001 - حج پر ایک نظر تحریر" رفعت

حج کیا ہے۔

حج اسلام کا پانچوان رکن ہے۔
حج کا مطلب کیا ہے، کیسے کیا جاتا ہے۔
حج کہ جس کے ظاہر سے عجز و مسکنت کا تقدّس ٹپکتا ہے اور روح قربانی اور ایثار سے معمور رہتی ہے۔ حاجی، عالم ہو یا کوئی عام انسان۔ حاکم ہو یا رعایا، عربی ہو یا عجمی، امیر ہو یا غریب یکساں طور پر اللہ کا مہمان اور اس کی نظرِ کرم کا مستحق ہوتا ہے۔ سب کا ایک ہی لباس اور سب کی زبان پر ایک ہی کلمہ۔
پُرجوش اور پُر اثر۔
لبیك اللھم لبیك، لبیك لاشریك لك لبیك، ان الحمد والنعمة لك والملك لا شریك لك۔
"حاضر ہیں، اے اللہ حاضر ہیں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہیں، بے شک ساری تعریفیں اور نعمتیں تیرے لئے ہیں اور ساری بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔"

حاجی اللہ کی وحدانیت کا اقرار بلند آواز سے کرتے ہیں۔
حاجی اولاد، مال، تجارت۔ وطن سب کچھ چھوڑ کر توحید کے نشے میں مست ہو کر اللہ کے گھر کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔ جہاں اس کے لاکھوں مسلمان بہن بھائی دنیا کے کونے کونے سے آ کر صحنِ کعبہ میں اس کی رحمت کے منتظر ہوتے ہیں۔ ایسے جیسے دنیا ایک محلّے میں سمٹ گئی ہو۔ طرح طرح کے لوگ، طرح طرح کی زبانیں۔ مقصد سب کا ایک۔ اس کی خوشنودی اور اس کی رضا۔ سامنے اللہ کا گھر ہیبت و جلال کے ساتھ کھڑا ہے۔
کوئی عقیدت و احترام کے ساتھ اس کے گرد چکر لگا رہا ہے، کوئی سجدہ میں ہے، کوئی رکوع میں۔ کوئی دیر سے ملتزم سے چمٹا ہوا کھڑا ہے۔ آنکھیں بہہ رہی ہیں۔ ہونٹ کانپ رہے ہیں۔ بے زبانی، زبان بن گئی ہے۔ کوئی حجرِ اسود کے بوسے لے رہا ہے۔ کوئی مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کر رہا ہے۔ کوئی آبِ زمزم سے آسودگی حاصل کر رہا ہے۔ صفا مروہ کی دوڑ لگائی جا رہی ہے۔ دُعائیں، مناجات، اذکار، تسبیحات، تلاوت، استغفار۔ سارا صحنِ کعبہ جیسے اللہ کے بندوں کی فریادوں سے، ان کی دعاؤں سے بھر گیا ہو۔
پھر منٰی کی طرف کوچ۔ عرفات کا وقوف، مزدلفہ کی دعائیں۔ شیطانِ مردود کی رمی، راہ الٰہی میں قربانی پیش کرنا، اطاعت و عبادت کا تسلسل، مغفرت کی بشارت، رحمتوں کا امنڈتا ہوا سیلاب۔ کئی گنہگار بخشے گئے، توبہ قبول کی گئی، معصوم بچوں کی طرح دھلے دھلائے صاف ستھرے، حج مبرور کی سعادت لئے خوشی خوشی اپنے گھر واپس آئے۔۔

یہ ہے حج۔
اہل دل کی عید۔
اہل علم کی تربیت گاہ جو عبادت بھی ہے۔ تعلیم بھی ہے۔ تبلیغ بھی ہے، زیارت بھی، محبت بھی تعارف اور ملاقات کا ذریعہ بھی ہے۔

حج کی فرضیت اور احکام

وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ ﴿٩٧﴾

اور اللہ کی رضا کے لئے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض ہے جو وہاں جانے کی استطاعت رکھتے ہو اور جو انکار کرے اللہ سارے عالم سے بے نیاز ہے۔۔

