007 - ذرا سنتے جانا: کائنات بشیر

کائنات بشیر

ذرا ٹھہرو

صدا میرے دل کی
آگے جانے والے بھیا ذرا سنتے جانا،

ارے یہ کیا تم تو ٹھٹک کر پھر چل پڑے۔ میں کوئی تم سے پیسے تھوڑی مانگنے لگا تھا۔ مجھے تو تمھارا تھوڑا سا وقت چاہیے۔ زیادہ نہیں، بس آدھ گھنٹہ بھی چلے گا۔
میں شاعر تو نہیں مگر اس وقت میرے اندر شاعر والے جذبات کروٹیں لے رہے ہیں۔
اور کوئی سننے والا چاہئے۔ یہ پاس ہی پارک ہے آؤ وہاں چلتے ہیں۔ شکریہ

آہا، کتنا خوبصورت پارک ہے۔ ہر رنگ کے پھول کھلے ہیں۔ گلابی، نیلے، پیلے،
”باغ میں کلی کھلی بھنورا نہیں آیا ہائے رے ہائے رے۔“

ہاں تو بھیا،
میں جب اپنے آس پاس دیکھتا ہوں تو مجھے کچھ چیزیں اپنے مدار سے ہٹی ہوئی لگتی ہیں تو یہ بے ترتیبی میرے اندر ہلچل مچانے لگتی ہے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو سنا کر اپنے دل کا بوجھ ذرا ہلکا کر لوں۔
مجھے پہلا شکوہ ہے میوزک کمپنیوں سے،
ان میوزک کمپنیوں سے جنہوں نے جھنکار بیٹ بنائی۔ بھائی اچھے بھلے گانے چل رہے تھے اپنے اوریجنل ٹریک پر۔ کیا سریلے سُر تھے۔ کبھی ڈھولکی کی آواز متاثر کرتی تو کبھی ستار اور بانسری کی، کبھی پیانو کی تو کبھی ہارمونیم کی۔ ایک ایک سُر واضح تھا۔ جس سُر کے ساتھ مرضی اپنی تال ملا لو۔
کہ اچانک جھنکار بیٹ کی شکل میں سُروں کا طوفان سَر پر آن گرا۔ وہی راگ جو پہلے دھیمے سُر میں بہتے تھے اچانک ایک پرشور ندی میں تبدیل ہو گئے اور سر پر ہتھوڑے کی طرح ٹھک ٹھک بجنے لگے۔ اب تو سیڈ سونگ بھی سر پر چڑھ کر ناچنے لگا۔
اور سب کچھ بے سرا ہو گیا۔ اسی لیے تو لتا جی نے بھی کہا تھا کہ ”لگتا ہے میرے گانوں میں کوئی کمی رہ گئی ہے جسے لوگ جھنکار ڈال کر پورا کر رہے ہیں۔“
ہاں تو بھائی کیا ضرورت تھی اس ہرجائی جھنکار کی۔ یہ تو جن بے چارے موسیقاروں نے جان مار کے سُر نکالے ان کے ساتھ دن دہاڑے ڈاکہ والی بات ہوئی۔ یہ دراصل انہی کے ساتھ ہمدردی ہے جو شکوہ بن کرمیری زبان پر آ گئی۔

اگلا شکوہ ہے مجھے فقیر فقراء سے،
جو تب بھی مانگ رہے تھے اور آج بھی مانگ رہے ہیں۔ انھوں نے کوئی ترقی نہیں کی۔ پہلے ان کو پھٹا پرانا کپڑا دے دو، مٹھی بھر آٹا دے دو، اپنی جیب کے مطابق پیسے دو، تو یہ ہمیں انڈرسٹینڈ کر لیتے تھے اور جھولی بھر بھر کر دعائیں دیتے تھے اورقالین کی طرح بچھے جاتے تھے۔
اور جوڑی سلامت رہے، تیرا بچہ جئے، تو پیسے میں کھیلے، جیسی دعائیں بن مانگے مل جاتی تھیں۔
مگر اب تو،

وہی سائل نہ تو کپڑا لیتا ہے، ایک روٹی سے اس کا گزارہ نہیں ہوتا اور تھوڑے پیسے دو تو وہ گھور کر دینے والے کی اوقات جانچتا ہے۔ اب اس کی زبان پر بھی شکوے آ گئے ہیں۔ صبر اور شکر وہ بھی بھول گیا ہے تو دعائیں کہاں سے دے گا۔ حالانکہ اسے پتہ ہونا چاہئے کہ
اب تو پوری قوم کا حال اس جیسا ہے امداد کے نام پر خیرات مانگی جاتی ہے۔ بہتوں تک تو وہ خیرات پہنچتی بھی نہیں۔ شاید اس میں برکت نہیں ہے اور اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں میں، کے مصداق وہ راستے میں ہی بٹ جاتی ہے۔ اب تو ملک میں بچہ جیسے ہی پیدا ہوتا ہے تو اس کے حصے کا قرضہ پہلے ہی اسکا منتظر ہوتا ہے۔ تو وہ بال بال اک عالمی قرضے میں مقروض ہو جاتا ہے۔

