003 - بابا جمع جنات حاصل: سائرہ علی

بابا جمع جنات حاصل۔۔۔۔۔۔

"دڑبے والا گندا کالا چوزا جمع ۔ ۔ ۔ صحن والا لال چوزا جمع ۔ ۔ ۔ گلی والا بھورا چوزا جمع دو پیلے چوزے ۔ ۔ ۔ حاصل ۔ ۔ ۔"
اس کے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے نے انگلیوں کے پوروں پر حرکت شروع کر دی۔ منجھلی انگلی کے دوسرے پور پر انگوٹھا رک گیا۔ لال چبائے ہوئے ہونٹوں نے موتیوں کی دو لڑیوں کی نمائش کر دی۔
"پانچ چوزے!"
مٹی میں اٹے ہوئے ہاتھوں نے بے اختیار تالیاں بجائیں تھیں۔ آج اس کے اسکول کی چھٹی تھی۔ آج اس کا چوزوں اور مٹی سے کھیلنے کا دن تھا اور آج تو اسے چوزوں کا جمع حاصل بھی کھیلنا تھا۔ پچھلے ہفتے ہی تو اس کی استانی نے جمع حاصل سکھایا تھا۔ امے کے کام پر جانے کے بعد سے وہ اب تک چوزوں پر مٹی پھینکنے اور ان کے پیچھے دوڑنے کے دوران کوئی آٹھ دفعہ چوزوں کا جمع حاصل بھی کھیل چکا تھا۔
"صغیرےےےےےے!!!!!! یہ تو کیا کر رہا ہے گلی میں؟!!!!!!"
اس نے چوزوں پر پھینکنے کے لئے مٹھی میں دبائی مٹی پھینکی اور دروازے کی جانب دوڑ لگا دی پر حسنہ نے اسے چوکھٹ میں ہی آن دبوچا۔
"کتنی بار سمجھایا ہے تجھے!!!۔۔۔۔۔ نہ شغل کیا کر مٹی سے پر تیرے دماغ میں تو کچھ ٹھونستا ہی نہیں ہے!!!!"
حسنہ نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کنپٹی پر دوہتڑ جڑ دیا اور اسے گلی میں واپس گھسیٹ لائی۔ گلی کے نکڑ پر ایک بڑے سینگوں والی گائے اپنی پسلیوں کی نمائش کرتی مکھیوں کے غول کی زوں زاں سے بے نیاز کچرا چھانٹنے میں مصروف تھی۔
"دیکھ۔۔۔۔۔ اپنے پاؤں دیکھ اور اس گائے کے دیکھ! کوئی فرق نظر آوے ہے کیا؟؟؟"
"امے گائے کے دو جمع دو پورے چار ہیں اور میرے ایک جمع ایک دو۔۔۔۔۔"
حسنہ نے اس کی کمر پر دو دھپ رسید کرتے ہوئے چوکھٹ کے اندر دھکیل دیا۔
"دو جمع ایک۔۔۔۔۔ بے حیا! ریاضی دان بنتا ہے۔۔۔۔۔ چل۔۔۔۔۔ چل انسان کی اولاد تجھے نہلاؤں۔۔۔۔۔ لے چپل پہن اور غسل خانے میں جاکر کھڑا ہو۔۔۔۔۔ اور چپل باہر اتارنا! میں تیری نوکرانی نہیں ہوں جو پورا دن دوسروں کے غسل خانے دھونے کے بعد تیری وجہ سے گھر کا غسل خانہ بھی دھوؤں۔"
"انسان کی اولاد" کہنا اس نے صادقہ باجی سے سیکھا تھا۔ صادقہ باجی گالیاں دینے کے سخت خلاف تھیں۔ کبھی بہت غصے میں ہوتی تھیں تو اپنے بچوں کو "انسان کی اولاد" بول دیتی تھیں۔ صادقہ باجی کی ساس کہا کرتی تھیں کہ گالیاں نصیب پھوڑ دیتی ہیں اور ہر آئے گئے کو فخریہ بتاتیں کہ ان کی ڈاکٹر بہو گالیاں نہیں دیتی ہے۔ حسنہ کو لگتا تھا کہ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے بچے کم ہی بیمار پڑتے تھے۔
حسنہ اپنے کمرے میں رکھا نچلا ٹرنک کھنگالنے لگی۔ وہ ایک تھیلی میں صغیر کا کرتہ شلوار، جراثیم مار صابن جو صادقہ باجی آدھے سے زیادہ استعمال ہو جانے کے بعد اسے دے دیا کرتی تھیں، جھاواں اور تولیے کے نام پر استعمال ہونے والا اپنا پرانا سوتی دوپٹہ ڈالتی غسل خانے میں جا گھسی۔۔
"تجھے کھیلنا ہے تو کھیل پر تو چوزوں اور مٹی سے شغل کرنا چھوڑ دے، صادقہ باجی کہتی ہیں کہ مٹی اور چوزوں میں بہت جراثیم ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ اب اگر تو بیمار پڑتا ہے تو میں تجھے دیکھوں گی، کہ کام پر جاؤں گی۔۔۔۔۔ تو اب یہ شغل کر کے دیکھ میں نے تیرا منہ مار مار کر راااانگ دینا ہے!!!!!!"