اسی طرح صحیحین کی ایک حدیث ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔
اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
نماز قائم کرنا۔
زکوٰۃ ادا کرنا۔
رمضان کے روزے رکھنا۔
بیت اللہ کا حج کرنا۔

حج نو ہجری میں فرض ہوا تھا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر الحجاج بنا کر بھیجا تھا اور ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا تھا کہ وہ سورہ برأت کا اعلان کر دیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حج کرایا اور حجرت علی رضی اللہ عنہ نے سورہ برأت کی ابتدائی چالیس آیتیں پڑھ کر سنائیں کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک مکہ نہیں آنے پائے گا اور نہ کوئی شخص ننگا ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کر سکے گا۔ (بخاری)
حج کی تین اقسام ہیں۔
حج افراد
حج قِران
حج تمتع

حج افراد یہ ہے کہ صرف حج کی نیت سے احرام باندھا جائے اور تمام مناسک حج ادا کر کے قربانی کے دن یعنی دسویں ذی الحجہ کو منٰی میں احرام کھول دیا جائے۔
حج قران وہ حج ہے کہ جس میں حج اور عمرہ کا ایک ساتھ ہی احرام باندھا جائے اور عمرہ کے بعد احرام نہ کھولا جائے جب تک کہ دسویں ذی الحجہ کو قربانی سے فارغ نہ ہو جائے۔
حج تمتع وہ حج ہے جس میں حاجی میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور طواف بیت اللہ اور صفا مروہ کی سعی کے بعد حلق یا تقصیر کروا کر احرام کھول دے۔ عمرہ مکمل ہو گیا۔ پھر وہ آٹھویں ذی الحجہ کو حج کے لئے احرام باندھے اور حج کے تمام ارکان ادا کرے۔ یہ حج تمتع ہے۔۔

حج کے لفظی معنی مشقت کے ہیں اور دیکھا جائے تو عمرے کی نسبت حج زیادہ مشقت طلب ہے۔حج مالی اور جسمانی عبادت ہے۔ جہاں سفر کی مشقت سے جسم کو تکلیف و محنت برداشت کرنی پڑتی ہے وہیں قدم قدم پر مال کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لئے گھر سے ہی مناسب زادِ راہ ساتھ لینا چاہیے۔

اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن حج ہے اور اس کے لئے ہر مسلمان کو جلدی کرنا چاہیے بشرطیکہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہو۔۔ استطاعت سے مراد یہ کہ اس کے پاس زاد راہ موجود ہو، وہ جسمانی طور پر حج کے تمام ارکان ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "فریضہ حج میں جلدی کرو کسی کو معلوم نہیں کہ اس کو کیا عذر پیش آ جائے"۔۔ مسند احمد۔۔
حج استطاعت رکھنے والوں کے لئے بھی زندگی میں ایک ہی دفعہ کرنا فرض ہے۔ کوئی اس کے بعد بھی دوبارہ سہ بارہ کرنا چاہے تو وہ نفل عبادت ہو گی۔
جب بھی کوئی مسلمان حج کا ارداہ کرے تو اس کو چاہیے کہ گھر والوں اور دوستوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرے اگر اس پر کوئی قرض ہے تو اس کو بھی ادا کرے۔ یا لکھ ڈالے اور اگر کوئی مسلمان بھائی اس سے ناراض ہے تو اس کو راضی کر لے۔حج کے لئے اپنی پاکیزہ کمائی کو زاد راہ بنائے۔۔ حج کے دوران لڑائی جھگڑا، اور کھیل تماشوں سے دور رہے۔ زیادہ تر اوقات اللہ تعالٰی کے ذکر اور اس سے بخشش کی دعائیں کرتے ہوئے گزارے۔ اپنے ساتھیوں کی غلطیوں پر غصہ ہونے کی بجائے عفو و درگزر سے کام لے۔۔

عورت کا حج
جس طرح مردوں پر حج فرض ہے اسی طرح عورتوں پر بھی فرض ہے۔ اور عورتوں کے لئے بھی استطاعت اور دیگر شرائط کا پوری ہونا ضروری ہے۔ البتہ عورتوں کے لئے ایک شرط مزید بھی ہے کہ ان کے ساتھ شوہر یا کسی بھی محرم کا ہونا ضروری ہے۔ ۔ عورت خواہ کسی بھی عمر کی ہو بغیر محرم یا شوہر کے اس کا حج کے لئے نکلنا ٹھیک نہیں ہے۔

