001 - بنیاد پرست(چوتھی قسط): نون الف

بنیاد پرست (چوتھی قسط) از نون الف

میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے بازو پر موجود زخم کا نشان کچھ دیر سے تمہاری توجہ کا مرکز ہے۔ شاید میرے کچھ دوستوں کی طرح تمہارا بھی خیال ہے کہ یہ کسی خطرناک مہم جوئی، جیسے پہاڑ وغیرہ سر کرتے ہوئے رسی سے آنے والا نشان ہے۔ اضطراب تمہارے چہرے سے عیاں ہے۔ تم سوچ رہے ہوگے کہ مجھ جیسے میدانی علاقے سے تعلق رکھنے والے کو آخر کس طرح کی مشق کے دوران ایسا زخم لگا۔

لیکن اطمینان رکھو۔ اس کے پیچھے کوئی سنسنی خیز سبب نہیں ہے۔ دراصل ہمارے ملک میں ایک مسئلہ ہے جس سے عین ممکن ہے کہ تم ناواقف ہو، کیونکہ اپنے ہاں وسائل کی فراوانی کی بنا پر تمہارا اس سے کبھی واسطہ نہیں پڑتا۔ یہاں۔۔۔۔ خاص کر سردیوں میں جب ڈیموں میں پانی کی سطح بہت نیچی رہ جاتی ہے۔۔۔ بجلی کی شدید کمی ہوجاتی ہے چنانچہ اس کی فراہمی میں تعطل پڑنے لگتا ہے۔ ہم اسے لوڈ شیڈنگ کہتے ہیں اور اپنی راتوں کو مکمل اندھیرے سے بچانے کے لیے گھروں میں موم بتیاں ذخیرہ کرکے رکھتے ہیں۔ بچپن میں ایسی ہی لوڈ شیڈنگ کے دوران ایک بار میں نے جلتی ہوئی موم بتی کو خود پر گرا لیا تھا، اور گرم گرم موم سے جل کر میرے بازو پر یہ زخم آگیا تھا۔ اگر ایسا کچھ امریکا میں ہوا ہوتا تو یقیناً اتنی غیر محفوظ اور بلند درجہ حرارت پر پگھلنے والی موم استعمال کرنے پر بنانے والی کمپنی کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہاں بس ایک آدھ دن رو دھو کر معاملہ ختم ہوگیا تھا اور یادگار کے طور پرزخم کا نشان رہ گیا۔

آہ، دیکھو اب مارکیٹ کے اوپر قوس کی صورت میں لٹکتی سجاوٹی بتّیاں روشن ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ کیا ان کے رنگ ضرورت سے زیادہ شوخ ہیں؟ درست کہتے ہو، میں خود ان کی جگہ کچھ اور رنگ پسند کرتا۔ مگرایک نظر ہمارے اطراف موجود چہروں اور ان پر موجود مسکراہٹ پر ڈالو۔ یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ اب، یعنی اکیسویں صدی کے آغاز، اور یہاں یعنی ایک بڑے اور روشن شہر میں بھی سورج ڈوبنے کے بعد مصنوعی روشنیاں ہماری نفسیات پر ڈرمائی انداز میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ بڑے شہروں کا ذکر آیا ہے تو ذرا ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کا سینٹ پیٹرک ڈے پر سبز روشنیوں سے منوّر کیا جانا یاد کرو، یا فرینک سناترا کی برسی پر مدھم نیلے رنگ سے۔ یقیناً رات کے وقت نیویارک کی دلکشی دنیا کے حسین ترین مناظر میں سے ایک ہوتی ہے۔

مجھے راتوں کو مین ہٹن میں گھومنا، اس عالم میں کہ ایریکا میری گائیڈ ہوتی تھی، اکثر یاد آتا ہے۔ یونان سے ہماری واپسی کے کچھ ہی روز بعد اس نے مجھے اپنے گھر رات کے کھانے پر مدعو کیا تھا، میں نے وہ دوپہر اسی سوچ بچار میں گزار دی کہ وہاں کیا پہن کر جاؤں۔ میں جانتا تھا کہ اس کا تعلق ایک امیر کبیر خاندان سے ہے، اور میں کچھ ایسا پہننا چاہتا تھا کہ وہ لوگ مجھے خود سے زیادہ مختلف محسوس نہ کریں۔ سوٹ کچھ زیادہ پرتکلف ہوجاتا، بلیزر اس سے بہتر رہتا مگر وہ کئی برس پرانا تھا اوراسے پہن کر میں بھی اپنی عمر سے بڑا لگتا تھا۔ بالآخر میں نے جینز پر ایک نفیس کڑھائی کیا ہوا کرتا پہننے کا فیصلہ کیا۔

