اپنے شوہر کی طرف متوجہ ہوئی اور بولی کہ "اللہ کے بندے میں سب کچھ کروں گی بھوکی رہ لوں گی اور جو کچھ بھی کرنا ہوا کر لوں گی بس میں اس موٹاپے سے جان چھڑوانا چاہتی ہوں۔ اچھا سو جاؤ ابھی کل بات کریں گے۔"

اگلے دن جب بادصبا کا شوہر آفس کے لئے تیار ہو رہا تھا تو گھر میں کام والی آئی۔
موٹو بیگم کے شوہر نے مائی کام والی کو بلایا اور کہا۔

"خالہ اب ہم کو گھر کی صفائی ستھرائی کے لئے آپ کی ضرورت نہیں ہے اس لئے آپ آج تک کا حساب لیں اور کل سے آپ کوئی اور گھر ڈھونڈ لیں۔"

بادصبا یہ سن کر حیران رہ گئی اور شوہر کو ٹوکتے ہوئے بولی۔ "اے جی اتنا بڑا تین اسٹوری کا گھر اور اس کی صفائی کون کرے گا اگر خالہ کی چھوٹی کرا دی تو؟"

"بیگم موٹو آج سے تمھاری ڈائٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ اس لئے اب گھر کی صفائی اور سارے کام تم خود کرو گی۔"

بیگم موٹو تلملا کر رہ گئی مگر چپ رہی اب سمارٹ ہونا ایسا تھوڑی تھا کہ بٹن دبایا اور وزن کم ہو گیا۔ اس کے لئے بہت سخت محنت درکار تھی اس لئے اس کو گھر کا سارا کام کرنے کی حامی بھرنی پڑی۔

ابھی یہ ہی ختم نہیں ہوا تھا کہ ناشتہ کی ٹیبل پر "موٹو بیگم" دیسی گھی سے لت پت دو موٹے موٹے پراٹھے ساتھ میں 4 انڈوں کا آملیٹ اور ایک بڑا مگ دودھ پتی کا لا کر بیٹھ گئی۔

اس کا شوہر اپنی کرسی سے اٹھا اور چپ کر کے پراٹھے اور آملیٹ اور دودھ پتی کا مگ پکڑا اور کچن میں لے گیا۔ اور کچن سے دو رس اور چھوٹا کپ وہ بھی آدھا سلیمانی چائے کا بنا کر لایا اور بیگم کے سامنے رکھ دیا۔

بیگم کافی دیر اس ناشتے کو گھورتی رہی اور پھر بولی "یہ کیا ہے؟"

"ناشتہ۔ موٹو بیگم آج سے یہ آپ کا ناشتہ ہے۔" اس کے شوہر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

"کیاااااا یہ دو سوکھے سڑے رس اور دودھ کے بغیر خالی چائے! وہ بھی آدھا کپ میں کیسے پیوں گی؟"

"چلو پھر ٹھیک ہے تم نہ کھاؤ اگر تم ایسے ہی موٹی رہنا چاہتی ہو تو رہو مگر خبردار اگر دوبارہ میرے سامنے یہ بولا کہ تم نے اسمارٹ ہونا ہے یا تم نے میرے سامنے مگرمچھ کے آنسو بہائے۔ دراصل تم خود ہی نہیں چاہتی کہ تم اسمارٹ ہو۔ " بادصبا کا شوہر اس کو امیوشنلی بلیک میل کر رہا تھا۔

یہ سب سننا ہی تھا کہ بادصبا جھٹ بولی، "نہیں نہیں میں آج سے یہی ناشتہ کروں گی۔ مجھے اسمارٹ ہونا ہے بس ہر حالت میں۔"