جیسا کہ ایک حدیث شریف میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہرگز تنہائی میں نہ رہے جب تک کہ عورت کے ساتھ اس کا محرم بھی نہ ہو اور نہ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر کرے۔" ایک شخص نے کہا۔ "میری بیوی حج کے لئے نکلی ہے اور میں نے فلاں غزوہ میں نام لکھا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔۔ (صحیح بخاری)
عورت کے لئے بھی مرد کی طرح سفر حج میں جلدی کا حکم ہے تاکہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے۔

بچے کا حج

نابالغ بچے یا بچی کا حج جائز ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے اپنے ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حج کیا اس وقت میری عمر سات سال کی تھی۔(صحیح بخاری)
البتہ بچے کا یہ نفل حج ہوگا۔ اس لئے جب بچہ بالغ ہو اور استطاعت رکھتا ہو تو دوبارہ فرض حج کی نیت سے حج ادا کرنا ہوگا۔۔

میت کی طرف سے حج

جو شخص انتقال کر جائے اور اس پر حج فرض ہو چکا ہو اور اس نے حج کی نذر بھی مانی ہو اور پوری ہونے سے پہلے ہی فوت ہو جائے تو اس کے وارث اس کے مال میں سے خود اس فوت شدہ شخص کے لئے حج کر سکتا ہے یا کسی سے کروا سکتا ہے۔
اس بارے میں بھی ایک حدیث شریف میں یوں آیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہا۔"میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی اور پوری کرنے سے پہلے ہی مر گئی تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔"ہاں اس کی طرف سے حج کرو۔ بتاؤ اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا نہیں کرتیں، اللہ کا قرض ادا کرو۔ اللہ اپنے قرض کا زیادہ حقدار ہے۔"(صحیح بخاری)

اسی طرح معذور کی طرف سے بھی حج بدل جائز ہے، اگر کوئی شخص اپنی معذوری کی وجہ سے حج نہیں کر سکتا تو اس کی جگہ کوئی اور شخص حج ادا کر سکتا ہے۔حج بدل کرنے والے کے لئے خود کا حاجی ہونا ضروری ہے۔ یعنی جو شخص کسی کی طرف سے حج کرنے کا ارادہ کرے اس کو چاہیے کہ پہلے اپنا فرض حج ادا کرے۔۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے سنا جو "لبیک عن شبرمۃ" کہہ رہا ہے "یعنی سبرمہ کی طرف سے لبیک۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا "تم نے اس سے پہلے اپنا حج کر لیا ہے؟" کہا "نہیں۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "پہلے اپنا حج کر لو پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا۔"(ابوداؤد)

میقات

میقات سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے حج اور عمرہ کے لئے احرام باندھا جاتا ہے۔

احرام باندھنا

ارکان حج میں سب سے پہلا رکن احرام باندھنا ہے، جس سے حج کی ابتدا ہوتی ہے، اس کو حج کے لئے یونیفارم بھی کہہ سکتے ہیں۔ جو حاجی کی سادگی، عاجزی، زہد اور اسلامی مساوات کی علامت ہے۔ ان دو چادروں کو پہن کر شاہ و گدا کا فرق مٹ جاتا ہے اور ساتھ ہی ان دو چادروں کی صورت میں انسان کو اپنا کفن بھی یاد آ جاتا ہے۔ احرام میں مردوں کے لئے صرف دو چادریں ہیں، جن کو سیا نہ گیا ہو اور عورت کے لئے کوئی بھی پاک صاف کپڑے احرام بن سکتے ہیں۔
احرام باندھنے کے بعد حاجی کے لئے ممنوعات یہ ہیں۔
نکاح کرنا، نکاح کرانا، نکاح کا پیغام دینا، رفث فسوق۔ (عام گناہ، فحش باتیں، نافرمانی۔)جدال۔ یعنی لڑائی جھگڑا کرنا صید البر۔ یعنی خشکی کا شکار۔ حلق تقصیر یعنی سر منڈوانا یا بال کتروانا۔۔ خوشبو لگانا۔ یہ سب قرآن پاک سے ثابت ہیں۔
اور احادیث میں ورس یعنی زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہننا، شکاری کی کسی طرح کی مدد کرنا یا شکار بتانا، جو شکار محرم نے کیا ہو یا اس میں کسی قسم کی مدد دی ہو یا اس کے لئے کیا گیا ہو اس کا کھانا۔ (ابوداؤد ،ترمذی)

