002 - ون اردو ممبران کی آراء

ون اردو ممبران کی آراء
ارشد منیر کاظمی:
کائنات بشیر کی تحریریں ہمیشہ ہمیں ٹھنڈی اور تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔
عمومی معاشرتی رویوں، گروہی عادات اور عام رہن سہن سے ایسے نکتے اٹھا لانا جن پر عام طور پر نظر نہیں پڑتی، کائنات کا کمال ہے۔
ہلکے پھلکے انداز میں چیزوں کے ہونے کا احساس دلا کر انہیں نئی جہت میں پیش کرنا اور مزید سوچنے پر اکسانا ان کی ہر تحریر کا خاصہ رہا ہے۔
معاشرتی رویوں سے کسی حد تک نالاں ہونے کے باوجود انہوں نے بہتری کی امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑا اور یہی ان کے ترقی پسند مصنف ہونے کی دلیل ہے۔
قاری کی دلچسپی قائم رکھنے اور اسے اپنے ساتھ چلانے کا ملکہ بھی کائنات کو خوب حاصل ہے۔ ایک مضمون شروع کر لیں تو پورا پڑھے بغیر جی نہیں بھرتا۔
ہمیں امید ہے کہ بہت جلد وہ عصر حاضر کے چیدہ چیدہ مصنفین میں اپنا مقام پیدا کرلیں گی۔
آمنہ احمد:
کائنات کے ساتھ میرا ایک خاص تعلق ہے، ان کے اور میرے والد کے حوالے سے۔۔۔۔اپنے اپنے والد کے حوالے سے ہم دونوں چھوٹی بچیاں ہیں جو میلے میں پھرتے ہوئے سر اونچا کر کے بار بار اپنے والد کے چہرے کی جانب دیکھتی ہیں کہ کہیں ہاتھ چھوٹ تو نہیں گیا!۔۔۔۔ مگر یہ تعلق یہیں ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔ میں وقت میں کہیں گم چکی ہوں مگر کائنات ایک ایسے لمحے میں ٹہھری ہوئی ہیں جہاں وقت کسی مدہر چشمے کی طرح بہہ رہا ہے، سوچیں باد نسیم کے معطر جھونکے سی ہیں اور الفاظ بارش کی کن من پھوار جیسے۔۔۔۔۔جب بھی کائنات کو پڑھتی ہوں تو ان کے الفاظ کا جادو کسی اور دنیا میں لے جاتا ہے۔۔۔۔ کائنات اپنی تحاریر کے حوالے سے اپنی الگ سے ایک کائنات رکھتی ہیں جیسے ایلس ان ونڈر لینڈ۔۔۔۔
عمران نئیر خان:
کائنات بشیر کی ابھی تک جتنی تحریریں نظر سے گزری ہیں، ان میں بنیادی بات جو میں نے محسوس کی وہ ہے احساسات و جذبات کی کارگزاریاں۔۔ ہر تحریر ایک تنوع لیے ہوتی ہے۔۔
وہ بہت جلد سیکھ گئی ہیں کہ ایک رائٹر کا اپنے قاری سے رشتہ کیسا ہونا چاہیے۔
ان کے قلم میں بیک وقت سادگی، برجستگی، شگفتگی اور دلوں کو چھو لینے والے رنجیدہ احساسات موجود ہیں۔۔ جو براہ راست ایک قاری کے دل و دماغ پر خوشگوار یا سوگوار تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہے۔۔
خدا سے دعا ہے کہ کائنات بشیر کو اس تحریری سفر میں ہمیشہ سرفراز رکھے۔ آمین۔"
کوثر بیگ:
بعض اشخاص، بعض مقامات اور بعض اوقات کی طرح بعض تحاریر اور رائیٹرزبھی ایسے ہوتے ہیں کہ طبیعت کو ان سے کشادگی وتازگی کی دولت حاصل ہوتی ہے۔ کائنات مضمون، افسانہ اور کالمز ہمہ اقسام کے موضوع اوران کے ہر پہلو پر بڑی باریک بینی سے تحریر کرتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے چمن میں رنگ برنگ کے پھول کھلے ہوں، کائنات کی تحریر پڑھکر رہ رہ کر یہ خیال آتا ہے کہ انہیں اسی قدر قریب سے دیکھنے کا موقع میسر آتا جتنا ان کی تحریر کو پڑھنے کا تو شاید اور زیادہ محظوظ ہو سکتی۔ اپنے نام کے مصداق “ جنت کی نہر ”ان کی تحریربالکل نام ہی کی طرح مماثلت رکھتی ہے۔ آبشار کی روانی، سمندر کی گہرائی اور وسعت، معلومات کا خزائن جس سے آبِ رواں جاری ہو۔ تو کبھی پھوار کی طرح
شوخی وشرارت سے قاری کو مسکراہٹ دیتی ہے اور کبھی موسم کی پہلی آبِ رحمت بن کر اندورنی خوشی دیتی ہے۔
لگتا ہے ان کو اچھے سے پتہ ہے کہ قارئین کو کب کیسے آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ کائنات کو لکھنے پر اتنا عبور ہے کہ یہ دریا ئے شور کو بھی آبِ مروّق میں تبدیل کرسکتی ہیں۔ میں نے آب کا اتنا ذکر کردیا ہے کہ کہیں آبیانہ نہ لگ جائیے۔ اس لئے اب آپ ان کی تحریر سے لطف اندوز ہوکر تصدِیق کرلیں۔
دریا پکارتا ہے ادھر دیکھ اے احباب
تیرے لیے میں تیری طرح بے قرار ہوں
سحر آزاد:
کائنات بشیر ایک ہمہ جہت اور سدا بہار تخلیق کار ہیں۔ زندگی کو کافی گہری نظر سے دیکھ کر اپنے وسیع تجربے کی روشنی میں اپنے مخصوص سادہ مگر دلچسپ انداز میں اس طرح بیان کرتی ہیں کہ قارئین کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی اپنا ان کے دل کی آواز کو لفظوں کی زبان دے رہا ہو۔
کائنات کے کام کی پہنچان ان کی تحاریر میں روانی اور زبان کی سادگی ہیں۔ تکنیکی لحاظ سے کالم نگاری میں کافی مضبوط ہیں، سنجیدہ افسانہ اور ناولٹ بھی بہت معیاری لکھتی ہیں، اور فلسفے پر بھی بارہا قلم اٹھا چکی
ہیں لیکن ان کی خاص پہچان مزاح نگاری ہے اور مزاح نگاری میں بس یوں سمجھ لیں جیسے ابن انشاءنے انہیں خود سے مزاح لکھنا سکھایا ہو۔ یعنی ان کی ہر مزاحیہ تحریر میں بھی ایک سوچ ہوتی ہے ایک پیغام ہوتا ہے۔
لکھنے کے لیے عموماً ہلکے پھلکے موضوعات کا انتحاب کرتی ہیں مگر اپنے مخصوص انداز میں اس قدر خوبصورتی سے لکھتی ہیں کہ قاری خود کو ان کی تحریر کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
مختصر مگر جامع الفاظ میں ہمیں انہیں کہہ سکتے ہیں کہ وہ ”گفٹڈ پروفیشنل“ ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ کائنات کی صلاحیتیں میں اور اضافہ فرمائے تاکہ وہ اپنی کامیابیوں کی لسٹ میں اور اضافہ کر سکیں۔ آمین۔

