002 - غزل از فرید ندوی

آپ کے لطف و کرم کی کیا دعائیں آ گئیں
زیست کی تاریک راہوں میں ضیائیں آ گئیں

سر سے شانوں تک ڈھلک کر اب ردائیں آ گئیں
کتنی پستی میں زمانے کی حیائیں آ گئیں

ہو گیا پیراہنِ ملت بلا سے تار تار
رہبروں کے تن پہ تو زریں قبائیں آ گئیں

تھا خلوصِِ دل سے جو سجدہ جبینِ شوق کا
اس کے استقبال کو خود ہی جزائیں آ گئیں

بھیج کر لختِ جگر کو کار زارِ شوق میں
راہِ حق میں کام کتنی مامتائیں آ گئیں

ہو گئیں تاراج اقوامِ کہن جن کے سبب
حیف اپنی قوم میں بھی وہ وبائیں آ گئیں

میں نے سچی بات کیا کہہ دی سرِ ایوانِ عدل
میرے سر پر ساری دنیا کی بلائیں آ گئیں

جب کبھی تنہائیاں ڈسنے لگیں مجھ کو فرید
اکثر ان کی یادیں میرے دائیں بائیں آ گئیں