003 - صنعتی علوم کی ترقی اور مسلمان از امان

صنعتی علوم کی ترقی اور مسلمان

انسانی معاشرہ ایک ترقی پذیر معاشرہ ہے جس میں ہر دور کی صنائع کی بنیاد ماضی میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ ہر قرن اپنے سابقہ قرن سے متاثر ہوتا ہے۔ اور اگر اس میں خود صلاحیت ہے تو اپنی میراث آنے والے قرن کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنے زمانہٴ فتوحات میں مختلف تمدنوں سے سابقہ پڑا۔ جن میں صنعتی علوم بھی تھے اور تمدنی روایات بھی۔ مسلمان ایک عقیدہ اور نظام حیات لے کر میدان جہد و عمل میں اترے تھے انہوں نے سامنے آنے والی ہر چیز کو تاراج نہیں کیا بلکہ جو اشیاء ان کے نظام حیات میں سمو سکتی تھیں انہیں قبول کر لیا۔ لیکن وہ ہمہ پہلو انقلاب جو اسلامی نظریات کے جلو میں آیا تھا اس نے مسلمان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ نتیجتاً مسلمانوں کے کارناموں سے ایجادات کا دامن بقعہ نور بن گیا۔

سیدیو نے اعتراف کیا ہے کہ:
"اگر ہماری پشت پر عربی تہذیب کی یہ یادگاریں جو ہم تک پہنچی ہیں، نہ ہوتیں تو آج ہماری ترقی کا یہ درجہ نہ ہوتا۔"
مسلمانوں کی صنعتی ترقی کا جائزہ لیا جائے (خاص کر اسپین) تو اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہر چند مسلمانوں نے سائنسی علوم یونان سے لیے لیکن وہ یونانیوں کی طرح صرف افکار و نظریات پر ہی بحث نہیں کرتے تھے بلکہ انہوں نے سائنس کو عملی طور پر استعمال کرکے انسانیت کی خدمت پر لگا دیا۔ جن صنعتی شعبوں کو مسلمانوں (اسپین) نے ترقی پر گامزن کیا وہ یہ ہیں:

کاغذ سازی

قدیم زمانے سے اہل چین ایک قسم کا کاغذ ریشمی کیڑے کے خول سے بناتے تھے، لیکن یہ کاغذ نہ صرف گراں اور کم یاب تھا بلکہ صرف ان ممالک میں تیار کیا جا سکتا تھا جہاں ریشم کا کیڑا بکثرت پایا جاتا ہو۔ اہل یورپ ایک مدت تک صرف چمڑے پر لکھتے رہے اور یہ اس قدر گراں تھا کہ کتابوں کی اشاعت بخوبی نہ ہوسکتی تھی۔
مسلمانوں نے جب 704 میں سمرقند کو زیرنگیں کیا تو وہاں سے چین کی کاغذ سازی کی صنعت ان کے ہاتھ لگی، سمرقند میں اعلٰی قسم کا کاغذ تیار ہوتا تھا لیکن یہ ایجاد اس وقت تک وسیع پیمانے پر کارآمد نہ ہوسکتی تھی جب تک کہ ریشم کی جگہ کوئی اور چیز نہ استعمال کی جاتی۔ چنانچہ مسلمانوں نے یہ مشکل حل کردی اور صرف دو سال بعد یوسف بن عمر نے روئی کا کاغذ ایجاد کیا جو "دمشقی کاغذ" کے نام سے معروف ہوا۔ اس صدی کے اختتام سے قبل ہی مسلم دنیا میں کاغذ سازی کے کارخانے لگنے شروع ہوگئے۔ اور فضل بن یحیٰی برمکی نے 796 میں بغداد میں کاغذ سازی کا پہلا کارخانہ قائم کیا یہ ہارون الرشید کا دور تھا۔ اس کے بعد تیسری صدی ہجری کے اواخر میں شمالی عرب میں کاغذ سازی کا ایک کارخانہ لگایا گیا اور پھر یہ صنعت تمام بڑے شہروں مثلاً دمشق، مصر، نیشاپور، شیراز اور خراسان وغیرہ میں پھیل گئی۔
قدیم ترین عربی کاغذ پر جو تحریر اب تک لیڈن یونیورسٹی لائبریری میں محفوظ ہے وہ ابو عبیدہ قاسم بن سلام کی کتاب "غرائب الحدیث" ہے جو 866 ء میں لکھی گئی تھی۔
اسپین میں کاغذ سازی کی صنعت مشرق کی اسلامی ریاست سے پہنچی۔ شاطبہ میں کاغذ سازی کی صنعت بہت ترقی پر تھی اور اتنا عمدہ کاغذ تیار ہوتا تھا کہ دنیا بھر میں اس کی نظیر نہیں ملتی تھی۔ اور وہاں سے مشرق و مغرب میں برآمد کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد اسپین کے دوسرے شہروں قرطبہ، غرناطہ، بلنیسہ، قسطلہ وغیرہ میں کاغذ سازی کے متعدد کارخانے وجود میں آئے۔

