003 - حمد از فرید ندوی

حمدِ باری تعالٰی

یہ جو کائنات میں ہر طرف کہیں رنگ ہے کہیں نور ہے
یہ ہیں سب تری ہی تجلیاں ، ترے نور ہی کا ظہور ہے

تجھے دل کی آنکھوں سے ڈھونڈوں تو رگِ جاں سے بھی ہے قریب تر
جو نگاہِ سر سے پتہ کروں تو حدِ نگاہ سے دور ہے

ہے جہاں کے واسطے یہ خبر ، پہ کلیم کیلئے ہے نظر
"ترا جلوہ بر سرِ طور ہے ، ترا نور کیف و سرور ہے"

نہ کسی کی یاد میں وہ سکوں ، نہ کسی خیال میں وہ فسوں
ترے ذکر سے ، ترے فکر سے ، مرے دل میں جیسا سرور ہے

یہ اسی کریم کا ہے کرم ، کہ تمام نعمتیں ہیں بہم
بھلا ہم سے شکر ہو کیا رقم ، کہ وہ خود حلیم و شکور ہے

مری حمد کیا ، مری نعت کیا ، مرے فکر و فن ، مرا شعر کیا
ہے عطائے خاص محض تری ، مجھے کچھ جو فن پہ عبور ہے

میں فرید ربّ کریم کی جو ثنا لکھوں بھی تو کیا لکھوں
میں سراپا ظلمت و جہل ہوں ، وہ سراپا علم ہے نور ہے