کچھ احکام خاص مردوں اور عورتوں کے لئے بھی ہیں۔

جن میں مردوں کے لئے ممنوعات میں ہیں سر ڈھانکنا (مسلم) پورا چہرا ڈھانکنا (نسائی) کرتا پہننا، پاجامہ پہننا، عمامہ باندھنا۔ برنس ایک قسم کا جبہ ہے جس میں ٹوپی لگی ہوتی ہے وہ پہننا، موزے پہننا۔ (صحیحین)

اور عورتوں کے لئے ممنوعات میں چہرہ پر نقاب ڈالنا اور دستانے پہننا۔ (بخاری)
البتہ اگر غیر محرم سامنے آ جائے تو چہرہ پر کوئی کپڑا لٹکا لینا چاہیے ۔جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حج میں جب ہمارے سامنےقافلے والے آ جاتے تو ہم سر سے اپنی چادر چہرے پر لٹکا لیتیں، جب وہ گزر جاتے تو کھول لیتیں۔ (ابو داؤد)
اگر ان ممنوعات میں سے کسی چیز پر عمل ہو جائے یا غلطی سے کسی منع کی ہوئی چیز کو کر بیٹھے تو اس کے لئے فدیہ دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ جیسا کہ سورہ البقرہ میں ہے کہ، پس تم میں سے کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کے بدلے روزہ رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔۔ (البقرہ)

نیت کرنا

احرام باندھنے کے بعد حاجی کو حج کے لئے نیت کرنی چاہیے جیسے اگر صرف حج کی نیت ہے تو لبیک حجہ کہنا چاہیے اور اگر حج قران یعنی حج اور عمرہ کی نیت ہو تو لبیک حجہ و عمرہ کہنا چاہیے۔۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پرنیت کے مطابق تلبیہ کے الفاظ ادا کیے تھے۔ (مسلم)

تلبیہ

تلبیہ ان الفاظ کو کہتے ہیں جو حاجی احرام باندھنے سے شروع کر کے حج کے آخری رکن ادا کرنے تک دہراتا ہے۔ تلبیہ کے مسنون الفاظ یہ ہیں۔
لبیك اللھم لبیك، لبیك لا شریك لك لبیك، ان الحمد والنعمة لك والملك لاشریك لك۔(بخاری، مسلم)۔

تلبیہ کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب مسلمان لبیک پکارتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے دائیں اور بائیں تمام پتھر، درخت اور علاقے زمین کے دونوں آخری حصے تک لبیک پکارتے ہیں۔ (ترمذی )
احرام باندھنے کے بعد تلبیہ پڑھتے ہوئے مسجد الحرام میں داخل ہوکر طواف کریں۔ طواف سے فارغ ہو کر دو رکعت نماز مقام ابراہیم پر ادا کریں۔ آب زمزم سے سیر ہوں پھر صفا مروہ کی سعی کرنی چاہیے۔ سعی صفا سے شروع کی جاتی ہے اور مروہ پر ختم کی جاتی ہے۔
پھر آٹھویں ذی الحجہ کو منٰی کی طرف سفر کرنا چاہیے اور ادھر ایک رات گزاریں یہ سنت سے ثابت ہے۔