اب کیا کہوں ان موٹر سائیکل والوں سے،
کیا بتاؤں بھائی، اچھے بھلے موٹر سائیکل پر یہ لوگ سوار تھے تو یہ پیچھے رکشہ لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ اچھا بھلا گزارا ہو رہا تھا تانگے گھوڑے کی مدد سے۔
گھوڑے کی ٹاپ جب ٹھپ ٹھپ پڑتی تھی تو تھا تھیا والی موسیقی یاد آ جاتی۔ بچے بھی گھوڑے کو دیکھ کر خوش ہو لیتے۔ امیر بگھی میں بیٹھ کر خوش تھا اور غریب تانگے میں۔
ان لوگوں نے تو بیچارے تانگہ بان کی روزی پر لات مار دی۔
کر بھلا تو ہو بھلا، اب انہیں پتہ چلے گا جب انہیں گیس، پٹرول نہیں ملے گا۔ پھر لوگوں کو تانگے کی بھی قدر آئے گی۔ اے بھیا، ان کی چن چن میں بیٹھ کر تو ویسے بھی دم ہوا ۔۔۔ ہوا جاتا ہے۔ پٹرول علیحدہ سونگھنا پڑتا ہے اور دھوئیں کے بادل اور فضا کو پلوشن سے بھر دیتے ہیں۔ اور شوخی میں آ کر تیز یہ اتنی کہ ۔۔ میں اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال ۔۔۔۔۔

آہ یہ ٹیلر ماسٹر،
کچھ سال پہلے یہ درزی کی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اور صرف اور صرف جینٹس کے کپڑے ہی سینے کے لیے پکڑتا تھا۔ لیڈیز کے کپڑوں کو تو اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھتا بھی نہیں تھا۔ اس لیے بچوں اور لیڈیز کے کپڑے سینا اس کی پرابلم نہ تھی۔
عورتوں کو اپنے کپڑے گھر پر ہی سینا پڑتے تھے، اور یہ انکے سلیقے کا بھی امتحان ہوتا تھا۔
وقت کے اس کا بھی اچھا وقت آ گیا۔ اب یہی درزی، ٹیلر ماسٹر بن گیا ہے اور لیڈیز کے کپڑے دھڑا دھڑ سینے لگا ہے۔ جس سے اس کی کمائی چوگنی ہو گئی ہے۔
ہم مرد حضرات کبھی جائیں تو لفٹ ہی نہیں کراتا۔ کہ نہیں، میرے پاس تو لیڈیز کے بہت کپڑے ہیں۔ عید آنے والی ہے اس کا رش ہے اور مالز میں اتنے تو جینٹس کے ریڈی میڈ ڈریسز ملتے ہیں، کہہ کرہمیں باہر کی راہ دکھاتا ہے۔

اور یہ آجکل کی فلمیں،
پہلے یہ فلمیں چربہ بنتی تھیں اب تو ڈرامے بھی چربہ بننے لگے ہیں۔ اور فلموں کا چربہ بنانے کے لیے اب انگلش فلموں کی کہانیاں استعمال ہوتی ہیں۔ سو اسی لیے اب فلموں کا معیار کم ہو گیا ہے۔ بھائی دوسروں کی محنت پر ہاتھ صاف کرو گے تو ایسا ہی الٹا سیدھا، اپلم چپلم، اوٹ پٹانگ فلم کے نام پر بنا پاؤ گے۔

اور یہ دور جدید کا موا فیشن ۔۔۔۔
کیا اچھے دور تھے جب عورتیں دنداسہ سے یا پان کھا کر ہونٹ رنگ لیتی تھیں۔ کاجل کی ڈبیہ سے انگلی سلائی کی طرح آنکھ میں پھیر لیتی تھیں، بالوں کو یا تو وحیدہ رحمٰن اسٹائل میں بنا لیتیں یا سادھنا ہیئر کٹ یا ۔۔۔۔ پی پی لانگ سٹرمپ کی طرح دو چٹیاں میں باندھ لیتیں۔ ان میں صرف نیرو کی بیوی بڑی فضول خرچ تھی جو گدھی کے دودھ سے نہاتی تھی۔
مگر اللہ توبہ ۔۔۔ یہ وقت بھی آنا تھا قیامت کی نشانی بن کر۔ اب تو اتنی فضول خرچی ہوتی ہے اس میک اپ پر کہ لڑکپن جوانی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور جوانی دیوانی ہو جاتی ہے اور بڑھاپا۔ ۔ ۔ جوانی اور بڑھاپے کے سنگم پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ملک کے بجٹ کو اور زیر بار ان عورتوں کے میک اپ نے کر دیا ہے۔

اس لیے بھیا،
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں
ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا بتاؤں

مستنصر حسین تارڑ کے شکوؤں سے بھی زیادہ،
میں سنا سنا کر اپنا دل جلاتا رہوں گا اور تم سن سن کر کلستے رہو گے۔
اس لیے اب تم اپنے گھر کا رستہ ناپو اور میں باقی حال دل سنانے کے لیے کسی اور کو ڈھونڈتا ہوں۔