001 - ایک آیت و حدیث: سمارا

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُواْ بِاللّهِ وَاعْتَصَمُواْ بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا (سورہ نساء:175)

"ترجمہ:- جو لوگ اللہ تعالٰی پر ایمان لائے اور اچھی طرح اللہ تعالٰی سے تعلق پیدا کرلیا تو اللہ تعالٰی عنقریب ایسے لوگوں کو اپنی رحمت اور فضل میں داخل کریں گے اور انہیں اپنے تک پہنچنے کا سیدھا راستہ دکھائیں گے۔(جہاں انہیں رہنمائی کی ضرورت پیش آئے گی ان کی دستگیری فرمائیں گے۔)"

احادیث ::--
"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم نے یوم عاشورہ میں روزے رکھنا اپنا معمول بنا لیا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا تو بعض اصحاب نے عرض کیا "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اس دن کو یہود و نصارٰی بڑے دن کی حیثیت سے مناتے ہیں۔(اور خاص اس دن ہمارے روزہ رکھنے سے ان کے ساتھ اشتراک و تشابہ والی بات باقی نہ رہے؟)تو آپ صلی اللہ علیہ و سلّم نے ارشاد فرمایا کہ ان شاء اللہ تعالٰی جب اگلا سال آئے گا تو ہم نویں کو روزہ رکھیں گے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ لیکن اگلے سال کا ماہ محرم آنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کی وفات ہوگئی۔" (صحیح مسلم۔معارف الحدیث)