006 - چند سوال ۔ ایک لمحہ فکر: سلیمان

چند سوال۔ ایک لمحہ فکر

جو کچھ ہے میرے پاس وہ میرا نہیں شاید
جو میں نے گنوادی میری املاک وہی ہے

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم خود کو صحیح سمجھ رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ حقیقت میں ہم صحیح راستے پر نہیں ہوتے اور جب ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں رہ جاتا۔ نہ زندگی نہ محبت نہ ہی رشتے ناطے، باہر چاہے ہم اکیلے نہ بھی ہوں اندر تنہائی ہوتی ہے اور یہ تنہائی بہت بری چیز ہے۔

عمریں گزرجاتی ہیں لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی اور جس کو یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے اسکی آنکھیں کبھی خشک نہیں ہوتیں اور دل کبھی سخت نہیں ہوتا۔ انسان کے اندر کی دنیا بہت وسیع ہوتی ہے۔ ایک ایسی دنیا جسمیں ایک بڑا سا قبرستان بھی ہوتا ہے۔ جن میں ان کہی خواہشیں، ادھوری آرزوئیں سب کچھ دفن ہوتا ہے۔

یہاں ایک ایسے ہی انسان کا تذکرہ ہے جو اندرونی طور پر اتنا تنہا ہو چکا ہے کہ اب اسکے اندر سناٹے ڈراؤنی آوازیں نکال کر اسے وحشت زدہ کرتے ہیں، تنہائی بین کرتی ہے، یادیں کراہتی ہیں، باتیں سہم کر ایک کونے تک محدود ہوگئی ہیں، آواز اپنا اثر کھوچکی ہے، چہرہ ذات کی ناقدری و بربادی کی داستان رقم کئے ہوئے ہے۔ اسکے وجود سے اس بات کا اعلانیہ اعلان ہوتا ہے کہ کس بری طرح اس انسان کے مان کو توڑا گیا، کس بری طرح اس شخص کے جذبات سے کھیلا گیا اور کس بری طرح اسکی عزت نفس کو کچلا گیا۔ زندگی اس شخص کے لئے ایک سزا بنادی گئی ہے۔ اس شخص کی ذات کا مجموعی تاثر چیخ چیخ کر یہ فریاد کرتا ہے کہ کیا میں اس قابل تھا؟ کہ مجھے یوں برباد کیا جاتا؟

لیکن افسوس اس بات کا جواب دینے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ یہ تھکا ہارا انسان ایک عورت ہے!! جی ہاں ایک عورت!! جو بیک وقت ایک بیٹی بھی ہے ایک بہن بھی ایک بیوی بھی ہے ایک ماں بھی۔ لیکن مردوں کے اس معاشرہ میں وہ اتنے اعلٰی درجات کی حامل ہوتے ہوئے بھی خاک برابر بھی اہمیت نہیں رکھتی۔ جس سے صرف وصول کیا جاتا ہے اور جو اپنا سب کچھ دان کرکے بھی مطمئن و خوش رہتی ہے لیکن اسکی یہ خوشی بھی ان ناخداؤں سے دیکھی نہیں جاتی۔ کتنے افسوس کی بات ہے یہ۔

یہ عورت سراپا سوال ہے اپنے ہر روپ میں۔ ایک بیٹی کے روپ میں دھوپ میں سایہ لگنے والے والد سے سوال کرتی ہے کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے لڑکیوں کو رحمت قرار دیا تو آپ نے کیوں مجھے زحمت سمجھا؟ بچپن سے جوانی تک بہت پیار اور توجہ سے پرورش کی لیکن جب وقت آیا کسی کو میرا وجود سونپنے کا تو آپ نے مروتاً بھی مجھ سے میری رضا نہیں پوچھی۔ کیوں؟ جب کہ اسلام بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔ اگر آپ کو یونہی بھیڑ بکریوں کی طرح برتاؤ کرنا ہی تھا تو پڑھا لکھا کر باشعور کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا ضرورت تھی اتنا پیار اور مان دینے کی؟ جب آخر میں اس مان کو اپنے ہاتھوں ہی توڑنا تھا۔ لڑکیاں تو از خود ہی اپنی زندگی کے اتنے بڑے فیصلوں کا حق ماں باپ کو سونپ دیتی ہیں لیکن اگر مروتاً مجھ سے مرضی پوچھ لی جاتی تو کیا میرا مان نہ بڑھ جاتا؟ لیکن افسوس صد افسوس یہ سوال کرتے ہوئے وہ بھول جاتی ہے کہ اسکا باپ بھی ایک مرد ہے، ایک ایسا مرد جو بیوی اور اولاد سے زیادہ اپنی عزت نفس کو اہمیت دیتا ہے۔ اور اس کی عزت نفس اسکی مردانگی میں پوشیدہ ہے اور اسکے نزدیک مردانگی یہی ہے کہ وہ جو کرتا ہے جو سوچتا ہے وہی صحیح ہے اور اسکی اس سوچ پر کوئی پہرہ داری نہیں لگائی جاتی اس لئے کہ یہ مردوں کا معاشرہ ہے۔

