005 - بل گیٹس(پہلا حصّہ): دلپسند سیال

بل گیٹس۔ (پہلا حصہ)۔

از
دلپسند سیال

"اگر غریب پیدا ہوئے ہیں تو اس میں آپ کا قصور نہیں
اگر غریب ہی مرتے ہیں تو اس میں آپ کا قصور ہے۔"

یہ خوبصورت مقولہ اس امیر ترین شخص کا ہے جو مسلسل 14 سال تک دنیا کے امیر ترین لوگوں میں پہلے نمبر پر رہے۔ 2010ء میں وہ دوسرے نمبر پر ہیں۔ آپ یقیناً سمجھ گئے ہوں گے کہ کون شخص ہیں۔ جی ہاں! بات ہو رہی ہے مائکرو سوفٹ کے مالک بل گیٹس کی۔

بل گیٹس نے مائکروسوفٹ کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی۔ جتنے وہ امیر ہیں اتنے ہی وہ سخی بھی ہیں۔ بہت سے ادارے اس کے تعاون سے چل رہے ہیں۔

بل گیٹس 28 اکتوبر 1955ء میں سیٹل، واشنگٹن میں پیدا ہوئے اور دو بہنوں کرسٹی اور لبی کے ساتھ بڑھے پلے۔

بل گیٹس کا پورا نام ولیم ہنری بل گیٹس سوئم ہے۔ ان کے والد کا نام "سر ولیم ایچ گیٹس" تھا جو ایک معروف استاد اور قانون داں تھے جب کہ ان کی والدہ "میری میکسوئل گیٹس" ٹیچر تھی اور واشنگٹن یونیورسٹی میں پڑھایا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ وہ یونائٹیڈ وے انٹر نیشل میں چیئر وومن بھی تھی۔

بل گیٹس کا نانا " آئی۔ ڈبلیو میکسوئل" قومی بینک کے صدر اور نانی ایک کمپنی کے بورڈ آف ڈئرایکٹر میں شامل تھی۔

بل گیٹس بچپن سے ہی انوکھی طبیعت کا مالک تھا۔ دوسرے بچوں کی طرح کھیلنے کودنے کے بجائے کوئی تنہا گوشہ ڈھونڈتا اور وہاں جاکر گم سم ہو کر بیٹھ جاتا۔ اس کی ماں "میری" جب اسے اس طرح بیٹھا دیکھتی تو پریشان ہو جاتی اور اس سے پوچھتی۔
"بل! اکیلے گم سم کیوں بیٹھے ہو"
تو وہ جواب دیتا۔ "ماں! میں سوچ رہا ہوں، مجھے ڈسٹرب نہ کرو"

اتنی چھوٹی سی عمر میں سوچنے کا کام۔ حیرت در حیرت۔ اس کی ماں اس جواب پر ہنسنے لگتی کہ میرے گھر میں یہ ارسطو کیسے پیدا ہوگیا۔

جب اس کا فارغ وقت کا مشغلہ گم سم رہ کر سوچنے کا ہی ہو گیا تو اس کی ماں میری کافی پریشان ہوگئی اور اسے لے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹرنے اس کا معائنہ کرکے کہا کہ وہ اسے وقت پر لے آئی ہے، اسے ذہنی بیماری کا خدشہ ہے، میں اسے دوائیں دے رہا ہوں اس سے بچے کی بیماری جاتی رہے گی۔
اور پھر یہی سوچنے والا بچہ کمپیوٹر اور آئی ٹی کی دنیا میں وہ انقلاب لے کر آیا کہ پوری دنیا اس کے نام اور کام سے واقف ہوگئی۔ جبکہ دولت کی اس پر وہ بارش ہوئی کہ دنیا کے امیر ترین افراد میں وہ پہلے نمبر پر شمار ہونے لگا۔
ایک انٹرویو میں ان کے والد سر ولیم۔ ایچ گیٹس سے سوال پوچھے گئے تھے کہ بل گیٹس بچپن میں کیسا تھا۔ اس کے عادات و اطوار کیسے تھے؟ انہوں نے کیا اپنے بیٹے کی تربیت کسی خاص طریقے سے کی ہے؟ ان کا بیٹا اتنا ذہین کیسے ہے؟۔