نویں ذی الحجہ کو صبح کی نماز پڑھ کر سورج نکلنے کے بعد عرفات کی طرف روانہ ہوں۔ تکبیر اور تلبیہ، دعائیں زبان پر جاری رکھنی چاہیے، عرفات میں مسجدِ نمرہ واقع ہے اس مسجد میں خطبہ دیا جاتا ہے۔ خطبہ کے بعد ظہر اور عصر کی نماز اکٹھے ادا کریں۔ پھر عرفات میں غروب آفتاب تک قیام کرنا چاہیے۔ خوب خشوع و خضوع کے ساتھ دعا مانگیں کیونکہ یہ قبولیت کا دن ہے۔ اس دن اللہ تعالٰی اپنے بندوں کی عاجزی پر فرشتوں سے فخر کرتے ہیں اور شیطان اس دن سب سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔ اسی دن اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو سب سے زیادہ جہنم سے آزاد کرتا ہے۔ جب سورج غروب ہو جائے تو عرفات سے مزدلفہ کی جانب روانہ ہونا چاہیے۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھا کرکے پڑھی جاتی ہیں۔ مزدلفہ میں عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر صبح صادق تک ٹھہرنا سنّتِ مؤکدہ ہے۔۔ صبح نماز فجر کے بعد مزدلفہ سے منٰی کی طرف واپسی ہے۔
دسویں سے تیرھویں ذی الحجہ تک منٰی میں رمی کرنی چاہیے۔
دسویں ذی الحجہ کا دن بہت مصروف دن ہوتا ہے اس دن حاجی کو چار کام کرنا ہوتے ہیں۔
رمی جمار، قربانی کرنا، بال منڈوانا، طوافِ افاضہ۔

یہ چاروں کام دسویں ذی الحجہ کو ہی کرنا لازم ہیں۔۔ طواف افاضہ کو طواف زیارت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حج کا ایک رکن ہے اس کے بغیر حج پورا نہیں ہوتا۔ قرآن پاک کی ایک آیت میں اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
"چاہیے کہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی منتیں پوری کریں اور بیت العتیق (کعبہ) کا طواف کریں۔" (الحج29)
طواف زیارت کے بعد دسویں ذی الحجہ کو شام تک منٰی واپس پہنچ جانا چاہیے اور تیرھویں ذی الحجہ کو رمی کرنے تک منٰی میں ہی قیام کریں۔۔۔ یہ تینوں ایام تشریق ذکر الٰہی کے دن ہیں۔ جن میں کثرت سے تکبیر و تسبیح اور اللہ تعالٰی کا ذکر کرتے رہنا چاہیے۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "تشریق کے دن کھانے پینے اور یاد الٰہی کے دن ہیں۔" (مسلم)۔
منٰی میں قیام کے بعد حج کے تمام اعمال پورے ہو جاتے ہیں۔ صرف طواف وداع باقی رہتا ہے جو اپنے وطن واپس جاتے ہوئے کرنا ہوتا ہے۔۔۔
اگر حاجی سے پورے حج کے دوران کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو اور تمام کام سنت کے مطابق ادا ہوئے ہوں تو یہ حج مبرور ہے۔ جس کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔۔
"حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔"(بخاری، مسلم)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ :"حج مبرور کیا ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ "کھانا کھلانا اور اچھی بات کرنا۔" (احمد۔ طبرانی۔)

آخر میں حج اور عمرہ کے کچھ فضائل احادیث کی روشنی میں۔
1۔۔۔ایمان اور جہاد کے بعد سب سے افضل عمل حج مبرور ہے۔۔ (بخاری ۔مسلم)
2۔۔حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔۔(بخاری۔۔ مسلم)
3۔۔حج پچھلے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔۔(مسلم)
4۔۔سچا حاجی حج کے بعد اس طرح گناہوں سے پاک ہو کر واپس ہوتا ہے جیسے اسی دن پیدا ہوا ہے۔ (بخاری ،مسلم)
5۔۔بوڑھے، کمزور مرد اور عورت کا حج و عمرہ جہاد کے برابر ہے۔۔(نسائی)
6۔۔حج اور عمرہ فقر وفاقہ اور معصیت کو اس طرح ختم کر دیتے ہیں جس طرح بھٹّی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کو ختم کر دیتی ہے۔ (ترمذی)
7۔۔حج اور عمرہ کرنے والے لوگ اللہ کے مہمان ہیں، اللہ کی دعوت پر یہ بیت اللہ آئے ہیں جب یہ دعا مانگیں گے اللہ قبول کرے گا۔ (نسائی)
8۔۔حج کی راہ میں مرنے والا حاجی حشر کے میدان میں احرام کے اندر لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ (بخاری۔۔مسلم)
9۔۔ماہ رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے۔ (بخاری۔۔مسلم)