008 - ڈاکٹر ہو تو ایسا: وینسینٹ

ڈاکٹر ہو تو ایسا۔ ۔ ۔ ۔

سرکاری ہسپتال میں معمول کے مطابق مریضوں کی کثرت نظر آتی تھی۔ ۔ ۔ ۔ جب ڈاکٹروں کی فصل شاید خشک سالی کا شکار تھی۔ ۔ ۔ آج ایک ہی ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر تھے اور شاید نئے نئے یہاں آئے تھے جو اتنے حیران و پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ ۔ ۔ مریضوں کی بہتات کے باعث بدحواس سے تھے اور بیک وقت کئی مریضوں کو چیک کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ ۔ ۔
ایک مریضہ کی نبض تھامے ان کے دل کا درد جاننے کی تگ و دو میں تھے اور یہ قطعاً بھول چکے تھے کہ وہ پچھلا مریض جس کو پانچ منٹ قبل منہ کھولنے کا کہہ کر بھول گئے تھے ابھی تک منہ پھاڑے خشمگیں نظروں سے انہیں گھور رہا تھا۔ ۔ ۔
جب اس پر نظر پڑی تو ہڑبڑا کر اس کے منہ کے غار میں تھرمامیٹر ٹھونسا اور منہ بند کر دیا۔ ۔ ۔ چند منٹ بعد تھرما میٹر نکالا اور عینک درست کرتے ہوئے درجہ حرارت پڑھنے کی کوشش کی۔ ۔ ۔ تھرمامیٹر کچھ مختلف سا محسوس ہوا۔ ۔ ۔ غور کیا تو سر پیٹنے کو دل چاہا کہ یہ تو ان کی بال پوائنٹ تھی۔ ۔ ۔ ڈرتے ڈرتے مریض کو دیکھا جو انتہائی شوق سے بولا۔ ۔ ۔
"سر جی ایہہ تھرمامیٹر وچ پنسل ضرور چائنا آلیاں لائی ہونی اے۔ ۔ ۔ بڑے ای تیز بندے نیں۔ ۔ ۔ فیر کتنا اے بخار۔ ۔ ۔"
ڈاکٹر صاحب نے بھی جلدی سے اپنی غلطی پر پردہ ڈالا اور بولے۔ ۔ ۔
"ہاں ہاں۔ ۔ ۔ نوے ڈگری کا بخار ہے۔ ۔ ۔ شکر کرو یہاں آ گئے ورنہ بچنا مشکل تھا۔ ۔ ۔"
ڈاکٹر صاحب نے چند گولیاں پوری کیں اور بولے۔ ۔۔
"یہ گولیاں کھا لینا۔ ۔ ۔ اللہ نے چاہا تو شفاء بھی ہو جائے گی۔ ۔ ۔"
مریض نے گولیوں پر نگاہ ڈالی اور بولا۔
"ڈاکٹر جی۔ ۔ ۔ یہ چاروں گولیاں میں نے ہی کھانی ہیں۔ ۔ ۔"
ڈاکٹر صاحب جھنجھلا کر بولے۔ ۔
"گھر میں کتنے بندے ہیں۔ ۔ ۔"
"نو جی۔"
وہ انگلیوں پر گن کر بولا۔
"یہ لو پانچ گولیاں اور۔ ۔ ۔ ۔ سب کو ایک ایک دے دینا۔"
مریض نے یوں خوش ہو کر سر ہلایا جیسے ڈاکٹر صاحب سے اسی رعایت کی امید تھی اور اٹھ کر چلا گیا۔ ۔۔
ڈاکٹر صاحب نے سکون کا سانس لیا اور اگلی مریضہ کی جانب متوجہ ہوئے۔ ۔ ۔
"جی بہن۔ ۔۔ آپ کا سینے کا ایکسرے ہو گیا۔ ۔ ۔ دکھائیے ذرا۔ ۔ ۔"
ڈاکٹر صاحب نے ایکسرے اٹھایا اور ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ ۔ ۔ اچانک ہی چونک پڑے اور عینک درست کرتے ہوئے دوبارہ ایکسرے کو سامنے کیا۔
تھوڑی دیر غور فرماتے رہے۔ ۔ ۔ اور پھر بولے۔
"وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ۔ ۔ ایک تو پتہ نہیں آپ لوگ اتنی لاپروائی کیوں کرتے ہیں۔ ۔ ۔"