"گڈ۔" موٹو بیگم کے شوہر نے مسکراہتے ہوئے جواب دیا۔

ناشتے کا مرحلہ ختم ہوا اور بادصبا کا شوہر آفس نکلنے سے پہلے مڑا اور اس کو بولا "موٹو بیگم" آپ لنچ نہیں کریں گی۔ جب میں آفس سے لوٹوں گا۔ تو پھر مغرب کی نماز کے بعد کھانا اکھٹا کھائیں گے۔
اور رات کو میں جب آؤں گا پھر تم کھانا بنانا پہلے سے تیار کرنے کی ضرورت نہیں۔
تم سن رہی ہو نا میں نے کیا بولا۔ اگر لنچ کیا تو اس کا مطلب ہو گا تم سمارٹ ہونے میں مخلص نہیں ہو اور تم اس پرامس کو بھی توڑ دو گی کہ، میری ہر بات مانو گی۔"

موٹو بیگم کے پاس تو کچھ بولنے کے لئے الفاظ ہی نہیں تھے اس لئے بچاری نے سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔

شوہر کے جانے کے بعد موٹو بیگم نے پورے گھر کی صفائی کی پہلی منزل سے لے کر تیسری منزل تک پسینے سے شرابور اور سانس پھولی ہوئی آج اس کو پتہ چلا کہ صفائی کرنا کوئی آسان کام نہیں۔

بہت تھک گئی تھی اس کا دل کر رہا تھا کہ کچھ کھا پی کر اپنی تھکن دور کر لے اور ریفریش ہو جائے مگر وہ اپنی پرامس کے ہاتھوں مجبور تھی اور اس نے چپ کر کے صرف پانی ہی پیا اور صبر کیا۔

دوپہر کو جہاں موٹو بیگم "رج کے" فل لنچ کرنے کی عادی تھی آج اس کو بھوکے رہنا تھا۔ "اففف وقت نہیں کٹ رہا، وہ کب آئیں گے !" موٹو بیگم بار بار نظریں گھڑی کی طرف دوڑاتی۔

آخر موٹو بیگم پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو ہی گی اور جب بھوک برداشت نہ ہوئی تو وہ فریج میں سے پھل اٹھا لائی اور منٹوں میں تین سیب اور چار کیلے چٹ پٹ کر گئی۔

اور خود ہی تسلیاں دینے لگی اپنے آپ کو کہ "مجھے تو میاں نے لنچ کرنے سے منع کیا تھا۔ یہ تو میں نے فروٹس کھائے ہیں لنچ تھوڑی کیا ہے۔"

اللہ اللہ کر کے وہ وقت جب اس کے میاں گھر میں داخل ہوئے۔ بادصبا نے بڑی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے شوہر کا استقبال کیا۔

شوہر نے پہلے گھر کو دیکھا بڑا صاف ستھرا لگ رہا تھا۔ مطلب بیگم نے آخر اپنے ہاتھوں سے کام کرنا شروع کر ہی دیا۔

موٹو بیگم سے آج کے دن کے بارے میں پوچھا کہ کیسا گزرا ، جس کا جواب موٹو بیگم نے دل پر پتھر رکھ کر دیا کہ "بہت اچھا۔"

پھر موٹو بیگم کے شوہر نے کچن کا رخ کیا، فریج کھولی کچھ دیر دیکھتا رہا اور واپس آ کر بیگم کو بولا "تم نے لنچ کیا؟ "

موٹو بیگم نے جلدی سے بولا "نہیں۔"

"تو پھر فریج میں سے تین سیب اور چار کیلے کیوں غائب ہیں؟ میں صبح خود گن کر گیا تھا۔"

"موٹو بیگم" یہ سن کر حیران رہ گئی کہ اس کا شوہر اس حد تک چالاک ہے کہ فریج میں پڑے سیب اور کیلے بھی گن کر گیا ہے۔ اور اپنی شرمندگی چھپانے کے لئے بولی وہ لنچ تھوڑی تھا وہ تو میں نے ویسے ہی کھائے تھے۔

"ہمم اس کا مطلب کل سے مجھے فریج کو تالا لگا کر آفس جانا پڑے گا۔ رہنے دو تم ایسے ہی ٹھیک ہو تمھارا کترینہ بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔"

