006 - نظم از نوید ظفر کیانی

بیگم کی بیاض سے

بے تحاشہ کس لئے کھاؤں غذا، میں کوئی پاگل تو نہیں
ایک دن بن سکتی ہوں میں بھی بلا، میں کوئی پاگل تو نہیں

ٹھیک کہتے ہو کہ اپنے شوہروں پر شک نہیں کرتی ہیں اچھی بیویاں
چھوڑ دوں پھر اپنے شوہر کو کھُلا، میں کوئی پاگل تو نہیں

گھر میں ہوں شوہر تو دعوت پر بلاؤں دوستوں کو کس طرح
ساری دکھلاتی پھریں ناز و ادا، میں کوئی پاگل تو نہیں

سُرخ کر کر کے لگامیں کب جواں ہوتی ہیں بوڑھی گھوڑیاں
ساس سے کہہ دوں یہ سچ، کر دوں خفا، میں کوئی پاگل تو نہیں

کس طرح شوہر سے میں کہہ دوں کہ وہ رشوت ستانی چھوڑ دیں
گھر چلا پاؤں گی پھر کیسے بھلا، میں کوئی پاگل تو نہیں

بی پڑوسن تم بنا ڈالو گی گڈا میری نندوں کا ابھی
تم سے کہہ دوں اپنے گھر کا ماجرا، میں کوئی پاگل تو نہیں

بولتی ہوں جھوٹ کہ یہ آج کے انسان کا معیار ہے
سب سمجھتی ہوں روا و ناروا، میں کوئی پاگل تو نہیں

ہر نئے نسخے کا کھانا آزماتی ہوں میں شوہر پر ظفر
آپ کیوں کھاؤں مجھے مرنا ہے کیا، میں کوئی پاگل تو نہیں