صغیر کو رنگے جانے سے بہت ڈر لگتا تھا۔ گاؤں میں اس کی چاچی جب دوپٹے رنگتی تھی تو بہت بڑی آگ روشن کرتی تھی اور کڑاہی میں سے بہت دھواں اٹھتا تھا۔
"شغل جمع مٹی جمع چوزے حاصل منہ راااانگے۔"
اس کے سوچوں کے جہاں میں ایک نیا جمع حاصل جھلک دکھلا گیا اور اس کے جسم کو کچھ اور زیادہ کپکپا گیا۔ نومبر کے شروع کے دن تھے۔ شام ہوتے ہوتے پانی سرد سے سرد ہوا چلا جاتا تھا اور اس وقت صغیر کو تو چاچے بشیر کی مٹکے والی قلفی یاد دلا گیا تھا۔
"شغل جمع مٹی جمع چوزے حاصل سردییییی۔"
ایک اور جمع حاصل سوچوں میں زبردستی آن گھسا۔ یہ زمانے کے سرد و گرم کھا کر گہری نیند سو جانے والا ذہن نہ تھا۔ یہ تو ننھا جاگتا ذہن تھا۔
رات گئے تک چھ سالہ صغیر کو شدید بخار نے جکڑ لیا۔ حسنہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دنیا کی ساری مٹی کو آگ لگا دے اور چوزوں کو ذبح کر ڈالے۔ صغیر کو کوسنے کے لئے بھی اس کی زبان میں بڑی کھجلی ہو رہی تھی پر وہ صادقہ باجی کے ڈراوے کی بنا پر صرف دانت پیسنے اور کچکچانے پر ہی اکتفا کر رہی تھی۔
آجکل اس پر ویسے ہی کام کا بہت زیادہ بوجھ تھا۔ اسے پہلے صغیر کی اسکول کی فیس جمع کرنے کے لئے چار گھروں میں کام کرنا پڑتا تھا۔ گاؤں سے اس کا دیور اور بیمار سسر جو اس کا ماما بھی تھا یہاں شہر اس کے گھر آئے ہوئے تھے۔ رشید نے تو صغیر کو گھر بٹھانے کی بات کی تھی کہ وہ رقم بھی ابا کے علاج کے لئے کام آ جائے گی پر اس نے رشید کی بات مان کر نہ دی بلکہ خرچا پورا کرنے کے لئے دوگنے سے زیادہ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ اب اس کے پاس نو گھر تھے۔
رشید اب شام کو بھی ڈرائیوری کرنے لگا تھا اور اس کا چھوٹا بھائی نذیر بھی قریبی پرچون کی دکان پر کام پر لگ گیا تھا۔ پر اس کے باوجود ہر ہفتے بابا فضل دین کے لئے بستی کے ڈاکٹر کی بتائی ہوئی دوائیوں کا خرچہ بہت مشکل سے پورا ہوتا تھا۔ فضل دین کی کھانسی تھی کہ تھمتی ہی نہ تھی اور دھونکنی کی طرح چلتی سانس تھی کہ پُر سکون ہوتی ہی نہ تھی۔ اور اب یہ ایک نیا خرچہ نکل آیا تھا۔ صادقہ باجی میکے گئی ہوئی تھیں ورنہ وہ اسے مفت دوا دے دیتی تھیں۔
بستی کے ڈاکٹر کے مطب پر بیٹھی وہ پیسے کا حساب کتاب کرتی ایک اور الجھن میں گرفتار تھی۔
"نذیر تو دن میں ایک یا دو بار ماما فضل کو دیکھنے آ جاتا ہے پر اس دوران اگر میرے صغیرے کی طبعیت بگڑ گئی تو وہ کس کو آواز دے گا؟ کیا میرا صغیرا گھر میں اکیلا پڑا بخار میں جلتا بھنتا رہے گا؟ ہائےےےے خدا میں کیا کروں؟"
ڈاکٹر صاحب نے معمولی بخار کہا تو اس نے صد شکر کیا۔ پر مسئلہ تو تب بھی جوں کا توں کھڑا تھا۔ ایسے میں اس کا دھیان مائی وحیدن کی بارہ سالہ بیٹی صغراں کی جانب بھٹک گیا۔