یہ نیویارک شہر کی اُس زمانے کی کشادہ دلی اور "کوسموپولیٹن" فطرت کا نتیجہ تھا کہ ایسے حلیے میں سب وے میں سفر کرتے ہوئے مجھے کسی اندیشے نے نہیں ستایا۔ درحقیقت مجھ پر کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔ میرے سفر کا اختتام شہر کے بالائی مشرقی حصّے کے قلب میں واقع ستتّرویں اسٹریٹ پر ہوا۔ وہاں قائم چھوٹے چھوٹے مگر مہنگے ریستوران، پُرتعیش سامان سے بھری دکانیں اور اپنے مختصر الوجود کتّوں کے ہمراہ مختصر تر اسکرٹس زیب تن کئے ٹہلتی دلکش خواتین، یہ سب مجھے بہت دیکھا بھالا سا لگا حالانکہ میں پہلے وہاں کبھی نہیں گیا تھا۔ بعد میں خیال آیا کہ یہ شناسائی ہالی وڈ کی بیشمار فلموں میں بالکل ملتے جلتے مناظر دیکھ رکھنے کی وجہ سے تھی۔

ایریکا کی فیملی ایک متاثر کن عمارت میں رہتی تھی جس کی چھت نیلے رنگ کے وسیع شامیانے سے ڈھکی ہوئی تھی۔ بوڑھے دربان نے مجھے جس انداز میں دیکھا، اگر میں لاہور کے کسی بڑے مینشن کے دروازے پر کسی پرانی اور سستی سی کارمیں چلا جاتا تو وہاں کا چوکیدار بھی مجھ پر ویسی ہی نظر ڈالتا۔ قدرتی طور پر جواب دیتے ہوئے میرا لہجہ بھی قدرے تحکمانہ ہوگیا، میں نے اپنی آمد کا سبب اس انداز میں بتایا کہ اسے میری خفگی کا بھی اندازہ ہوجائے۔ نتیجہ حسبِ منشا برآمد ہوا، اس نے نہ صرف فی الفور اوپر کال کرکے معلوم کیا کہ میں واقعی مدعو ہوں، بلکہ اپنی رہنمائی میں مجھے لفٹ تک بھی لے کر گیا۔ مجھے "پینٹ ہاؤس" کا بٹن دبانے کی ہدایت ملی تھی اور میرے ذہن میں اس لفظ کے ساتھ عیاشی کی زندگی کا تصوّر جڑا تھا۔ سو جب میں ذہن میں بلند توقعات لیے ایریکا کے فلیٹ کے دروازے پر پہنچا تو اس سے قبل کہ میں دستک دیتا، دروازہ کھل گیا۔

ایریکا نے میرا استقبال ایک صحت مند مسکراہٹ کے ساتھ کیا۔ صحت صرف اس کی مسکراہٹ ہی نہیں بلکہ جلد کی چمک سے بھی مترشح تھی۔ میں اس کے ملکوتی حسن کو قریب قریب بھول ہی گیا تھا، مگر اس لمحے جب ہم دروازے پر آمنے سامنے بہت نزدیک کھڑے تھے، مجھے اپنی نظریں جھکانی پڑ گئیں۔ "واہ بھئی۔" اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے کرتے کی کڑھائی کو انگلیوں کی پوروں سے چھوا۔ "بہت زبردست لگ رہے ہو ۔" میں نے بھی اس کے متعلق اسی رائے کا اظہار کیا، جو کچھ غلط بھی نہ تھی، ہر چند کہ اس نے مائٹی ماؤس والی مختصر ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اور صاف ظاہر تھا کہ میری طرح اس کا بہت سا وقت لباس کے چناؤ کی فکر میں صرف نہیں ہوا تھا۔ اس نےکہا کہ وہ مجھے کچھ دکھانا چاہتی تھی اور میں اس کے پیچھے چلتا ہوا اس کے بیڈروم میں آگیا۔ وہ رقبے میں میرے پورے فلیٹ سے دوگنا تھا جس پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے پر مجھے ان گنت کتابیں، ایک میز پر رکھا کمپیوٹر اور لیزر پرنٹر، کپڑوں سے اٹا جہازی سائز کا بیڈ اور ایک زنجیر کے ذریعے چھت سے لٹکتا پنچنگ بیگ دکھائی دیئے۔ مختصر یہ کہ اس میں ایک برسوں سےآباد کمرے کی بھرپور خصوصیات تھیں۔