گھڑیاں

وقت ماپنے کے لیے مختلف النوع گھڑیاں قدیم زمانے سے رائج تھیں لیکن مسلمانوں نے اس فن کو بہت ترقی دی۔ گھڑیوں میں لنگر کا استعمال عربوں ہی نے نکالا۔ بغداد کے خلیفہ ہارون الرشید اور چین کے بادشاہ شارلیمان میں دوستانہ تعلقات تھے۔ ایک دفعہ ہارون الرشید نے شارلیمان کو چند تحائف بھیجے جن میں ایک گھڑی بھی تھی۔ شارلیمان کے درباری اسے دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے اور اس کے کل پرزوں کی ترکیب نہ سمجھ سکے۔ دمشق کی ایک جامع مسجد میں ایک عجیب و غریب گھڑی آویزاں تھی جس کی بےخطا کارکردگی کو ابن جبیر نے بیان کیا ہے، اسپین میں عباس بن فرناس نے ایک بے مثال گھڑی تیار کی تھی جس کا نام المنقالہ بتایا گیا ہے۔ اسپین میں منراول شمیسہ (دھوپ کی گھڑی) میں اس طرح کی اصلاحات کی گئیں کہ اس سے منٹوں تک وقت کا صحیح تعین کیا جاسکتا تھا۔ جو مختلف کے تھے:

1) ثابتہ: اس کی چار اقسام تھیں، افقیہ، عمودیہ، استوائیہ، اور کرویہ۔
2) منتقلہ: یہ ایسی گھڑیاں تھیں جو ہاتھ پر باندھی جاسکتی تھیں اور جیب میں رکھی جاسکتی تھیں۔ اور ان کی بھی متعدد قسمیں تھیں۔ ابو الحسن المراکشی نے جامع المبادی و الغایات فی علم المیقات میں منراول شمیسہ کی ساخت اور کارکردگی پر بحث کی ہے۔

عجائبات اندلس میں اسپین کی دو پن گھڑیوں کے ذکر میں لکھا گیا ہے کہ:
"عبدالرحمان نے ہندوستان کے شہرازین کے طلسم کا حال سن کر طلیطلہ میں دو چھوٹی چھوٹی پن گھڑیاں بنوائی تھیں جن کی سوئیاں طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک گھومتی رہتی تھیں یہ دونوں طلیطلہ کے باہر ایک مکان میں دریا کے درمیان اس موقع پر جہاں باب الدباغین ہے بنی ہوتی تھیں، عجیب بات یہ تھی کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے کے ساتھ ہی یہ بھی پانی سے بھرتی اور خالی ہوتی رہتی تھی۔ چاند رات کو تمام پانی ان سے نکل جاتا تھا اور صبح کو ساتواں حصہ پانی سے بھرنا شروع ہوجاتا تھا۔ تاآنکہ شام تک ساتویں حصہ کا نصف حصہ بھر جاتا تھا۔ اسی طرح ہر روز دن اور رات ہوتا یہاں تک کہ چودہویں رات کو وہ پوری طرح بھر جاتی تھی اور پندرہویں رات کو جیسے جیسے چاند گھٹتا پانی میں کمی آتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ انیسویں تاریخ کو ان میں پانی کا قطرہ بھی نہیں رہتا۔ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ جس وقت پانی گھٹ رہا ہو انہیں بیرونی پانی سے بھر دے تو وہ پانی ان سے نکل جاتا اور صرف اس قدر باقی رہ جاتا جتنا کہ رہنا چاہئے۔ یہی حالت بھرنے کے وقت ہوتی تھی۔"
(عیسائیوں نے جب طلیطلہ پر قبضہ کیا تو اندلس کے تمام حماموں کے ساتھ انہیں بھی اکھاڑ دیا۔ غالباً وہ اس صنعت سے آگاہ ہونا چاہتے تھے مگر وہ ان کی ترکیب نہ جان سکے۔"

