005 - نظم از سلیمان

مٹھی بھر دکھ

سرد سرد راتوں کی،
بے حساب تنہائی
لا حاصل مسافت سے
جو ملی کٹھنائی،
گہرے گہرے پانی کی
تیز و تند موجوں سے،
مقابلہ کرتے آنسو
اور دل کی سر زمین پر
درد کے آسمانوں کی
نیلگوں سی تاریکی،
سب یہی بتاتے ہیں
کہ دنیا بھر کی خوشیوں پر
مٹھی بھر سے دکھ بھی،

کیسے حاوی ہوتے ہیں !!