001 - عرض حال

عرض حال

السلام علیکم، قارئین ون اردو
خزاں کا موسم، تیز چلتی ہوائیں،ٹنڈ منڈ درخت، زرد پتوں کی ہر آہٹ کہتی ہے کہ وہ ابھی ابھی اپنی زندگی سے جدا ہوئے ہیں۔ کیا یہ جدائی ہے یا زندگی کی تبدیل شدہ ماہیت؟ ایک چوتھائی ملک سیل آب کی نظر ہو چکا ہے۔ کئی زندگیاں شجرزیست سے زرد پتوں کی مانند ساتھ چھوڑ چکی ہیں۔ کیا زندگی کے بخت سوچکے ہیں؟ مگر شاید ہماری قوم کے لیے اقبال نے کہا تھا:

’’ایک قوم یا فرد کو حالات کی نامساعدت اور بخت کی نارسائی سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بے سرو سامانی‘ افلاس اور فقر سے بھی انسان بے انتہا فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ ایک مفلس آدمی جس کے پاس چھن جانے کیلئے کچھ نہیں جسے کسی مال و متاع کی محبت اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی حق و صداقت کی حمایت میں دلیری اور جرأت دکھا سکتا ہے‘‘۔ (1937ءص 17

حکمرانوں کی بےحسی سے قطع نظر مایوسی کی دھند میں بھی ہمارے بلند ہمت جگنو اپنی ضیاء بکھیر رہے ہیں۔ ان پُرخلوص ہم وطنوں کا جذبہ قابل ستائش و قابل رشک ہے۔سب کو سلام، ساتھ ہی عید قرباں دستک دے رہی ہے فلسفہ ابراہیمی کی عرضداشت لیے، ہمارے ہم وطنوں کو ہماری ضرورت ہے۔ ان کی ضرورتوں کو یاد رکھنا فرض عین ہے۔

رات اور دن کی گردش یہ امید دیتی ہے کہ برے سے برے حالات کی تبدیلی بھی ممکن ہے۔
اپنا بہت سارا خیال رکھیے گا۔
مدیرہ اعلٰی: مونا سید