ہوائی جہاز

اسپین کے سائنس دان عباس بن فرناس کو پرندوں کو فضا میں اڑتے دیکھ کر اڑنے کا شوق پیدا ہوا اور اس نے انسانی تاریخ کا اولین ہوائی جہاز بنایا۔ مقری لکھتا ہے:
"ابو القاسم عباس بن فرناس حکیم الاندلس پہلا شخص ہے جس نے فضا میں اڑنے کا اقدام کیا اس نے اپنے ساتھ بڑے بڑے پر لگائے اور فضا میں بہت دور تک اڑتا چلا گیا لیکن وہ بحفاظت زمین پر اترنے میں کامیاب نہ ہوسکا کیوں کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ پرندے اپنی دم کے سہارے زمین پر اترتے ہیں اور اس نے اپنے ہوائی جہاز کی دم نہیں بنائی تھی۔"
گو یہ ایک چھوٹی سی کوشش تھی مگر بڑی بڑی سائنسی تخلیقات کا آغاز اسی طرح کوششوں سے ہوا جو عظیم انقلابی انکشافات پر ختم ہوا۔ نیز اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسپین میں مسلم سائنس دان ٹیکنالوجی کے میدان میں کتنی ترقی کر چکے تھے۔

اسلحہ و بارود

اسپین میں بلنیسہ، البیرہ، طلیطلہ، شاطبہ اور شلطیش کے علاقوں میں لوہے کی کانیں تھیں۔ جن سے بھاری مقدار میں لوہا نکالا جاتا تھا اور تقریباً ہر اہم قصبہ میں تلواریں، ڈھالیں، خود، نیزے، زرہ بکتر اور تیر وغیرہ بنائے جاتے تھے۔ طلیطلہ، اشبیلیہ اور برذیل کی تلواریں زیادہ مشہور تھیں۔ نیز دیگر شہروں جیسے قرطبہ، امرسیہ، سرقسط وغیرہ کے ہتھیار بھی بہت عمدہ قسم کے ہوتے تھے۔
بارود کے استعمال سے عرب غالباً محاصرہٴ قسطنطیہ کے دوران آگاہ ہوئے۔ اور پھر حجاج بن یوسف نے مکہ معظمہ کے محاصرہ کے دوران اسے کامیابی سے استعمال کیا۔ اسی طرح وہ بندوق اور توپ ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ سیدیو کے مطابق مسلمانوں نے پہلے پہل مکہ کے محاصرہ میں توپ کا استعمال کیا۔ اس کے بعد گیارہویں صدی میلادی کے ایک بحری حملے میں جو شاہ تونس نے امیر اشبیلیہ کے خلاف کیا تھا توپ کے استعمال کی شہادت ملتی ہے۔ ابن خلدون نے 1273 کی ایک لڑائی میں توپ کا ذکر کیا ہے۔ اس سے پہلے 1205 میں افریقہ کی ایک لڑائی میں امیر یعقوب نے ایک باغی سردار کی سرکوبی کے لیے توپ استعمال کی۔ عیسائیوں کے خلاف عربوں نے الجسر کی حفاظت میں الفانسو کے مقابلے میں توپ کا استعمال کیا اور انگریزی کونٹ ڈرابی اور سابسری نے جو محاصرہ کے وقت موجود تھے بارود کے اس نئے استعمال کو دیکھا اور اس ایجاد کو اپنے ملک لے گئے۔ اور اس کے چار سال بعد کریسی کی جنگ میں انگریزوں نے پہلے پہل توپ کا استعمال کیا۔

شیشہ سازی

اسپین میں شیشہ سازی کی صنعت رومی عہد سے موجود تھی۔ قرطبہ کے قریب جبل شیحران میں شیشے کی ایک بڑی کان تھی جہاں سے بکثرت شیشہ نکالا جاتا تھا۔ اسلامی عہد کے آغاز میں مقامی کاریگر رومی روایات کے مطابق شیشہ تیار کرتے تھے۔ لیکن آٹھویں صدی میلادی تک شیشے کے برتنوں کا استعمال بہت محدود تھا۔ نوی صدی کے وسط میں زریاب مغنی اندلس میں آیا تو اس نے سونے چاندی کے برتنوں کے بجائے بلوریں ظروف کا استعمال کا رواج ڈالا۔
عباس بن فرناس نے جو کہ نویں صدی کے نصف ثانی میں ہوا ہے شیشہ گری کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا اور چکنی مٹی کو بھٹی میں پکا کر شیشہ تیار کرنے کا آغاز کیا اور اسی نے پہلے پہل اسپین میں شیشہ سازی کا کارخانہ قائم کیا۔ اس نے شیشہ سازی کے طریق اور اس میں استعمال ہونے والے مواد کی تیاری پر ایک کتاب بھی لکھی۔ (اس کتاب کا مخطوطہ اسکوریال میں محفوظ ہے۔)