صغیر کو لال شربت کے دو چمچ پلا کر اب وہ مائی وحیدن کے گھر کا دروازہ کھڑکھڑا رہی تھی۔
"مائی صغراں سے کہو کہ کل میرے صغیرے کے پاس شام تک بیٹھ جائے۔ رب نہ کرے کہ میرے صغیرے کا بخار بگڑے پر اگر ایسا ہو تو یہ نذیر کو دکان سے بلا لائے۔ میں روٹی بنا کر جاتی ہوں۔ نذیر دوپہر میں ماما کو روٹی کھلانے آتا ہے۔ وہ صغیر کو بھی کھلا دے گا اور اسے شربت بھی دے دے گا۔ صغراں کے لئے بھی بنا کر رکھ جاؤں گی۔"
"اے صغراں ضرور بیٹھے گی پر تو یہ موئی منہ سکھاتی ڈاکٹری دوا کیوں کھلاتی ہے ری؟ مرمر کر تو فائدہ کرتی ہیں اور ساتھ میں کمزوری بھی جسم پر لادتی ہیں۔ کسی پیر فقیر سے جھاڑ پھونک کروا لیا کر۔ کبھی پھر جو بیماری پلٹ کر دیکھنے کی ہمت کر لے۔ دیکھتی نہیں میرے پانچوں بچوں میں سے کسی ایک کو چھینک تک نہیں آتی۔ سب میرے بابا قلندر شاہ کی بدولت ہے۔"
واقعی مائی وحیدن کے یہاں حسنہ نے کبھی کسی کو بیمار پڑتے نہیں دیکھا تھا۔ صبح اس کے بچے گلیوں میں بھاگتے نظر آتے تھے اور شام کو ایک دوسرے سے گتھم گتھا۔ تو کیا یہ ساری برکت بابا قلندر شاہ کی بدولت تھی؟ حسنہ کے سوتے ذہن نے جمائی لیتے ہوئے ہاں میں سر ہلا کر کروٹ بدل لی اور سوچ کے گھوڑے دوڑا کر چادر تان لی۔ سوچ کے گھوڑے تیز رفتاری سے دوڑتے ایک ایسے تخلیاتی گھر کے سامنے جا رکے جہاں صغیر خوب صحتمند پڑھائی میں مگن تھا، ماما فضل پہلے کی طرح چارپائی پر لیٹا حقہ گڑگڑا رہا تھا، وہ چار گھروں میں کام کر کے ترو تازہ گھر لوٹ رہی تھی اور اس کے کچے مکان میں ایک ہزار روپے کی بی سی کی بدولت رشید اور نذیر کے لئے چارپائیاں، باورچی خانے میں گیس کا چولھا اور ایک اور کھڑا ہونے والا پنکھا نظر آ رہا تھا۔
حسنہ نے مائی وحیدن کے گھر سے لوٹتے ہوئے کل کام سے واپسی پر بابا قلندر شاہ کے آستانے پر حاضری دینے کی ہامی بھر لی تھی۔
اگلے دن حسنہ دو باجیوں کی منت سماجت کر کے جلد گھر لوٹ آئی اور مائی وحیدن کے ساتھ صغیر کو لیے بابا شاہ کے آستانے کے لئے چل پڑی۔ راستے بھر مائی وحیدن بابا شاہ کی شان میں زمین و آسمان ایک کرتی رہی۔
"بابا صاحب کے پاس بڑے بڑے سرکش جنات ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔ پتہ نہیں کتنے انسانوں کو مار ڈالنے والے ایک اشارے پر ان کے لئے کام کرنے اور جان نچھاور کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بابا صاحب کو روپے پیسے کی کوئی حاجت نہیں۔ علاج کی غرض سے سائل سے چیزیں منگواتے ہیں اور اکثر تو اپنی جیب سے پیسہ بھی خرچ کرتے ہیں۔ کوئی گستاخی کر جائے تو خود کچھ نہیں کہتے پر ان کے جنات اسے وہیں جلا کر بھسم کر دیتے ہیں۔"
