004 - ٹھیس

ٹھیس

"ایک دن کی چھٹی ہوجاتی تو کون سا بقراط بننے سے رہ جاتیں۔ ۔"اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی اماں نے ایک ناراض نظر ڈال کر خفا لہجے میں کہا۔
وہ چادر اتارتی کمرے میں چلی آئی۔ کچھ دیر میں اماں کھانا لے آئیں گی۔ وہ جانتی تھی۔
"پتا بھی تھا آج بہت کام ہوگا۔" اسے پتا تھا۔ ۔ ۔ بات کام کی نہیں تھی۔
"ابھی کروا دیتی ہوں اماں۔" اماں کا جواب معلوم ہوتے بھی اس نے کہا۔
"نہیں اب رہنے دو۔ پہلے ہی اتنی دھوپ میں پیدل چل کر آئی ہو۔ ۔ اب چولہے کے آگے جھلسنے کی ضرورت نہیں۔"
"تھوڑی دیر آرام کر لو۔ پھر نہا کر کپڑے بدل لینا۔" اماں نے اس کے ہاتھ سے برتن لے کر کہا اورباہر نکل گئیں۔

٭- - - ٭ - - - ٭

"ماشاءاللہ بہت ہی سمجھدار بچی ہے آپ کی۔ ۔ ۔ اور سگھڑ بھی۔ ۔ ۔ مگر۔ ۔ ۔"وہ کھڑکی سے ہٹ کر کچن میں آ گئی۔ پوری بات سننے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ سنے بغیر بھی جانتی تھی۔

٭- - - ٭ - - - ٭

"کیا رہا پھر نیک بخت؟" ابا اماں، چھت پر تھے۔ لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے۔ ان کی مدھم آواز صحن میں صاف سنی جا رہی تھی۔
"وہی جو پہلے پانچ چھ مرتبہ۔ ۔ ۔" اماں کی آدھی بات کا مفہوم پورا تھا۔
"مگر یہ تو خدا کی طرف سے۔ ۔ ۔ اس کے علاوہ اپنی فری ماشاء اللہ،۔۔ پڑھی لکھی سمجھدار۔ ۔ ۔" اماں کی نظر نے ابا کو بات مکمل نہیں کرنے دی۔
"فری کیا کہتی ہے؟" اب کے ان کا لہجہ تھکا ہوا سا تھا۔
"وہی بےجا ضد۔ ۔ ۔" اماں نے ٹھنڈی آہ بھر کے آسمان کو تکا۔

٭- - - ٭ - - - ٭

لائٹ آ گئی تھی۔ وہ کمرے میں آ کر لیٹ گئی۔ "بے جا ضد؟۔ ۔ اس نے سوچا۔ ۔ "As Is قبول کیے جانے کی خواہش کیا بے جا ہے؟۔ ۔ اماں کیوں نہیں سمجھتیں۔ ۔ اگر یہ خامی ہے تو میری اختیاری تو نہیں۔ ۔ ۔ پھر اس کے لیے میں معتوب ہوں۔ ۔ ۔ تو جس غلطی میں میرا ہاتھ ہوگا۔ ۔ ۔ اس پر کیسا سلوک کریں گے۔ ۔ ۔"
ذہن بٹانے کو اس نے ڈائجسٹ اٹھا لیا۔
"گھور سیاہ آنکھیں، گلابی نازک لب، شہد گھلی رنگت، سانچے میں ڈھلا سراپا۔ ۔ ۔ " اس نے اکتا کر ڈائجسٹ بند کردیا۔ ۔ "یہ سب ہیروئنز یا تو رشتے دار ہیں یا جڑواں بہنیں۔ ۔" وہ سوچ کر ہنسی۔ اور ٹی وی لگا لیا۔ اس وقت کسی پروگرام کے وقفے میں کسی بیوٹی کریم کا اشتہار آ رہا تھا۔ وہ کچھ دیر دیکھتی رہی۔ پھر اماں کے سیڑھیاں اترنے کی آواز آئی۔ ۔ تو وہ ٹی وی آف کر کے آنکھیں موند کر سوتی بن گئی۔ ۔
اماں نے آہستہ سے دروازہ کھول کر اسے دیکھا۔ ۔ ۔ پھر دھیرے قدموں قریب آ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور دودھ کا خالی گلاس اٹھا کر باہر نکل گئیں۔ ۔
اس کی آنکھوں کے گوشے جانے کیوں بھیگ گئے۔
بچپن میں بھی جب کوئی نیا ملنے والا اسے دیکھ کر "فصیحہ! یہ تمہاری بیٹی ہے؟" کہتا۔ ۔ تو اماں اسی طرح اسے ساتھ لگا کر پیشانی چوما کرتیں۔ ۔ ۔ شاید دوسرے کی نگاہوں کے مفہوم کی تلافی کے لیے۔ ۔ ۔ وہ جیسی ہے ان کے لیے سب سے پیاری اور اہم ہے۔
"پر اب میں بچی نہیں رہی اماں۔" وہ تلخی سے دل میں خود پر ہنسی۔ ۔ اس نے کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کی۔

٭- - - ٭ - - - ٭

"پچیس کو شاکرہ آ رہی ہے۔" اماں نے ابا کو ناشتہ دیتے ہوئے اطلاع دی۔ ۔ "ایک ہی بیٹا ہے۔ ۔ خیر سے اچھی نوکری لگا ہوا ہے۔ ۔" "خوشی ان کے چہرے، لہجے ہر انداز سے چھلک رہی تھی۔ اس نے گھر سے نکلتے ہوئے پلٹ کر دیکھا۔ ۔ ۔ اماں ابا دونوں ہی اسے دیکھ رہے تھے۔ اس نے دھیرے سے سلام کیا اور باہر نکل گئی۔

٭- - - ٭ - - - ٭

بس سے اتر کر اس نے رومال سے پیشانی پر بہتا پسینہ خشک کیا۔ ۔ ۔ اور گھر کی طرف قدم بڑھادیے۔
"ارے بلاوجہ بلیک انک خریدنے کا خرچہ کیا۔ ۔ ۔ 'کسی سے'رومال مانگ کر نچوڑ لیتے۔ ۔" دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے دو لڑکوں میں سے کسی نے جملہ کسا۔
اس کے قدم ایک لمحہ کو تھمے۔ ۔ ۔ پھر لب بھینچ کر اپنی گلی کی طرف مڑ گئے۔
"آپ کی بیٹی بہت سگھڑ ہے مگر۔ ۔ ۔"
"کسی سے رومال لےکر نچوڑ لیتے۔ ۔"
"شاکرہ پچیس کو آ رہی ہے۔ ۔ ۔"
اس نے دل میں حساب لگایا۔ ۔ آج انیس تھی۔
اسے اماں کا نشتہ بوسہ۔ ۔ ابا کا تھکا ہارا لہجہ۔ ۔ اور صبح کی فکرمند نگاہیں یاد آئیں۔ ۔
"جی بی بی!" دکاندار کی آواز پر وہ چونکی۔ ۔ وہ موڑ پر کھلی دکان پر کھڑی تھی۔
اس نے کاؤنٹر پر لٹکتے کارڈز اور پوسٹرز کو دیکھا۔ ۔ اور ایک نوٹ نکال کر کاؤنٹر پر رکھا۔
اور دھیرے سے کہا "فیئر اینڈ لولی۔"