ان سب سوالوں کے جواب دیتے ہوئے سر ولیم۔ ایچ گیٹس نے بتایا۔"میرے بیٹے کے دماغ میں کوئی خاص بات نہیں ہے، ہر انسان کا دماغ ایک جیسا ہوتا ہے، بات اسے استعمال کرنے کی ہے۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ وہ اسکول کے زمانے سے ہی کتابوں کا کیڑا تھا اور رات گئے تک اپنے دوست کے ساتھ مل کر پڑھتا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ جس میز پر کام کرتا تھا اسی پر لیٹ کر سوجاتا تھا۔ ہاں! اس میں ایک دلچسپ عادت ضرور تھی کہ جب وہ کچھ سوچا کرتا تھا جھولنے والی کرسی ( راکنگ چیئر) پر بیٹھ کر جھولا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ بہت تیز تیز جیسے اسے کوئی الہام ہو رہا ہو۔ اور وہ ہیجان میں مبتلا ہو۔ ( راکنگ چیئر پر بیٹھ کر جھولنے کی عادت اب بھی بل گیٹس کو لگی ہوئی ہے۔ اس کے آفس میں ایسی ہی ایک کرسی رکھی ہوئی ہے جب وہ سوچ بچار کرتا ہے تو تیزی سے جھولنے لگتا ہے۔(
بل گیٹس سکول میں اکثر اپنے کلاس فیلوز سے لڑائی جھگڑا اور شرارتیں کرتے تھے جس کی شکایت گھر تک پہنچتی تھی۔ جب یہ شکایت مسلسل آنے لگیں تو اس کے باپ کو سوچنے پر مجبور کردیا۔ ایک دن وہ اسے ایک ماہر نفسیات کے پاس لے گیا۔
ماہر نفسیات نے اس کا ٹیسٹ لیا اور بجائے علاج کرنے کے اسے کتابیں پڑھنے کو دیتا رہا۔ اور اسے ایسی ورزشیں کرنے کو کہا جس سے اس کے دماغ اور سوچ میں صحت مندانہ تبدیلی آئے۔ ولیم۔ ایچ گیٹس کہتا ہے کہ میں اس ڈاکٹر کا بہت احسان مند ہوں نے جس نے بل گیٹس کی سوچ کا دھارا تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
بل گیٹس منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا تھا۔ اس کے دادا جو ایک قومی بینک میں نائب صدر تھے انہوں نے ایک ٹرسٹ قائم کیا تھا جس میں اس کےلیے لاکھوں ڈالر جمع تھے۔ اس بناء پر بل گیٹس کےلیے اوائل عمری میں کمپیوٹر کی طرف دھیان دینا اور یہ دلچسپ مشغلہ اختیار کرنا آسان ہوگیا۔ اس وقت کمپیوٹر مہنگا بہت تھا دوسرا ہر جگہ عام دستیاب نہیں تھا۔
بل گیٹس کتابوں کا کیڑا تھا اور امتحانات میں ہمیشہ امتیازی نمبروں سے پاس ہوتا تھا۔ ابتدائی کلاسوں میں وہ ریاضی اور سائنس جیسے مضمونوں میں سب سے آگے تھا۔ اسے ان مضمونوں میں کئی بار سند سے نوازا گیا۔
چونکہ وہ کم عمر تھا اور اس کے مشاغل دوسرے بچوں سے مختلف تھے لہٰذا ابتدائی تعلیم کے بعد اس کے والدین نے اسے لیک سائڈ کے ایک چھوٹے سے پرائیویٹ اسکول میں داخل کرا دیا۔ جس کا نام واشنگٹن میں عزت و توقیر سے لیا جاتا تھا۔ اس کے اصول و ضوابط کی وجہ سے طلبہ کو زیادہ آزادی نہیں دی جاتی تھی۔ شروع میں میں بل گیٹس کو یہاں کا ماحول پسند نہیں آیا۔ تاہم کچھ عرصے بعد اس نے جلد ہی اپنے جیسے مشاغل رکھنے والے طلبہ کا ایک گروپ بنا لیا۔ وہ بزنس میگزینوں اور مستقبل میں کام آنے والے پرجیکٹوں پر کام کرتے تھے۔
