002 - حمد از فرید ندوی

حمد باری تعالیٰ

ہے غنی وہ زمان و مکاں سے
اس کی قدرت ہے ارفع بیاں سے

وہ شہِ رگ سے اقرب ہے ، لیکن
دور ہے سب کے وہم و گماں سے

اس کے احکام پر چل کے دیکھو
رزق برسائے گا آسماں سے

کس نے پھولوں سے اس کو سجایا ؟
پوچھ لو راز یہ گلستاں سے

مومنوں کی طرف روزِ محشر
حوریں لپکیں گی باغِ جناں سے

ہے عیاں جلوۂ ذاتِ باری
بحر و بر ، خشک و تر ، آسماں سے

کیوں درِ غیر سے ہوں امیدیں؟
کون بڑھ کر ہے اس مہرباں سے ؟

گر ہو اک بار اذنِ حرم ، تو
میں ابھی چل پڑوں گا یہاں سے

بس گئی دل میں جب یاد اس کی
پھر نہ نکلی وہ دل کے مکاں سے

عرش پر جلوہ فرما ہے ، لیکن
ہے وہ آزاد قید مکاں سے

آ رہی ہیں مسلسل صدائیں
ذکرِ خالق کی موجِ رواں سے

لب پہ میرے ہو بس نام اس کا
جب بھی جاؤں میں اس خاکداں سے

کیسا ہوگا وہ منظر !!! نہ پوچھو
جب حجاب اٹھّے گا درمیاں سے