002 - عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے کے لباس سے مشابہت پر وعید : محسنہ

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ان مردوں پر جو عورتوں سے اور ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والے ہیں۔(بخاری، ابو داؤد)۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے لعنت فرمائی ان مردوں پر جو عورتوں کے مشابہ لباس ختیار کرنے والے ہیں اور ان عورتوں پر جو لباس میں مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی ہیں۔(ابو داؤد)۔

دنیا اور آخرت کی لعنت: حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، چار شخصوں پر دنیا اور آخرت کی لعنت ہے اور فرشتوں کی ان پر آمین ہے۔ (یعنی لعنت پر )۔ ایک تو وہ جسے خدا نے مرد بنایا اور وہ عورتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے اپنے کو مثلِ عورت کے بناتا ہے۔ (ترغیب)۔
ف: اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کو کسی بھی طرح عورت کے مثل بننا قابلِ لعنت ہے۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تین شخص جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ 1 والدین کا نا فرمان۔2 دیوث جو عورتوں کے اجانب سے مخالطت میں ڈھیلا ہو ۔3 عورتون کی طرح لباس اختیار کرنے والا ہو۔ (ترغیب)۔
ان تمام وعیدی روایتوں سے معلوم ہوا کہ جو لباس عرف میں مردوں یا عورتوں کے لئے خاص ہے ایک دوسرے کو اس کا استعمال نا جائز اور حرام ہوگا، چنانچہ مردوں کو پرنٹ کرتا یا عورتوں کو مردوں کا سا پاجامہ، پتلون اور پوشت پہننا درست نہیں، باعثِ لعنت ہے، عموماً جدید تعلیم یافتہ اور شہری عورتیں اس سے احتیاط نہیں کرتیں اور مرودں کی مشابہت میں فخر محسوس کرتی ہیں اور لعنت میں گرفتار ہوتی ہیں وہ بھی ایسی لعنت جو مقبول ہو، اللہ تعالٰی ہی بچائے!۔آمین (شمائل کبرٰی)۔