مجھے عجیب سا احساس ہونے لگا، جیسے میں اپنے گھر میں ہوں۔ شاید اس لیے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے میری رہائش گاہیں بہت جلدی جلدی تبدیل ہوتی رہی تھیں۔ یا شاید اس وجہ سے کہ مجھے اپنا خاندان اور ان کے ساتھ اپنے گھر میں گزارا ہوا وقت یاد آرہا تھا۔ میرا گھر اور میرا اپنا کمرہ بھی کئی اعتبار سے ایسے ہی تھے۔ جو کچھ بھی تھا، اس احساس سے میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ مجھے مسکراتا دیکھ کر ایریکا بھی مسکرا دی۔ پھر اس نے ایک کتھئی رنگ کا لفافہ اٹھایا جو دیکھنے میں ہلکاپھلکا سا لگ رہا تھا۔

"یہ اب مکمل ہے۔" اس نے کہا۔ میں نے اس کے مزید کچھ کہنے کا انتظار کیا، اورجب وہ کچھ نہ بولی تو پوچھا۔ "کیا ہے یہ؟"۔ "میرے ناول کا اسکرپٹ۔" اس نے بتایا۔ "میں کل اسے ایک ایجنٹ کو بھیج رہی ہوں۔" میں نے بہت عقیدت سے لفافے کو اپنی ہتھیلیوں پر رکھ لیا۔ "بہت بہت مبارک ہو۔" پھر اتنی بات کو ناکافی محسوس کرکے مزید گویا ہوا۔ "کیا یہ بس اتنا ہی ہے؟" وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔ "یہ ایک قدرے مختصر ناول ہے۔ پڑھنے والے کو اپنے خیالات کی گونج سننے کے لیے اس میں بہت سی جگہ میسر آتی ہے"۔ میں نے لفافے کو الٹ پلٹ کر سراہنے والی نظروں سے دیکھا اور پھر پوچھا۔ "کیا تم نروس ہو؟"۔ "نروس سے زیادہ، میں ڈھلمل یقین ہو رہی ہوں۔" وہ ہنسی۔ "مجھے لگ رہا ہے جیسے میں ایک سیپ ہوں، جس نے اپنے اندر آجانے والے نوکدار کنکر کی چبھن سے خود کو بچانے کے لیے اسے موتی میں بدل ڈالا ہے، اور اب جب اس کے نکلنے کا وقت ہے تو میں اپنے اندر پیدا ہوجانے والے خلا کے ڈر سے کچھ دیر مزید اسے اپنے پاس روکنا چاہتی ہوں۔"
"تو تم ایسا کر کیوں نہیں لیتیں۔" میں نے لفافہ اسے واپس دیتے ہوئے پوچھا۔ "یہ میں پہلے ہی کرچکی ہوں۔" وہ بولی، اور پھر سے مسکرانے لگی۔ "یہ ہمارے یونان جانے سے پہلے سے اس لفافے میں بند ہے۔"

مجھے ایریکا کی طرف سے اعتماد کے اس انداز میں اظہار پر بیک وقت خوشی اور فخر محسوس ہوا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا، اور پہلی بار مجھے ان میں شکستگی کا عنصر نظر آیا، بالکل کسی ہیرے میں پڑی بہت معمولی سی دراڑ کی طرح، جو صرف محدب عدسے سے دیکھنے پر نظر آتی ہے وگرنہ ہیرے کی چمک دمک اسے چھپائے رکھتی ہے۔ میں نے اس کے بارے میں جاننا چاہا، یہ پوچھنا چاہا کہ وہ کونسا نوکدار کنکر تھا جسے اس نے سیپ بن کر موتی میں ڈھالا ہے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ یہ گستاخی ہوگی، ایسی باتیں کب اور کسے بتانی ہیں، یہ ہر ایک اپنے طور پر طے کرتا ہے۔ لہٰذا میں نے صرف اپنے تاثرات سے اسے جتایا کہ میں اسے زیادہ سے زیادہ سمجھنا چاہتا ہوں اور منہ سے مزید کچھ نہ کہا۔