بل گیٹس کہتا ہے۔"اس زمانے میں ہم نے بہت سی خیالی کمپنیاں بنا رکھی تھیں اور لوگوں کو الم غلم پیغامات روانہ کرتے تھے کہ وہ ہماری مصنوعات خریدیں حالانکہ مصنوعات کا دور دور تک پتا نہ تھا۔ ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ اگر ہم کاروبار کریں تو کس نوعیت کا ہوگا۔ خاص طور پر ہمیں کمپیوٹر کمپنیوں سے دلچسپی تھی اور ہم ویسا ہی کوئی کاروبار کرنا چاہتے تھے۔"
اس سکول میں کمپیوٹر جیسی مہنگی تعلیم کا حصول دشوار نہ رہا۔ اس نئی ٹیکنا لوجی کی طرف اس کا رجحان شروع ہی سے تھا۔ لیک سائیڈ میں جاکر گویا اس کی من کی مراد پوری ہوگئی۔ اور اب وہ اپنے خوابوں میں رنگ بھر سکتا تھا۔ اس نے سب سے پہلے جو کمپیوٹر استعمال کیا وہ DEC . PDP تھا۔ یہ کمپیوٹر جرنل الیکٹرک کمپنی کی ملکیت تھا۔ ہائی اسکول کے طالب علم اس پر کام کرتے تھے اس لیے سکول کو جرنل الیکٹرک کمپنی کو بھاری معاوضہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ بل گیٹس اور اس کا دوست کمپیوٹر سے چمٹے رہتے تھے اور دوسرے مضامین کی طرف کم توجہ دیتے تھے۔ ان کا ہوم ورک بھی ادھورا رہ جاتا تھا۔
کمپیوٹر کو جب استعمال کیا جاتا تھا تو اس میں طالب علم کا نام اور وقت درج ہوجاتا تھا۔ جب اسکول انتظامیہ نے دیکھا کہ بل اور اس کا دوست دن کا زیادہ تر وقت کمپیوٹر پر گزارتے ہیں تو انہوں نے کمپیوٹر استعمال کرنے پر پابندی لگا دی۔
اچھی تربیت اور تعلیم کی بناء پر بل گیٹس کو شروع ہی سے لوگوں کی خدمت کرنا اچھا لگتا تھا بلکہ ایک طرح کا شوق تھا۔ اپنے اسی شوق کی خاطر وہ بوائے اسکاؤٹ میں بھرتی ہوگیا۔ اس کی دلچسپیوں کی وجہ سے اسکول نے اسے "لائف اسکاؤٹ" کے خطاب سے نوازا۔ کم عمری میں اس اعزاز کو حاصل کرنا معمولی بات نہیں تھی۔ اس کے والدین کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔
جب انٹرنیٹ متعارف ہوا تو انہوں نے سب سے پہلے G . E ٹائپ کمپیوٹر استعمال کیا۔ اس انٹر نیٹ کا تعلق ٹیلی فون سے تھا۔ لائن اتنی دیر تک مصروف رہتی تھی جب تک کمپیوٹر کا تعلق انٹرنیٹ سے رہتا تھا۔ اسکول ایک فون کو محض اس کے لیے مخصوص نہیں رکھ سکتا تھا اور نہ ہی اس کا بھاری بھرکم بل ادا کرسکتا تھا۔ چنانچہ ایک آدمی سوئچ کے پاس کھڑا رہتا تھا اور جب طالب علم انٹر نیٹ سے کنکشن ختم کرتے تھے تو وہ سوئچ آف کردیتا تھا۔
ہائی اسکول میں تعلیم کے دوران جب اس کی عمر ابھی 16 سال تھی تو اس نے ایک سافٹ ویئر بنایا جسے اس نے چار ہزار ڈالر میں فروخت کیا۔ پھر اس نے اپنے دوست پال ایلن کے ساتھ ایک چھوٹی سی کمپنی ٹریف۔ او۔ڈاٹا کے نام سے قائم کی اور حکومت کے بہت سے اداروں کو ٹریفک کے بارے میں ڈاٹا سسٹم بنا کر فروخت کرنے لگا۔ اس وقت اس کی عمر صرف 17 برس تھی۔ اس داٹا سسٹم سے اسے بیس ہزار ڈالر کی آمدنی ہوئی۔