"کیسی لاپروائی ڈاکٹر صاحب۔ ۔ ۔؟" مریض کے ساتھ والی خاتون نے پوچھا۔
"بھئی یہ میرے خیال سے پچھلے چند دنوں میں بیسواں کیس ہے جس کے ٹی بی کی وجہ سے پھیپھڑا ہی غائب ہو چکا ہے۔ ۔ ۔ آپ لوگ چیک ہی نہیں کرواتے۔"
"ٹی بی۔ ۔ ۔ پھیپھڑا ہی غائب۔ ۔ ۔ کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب؟"
مریضہ کو غش سا آیا۔
لو جی آپ خود ہی دیکھ لیں۔ ۔ ۔" ڈاکٹر صاحب نے ایکسرے مریضہ کے سامنے کیا اور ایک بالکل کالی جگہ اشارہ کیا۔
"یہاں کبھی آپ کا بایاں پھیپھڑا ہوا کرتا تھا۔ ۔ ۔"
"اب کہاں ہے؟؟"
"ٹی بی کھا گئی۔ ۔ ۔"
اور ساتھ ہی مریضہ نے بھاں بھاں کر کے رونا شروع کر دیا۔ ۔ ۔
"اب کیا ہو گا جی۔ ۔ ۔"
"ہو گا کیا۔ ۔ نو ماہ علاج ہو گا۔ ۔ ۔"
نو ماہ کا سن کر مریضہ کے رونے میں مزید اضافہ ہو گیا۔
"لوگ پروا ہی نہیں کرتے کل ایک آیا اس کا بایاں گردہ غائب تھا۔ ۔ ۔"
ڈاکٹر صاحب نے مریضہ کو دوا کی پرچی بنا کر دی اور کچھ تسلی دلاسے دے کر فارغ کیا۔ ۔ ۔
ایک اور مریض عجیب سی شکل بنائے پیچھے کھڑا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا۔
"کیوں بھئی تمہارا بھی کیا پھیپھڑا غائب ہے؟؟"
وہ بے چاری سی شکل بنا کر بولا۔ ۔ ۔
"ڈاکٹر جی۔ ۔ ۔ جے گل پھیپھڑے تک ہوندی تے رولا ای کوئی نائی۔ ۔ ۔ ۔ پر میڈا تے کھبا ادھا دل ہی گواچ گیا اے۔"
(اگر بات پھیپھڑے کی ہوتی تو خیر تھی پر میرا تو بایاں آدھا دل ہی غائب ہے۔)
ڈاکٹر صاحب کو لگا کہ شاید انہیں سننے میں مشکل ہوئی ہے لیکن جب دوبارہ یہی جواب ملا۔ ۔ ۔
تو گڑبڑا کر رہ گئے۔ ۔ ۔ ذہن میں کچھ چُبھ سا رہا تھا۔ ۔ ۔ اسی دوران اس ٹی بی کی مریضہ کے ایکسرے پر نظر پڑی جو وہ مریضہ بے دھیانی میں میز پر ہی چھوڑ گئی تھی۔ ۔ ۔
انہوں نے وہ اٹھایا اور اس پر دوبارہ نظر دوڑائی۔ ۔ ۔
اچانک دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا کہ پھیپھڑا تو ٹی بی کھا گئی یہ بائیں جانب کی پسلیاں کون کھا گیا۔ ۔ ۔
تبھی ان کے ذہن میں جواب ایک جھماکے کے ساتھ آیا کہ ان کی ایکسرے مشین کی ہی ایک سائیڈ بلینک ہو چکی تھی۔ ۔ ۔ اور وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ۔ ۔
بے چارے گمشدہ دل والے مریض جو جیسے تیسے بات سمجھائی۔ ۔ ۔ پر اس کو یقین نہیں آتا تھا اور وہ یہی سمجھتا تھا کہ ضرور ڈاکٹر کوئی چکر چلا رہا ہے۔ ۔ ۔ وہ بے چارہ بار بار کہتا۔ ۔ ۔
"سر جی پر مینوں کھبے پاسے دل محسوس نہیں ہوندا۔"
(سر جی مجھے بائیں طرف دل محسوس نہیں ہو رہا۔ ۔ ۔)
پر ڈاکٹر جی نے اسے زبردستی رخصت کیا وہ تو ان بیس کے قریب مریضوں کا سوچ رہے تھے جو پچھلے دو ہفتے سے ان سے ٹی بی کا علاج کروا رہے تھے۔ ۔۔