یہی عورت بہن کے روپ میں اپنے بھائی سے سوال کرتی ہے کہ بھائی تم کیوں نہیں اپنی زندگی میں توازن رکھ سکے؟ والدین کے ساتھ تم بھی تو میرا میکہ ہو۔ ایک بہن کا مضبوط مان ہو تم۔ تم سے کچھ مانگنا نہیں ہے صرف یہی خواہش ہے کہ تم گھر، والدین، بیوی اور دیگر افراد خاندان کے حقوق کو صحیح طریقے سے ادا کرو اور ان سب کو خلوص، محبت، ایثار ہمدردی اور ذمہ داری سے جوڑے رکھو۔ کیا تم اتنا بھی نہیں کرسکتے؟

جب عورت بیوی کے روپ میں اپنے مجازی خدا اپنے سرتاج سے سوال کرتی ہے تو عرش بھی اسکی بے بس آواز، مجبور و لاچار وجود اور اشک بہاتی آنکھوں اور ٹھنڈی آہوں سے تھرا جاتا ہوگا۔ یہ عورت اپنے شوہر سے شکوہ بھری آواز میں پوچھتی ہے کہ کیا میرا وجود آپکے لئے صرف اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے اپنی خواہش کو پورا کریں، اپنے گھر کی چوکیداری اور اپنے بچوں کی نگہداشت کے لئے استعمال کریں۔ کیا اس سے ہٹ کر میں آپکے لئے اہم نہیں؟ جب آپ کے دکھ سکھ میں، آپکی ذمہ داریوں میں آپ کے ہم قدم ہوتی ہوں تو کیا اس طرح آپ میرا ساتھ نہیں دے سکتے؟ کیا تھوڑا سا محبت بھرا رویہ، نرم لہجہ اور نرم آواز اپنانے سے آپ اپنے اونچے مقام سے گر جائیں گے؟ جب میں نے اللہ کی رضا اور آپ کی خوشی کے لئے اپنی ہر خواہش، اپنی ہر خوشی اور اپنی ذات کو آپ کی رضا میں ڈھال لیا تو کیا آپ میری خوشی کے لئے اس مردانہ زعم سے باہر نکل کر مجھ سے اچھا رویہ نہیں رکھ سکتے؟ لیکن افسوس صد افسوس اس طرح کے سوال پر جس طرح کا رویہ اسے سہنا پڑتا ہے اس پر یہ عورت اپنا ہر شکوہ اپنی ہر آہ، اپنا ہر آنسوں دل کے قبرستان میں اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیتی ہے۔

ظلم سہہ کر جو اف نہیں کرتے
ان کے دل بھی عجیب ہوتے ہیں!!