ہما جاوید:
کائنات کا اپنا ایک خاص اسٹائل ہے جس کی وجہ سے اس کی تحریر کی پہچان ہو جاتی ہے۔ سنجیدہ سے سنجیدہ بات بھی شگفتہ پیرائے میں کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے تحریر بوجھل نہیں ہو پاتی اور آخر تک دلچسپی قائم رہتی ہے۔ وہ زندگی کے فلسفوں کو گنجلک بنا کر پیش نہیں کرتیں بلکہ گہرے فلسفے کو بھی صاف اور سادہ
انداز میں بتا کر سبک کر دیتی ہیں۔ مجھے ان کی تحریر کی یہی سادگی،گہرائی اور شگفتگی پسند ہے۔

ھما تنویر:
میں نے کائنات کی اتنی تحاریر تو نہیں پڑھیں۔ لیکن جتنی پڑھی ھیں خاص طور پہ افسانے۔ بہہہت اچھے لکھے ھیں انہوں نے۔ ان کی تحاریر میں ان کا اپنا انداز چھلکتا نظر آتا ھے۔ شگفتہ شگفتہ، شائستہ شائستہ اور برجستگی بھی نمایاں ھوتی ھے ان کی تحریروں میں۔
شیخ فہد:
بہت ہی زبردست رائٹر ہیں، ہمیشہ منفرد مضامین پر لکھتی ہیں، اور ہر تحریر میں کہیں نہ کہیں اصلاح کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔

سائرہ علی:
کائنات سس کی تحاریر ہمیشہ سے ہی میری توجہ اپنی جانب کھینچتی آئی ہیں۔ ان کی تحاریر میں ایک خاص رنگ کی جھلک محسوس ہوتی ہے اور وہ رنگ ان کی شخصیت کا عکاس ہے۔ ان کی تحاریر بناوٹ سے پاک ، عام فہم اور سہل ہیں ۔ بڑی سے بڑی بات بھی ہلکے
پھلکے انداز میں کہتی ہیں جس کی وجہ سے قاری کی توجہ آخر تک برقرار رہتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر تحریر ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کے ان کو اس سفر میں بے انتہا کامیابیاں نصیب ہوں آمین۔
رافعہ خان:
کائنات ان لکھنے والوں میں سے ہیں جنہیں نہ موضوعات کی کمی درپیش ہوتی ہے نہ ہی قلم کا تسلسل رکتا ہے۔ ان کا لکھنے کا انداز اردو انشائیے کی سمت میں رواں ہے۔ کائینات اپنے موضوعات کو بہت ہی ہلکے پھلکے شگفتہ انداز میں
کسی مرکزی پیغام کے گرد بنتی ہیں جو پڑھنے والے کو اپنی تازگی اور برجستگی سے متاثر کیے بنا نہیں رہتا۔ اللہ کرے ان کا لکھنے کا سفر کامیابی سے جاری رہے۔