موٹو بیگم کا شوہر اس کو جھڑک رہا تھا۔ مگر وہ چپ تھی۔

چپ رہنے کے سوا وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ آج پہلا دن تھا ڈائیٹنگ کا اور اس نے پہلے ہی دن اپنے شوہر سے کیا ہوا وعدہ توڑ دیا۔

جب بادصبا کا شوہر خاموش ہوا تو وہ آہستہ سے بولی "اب آپ کو دوبارہ شکایت نہیں ملے گی میری طرف سے۔"

"ٹھیک ہے موٹو بیگم دیکھتے ہیں آپ کب تک اپنی بات پر قائم رہتی ہیں۔ چلو کچن ڈنر بنائیں۔" باد صبا کے شوہر نے اس کو بتایا کہ جو وہ بولے گا اور جیسے وہ بولے گا آج سے کھانا ویسے ہی تیار ہو گا۔۔

پھر کھانا بنایا گیا مگر آج سب کچھ بدلا ہوا تھا ابلی ہوئی مسور کی دال جس میں گھی نام کی کوئی چیز نہیں تھی بس ہلکی سی سرخ مرچ ڈال کے پکائی گی۔

موٹو بیگم دل میں خون کے آنسو رو رہی تھی کہ کیوں اس کے منہ سے سمارٹ ہونے کا لفظ نکلا۔ مگر وہ بچاری چپ کر کے کھانا تیار کر رہی تھی اور یہی اس کو کھانا تھا۔

دن بھر کے انتظار کے بعد روٹی کھانی نصیب ہو رہی تھی اور وہ بھی پتلی مسور کی دال کے ساتھ کیسے کھائے گی وہ، بار بار سوچے جا رہی تھی۔

مگر پھر اسکو وہی کھانا صبر کر کے کھانا ہی پڑا ایک چھوٹی سی روٹی اور وہی بدمزہ مسور کی دال۔

رات کو سونے سے پہلے موٹو بیگم اپنے شوہر سے بولی "اجی یہ بتائیں آج کی ڈائیٹنگ سے میرا کتنے پونڈ وزن کم ہو گیا ہوگا؟"

اس کا شوہر بے اختیار مسکرا اٹھا اور بولا، "چربی کے اس پہاڑ سے اتنی جلدی چربی نہیں پگلے گی۔ ابھی تو اس میں حرکت بھی نہیں ہوئی "موٹو بیگم" کترینہ بننا اتنا آسان کام نہیں ابھی تو امتحان اور بھی ہیں۔ اگر تم میری باتوں پر عمل کرتی رہی اور جیسا میں بولوں گا ویسا کرتی رہی تو وہ دن ضرور آئے گا جب تم سچ میں اتنی سمارٹ ہو جاؤ گی کہ لوگ تم کو دیکھ کر حیران ہو جائیں گے۔"

بادصبا یہ سن کر سامنے دیوار میں ٹک ٹکی باندھے دیکھنا شروع ہو گئی۔ شاید اپنے آپ کو مستقبل میں سمارٹ ہوتا دیکھ رہی تھی اور ‘56 کی ویسٹ کو 29 یا 30 تک ہوتا سوچ کر مسکرائے جا رہی تھی۔

اس کا شوہر کافی دیر اس کو مسکراتے دیکھتا رہا پھر اس کو زور سے ہلاتے ہوئے بولا "موٹو بیگم واپس لوٹ آؤ جدھر تم خیالوں میں پہنچی ہوئی ہو وہاں تک حقیقت میں پہنچنے کا لمبا اور مشکل سفر ابھی باقی ہے۔"

"اجی کیا سچ میں ایسا ممکن ہو گا۔ میں واقعی اتنی سمارٹ ہو جاؤں گی؟"