حسنہ کو بابا شاہ اپنی سوچ سے بڑھ کر پہنچے ہوئے معلوم ہو رہے تھے پر بابا شاہ کو دیکھ کر اسے ایک جھٹکا لگا۔ اس کے تخیل نے تو کچھ اور ہی تصویر کشی کی تھی۔ اس تصویر میں سفید چادروں سے ڈھکے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناموں سے سجے اور اور لوبان کی خوشبو سے مہکتے کمرے میں پُر نور چہرے پر سفید داڑھی اور ہاتھ میں تسبیح لئے بابا شاہ تھے۔ پر یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا! یہاں تو سب کچھ کالا تھا۔ فرش سے لے کر دیواروں اور چھت تک اور بدبو! بدبو تو ایسی تھی کہ اسے لگا کہ صبح ناشتے میں کھائی روٹی ابھی باہر نکل آئے گی۔ یہاں تو کہیں اللہ کا نام ہی نہ تھا۔ آستانے کے باہر ایک ہاتھ اور کھوپڑی کی تصویر لگی تھی۔ اور بابا شاہ! جھاڑ جھنکار بال اور داڑھی، سرخ آنکھیں، کالے گرد میں اٹے کپڑے پہنے اور گلے میں رنگ برنگی مالائیں ڈالے اپنے سامنے آگ روشن کئے بیٹھا شخص، یہ تھا بابا شاہ! کہیں دور حسنہ کی چھٹی حس نے خطرے کا الارم بجایا پر سوتے ذہن نے ہاتھ مار کر اسے خاموش کر دیا۔
صغیر نے بری طرح کھانسنا شروع کر دیا۔ آجکل اس کے ذہن کے پردے پر جانے کیوں وقت بے وقت جمع حاصل ہی لہرایا چلا جاتا تھا۔
"بدبو جمع دھواں حاصل کھانسییییی۔"
"تیرے بچے پر بہت خطرناک نظر ہے مائی۔ سب اپنی آنکھیں بند کر لو۔ میرے جنات اپنے اصل روپ میں حاضر ہو کر اس کی نظر کو جلائیں گے۔ تم لوگ ان کی ہیبت برداشت نہ کر سکو گے۔ خود بھی جل جاؤ گے۔"
ان تینوں کے کچھ بولنے سے پیشتر ہی بابا شاہ بول اٹھا تھا اور حسنہ آنکھیں سختی سے بند کیے تھر تھر کانپتی سوچے چلی گئی تھی۔
"ہائے یہ بابا شاہ کو کیسے پتہ چلا کہ میں ان کے پاس صغیرے کی بیماری کے واسطے آئی ہوں؟ یقیناً بابا بڑا پہنچا ہوا بندہ ہے۔"
مائی وحیدن اور امے کی طرح نہ اسے ڈر لگ رہا تھا اور نہ ہی اسے بابا اچھا آدمی لگا تھا۔ اسے بابا کے پیر تو گلی کے نکڑ پر کھڑی کچرا چھانٹتی گائے سے بھی زیادہ گندے لگے تھے اور امے تو کہتی تھی کہ گندے پیروں والے لوگ تو بہت گندے ہوتے ہیں۔ تو بھلا اسے بابا کیسے اچھا لگ سکتا تھا۔
اور جن سے وہ کیوں ڈرے؟ اس نے تو آج تک جن دیکھے ہی نہ تھے۔ اور اس نے تو نظر بھی آج تک نہ دیکھی تھی۔ اسے تو بس یہ پتہ تھا کہ نظر کالے رنگ کی ہوتی ہے کیونکہ امے کہتی تھی فرزانہ کی کالی نظر اسے کھا جائے گی۔ آج تو جن اور نظر دونوں کو دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔ اس نے آنکھوں کو پورا بند نہ کیا۔
بابا شاہ نے آنکھیں کھولنے کا حکم دیا تو جیسے آگ اور زیادہ روشن ہو چکی تھی ویسے ہی حسنہ کا اعتقاد بھی پکا ہو چکا تھا۔ آستانے سے لوٹتے ہوئے اس کے ذہن نے کروٹ بدلی۔
"ماما فضل ہر وقت پیپل کے درخت کے سائے حقہ گڑگڑاتا تھا۔ یقیناً اس پر سایہ ہو گیا ہے۔"
