002 - مسلمانوں کی ترقی کا اصل راز تحریر" سمیر

قیصر روم: پہلے اپنے سفر کی روداد بیان کرو۔
رومی سربراہ: جناب والا، سب سے پہلے میں کپڑوں کے تاجر کا بھیس بدل کر دمشق میں داخل ہوا۔ میرے ساتھ میرا وفادار غلام بھی تھا۔ جس کی ماتحتی میں میرے دوسرے خادم و غلام تھے۔ دمشق میں میں نے مسلمان تاجروں کے ساتھ لین دین کیا اور ہر طرح سے پرکھا۔
قیصر روم: لین دین میں تم نے مسلمان تاجروں کو کیسا پایا؟
رومی سربراہ: مسلمان تاجر لین دین میں کھرے اور بات کے پکّے تھے۔ تجارت میں دیانتداری ان کا اصول تھا لیکن میں نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔
قیصر روم: کیوں؟
رومی سربراہ: تجارت کا اصل اصول ہی دیانت داری ہے۔ کاروبار دیانت سے پھلتا پھولتا ہے۔ دنیا کا ہر اچھا تاجر اس اصول کو سھمجتا ہے اور ایمان داری کو بہترین پالیسی کے طور پر اختیار کرتا ہے۔ اس میں مسلمان اور عیسائی تاجر کی قید نہیں۔ اس لیے میں نے تجارت میں مسلمانوں کی دیانت داری کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور ان کی ترقی کے راز کی تلاش میں آگے بڑھا۔
قیصر روم: آگے کہاں؟
رومی سربراہ: دمشق سے میں بغداد آیا۔
قیصر روم: وہاں کیا دیکھا؟
رومی سربراہ: بغداد میں مسلمان عالموں سے ملا، وہاں کے مکتب خانے دیکھے، ان کے علمی اور سائنسی کارناموں کا جائزہ بھی لیا۔ لیکن اس سوال کا جواب پھر نہ ملا کہ اسلام کے اتنی تیزی سے پھیلنے اور عوام میں اتنا زیادہ مقبول ہونے کا کیا راز ہے؟
قیصر روم: کیا مسلمانوں کی علمی و سائنسی ترقی اس سوال کا شافی جواب نہیں؟
رومی: نہیں۔
قیصر روم: کیوں؟
رومی: اس لیے کہ علمی و سائنسی ترقی سے عوام براہ راست متاثر نہیں ہوتے۔ علمی و سائنسی ترقی سے ملک فتح ہو سکتے ہیں، پر دل فتح نہیں ہو سکتے۔ اس لیے میں گوہرِ مقصود کی تلاش میں اور آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ میں مسلمانوں کے سرحدی شہر حمص تک پہنچ گیا۔ میں نے اپنا باقی ماندہ سامانِ تجارت ایک مسلمان تاجر کے ہاتھ فروخت کیا۔ اس شہر میں خوب گھوما پھرا ان کی عبادت گاہیں دیکھیں۔ میلے ٹھیلے اور تہواروں کے نظارے کیے لیکن وہ راز پھر بھی حل نہ ہوا۔
مسلمانوں کے مذہب کے اس طرح پھیلنے کا سبب نہ ان کی فوجی طاقت ہے نہ تجارتی برتری۔ بلکہ اس کا راز کچھ اور ہی ہے جو کم از کم مجھے معلوم نہ ہو سکا۔
قیصر روم: مسلمانوں کے شہر حمص میں تم نے کیا دیکھا؟
رومی: حمص میں یوں تو کوئی خاص بات نہیں ہوئی لیکن ایک واقعہ ضرور ایسا پیش آیا جس نے مجھے حیران کر دیا۔
قیصر روم: وہ کیا؟
رومی: وہ مسلمان تاجر جسکے ہاتھ میں نے اپنا باقی سامانِ تجارت فروخت کیا تھا اس نے مجھے اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی جو میں نے اس خیال سے قبول کر لی کہ دیکھیں ان کا کھانا پینا کیسا ہے؟
قیصر روم: پھر کیسا تھا؟
رومی: مسلمان تاجر بہت مالدار تھا، اس نے بڑی شاندار ضیافت کا اہتمام کیا تھا، ساز و سامان، برتن، کھانا، ہر چیز معیاری اور اپنی قسم کی بہترین تھی۔ لیکن میں نے اس شان و شوکت کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
قیصر روم: کیوں؟
رومی: اس لیے کہ اس قسم کے ٹھاٹھ روپے کے بل پر ہوتے ہیں جو ہم اس سے زیادہ کر سکتے ہیں۔ البتہ اس دعوت میں ایک چیز میں نے ضرور ایسی دیکھی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ کم از کم یہ لوگ تہذیب کے آداب سے واقف نہیں۔