"ہاں۔ بس اب سو جاؤ، اگر رات کو دیر تک جاگیں تو بھی انسان موٹاپے کا شکار ہو سکتا ہے۔" بادصبا کے شوہر نے مسکراتے ہوئے اس کو مذاق کیا جس کو وہ سچ سمجھ کر زور سے آنکھیں بند کر کے سو گئی جیسے اب اگر دوبارہ اس نے آنکھیں کھولی تو وہ کہیں اور موٹی نہ ہو جائے۔

پھر اگلا دن آیا "بادصبا" نے نہایت ایمانداری کے ساتھ اپنے شوہر کی باتوں پر عمل کیا، صبح وہی سوکھے رس اور دودھ کے بغیر چائے، پھر گھر کی صفائی اور پھر سارا دن بغیر لنچ کے گزارا بڑی مشکل سے دن گزرا مگر شاید مستقبل میں سمارٹ ہونے کے نشہ میں وہ سب کچھ برداشت کر گئی۔

آج جب "بادصبا" کا شوہر گھر میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں دو چیزیں تھیں "ایک بند ڈبے میں" اور "دوسری لکڑی سے بنا ہو چھوٹا سا بیٹ جس سے کرکٹ کھلیتے ہیں۔"

"یہ کیا ہے؟" بادصبا نے اپنے شوہر سے پوچھا۔

" تمھاری ڈائٹنگ کے سلسے میں کچھ چیزیں لایا ہوں یہ گتے کے ڈبے میں بند ویٹ مشین ہے جس سے تم ہر ہفتے اپنا وزن چیک کیا کرو گی اور مجھے بتاؤ گی۔" شوہر نے جواب دیا۔
"اور یہ دوسری ہینڈ واشنگ مشین ہے۔" بادصبا کے شوہر نے اپنے منہ سے نکلتے ہوئے بے اختیار قہقہے کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے جواب دیا۔

"ہینڈ واشنگ مشین؟" موٹو بیگم نے حیرانگی سے پوچھا۔

"ہاں" اس کے شوہر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ویسے اس کو پنجابی میں "تھاپا" بولتے ہیں اس سے کپڑے دھوئے جاتے ہیں اور اس سے کیسے کپڑے دھوتے ہیں وہ میں تم کو سمجھا دوں گا۔

"تم اب آٹومیٹک لانڈری بند کر دو، اور آج سے گھر میں کپڑے اس ہینڈ واشنگ مشین سے دھوئے جائیں گے۔ اور یہ کام میری جان سے پیاری اور دلاری موٹو بیگم کریں گی۔ بس یہی نہیں وہ کپڑے بھی اپنے ہاتھوں سے نچوڑیں گی۔ پھر ان کو سکھانے کے لئے 70 سیڑھیاں چڑھ کر تیسری منزل پر جائیں گی اور پھر واپس آئیں گی۔ اور میری پیاری "موٹو بیگم" ایک ساتھ سارے کپڑے نہیں لے کر جائیں گی بلکہ ایک ایک کر کے دھوئیں گی اور پھر نچوڑیں گی اور پھر تیسری منزل پر پھیلا کر آئیں گی۔ مطلب اگر میری دس شرٹس دھوئیں گی اپنے ہتھوڑے جیسے نازک ہاتھوں سے تو دس دفعہ ہی تیسری منزل پر جائیں گی ان کو سکھانے۔ یہ ورزش بہت ضروری ہے تمھارے موٹاپے کے لئے اور اس کو کئے بغیر ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔" بادصبا کے شوہر نے بڑے پیار سے اس کو سمجھایا۔

"کییییییییییا ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ نہیں تم اتنے ظالم کب سے ہو گئے "بادصبا چلا اٹھی۔ "تم مجھ پر ظلم کر رہے ہو ایسا کیسے ممکن ہے یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ تم مجھے سمارٹ نہیں کر رہے بلکہ مجھ سے کوئی پرانا بدلہ لے رہے ہو، تم ظالم ہو، تم ظالم ہو۔ بادصبا باقاعدہ ہچکیاں باندھ کر رونا شروع ہو گئی۔"