اور پھر یہ عورت ایک ماں کے روپ میں اپنے ہر روپ سے زیادہ خوبصورت اور محبتوں سے لبریز دل اور وجود کے ساتھ اپنی اولاد کو پروان چڑھاتی ہے، اپنا آپ مار کر، اپنی نیندوں کو حرام کر کے اپنا سارا وقت اپنی اولاد کی مصروفیت میں گزارتی ہے اور دن رات اپنی اولاد کے بڑے ہو کر نیک، فرمانبردار، اطاعت گزار اور ایک کامیاب انسان ہونے کے خواب دیکھتی ہے اور جب وہ وقت آ جاتا ہے اس کا خواب ضرور پورا ہوتا ہے لیکن اب اسی اولاد کے پاس اس مظلوم ماں کے لئے وقت نہیں ہوتا۔ وہ ماں اپنا دن تنہائی کو دل میں بسائے شروع کرتی ہے، خاموش، چپ چاپ، گم صم سی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہوئی مظلوم ماں، جسکا یہ خواب کہ اولاد کو کامیاب انسان بنائے پورا ضرور ہوا ہے لیکن خواب کی تعبیر کے ایک حصے پر سیاہی پھر چکی ہے۔ اسکی اولاد اپنی زندگی میں مصروف ہوچکی ہے۔ اسکے پاس دلی طور سے تنہا ماں کے لئے وقت تو کیا، ایک لمحہ بھی نہیں ہے کہ دو بول اس سے بول سکیں اور یہ عورت چپ چاپ من ہی من میں ان سے سوال کرتی ہے کہ بیٹا کیا اسی دن کے لئے تجھے جنم دیا تھا؟ تیری پرورش کی تھی؟ کیا اسی لئے تمہاری شادی کی تھی اور تمہیں سارے اختیار دیے تھے کہ تم گھر سے باہر جاتے ہوئے اپنی ماں سے پوچھنا تو درکنار اسکو اطلاع دینا بھی گوارہ نہ کرو؟ میری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی تھی کہ تم اپنے فرائض کو بھولنے کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھ چکے ہو۔
اس گھر میں آنے والی تمہاری دلہن کو اس گھر کے اصول و ضوابط سمجھا کر اس کے ساتھ مل کر یہاں کے ماحول کو ساز گار بنانے کے بجائے تم خود ہی اسکے رنگ میں رنگ چکے ہو کیا یہی انصاف سکھایا تھا تمہیں؟

آہ افسوس صد افسوس!! اس ماں کی ان صداؤں کو سننے کی اولاد کے پاس فرصت نہیں ہے۔ اپنی ماں کی پُر شکوہ آنکھیں انہیں اپنی شباب بھری زندگی میں ایک ناگوار بوجھ کی طرح لگتی ہے۔ آہ! کیا بد قسمتی ہے اس عورت کی جن کے پیچھے اپنی زندگی کے خوبصورت سال گنوا دیئے آج وہی اسے ایک ناگوار بوجھ تصور کرتے ہیں۔

غرض آج یہ چار خوبصورت روپ والی ایک عورت اپنے سوالوں سمیت ہمیشہ کیلئے خاموش ہوچکی ہے۔ یہ بے چاری اپنے آگے جوابدہ ان مردوں کی زندگی سے ہمیشہ کے لئے دور جا رہی ہے اور یہ مرد زار و قطار روتے ہوئے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس مظلوم و دکھیاری عورت کا وجود ان کی زندگیوں کے لئے کتنا ضروری تھا اور کس اہمیت کا حامل تھا۔ اب انہیں اپنے ضمیر کی آواز مارے دے رہی ہے کہ تم جو دین کا پرچار کرنے والے ہو اللہ رب العزت کے احکامات کو ماننے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کو زندہ کرنے والے ہو تو کیا تم نے نہیں پڑھا کہ اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا ہے؟ ایک روشن منزل کی سمت گامزن ہوتے ہوئے، حقوق العباد میں کوتاہی کے ذریعہ تم نے اندھیروں کا انتخاب کیوں کیا؟ لیکن اب ضمیر کی اس مار کا کیا فائدہ؟ کہ اندھیرے میں آنکھ بند کر کے چلیں یا آنکھ کھول کر بات تو ایک ہی ہے۔ اب ان کے دلوں میں خلش، افسوس، پچھتاوا ڈیرے جما چکا ہے۔ وہ ہاتھ مل رہے ہیں اپنی کوتاہیوں پر اور چاہتے ہیں وقت ایک بار پلٹ جائے اور وہ اس عورت سے کم از کم معافی مانگ لیں مگر افسوس وقت کب پلٹتا ہے؟ وقت کا کام گزرنا ہوتا ہے اور وقت گزر چکا ہے۔ پچھتاوے ہاتھ آ چکے ہیں۔ ایک زندگی اپنے سوالوں سمیت، اپنی آہوں، شکوؤں، اور نامراد خواہشوں سمیت ہمیشہ کے لئے آنکھیں موند چکی ہے اور اس زندگی کو جوابدہ لوگ اب ساری زندگی ایک خلش، کسک اور پچھتاوے کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ واقعی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

اب پچھتائے کیا ہووت
جب چڑیاں چگ گئیں کھیت