وہ آج ہی رشید سے بات کرنے کا پکا فیصلہ کر چکی تھی۔
مائی وحیدن کو اس کے گھر تک رخصت کر کے جب وہ دونوں اپنی گلی میں داخل ہوئے تو صغیر نے حسنہ کے گالوں پر ہاتھ لگاتے ہوئے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔
"امے بابا جھوٹ بولتا ہے اس کی زبان بھی اسلئے کالی ہے نا۔ میں نے دیکھا تھا کوئی جن نہیں آیا تھا اور کوئی کالی نظر بھی نہیں آئی تھی۔ بابا نے خود کچھ آگ پر ڈالا تھا تو وہ بڑی ہو گئی تھی۔ امے بابا گندا آدمی ہے۔"
حسنہ نے وحشت زدہ نظروں سے آس پاس دیکھا اور پھر صغیر کے پھولے ہوئے گال پر تھپڑ رسید کر دیا۔
"چپ۔۔۔۔ چپ کر جا۔۔۔۔ تو بابا کو جھوٹا کہہ رہا ہے۔۔۔۔ یہ جو آگ تھی نا اس میں بابا کے جنات ایسا کہنے والوں کو جلا ڈالتے ہیں اور انسان جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔۔۔۔ آئندہ ایسا نہ کہنا بلکہ سوچنا بھی نہ۔۔۔۔ تو نے آنکھیں کیوں کھولی تھیں۔۔۔۔ شغل کرتا ہے بے غیرت۔۔۔۔ بابا کے ساتھ شغل کرتا ہے۔۔۔۔ آئندہ تو نے یہ شغل کیا نا تو تو جل کر خاک ہو جائے گا۔۔۔۔ توبہ کر۔۔۔۔ کان پکڑ، کان!!!!"
پھر صغیر کے دوسرے گال پر اپنے ہاتھ کا نشان ڈال کر دوبارہ آس پاس دیکھنے لگی اور پھر بہت ہمت جمع کر کے ہلکی کپکپاتی آواز میں بولتی گھر کی چوکھٹ پار کر گئی۔
" بابا جی تو بہت پہنچے ہوئے بزرگ ہیں۔۔۔۔ یہ تو بچہ ہے۔۔۔۔ آئندہ ایسا نہیں کہے گا۔۔۔۔ کبھی ایسا سوچے گا بھی نہیں۔"
صغیر نے آنسو پونچھتے ہوئے آئندہ بابا شاہ کے ساتھ شغل کرنے سے توبہ کرلی تھی۔
"بابا جمع شغل حاصل پٹائی۔"
اسی ہفتے اتوار کو وہ سب اپنی گلی کے ولی خان کی ٹیکسی میں بیٹھ کر بابا شاہ کے آستانے پہنچ گئے۔ فضل دین کی طبعیت دن بہ دن بگڑتی ہی جا رہی تھی۔
"تمھارے باپ پر دو سرکش جنات کا قبضہ ہے۔ تم لوگ کمرے سے باہر نکل جاؤ۔ مجھے عمل کر کے ان کو قابو کرنا ہوگا ورنہ یہ کچھ دنوں میں اسے مار ڈالیں گے۔"
رشید، نذیر اور صغیر کو گود میں لیے حسنہ تھرتھر کانپتی فضل دین کو بابا شاہ کے کمرے میں چھوڑ باہر آ کر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد کمرے میں سے ناگوار بدبو والے کثیف دھویں کے بادل اپنے ساتھ فضل دین کے بری طرح کھانسنے کی آواز باہر لے آئے تھے۔ وہ سب چونک کر کمرے کے ادھ کھلے دروازے کی جانب دیکھنے لگے تھے۔ اچانک فضل دین کے چیخوں کی آواز نے ان سب کو حواس باختہ کر دیا۔ دونوں بھائی بے اختیار کمرے کے اندر پہنچ گئے۔
فضل دین زمین پر پڑا بری طرح چیخ اور کھانس رہا تھا اور بابا شاہ اسے ایک چھڑی سے پیٹتے کہتا جاتا تھا۔
"باہر نکل۔۔۔۔ چھوڑ دے اس کا پیچھا۔۔۔۔ مجھ سے پنگا نہ لے۔۔۔۔ جلا کر بھسم کردوں گا!!!!!"