مگر پھر بھی اس کا شوہر پیار سے سمجھتا رہا۔ اور بتاتا رہا کہ بس کچھ دن یہ سب کام اس کو مشکل لگے گا مگر پھر آہستہ آہستہ وہ اس کی عادی ہو جائے گی۔ اور پھر سب کچھ ٹھیک ہوتا جائے گا۔

"اگر مجھ کو لگے گا کہ تم سے یہ سب کچھ نہ ہو رہا تو ہم پھر سب کچھ چھوڑ دیں گے۔ تم سمجھ رہی ہو نا ؟ میں جو بھی کر رہا ہوں صرف تمہارے لئے ہی کر رہا ہوں۔"

موٹو بیگم نے پھر دوبارہ سے اپنے اندر ہمت پیدا کی اور سب کچھ کرنے کا وعدہ کیا۔
پھر وقت گزرتا گیا۔ موٹو بیگم بڑی مشکلوں سے ہر وہ کام کرتی گئی جو اس کا شوہر بولتا تھا۔ کھانا بھی کم کر دیا، ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتی، اپنے ہاتھوں سے کپڑے دھوتی پھر اتنی سڑھیاں چڑھ کر چھت پر جاتی۔ صبح صبح اپنے شوہر کے ساتھ باغ کے سات چکر لگاتی ۔ بالآخر ان کی محنت رنگ لائی اور پورے سال کے بعد موٹو بیگم کے وجود میں تبدیلی آنی شروع ہو گئی اس چربی کے پہاڑ نے پگھلنا شروع کردیا۔

اور جب ایک دفعہ پہاڑ پگھلنا شروع ہوا تو وہ پگھلتا ہی گیا۔ بادصبا کے سارے کپڑے اس کو ڈھیلے پڑنے شروع ہو گئے۔ گھر کے سارے کام بھی وہ خود سے کرنا اس کی روٹین بن گیا اور وہ ان کو خوشی خوشی سر انجام دیتی۔

"بادصبا" کی سہیلوں نے، رشتے داروں نے اس میں ایک واضح تبدیلی دیکھی اب وہ پہلے جیسی موٹو بیگم نہیں رہی تھی۔ اور ہر کوئی اس کے اس دبلے پن کی وجہ پوچھتے۔ وہ مُسکرا کر خاموش ہو جاتی۔ اب وہ ان کو کیا بتاتی کہ یہ ساری تبدیلی اس کے شوہر کی کوششوں کی وجہ سے آئی ہے۔

بادصبا اب "موٹو بیگم " نہیں رہی تھی۔

اب بھی اس کا شوہر اکثر اس کو اسی طرح تنگ کرتا۔۔ وہ بولتا "بیگم تم فلم اسٹار کترینہ جیسی اسمارٹ تو نہیں ہوئی۔" پھر ایک جاندار قہقہے کے ساتھ بولتا "ہاں فلم اسٹار انجمن جیسی اسمارٹ ضرور ہو گئی ہو اور میرے لئے یہ بھی بہت کافی ہے۔

یہ سن کر "بادصبا" غصے سے لال پیلی ہوتی مگر دل ہی دل میں بہت خوش ہوتی اور سوچتی یہ سب تبدیلی واقعی اس کے شوہر ہی کی بدولت تھی جس نے اس کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ وہ اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی کہ اس کو ایسا مخلص پیار کرنے والا شوہر ملا تھا۔

یہ سچ ہے کہ اگر بیوی کے ساتھ شوہر کی سپورٹ ہو تو وہ بڑے سے بڑا کام بھی کر گزرتی ہے۔ جیسا "بادصبا" نے کیا۔ اللہ تعالٰی سب "موٹیوں" کو بادصبا جیسا شوہر نصیب کرے۔ (آمین)

ختم شد