کمرے سے نکلتے ہوئے میری نظر دیوار پر ٹنگے ایک اسکیچ پر ٹھہر گئی۔ منظر گہرے بادلوں سے ڈھکے آسمان تلے ایک جزیرے کا تھا۔ جزیرے کے بیچوں بیچ ایک عمودی آتش فشاں تھا جس کے دہانے میں ایک جھیل تھی اور جھیل کے درمیان میں ایک اور چھوٹا سا جزیرہ ۔۔۔۔ جزیرے میں جزیرہ۔۔۔۔ انتہا درجے کا محفوظ اور پرسکون۔ "یہ کیا ہے؟" میں نے پوچھا۔ "یہ کِرِس نے بنایا تھا۔" اس نے جواب دیا۔ "تب ہم شاید آٹھ یا نو برس کے تھے۔ اس کا خیال کامِک سیریز 'فلائٹ 714' سے لیا ہوا ہے۔"
"بہت ہی خوبصورت ہے۔" میں نے کہا۔
"ہاں۔ سو تو ہے۔" اس نے سر ہلایا۔ "یہ اس کی والدہ نے مجھے دیا تھا جب وہ اس کا سامان چھانٹ رہی تھیں۔" میں نے اس اسکیچ کو ایک لحظہ مزید رک کر دیکھا۔ اس میں جزئیات کو جتنی اہمیت دی گئی تھی، اسے دیکھ کر مجھے ان منی ایچر پینٹگز کا خیال آیا جو لاہور کے عجائب گھر یا نیشنل کالج آف آرٹس گھومتے ہوئے جابجا نظر آتی ہیں۔

ایریکا مجھے لے کر اپنی چھت پر آگئی۔ یہاں سے مین ہٹن کا نظارہ انتہائی شاندار تھا۔ اس نے مجھے اپنے والدین سے ملوایا۔ اس کی والدہ ایک ٹیبل ٹینس ٹیبل کے پاس بیٹھی تھیں جسے خاص کر ہمارے ڈنر کے لیے چار حصوں میں ترتیب دیا گیا تھا۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھام کر ہیلو کہا، اور پھر، میرے ہاتھ تھامے ہوئے ہی، شرف قبولیت بخشنے کے سے انداز میں ایریکا سے بولیں۔ "بہت اچھا ہے۔"
"بری بات ہے، موم۔" ایریکا نے جواب دیا۔ اس کے والد ایک گِرِل کے سامنے کھڑے ہیم برگرز پلیٹوں میں رکھ رہے تھے۔ ان کا انداز اور طور طریقہ بتاتا تھا کہ وہ کارپوریٹ دنیا میں خاصی اہمیت کے حامل فرد تھے۔ جب ہم کھانے کے لیے اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تو انہوں نے سرخ وائن کی بوتل اٹھائی اور مجھ سے پوچھا۔
"تم پیتے ہو؟" "اس کی عمر بائیس سال ہے۔" میری طرف سے ایریکا کی والدہ نے جواب دیا، ایسے لہجے میں جس کا مطلب تھا "تو ظاہر ہے کہ یہ پیتا ہے۔" "میرے پاس ایک زمانے میں ایک پاکستانی صاحب کام کرتے تھے۔" ایریکا کے والد بولے۔ "وہ پینے پلانے کے بالکل قائل نہیں تھے۔" "میں پیتا ہوں سر۔" میں نے یقین دلانے کے انداز میں کہا۔

تم حیران دکھائی دیتے ہو، اور یہ پہلی بار نہیں ہے۔ غالباً تم میری داڑھی کا غلط مطلب لے رہے ہو، اور ویسے بھی، جب میں نیویارک میں تھا تو میں نے داڑھی نہیں رکھی ہوئی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ بہت سے پاکستانی شراب پیتے ہیں، الکوحل کی بندش نے ہمارے ہاں وہی اثرات مرتب کیے ہیں جو تمہارے ہاں ماریجوانا پر پابندی کے نتیجے میں ظاہر ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے ہاں کے سب پینے والے میری طرح باہر کے اعلٰی تعلیم یافتہ بھی نہیں ہوتے، ہمارے اخباروں میں اکثر ایسی خبریں آتی ہیں جن میں دیہاتیوں کے زہریلی کچی شراب پی کر جان سے جانے یا اندھے ہوجانے کا ذکر ہوتا ہے۔ ہماری شاعری اور لوک موسیقی میں بھی عالم مدہوشی کا محبت اور تصوف سے گہرا تعلق کثرت سے بیان ہوا ہے۔ کیا؟ یہ گناہ نہیں ہے؟ یقیناً ہے، اُتنا ہی گناہ ہے جتنا عیسائیت میں اپنے پڑوسی کی بیوی پر بری نظر رکھنا۔ تمہاری مسکراہٹ بتاتی ہے کہ میری بات تمہاری سمجھ میں آگئی ہے۔

