001 - ایک حاجت مند کی کہانی: نیسمہ

اہل حمص کا ایک وفد مدینہ آیا ہوا تھا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان میں سے بعض معتبر اور ثقہ افراد سے کہا کہ اپنے شہر کے حاجت مند افراد کی فہرست بنائیں تاکہ ان کی مدد کی جا سکے۔
شہر کے حاجت مند افراد کی فہرست حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہے اور آپ عمیق نگاہوں سے اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اچانک ان کی نظر سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے نام پر پڑتی ہے۔ پوچھا؛ یہ سعید بن عامر کون ہے؟ جواب ملا؛ ہمارا گورنر۔
تمہارا گورنر فقیر ہے؟ انہوں نے کہا؛ ہاں‘ اللہ کی قسم! کئی کئی دن گزر جاتے ہیں اور ان کے گھر آگ نہیں جلتی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بے اختیار رو پڑے‘ روتے روتے داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ وفد کو ایک ہزار دینار دیے اور کہا کہ اپنے امیر کو میرا سلام پہنچا دو اور ان سے کہو کہ امیر المؤمنین نے ہدیہ ارسال کیا ہے تاکہ آپ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔
یہ وفد حمص پہنچ کر اپنے امیر سے ملا‘ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پیغام اور امانت پیش کی۔ حضرت سعید بار بار (انا للہ و انا الیہ راجعون) پڑھ رہے ہیں۔
بیوی نے حیران ہو کر پوچھا؛ آپ کو کیا صدمہ آ پہنچا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ امیر المؤمنین وفات پا گئے ہیں؟ کہا نہیں‘ اس سے بھی بڑے صدمے اور دکھ کی بات ہے۔ کہنے لگیں بتائیں تو سہی آخر کیا ہوا جس سے آپ پریشان اور غم زدہ ہیں؟ فرمایا؛ میری آخرت کی بربادی کا سامان ہوا چاہتا ہے‘ گھر میں فتنہ داخل ہوگیا ہے۔ بیوی نے کہا؛ پھر اس سے نجات حاصل کر لیں۔ اب گھر والوں کو تو معلوم نہیں اس معاملے کا تعلق درہم و دینار سے ہے۔ پوچھا؛ بی بی! کیا تم اس سلسلے میں میری مدد کرو گی۔ اس نے کہا ہاں‘ کیوں نہیں۔ چنانچہ انہوں نے تمام دینار مساکین اور مستحقین میں تقسیم کر دیے۔ اس واقعے کو زیادہ دن نہیں گزرے کہ خود عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا گزر حمص سے ہوا۔
اس دور میں اس شہر کو چھوٹا کوفہ کہا جاتا تھا کہ اہل حمص اپنے گورنر کے خلاف اکثر شکایات کرتے رہتے تھے۔ اور اہل کوفہ تو اس سلسلہ میں ضرب المثل تھے ہی۔
اہلیانِ شہر سے سوال ہوا؛ اپنے امیر کے بارے میں تمہاری آراء اور شکایات کیا ہیں؟ امیر شہر کے خلاف چار بڑی شکایات ان کی موجودگی میں پیش کی گئیں؛
پہلی یہ تھی کہ وہ لوگوں سے خوب دن چڑھے ملاقات کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ان سے ملاقات بڑی مشکل ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت سعید رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا؛ امیر المومنین! میں آپ لوگوں کو بتانا نہیں چاہتا تھا۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ میرے پاس کوئی غلام یا نوکر نہیں ہے۔ بیوی میری بیمار رہتی ہے۔ میں پہلے خود آٹا پیستا ہوں‘ پھر اس کو گوندھتا ہوں‘ پھر اس میں خمیر اٹھنے کا انتظار کرتا ہوں‘ پھر روٹی پکاتا ہوں۔ اس دوران اشراق کا وقت ہو جاتا ہے‘ نفل ادا کرکے گھر سے نکلتا ہوں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہاری دوسری شکایات کیا ہے؟ کہا گیا کہ رات کو کسی سے ملاقات نہیں کرتے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا؛ ہاں سعید‘ اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب ملا؛ حضرت‘ میں بتانا تو نہیں چاہتا تھا۔ دراصل میں نے پورا دن لوگوں کی خدمت گزاری کے لیے وقف کر رکھا ہے اور رات اپنے رب کے لیے وقف کی ہوئی ہے۔
پوچھا گیا تیسری شکایت کیا ہے؟ کہا گیا کہ مہینہ میں ایک دن ایسا بھی ہوتا ہے جب یہ گھر سے باہر نہیں آتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر حضرت سعید رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا۔
