003 - غزل از آتش چاپدانوی

وحشت دل کہہ رہی ہے تج دے کاشانہ مجھے
اور صدائیں دے رہا ہے کب سے ویرانہ مجھے

در سے تیرے اک لقب ملتا ہے روزانہ مجھے
خبطی، پاگل، باؤلا، سودائی، دیوانہ، مجھے

ہر گھڑی جلوہ نما ہے تُو نظر کے سامنے
راس دیکھو آ گئی ہے خوئے رندانہ مجھے

مدتوں رہنا ہے یونہی آہ و زاری میں صنم
اک نظر کی بھول کا بھرنا ہے جرمانہ مجھے

لے گیا چین و سکوں میرا محبت کے عوض
اور خلش کا دے گیا ہے ایک نذرانہ مجھے

میکدے میں، میں نے چھوڑا ہے وہ نقشِ بےخودی
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

لے چلی دیکھو حسن، حُسنِ تغزل کی تلاش
پیش رو غالب کی صورت سوئے میخانہ مجھے