لیکن میں موضوع سے ہٹ رہا ہوں۔ میں تمہیں ایریکا کی فیملی کے ساتھ اپنے پہلے ڈنر کے متعلق بتا رہا تھا۔ وہ ایک نسبتاً گرم شام تھی۔ جیسے یہ ہے۔۔۔ نیویارک کی گرمیاں اور لاہور کی بہار تقریباً ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ آج ہی کی طرح اس دن بھی ہوا چل رہی تھی اور ایسی ہی شعلوں پر پکے ہوئے گوشت کی خوشبو ماحول میں تھی جو یہاں ان بہت سے ریستورانوں سے آرہی ہے جنہوں نے رات کا کھانا تیار کرنا شروع کردیا ہے۔ انتظام زبردست تھا، وائن بے حد خوش ذائقہ تھی، اتنے ہی لذیذ برگر اور ہماری گفتگو بھی زیادہ تر دورانیے میں خوشگوار رہی۔ ایریکا میری وہاں موجودگی کے سبب خوش تھی اور اس کی خوشی نے مجھ پر بھی اثر ڈالا تھا۔

لیکن ایک موقعے پر مجھے گفتگو کے دوران اپنا جھنجلا سا جانا یاد ہے۔ ایریکا کے والد نے مجھ سے پاکستان اور وہاں کے حالات کے متعلق پوچھا تھا اور میرا جواب کچھ "سب اچھا ہے" قسم کا تھا۔ اس پر وہ کہنے لگے "لیکن معیشت کا تو برا حال ہے۔ نہیں؟ بدعنوانی، آمریت، امیروں کی عیاشیاں اور غریبوں کا بدترین حالات میں زندگی گزارنا۔ میری بات کا غلط مطلب مت لینا، پاکستانی بہت جفاکش لوگ ہوتے ہیں اور میں انہیں پسند کرتا ہوں۔ لیکن اشرافیہ نے اس ملک کا بری طرح خانہ خراب کردیا ہے۔ اور ہاں، بنیاد پرستی! بنیاد پرستی بھی تمہارے ہاں کا انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔"

میں نے خود پر بمشکل قابو پایا۔ درحقیقت انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جس پر آسانی سے اعتراض کیا جاسکتا۔ مگر ان کے لہجے میں دبی خاص امریکی شفقت نے میرے اندر کچھ منفی ڈوریوں کو زور سے ہلادیا۔ "یہ ٹھیک ہے کہ مشکلات بھی ہیں، سر۔ لیکن میری فیملی وہاں ہے، اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ حالات اتنے برے نہیں ہیں۔" میں ان کے رتبے کو مد نظر رکھتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ سکا۔

خوش قسمتی سے، ہمارا باقی ماندہ ڈنر بنا کسی پیچیدگی کے گزر گیا۔ اس کے بعد میں اور ایریکا ٹیکسی لے کر چیلسی کی جانب چل دیئے۔ وہاں ایریکا کی ایک دوست نے۔۔۔ جو ایک آرٹ گیلری کے مالک کی بیٹی تھی۔۔۔ اسے ایک شو کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بلایا تھا۔ میں نے ٹیکسی ڈرائیور کو موبائل پر پنجابی میں بات کرتے سنا اور لہجے سے جان لیا کہ وہ پاکستانی تھا۔ عام طور پر ایسے میں، میں کچھ نہ کچھ بات کرلیا کرتا تھا مگر اس رات میں خاموش رہا۔ ایریکا مجھے خاصی پرتجسس نگاہوں سے دیکھ رہی تھی، بالآخر کہنے لگی ۔"مجھے امید ہے کہ تم نے ڈیڈ کی باتوں کا برا نہیں منایا ہوگا۔"
"ارے ارے، ہرگز نہیں، ذرا بھی نہیں۔" میں نے جواب دیا۔ وہ ہنسنے لگی۔"تمہیں تو جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا۔ تم اپنے ملک، اپنے لوگوں کے معاملے میں حسّاس ہو۔ یہ تمہارے چہرے پر لکھا ہے۔"
"تو پھر میں معذرت چاہتا ہوں۔" میں نے کہا۔"مجھے تلخ ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔" "تم ذرا بھی تلخ نہیں ہوئے۔" وہ مسکراتے ہوئے بولی۔ "اور میرا خیال ہے کہ کبھی کبھی حسّاس ہونا اچھا رہتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کیئر کرتے ہو۔"

