004 - تبصرہ: کائنات

انتظار ختم اور ون اردو کا تازہ شمارہ ایک بار پھر میری آنکھوں کے سامنے، جسے دیکھتے ہی فوراً دل سے یہ دعا بھی نکلی کہ خدا وہ دن بھی جلد دکھلائے. جب اس کی ہارڈ کاپی بھی میرے ہاتھوں میں ہو اور میں چھو کر اسے۔۔۔فیشن میگ، خواتین ڈائجسٹ اور شعاع کی طرح محسوس کر سکوں اور ملائمت سے اس کے سرورق پر ہاتھ پھیر سکوں اور اپنی سائیٹ کے اس کارنامے کو اک خوشبو کی طرح سونگھ سکوں۔

فیض احمد فیض کے زبردست اشعار اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی تصویر نے سرورق کو خوب نمایاں کیا۔ مجھے شمارہ پڑھنے کی اتنی جلدی نہیں ہوتی جتنی اس کے آنے اور دیکھنے کی۔ اس لیے سب سے پہلے میگزین کے سیاق و سباق پر نظر کی اور لکھنے والوں کو جاننے کی کوشش کی۔ کہ کس کس نے طبع آزمائی کی ہے۔

کچھ لکھنے والے تو اب مدیر اعلٰی اور منتظم کی طرح پکے اپنی پوسٹ پر محسوس ہوئے۔ جو قسط وار سلسلوں کے ذریعے ہر ماہ انٹری دیتے ہیں۔ مگر جب چند ایک نئے نام بھی پڑھتی ہوں تو بہت اچھا لگتا ہے کہ دن بدن میگ کو نکھارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جو ایک خوش آئند بات ہے۔ اور ابھی تک یکسانیت بالکل محسوس نہیں ہوئی۔

لکھنے والوں اور ڈیزائننگ ٹیم کی خوبصورت کاوش کو سراہ کر پڑھنے کا کام میں نے آپستہ آہستہ بعد میں کیا۔
پر حسب عادت سب سے پہلے اپنی پسند کے سیکشن میں ہی جاتی رہی۔ اردو ادب، سفرنامہ، انٹرٹینمنٹ، ون اردو نمائندہ خصوصی، اور لیڈیز سیکشن اور شمارے کے خاص مضامین میری توجہ کا مرکز رہے۔

سب سے پہلے تو میں نے فریدون بھیا کا شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے تحریر۔۔۔ رب کا شکر ادا کر بھائی، لکھ کر ہمیں یاددہانی کرائی کہ روزانہ ہماری صبح کا آغاز ایک گرم چائے کا کپ یا ایک گلاس دودھ ہمیں ان کی بھینس رانی کی بدولت مل پاتا ہے۔ سو پھر میں نے دوبارہ رب کا شکر ادا کیا اور گائے اور بھینس کی بھی مشکور ہوئی۔ اس شمارے میں مجھے دوسری رانی رمیصہ کی تحریر۔۔۔ رانی جنگل میں رہتی ہے۔۔۔ میں نظر آئی۔ جبکہ پہلی رانی گاؤں میں رہتی تھی۔ پھر مجھے تیسری رانی بھی نظر آئی جو کہ لاہور شہر کی فلمی صنعت میں رہتی تھی۔ جی ہاں دلپسند بھائی کے انٹرٹینمنٹ سیکشن میں۔ پر یہ بڑی گلیمرس اور فلمی رانی تھی۔
مجھے تو لگا کہ یہ شمارہ۔۔۔۔۔ رانی نمبر ہے۔

ویسے دلپسند بھائی کا بہت شکریہ ادا کر دوں کہ انھوں نے اداکارہ رانی پر اتنا اچھا اور معلوماتی آرٹیکل دیا۔ جیسے انڈین فلم انڈسڑی میں بیوٹی کوئن کا ٹائیٹل اداکارہ مدھو بالا کو ملا۔ تو پاکستان فلم انڈسٹری میں اداکارہ زیبا کو یہ خطاب ملا۔ وہ بھی خوبصورت ہیں پر مجھے پاکستان کی فلم انڈسٹری میں ہمیشہ اداکارہ رانی حقیقتاً خوبصورت لگی۔ حالانکہ میں نے ان کی زیادہ فلمیں بھی نہیں دیکھی مگر دیور بھابھی، انجمن، تہذیب انکی یادگار فلمیں ہیں۔ کئی سال پہلے پاکستان، لاہور میں مجھے اپنے کچھ دور کے رشتے داروں کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا، جو ایک نئے گھر میں شفٹ ہوئے تھے۔ کوٹھی اچھی اور خوبصورت تھی۔ بڑے اچھے طریقے سے ڈیکوریٹ کی گئی تھی۔ باتوں کے دوران مجھ سے رہا ہی نہ گیا اور میں نے ان کے گھر اور اس کی خوبصورتی کی تعریف بھی کر دی۔ تب وہ محترمہ مسکرائی اور مجھے بتانے لگی کہ پہلے یہاں اس گھر میں اداکارہ رانی رہتی تھی۔ آپ یقین جانیں پھر میں جتنی دیر اس گھر میں رہی۔ مجھے وہاں اداکارہ رانی ہی محسوس ہوتی رہی۔ کبھی لگتا وہ ابھی شوٹنگ سے آئی ہے اس نے گیٹ کے باہر اپنی گاڑی کا ہارن دیا ہے اور اے لو اب وہ اپنے ڈرائنگ روم میں داخل ہو رہی ہے۔ اور اس نے اپنا پرس لاپروائی سے صوفے پر پھینک دیا ہے۔ اور اپنے دونوں پاؤں صوفے پر رکھ کر بیٹھ گئی ہے یہ کہتے ہوئے کہ آج تو بڑا سخت دن تھا۔ سارا دن شوٹنگ چلتی رہی۔ میں تو تھک کر چور ہو گئی ہوں۔ کبھی وہ مجھے اپنے نائٹ گاؤن میں اپنی خوابگاہ سے نکلتی محسوس ہوتی اور کبھی چائے کا کپ تھامے کچن سے نکلتی ہوئی۔ اور کبھی کالا چشمہ لگائے دھوپ سینکتی ہوئی۔ بہر حال یہ دن کا سپنا ان کے گھر سے باہر آتے ہی پھر ختم ہو گیا۔