جواب دیا گیا؛ امیر المومنین‘ میرا کوئی خادم یا غلام نہیں ہے۔ میرے پاس پہننے کے لیے ایک ہی جوڑا ہے۔ مہینے میں ایک ہی مرتبہ خود اسے دھوتا ہوں اور پھر سوکھنے کا انتظار کرتا ہوں۔ اور اس طرح شام کے وقت ہی گھر سے نکل پاتا ہوں۔
پوچھا گیا کہ تمہاری چھوتھی شکایت کیا ہے؟ بتایا گیا ان کو وقتاً فوقتاً غشی کے دورے پڑتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ بتائی جائے۔
جواب ملا؛ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو مکہ مکرمہ میں حضرت حبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو سولی پر چڑھتے وقت دیکھ رہے تھے۔ میں اس وقت مشرک تھا۔ قریش ان کے جسم پر نیزوں سے کچوکے لگاتے اور پوچھتے؛
"کیا تم پسند کرتے ہو کہ تمہاری جگہ محمد ہوں؟"
حبیب رضی اللہ عنہ جواب دیتے؛
"اللہ کی قسم! میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ ان کو کوئی کانٹا چبھے اور میں اپنے اہل و عیال میں خوش خرم رہوں۔"
میں اس غلط کام میں مشرکین کی مدد اور معاونت کر رہا تھا۔ جب وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو ندامت اور شرم و حیا سے مجھ پر غشی طاری ہوجاتی ہے۔ مجھے فکر لگ جاتی ہے کہ قیامت کے دن میرا رب مجھ سے پوچھ نہ لے۔
اے کاش! میں اس وقت مسلمان ہوتا‘ حضرت حبیب رضی اللہ عنہ کی مدد کرتا‘ کافروں کو روکتا یا پھر خود بھی حبیب کے ساتھ شہادت پا جاتا۔
عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب جوابات سنے تو ان کی ہچکیاں بندھ گئیں اور کہا؛
" اس اللہ کا شکر ہے جس نے میری فراست کو کمزوری سے بچا لیا۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار دینار ان کو مزید ارسال کیے کہ اپنی گھریلو ضروریات پوری کر سکیں۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ کی بیوی نے دیکھا تو کہنے لگیں؛ اب اس سے ہم سواری اور نوکر وغیرہ کا بندوبست کر لیں گے۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے بیوی سے پوچھا؛ ان چیزوں سے بہتر چیز کا انتخاب کیوں نہ کریں۔ کہنے لگیں؛ وہ کیا چیز ہے؟ تجویز کیا؛ رب تعالٰی کو قرض دے دیتے ہیں اور اس کا اجر اس سے لیں گے۔ نیک طینت بیوی نے اثبات میں سر ہلایا؛ اچھی بات‘ اللہ تمہیں اس کی جزا دے۔
اپنے خاندان کے کسی فرد کو آواز دی؛ یہ دینار لے جاؤ اور فلاں یتیم کو اتنے دینار‘ فلاں مسکین کو اتنے‘ فلاں بیوہ کو اتنے‘ فلاں حاجت مند کو اتنے دینار دے آؤ۔ اس طرح پوری رقم اس مجلس میں خیرات کر دی۔ رضی اللہ عنھم اجمعین۔
فاروقِ اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دورِ حکومت اسلامی تاریخ کا سنہری دور تھا۔ رعایا اور حکومت کے درمیان نہایت خوشگوار تعلقات تھے، حکام اپنے عوام کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ فتوحات کی بدولت اسلامی حکومت کا رقبہ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ مفتوحہ علاقوں میں مرکز سے نہایت قابل اور خوفِ الٰہی رکھنے والے گورنر بھیجے جاتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نہایت درجہ مردم شناس تھے۔ چناچہ کسی بھی صوبے کا گورنر منتخب کرتے وقت نہایت احتیاط سے کام لیا جاتا۔ شام کا علاقہ فتح ہوا تو حمص شہر میں حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو والئ شہر بنا کر بھیجا گیا۔ ان دنوں بیت المال کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ جوں جوں بیت المال میں رقومات آتی گئیں لوگوں کے مسائل پر خلیفہ کی بھر پور توجہ بڑھتی گئی۔ مرکز مختلف علاقوں سے فقراء اور محتاجوں کی لسٹ طلب کرتا اور ان کی ضروریات بیت المال سے پوری کی جاتیں۔ ان فہرستون کاجائزہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خود لیتے اور ان پر احکامات جاری کرتے۔