منزل پر پہنچ کر میں نے اصرار کرکے کرایہ ادا کیا۔ پھر ایریکا میرا ہاتھ تھام کر ایک بے ڈھب اور فرسودہ سی عمارت کی طرف بڑھ گئی۔ اندر داخل ہوتے ہوئے میں نے موسیقی کی آواز سنی جو ہمارے سیڑھیاں چڑھنے کے ساتھ ساتھ بلند تر ہوتی گئی حتیٰ کہ ہم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے اور پوری طرح شور میں گھِر گئے۔ وہ واضح لکیروں اور کم سے کم جگہ گھیرنے والے سامان سے سجی ایک بہت کشادہ گیلری تھی جس پر سفید رنگ غالب تھا۔ اندر رنگ و نور کا ایک سیلاب سا آیا ہوا تھا۔ چاروں طرف ویڈیو پروجیکشن چل رہی تھیں۔ یہ شہر کے فیشن ایبل اور طرحدار ترین افراد کا مرکز تھا اور میری یہاں تک رسائی ایریکا سے تعلق کے بغیر ناممکن تھی۔ ہم مشہور فیشن ماڈلز کے پاس سے گزرے، ہم نے جلد کی سرجری کرا کے پھر سے نوجوان لگنے والے عمررسیدہ مردوں اور عررتوں کو دیکھا، اور وہاں لباس کا جو عام چلن تھا، اس سے موازنہ کرکے مجھے خوشی ہونے لگی کہ میں نے کرتا پہننا پسند کیا تھا۔

ایریکا ایک بار پھر اپنے دوستوں کے درمیان تھی، ایسے دوست جن میں سے کسی کو بھی میں نہیں جانتا تھا۔ میں نے لوگوں کو اس کی جانب کھنچتے ہوئے دیکھا، اور مجھے وہ کشش ثقل یاد آ گئی جس میں اس نے یونان میں ہمارے پورے گروپ کو جکڑ رکھا تھا۔ اس کے باوجود یہاں صورتحال مختلف تھی، یہاں وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر آئی تھی اورپوری شام گاہے بگاہے کبھی میری جانب دیکھ کر، کبھی مجھے ڈرنک کی پیشکش کرکے اورکبھی میری کہنی اور بازو کو چھوکر وہ اس بات کا احساس دلاتی رہی تھی۔ رات گئے جب اسے اکیلے گھر واپس جانا تھا اور میں اس کے لیے ٹیکسی دروازہ کھولے کھڑا تھا تو اس نے بیٹھنے سے قبل میرا گال چوم لیا۔ "تمہارا بہت بہت شکریہ۔" اس نے مسکراتے ہوئے یہ کہہ کر مجھے حیران کردیا، میرے خیال سے مجھے اُس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا مگر میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی ٹیکسی آگے بڑھ چکی تھی۔

آنے والے ہفتوں میں اُس نے کئی مرتبہ مختلف مواقع پر مجھے مدعو کیا۔ مگر پہلی بار کے سوا ۔۔۔ جب اُس کے کمرے میں اور پھر ٹیکسی میں ہم تنہا تھے۔۔۔ ہمیں خلوت میسر نہ آسکی۔ ہم کبھی کسی موسیقی کی تقریب میں ملتے اور کبھی کسی ریستوران یا پارٹی میں مگر ہمیشہ دوسرے بہت سے لوگ بھی ان مواقع پر موجود ہوتے تھے۔ اکثر و بیشتر میں خود کو شناساؤں کے بیچ گھِری ایریکا کا بغور مشاہدہ کرتے پاتا۔ کئی دفعہ وہ کھوئی کھوئی سی لگتی، جیسے اپنے اندر اُتر کر کچھ تلاش کررہی ہو۔ ایسے میں وہ کسی ایسے بچے کی طرح لگتی جسے صرف جلتی روشنیوں اور کھلے دروازے کے ساتھ نیند آتی ہو۔