اس ماہ کے شاعر میں اقبال کی شاعری دیکھ کر میں نے بہت خوشی محسوس کی۔ میرے والد صاحب کے پسندیدہ شاعر، جن کے اشعار اور غزلیں بچپن میں ہی مجھے سننے کو مل گئیں۔ جیسے غازی یہ تیرے پراسرار بندے،
؂ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں،

؂پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

پر انکا مطلب جاننے کے لیے پھر مجھے بڑا ہونا پڑا۔
مزاحیہ مضامین سب سے پہلے میری توجہ کھینچتے ہیں۔ لیکن اب مزاحیہ شاعری کرنے والے بھی کم نہیں۔ پچھلے شمارے میں ڈائٹنگ نے سماں باندھا، تو اب کی بار کھٹمل نے بان کی چارپائی یاد کرا دی۔ جو کہ اب شہروں میں ذرا ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ بڑا اچھا لگا کہ شاعروں کے معاملے میں اب میگ خود کفیل ہے۔ بلکہ اب شاعر حضرات مجھے فورم پر کم اور میگ میں جا بجا نظر آتے ہیں۔

کسی مشہور ہستی کے انٹرویو کی کمی مجھے محسوس ہوئی۔ اس لیے ہر بار کسی مصنف، شاعر یا کسی اور بڑی شخصیت کا انٹرویو اگر ہو جائے تو کیا ہی بات ہے۔ کچن میں اس بار بھی اچھے کھانے بنے اور سائنس سیکشن میں سمارا کی تحریر دیکھ کر انگلی دانتوں میں دبا لی۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی باقی انگلیاں بھی چبا ڈالوں اب مجھے گھر کے کچن کا رخ کر لینے دیجیے۔ ہاں پر جاتے جاتے اک بات کہہ جاؤں اگلے شمارے میں بھی مزے مزے کے کھانے پکائیے گا۔ پزا شیزا ہو جائے یا پھر ساگ اور مکئی کی روٹی، ویسے تو سردی کی آمد ہے حلوے مانڈے بھی چلیں گے اور ساتھ گلابی چائے ہو جائے۔ ایک آدھ انٹرویو، اور کسی سچ مچ کی رائیٹر کا ناول یا تحریر جیسے عمیرہ احمد، رفعت سراج، رضیہ بٹ، یا جو ناول آپ ہمیں زبردستی پڑھانا چاہیں وہ بھی چلے گا۔ جیسے کسی انگلش ناول کا ترجمہ، یا شکاری، انکا، یا بانو قدسیہ کا راجہ گدھ، شہاب نامہ۔۔۔۔ ارے واہ کسی بڑے رائیٹر کا سفر نامہ۔۔۔۔ کیوں نہیں شروع کر لیتے۔ وہ اپنے ہیں نا مستنصر حسین تارڑ، ان کا ہی کوئی سفر نامہ اٹھا لیجیے، اتنی تو خاک چھانی ہے انھوں نے پہاڑوں میں۔
اب اجازت چاہوں گی۔ اس دعا کے ساتھ کہ ون اردو کا شمارہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو آ جایا کرے۔

اتنے تفصیلی تبصرے پہ بہت شکریہ و نوازش۔ ایسے تبصروں کے بعد میگزین کی تمام ٹیم اور سب قارئین میں جوش و جذبے کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے۔
آپ کی تمام تجاویز بہت مناسب ہیں اور ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اچھے سلسلے میگزین میں شامل کیا کریں، تاہم اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ تحاریر کے لئے ہم ون اردو کے ممبران کی جانب سے ہی کنٹری بیوشن کے منتظر ہوتے ہیں۔ اس لئے اس کو کسی حد تک مجبوری کا شاخسانہ سمجھ لیں۔ لیکن امید ہے کہ آپ کے تبصرے کو پڑھ کر بہت سے ممبران کو نئے آئیڈیاز ملیں گے۔