پارچہ بانی

مصر کے قبطی اور ایران کے ساسانی قدیم زمانہ سے صنعت پارچہ بانی میں مشہور تھے۔ مسلمانوں نے جب یہ علاقے فتح کیے تو وہ یہ پارچہ بانی کی صنعت سے متعارف ہوئے۔ اسلامی حکومت کے ابتدائی دور میں پارچہ جات گزشتہ قبطی اور ایرانی طرز کے مطابق بنتے رہے مگر رفتہ رفتہ ایک خالص اسلامی طرز وجود میں آ گیا اور ان تمام ملکوں میں پھیل گیا جو عربوں کے زیرنگیں تھے۔
اسپین میں پارچہ بانی کی صنعت نے اسلامی عہد میں بہت ترقی کی۔ ابن حوقل جس نے دسویں صدی کے نصف ثانی میں اسپین کا دورہ کیا، لکھتا ہے کہ یہاں کا دیباج رنگوں کی بو قلمونی کی وجہ سے بہت شہرت رکھتا ہے گھوڑوں کے لیے سنہری زینیں جتنی عمدہ اسپین میں تیار ہوتی تھیں ان کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی تھی۔ اور بغداد کی مصنوعات کے باہمی تقابلی جائزہ میں اس نے اسپین میں تیار کردہ شاہی ملبوسات کو عراقی ملبوسات پر ترجیح دی ہے۔

کوزہ گری

مسلمانوں نے ابتداء میں ہر جگہ مفتوحہ علاقوں کی کوزہ گری کی مقامی روایات اختیار کیں لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے گلی ظروف کی آرائش کے نئے نئے طریقے ایجاد کرنے شروع کیے۔
اسپین کے کوزہ گروں نے برتنوں پر سنہری رنگ کرنے، مختلف قسم کے رنگوں کی مینا کاری، اور شوخ رنگوں سے نازک تصاویر بنانے میں اپنی نئی روایات قائم کی تھیں۔ بطلیوس، میورقہ اور منورقہ میں گلی ظروف بکثرت بنائے جاتے تھے، شدونہ میں کالی مٹی سے ظروف تیار کیے جاتے، مالقہ، مریہ اور غرناطہ میں برتنوں پر طلائی کام اور مینا کاری کی جاتی تھی۔

اسکاٹ لکھتے ہیں:
"یورپ کے کسی حصہ نے کوزہ گری میں مسالے، ساخت اور خوبصورتی کے لحاظ سے وہ عروج نہیں پایا جو اسپین کی کوزہ گری کو نصیب ہوا۔ اسبانوی عرب محض شوخ رنگوں پر ہی قادر نہیں تھے بلکہ وہ نازک رنگوں میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔ ان کے بنائے ہوئے برتن اس وقت کی معلوم دنیا میں اپنی مثال آپ تھے۔"
ہٹی نے دنیا بھر کی صنعتِ کوزہ گری کے تقابلی تنانظر میں اسپین کی صنعت کا مقام متعین کرتے ہوئے لکھا ہے:
"اسپین کے مٹی کے برتن چین کے سوا کسی دوسرے ملک کے برتنوں سے کم نہ تھے۔"

خلاصہ

یہ ایک مختصر اور محدود خاکہ تھا صرف اسپین کے مسلمانوں کی صنعتی ترقی کا، ورنہ ایک ملک کی ضروریات کے لیے جن صنعتوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ تمام صنعتیں اسپین میں عروج پر تھیں۔ مذکورہ بالا صنعتوں کے علاوہ:

کان کنی
طباعت
ہاتھی دانت
پن چکیاں
چرم سازی
معدنیات پگھلانے کی بھٹیاں
قالین بانی
سونے چاندی کے زیورات

کی صنعت بھی مشہور تھیں۔