کبھی کبھی وہ میری نگاہِ شوق کو بھانپ لیتی، اور ایسے میں مجھے دیکھ کر یوں مسکراتی۔۔۔ یا کم از کم مجھے ایسا لگتا ۔۔۔ جیسے ٹھنڈے موسم میں چہل قدمی کرتے ہوئے میں نے اس کے گرد اپنی شال لپیٹ دی ہو۔ ان سب مواقع پر ہمارے بیچ صرف خوش طبعی کاتبادلہ ہوتا تھا، اس کے باوجود ہمارا باہمی تعلق گہرا ہوتا جارہا تھا۔ ہر ایسی شام کے اختتام پر بچھڑنے سے قبل وہ میرا گال ضرور چومتی، اور مجھے لگتا جیسے ہر دفعہ کا بوسہ پچھلی دفعہ کے مقابلے میں قدرے طویل ہوتا تھا۔

میرے صبر و تحمل کا انعام مجھے منیلا روانہ ہونے سے ایک ہفتہ پہلے ملا، جب ایریکا نے سینٹرل پارک میں مجھے لنچ پر مدعو کیا اور وہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ اس دعوت میں ہم دونوں کے سوا کوئی شریک نہیں تھا۔ وہ اخیر جولائی کی ایک شاندار دوپہر تھی جب بحر اوقیانوس کی جانب سے چلنے والی سخت ہوائیں درختوں کو اکڑا دیتی ہیں اور آسمان بادلوں سے گھر جاتا ہے۔ تو تم خوب واقف ہو؟ بالکل، اِن دنوں میں ہوا ذرا بھی مرطوب نہیں رہتی اور شہرکی فضا ٹھنڈی اور نمکین سی ہوجاتی ہے۔ ایریکا نے تنکوں کا بنا ہوا ہیٹ پہن رکھا تھا اور اپنے ساتھ بید کی ٹوکری میں وائن، تازہ ڈبل روٹی، گوشت کے پارچے، کئی طرح کے پنیر اور انگور رکھ کر لائی تھی جو میرے نزدیک انتہائی زبردست انتظام تھا۔

ہم گھاس پر بیٹھ کر کھانے اورباتیں کرنے لگے۔ "کیا لاہور میں لوگ پکنِک پرجاتے ہیں؟" اس نے دریافت کیا۔ "گرمیوں میں تو بہت ہی کم۔" میں نے اسے بتایا۔ "خاص کر دوپہر کے وقت تو بالکل نہیں۔ اس وقت دھوپ اتنی تیز ہوتی ہے کہ کھلی فضا میں زیادہ دیر رکنا ناممکن ہوتا ہے۔" "پھر تو تمہیں یہ سب خاصا اجنبی لگ رہا ہوگا۔ ہے نا؟" اس نے کہا۔ "نہیں۔" میں نے جواب دیا۔ "بلکہ مجھے گرمیوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نتھیا گلی جانا یاد آرہا ہے جو ہمالیہ کے نشیبی علاقے میں ہے۔ وہاں ہم اسی طرح کھلی فضا میں بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔۔ ہمراہ چائے اور کھیرے کے سینڈوچز کے جو ہوٹل کی طرف سے ہوتے تھے۔" وہ اس منظر کشی پر مسکرادی، پھر خاموش ہوکر کچھ سوچنے لگی۔

"میں بھی ایک طویل عرصے کے بعد یہ سب کررہی ہوں۔" کچھ دیر بعد اس نے مجھے بتایا۔ "کِرس اور میں اس پارک میں اکثر آیا کرتے تھے۔ ہم یہ ٹوکری ساتھ لاتے اور گھنٹوں بیٹھ کر پڑھتے یا باتیں کرتے رہتے تھے۔" "کیا تم نے اس کے انتقال کے بعد یہاں آنا چھوڑ دیا تھا؟" میں نے پوچھا۔ "صرف یہ نہیں۔ اور بہت سی چیزیں بھی۔" اس نے ایک چھوٹا سا پھول توڑتے ہوئے جواب دیا۔ "میں نے لوگوں سے بات کرنا چھوڑ دیا تھا۔ کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔ مجھے ہسپتال جانا پڑا تھا۔ وہ مجھے کہتے تھے اس بارے میں بالکل نہ سوچوں اور مجھے مسکّن دواؤں پر رکھا ہوا تھا۔ میری والدہ کو میری وجہ سے تین ماہ کی چھٹی لینی پڑی تھی کیونکہ میں خود اپنا خیال رکھنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ البتہ ہم نے اس بات کو پھیلنے نہیں دیا تھا اور ستمبر تک میں واپس پرنسٹن جانے کے قابل ہوگئی تھی۔"