18 برس کی عمر میں اس نے ایک پورٹ لینڈ۔ اوریگان کی ایک کمپنی"کوبول" کو ایک پے رول سسٹم بنا کر دیا۔ جس کے ذریعے کمپنی اپنے پانچ ہزار ملازمین کو بروقت اور سہولت سے تنخواہیں ادا کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس سسٹم کے تحت ملازمین کا ریکارڈ رکھنے اور دوسری معلومات محفوظ کرنے میں بھی آسانی ہوگئی۔
بل گیٹس اور اس کے دوست پال ایلن کا رجحان کمپیوٹر گیمز کی طرف بھی تھا۔ ابتداء میں انہوں نے ایک خاص کمپیوٹر کی ایسی گیمز بنائی جس کے ذریعے پوری دنیا کو فتح کیا جاتا تھا۔ اس میں بحری جہاز، ہوائی جہاز ٹنکوں وغیرہ کا استعمال ہوتا تھا جبکہ بیک گراونڈ سے ایک کمانڈر کی آواز مسلسل آتی رہتی جو احکامات صادر کرتا تھا۔
بل گیٹس کہتا ہے۔ "میں اور پال ایلن دن رات کمپیوٹر کے بارے میں سوچا کرتے تھے کہ ہم کوئی ایسا بھاری بھر کم کمپیور بنائیں جس میں بہت سے مائیکرو پروسیسر لگے ہوئے ہوں۔ تاکہ اس سے بہت سے خاص کام لیے جاسکیں۔ جس پر ہم پلے اسٹیشن کی گیم چلانے کے لیے 360 کا امیو لیٹر استعمال کرسکیں۔"
ہم سوچتے تھے کہ ہم کوئی ایسا سسٹم بنائیں کہ جب بہت سے لوگ معلومات حاصل کرنے کےلیے ایک ہی جگہ فون کریں تو انہیں مطلوبہ معلومات بڑی آسانی سے مہیا ہوجایا کریں۔۔۔ ایسے ہزاروں لاینحل اور بے جوڑ خیالات ہمارے ذہنوں میں پلتے رہتے تھے۔ ہمیں یہ خیالات چین سے بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔ اور ہم کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے۔
بل گیٹس نے جب ہائی اسکول کی تعلیم ختم کی تو اس نے 1600 نمبروں میں سے 1590 نمبر حاصل کیے تھے۔ یہ ایک ریکارڈ تھا جو اس سے پہلے کسی نے قائم نہیں کیا تھا۔ ہائی اسکول کی تعلیم ختم کرنے کے بعد اس کے والدین نے اسے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخل کرادیا۔ جہاں سے اس نے 1973ء میں کمپیوٹر سائنس میں بیچلر آف سائنس کی تعلیم شروع کی۔ یہاں پر اس کی ملاقات اسٹیو بالمر سے ہوئی۔ ان دونوں میں اس قدر اشتراک ہوا کہ وہ مستقبل میں ایک دوسرے کے کاروباری ساتھی بنے۔

یونیورسٹی کے دوسرے سال کے آخر میں اس نے اپنے دوستوں پال ایلن اور مونٹے ڈوف کے ساتھ مل کر آلٹیر بیسک Alltair Basic 8800 پروگرام لکھنا شروع کیا۔ اور تیسرے سال کے اختتام پر بل گیٹس نے سافٹ ویئر کو فروغ دینے کےلیے ہارورڈ یونیورسٹی کو چھوڑ دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ آگے پڑھائی جانے والی ساری کتابیں پڑھ چکا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ جب ہارورڈ یونیورسٹی نے دماغی صلاحتیں چانچنے کے لیے قومی بنیاد پر ایک ٹیسٹ لیا تو اس میں بل گیٹس دسویں نمبر پر آئے۔ بہر حال اس کی تعلیم ادھوری رہ گئی اس نے سافٹ ویئر کی خاطر یونیورسٹی کو چھوڑ دیا۔