دونوں بھائیوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور لگے مارنے بابا شاہ کو۔
"تجھے شرم نہیں آتی ہمارے بوڑھے بیمار باپ کو مارتا ہے۔"
حسنہ کو کچھ سمجھ نہ آیا تو ٹیکسی میں بیٹھے ولی خان کو بلانے بھاگی پر جب تک دونوں بھائی بے ہوش فضل دین کو گود میں اٹھا لائے تھے۔
دونوں بھائیوں نے بستی کے ڈاکٹر کی طرف چلنے کو کہا پر ولی خان نے ٹیکسی بڑے ہسپتال کے راستے پر ڈال دی۔
"اے تم لوگ اس فراڈئیے کے بعد اس کمپاؤنڈر کے بچے کے پاس چاچا کو لے کر جاؤ گے۔۔۔۔ چاچا ٹھیک ہو جائے تو ہم اس فراڈئیے کو بھی دیکھ لے گا اور اس کمپاؤنڈر کے بچے کو بھی ۔۔۔۔ پیسے کی فکر نہ کرو چاچا ہمارا باپ جیسا ہے۔۔۔۔ ہم خرچ کرے گا۔"
بڑے ہسپتال میں فضل دین کو فوراً داخل کر لیا گیا۔ اس کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ مسلسل بے ہوش تھا۔ ہسپتال کے ڈاکٹر نے جب دواؤں کا پرچا دیکھا اور پیر کی کارستانی سنی تو وہ اپنا سر ہی پیٹ کر رہ گیا۔
"یہ تو شدید ایستھیما کے مریض ہیں۔ ان کو تو کھانسی اور نزلے کی دوائیں دی جاتی رہی ہیں تو یہ ٹھیک ہوتے کیسے؟ وہ جعلی ڈاکٹر لوٹ رہا تھا آپ کو اور اوپر سے دھواں اور اس پیر کی پٹائی سے ان کی حالت اور خراب ہو گئی ہے۔ دعا کریں کہ آپ کے والد بچ جائیں۔"
پر ان سب کی فضل دین کی زندگی کے لئے دعاؤں کے باوجود فضل دین دوسرے دن کی صبح نہ دیکھ سکا تھا۔
جب وہ لوگ فضل دین کی میت لے کر ہسپتال سے رخصت ہو رہے تھے تو ڈاکٹر صاحب نے ان سے اس پیر کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کو کہا پر سوتے ذہن والے انسانوں نے تھرتھر کانپنا شروع کر دیا۔
"نہیں ڈاکٹر صاحب ہم نے بابا شاہ کو معاف کیا۔۔۔۔ اگر ہم نے بابا کو جیل بھجوایا تو بابا شاہ کے جنات ہمیں جلا ڈالیں گے۔"
"وہ جھوٹا ہے، فراڈیا ہے ایسے لوگوں کے پاس کوئی جنات نہیں ہوتے وہ تمہارے باپ کا قاتل ہے اسے سزا دلواؤ وہ کچھ نہیں بگاڑ سکتا تم لوگوں کا۔"
پر عرصے سے سوئے ہوئے ذہن جاگنے پر تیار نہ ہوئے۔ وہی لمبی خواب خرگوش کی نیند میں مست رہے پر ایک ننھا ذہن جاگتا رہا اور اس نے کبھی نہ سونے کا فیصلہ کر لیا۔
"بابا جمع جنات۔۔۔۔ حاصل جھوٹ۔"