قیصر روم: وہ کیسے؟
رومی: وہ یہ کہ جب میں اپنے خادموں اور غلاموں کے ساتھ اس مالدار مسلمان تاجر کے ہاں پہنچا تو اس نے میرے علاوہ میرے غلاموں سے بھی مصافحہ اور معانقہ کیا۔ مجھے بڑا عجیب معلوم ہوا بلکہ اپنی ہتک محسوس ہوئی کہ کہاں آقا اور کہاں غلام، ہر ایک کا اپنا اپنا مقام ہوتا ہے۔ لیکن بات یہیں رہتی تو چنداں مضائقہ نہ تھا لیکن جب اس مسلمان تاجر نے میرے غلاموں اور خادموں کو بھی میرے ساتھ دسترخوان پر بیٹھنے کی دعوت دی تو مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے کہا یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ حفظِ صراتن کا لحاظ ضروری ہے۔ شکر ہے کہ میرے غلاموں اور خادموں نے خود ہی انکار کر دیا اور بڑے ادب سے میرے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے۔ لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میرے میزبان نے اپنے غلاموں کو دستر خوان پر بیھٹنے کی دعوت دی تو وہ آدابِ مجلس سے ناواقف بڑی بے تکلفی سے اپنے آقا کے دائیں بائیں بیٹھ گئے اور بڑے مزے سے ہاتھ بڑھا بڑھا کر اپنے آقا کی قاب سے کھانے لگے۔ میں حیران و پریشان یہ نظارہ دیکھتا رہا اور سوچتا رہا قدرت نے ان لوگوں کو عروج دیا ہے جو آدابِ مجلس سے بھی واقف نہیں لیکن اس دعوت کے آخر میں میں نے جو کچھ دیکھا اس نے مجھے سکتے میں ڈال دیا۔
قیصر روم: وہ کیا بات تھی؟
رومی: میں نے دیکھا مسلمان تاجر نے اپنے غلام کی کھائی ہوئی روٹی کے ٹکڑے اٹھا لیے اور یہ کہہ کر کھانے لگا کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رزق کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ جناب والا یہ ہے میرے سفر کی روداد، لیکن مسلمانوں کے مذہب کی مقبولیت کا راز کھلنا تھا نہ کھلا۔
قیصر روم: لیکن میں اس راز کو پا گیا ہوں۔
رومی: جناب والا، پھر اس راز سے پردہ اٹھائیے۔
قیصر روم: پہلے یہ بتاؤ کہ وہ تمھارا غلام اور دوسرے لوگ جو تمھارے ساتھ اس سفر پر گئے تھے ان کا کیا حال ہے؟
رومی: جناب والا، مجھے بڑی ندامت ہے کہ ہمارے آدمیوں میں سے بیشتر بھاگ کر مسلمانوں کے علاقے میں چلے گئے ہیں اور مسلمان ہو گئے ہیں۔ حد یہ ہے کہ میرا وفادار غلام جس پر مجھے بڑا ناز تھا وہ بھی دغا دے گیا۔
قیصر روم: حمص کے مسلمان تاجر کے ہاں جو کچھ تم نے دیکھا وہی مسلمانوں کی ترقی اور اسلام کی مقبولیت کا راز ہے۔ ان کے دین میں آقا اور غلام، امیر و غریب سب برابر کا درجہ اور حق رکھتے ہیں۔ یہ نہ ہوتا تو تمھارے غلام نہ بھاگتے اور نہ مسلمان ہوتے۔

راوی: عباسیوں کے عہدِ خلافت میں مسلمان افریقہ اور ایشیا میں بہت بڑی طاقت بن گئے تھے۔ مسلمانوں کی تہذیب و ترقی نے ساری دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ قسطنطنیہ کے رومی دربار میں ایک مجلسِ مشاورت منعقد ہوئی "کہ مسلمانوں کی طاقت و ترقی کا اصل راز معلوم کیا جا سکے۔" بحث و مباحثہ کے بعد اس مجلس میں طے پایا کہ چند ہوشیار اور قابل آدمیوں کو مسلمانوں کے شہروں میں بھیجا جائے وہ حالات کا جائزہ لے کر رومی دربار میں اپنی رپورٹ پیش کریں۔ چنانچہ چند لائق فائق لوگ سوداگروں کا بھیس بدل کر مسلمانوں کے شہروں کو چل کھڑے ہوئے۔ واپسی پر قیصر روم اور وفد کے سربراہ کے درمیان یہ گفتگو ہوئی۔