اتنا کہہ کر وہ چپ ہوگئی۔ یہ سب اس نے معمول سے ذرا دھیمے لہجے میں بتایا تھا۔ مگر میں نے ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں اُسی دراڑ کو دیکھا، جو اس دفعہ پہلے سے زیادہ گہری تھی، اور اپنے دل کو ایریکا کے لیے پگھلتا ہوا محسوس کیا۔ جب ہم واپس جانے کے لیے اٹھے تو میں نے اسے سہارے کے لیے اپنا بازو پیش کیا جسے اُس نے جھینپی سی مسکراہٹ کے ساتھ قبول کرلیا۔ پھر ہم دونوں ایسے ہی ساتھ ساتھ چلتے ہوئے سنٹرل پارک سے باہر آگئے۔ مجھے اپنے بازو پر اس کی ہموار اور خنک جلد کا احساس اب تک اچھی طرح یاد ہے۔ ہم پہلے کبھی اتنی دیر تک اتنے پاس نہیں رہے تھے۔ یہ سنسنی خیز خیال کہ اس توانا جسم سے منسلک روح کس قدر گھائل ہے، بہت وقت تک میرے ساتھ رہا تھا۔ حتٰی کہ ہفتوں بعد تک کتنی ہی بار منیلا کے ہوٹل میں اسی سنسنی کے باعث میری آنکھ کھل جاتی تھی۔ یوں لگتا جیسے مجھے کسی آسیب نے چھو لیا ہو۔

اوہ ہو۔ لائٹ چلی گئی۔ لیکن تم کیوں اس طرح اچھل کر کھڑے ہوگئے ہو؟ اتنے خوفزدہ مت ہو، میں نے بتایا تو ہے کہ بجلی کا آنا جانا پاکستان میں معمول کی بات ہے۔ اور ابھی تو کچھ خاص اندھیرا بھی نہیں ہوا۔ آسمان میں ابھی تک رنگ کی جھلک باقی ہے، اور مجھ کو تم اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑے بالکل واضح دکھائی دے رہے ہو۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ یہاں کوئی تمہارا والٹ نہیں چرائے گا۔ اچھا خاصا بڑا شہر ہونے کے باوجود لاہور اس طرح کے معمولی جرائم سے بڑی حد تک پاک ہے۔ خدا کے لیے بیٹھ جاؤ، ورنہ مجبوراً مجھے بھی کھڑا ہونا پڑے گا۔ ظاہر ہے یہ اچھا تھوڑی لگے گا کہ میرا مہمان پریشانی کے عالم میں کھڑا ہو اور میں اطمینان سے بیٹھا رہوں۔

لو۔ آگئی واپس! شکر ہے کہ یہ ذرا سی دیر کا تعطل تھا۔ پر تم تو ایسے اچھل پڑے تھے جیسے کوئی چوہا کسی عقاب کے جھپٹنے پر اچھلتا ہے! اگر کسی طرح ممکن ہوتا تو میں تمہیارے اعصاب پرسکون کرنے کے لیے تمہیں وہسکی منگوا دیتا۔ "جیک ڈینئل" ٹھیک رہتی۔ ہیں؟ تم مسکرا رہے ہو، مطلب میں نے دکھتی رگ پر ہاتھ ڈالا ہے۔ مگر افسوس کہ اس مارکیٹ میں پینے کے لیے جتنی بھی ایسی چیزیں ملتی ہیں جن کے ڈانڈے تمہارے ملک سے جاملیں، وہ کاربونیٹڈ سوفٹ ڈرنکس ہیں۔ اسی سے کام چل جائے گا؟ تو پھر میں جلدی سے اپنے ویٹر سے کہے دیتا ہوں۔