004 - نام ایک پہچان

نام ایک پہچان
خوبصورت نام، ایک پیار بھرا تحفہ ہے۔

زمانے پر ہنسے کوئی کہ کوئی روئے
جو ہونا ہے وہ ہوتا جا رہا ہے

نام اک پہچان

دنیا میں آتے ہی سب سے پہلے جو چیز ملتی ہے وہ یقینا نام کا تحفہ ہے۔ جب گھر میں اک نئے فرد کی آمد کا پتہ چلتا ہے تو سبھی چونک جاتے ہیں۔ مگر آنے والے کو اس وقت صرف اک مہمان کی حثیت میں ہی لیا جاتا ہے۔ اور اسے نام بھی۔۔۔ خاص مہمان۔۔۔۔ کا دیا جاتا ہے۔
یہ بھی بھلی رہی ورنہ سوچئے اگر بے تکلفی سے نام کرن پہلے ہی ہو جائے۔ کیونکہ احوال و زمان بدل چکے ہیں الٹرا ساونڈ مشینوں سے پہلے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ گھر میں رحمت آ رہی ہے یا نعمت، تو لوگ اوتاولے ہو کر پہلے ہی لڈو یا برفی بانٹ دیتے اور نام رکھنے کے فریضہ سے بھی نپٹ بیٹھتے تو کام بھی کتنے کم ہو جاتے۔ اور پہلے ہی علم ہو جاتا کہ فلاں گھر میں شیخ ہاشم الدین آ رہے ہیں اور فلاں گھر میں آفاق بدرالدین اور فلاں میں سکینہ بنت کلثوم رونق افزاء ہونے والی ہے تو آنے والے کی بھی جگہ اس کے آنے سے پہلے ہی پکی ہو جاتی۔ شناختی کارڈ کے لیے بھی درخواست دے دی جاتی، اور سکول میں داخلہ اور پولیو کے ٹیکے کے لیے بھی نام کا اندراج ہو جاتا۔ گو وقت کے چرخے نے بہت سے رسم و رواج کو سوت کی طرح کات کر رکھ دیا ہے مگر اس معاملے میں خاص ترقی نہیں ہوئی۔
حتی کہ چاند کی بڑھیا آج بھی بے نام بیٹھی ہے۔۔۔ جبکہ چرخہ چلا چلا کر وہ خود چکرائی ہوئی ہے اور چاند بادل جیسی روئی سے بھر چکا ہے۔ افسوس چاند بھی بے نام ماما بن کر رہ گیا جو کہ لوری دینے میں ماں کے بعد پیش پیش رہا۔
چندا ماما دور کے
بڑے پکائیں بور کے
کاش اس ماما کو بھی کوئی نام مل جاتا، بےنام رہنا کتنا تکلیف دہ ہے کوئی اس سے پوچھے، اس دلہن کے ارمانوں سے، جس کا پیا اسے بظاہراپنا نام دے کر پردیس کی الف لیلوی دنیا میں جا کر بیٹھ گیا ہو اور وہ بچاری اس بےنام سے رشتے کے سہارے اپنی عمر کا بہترین حصہ آنکھوں میں انتظار کی جوت جلائے کاٹ دے۔

پہلے لوگ ناموں کے جنجھٹ میں زیادہ نہیں پڑتے تھے۔ کوئی قافیہ ردیف مل گیا تو ٹھیک ورنہ بعض دفعہ تو آنے والا خاص مہمان گود میں سیر کر رہا ہوتا تھا۔ مگر بچارے کوجلد نام نصیب نہیں ہوتا تھا۔ گھر والے منا منی، ننھا ننھی کہہ کر کام چلا لیتے تھے۔ اور اہل محلہ کے پاس بھی اک حق موجود رہتا تھا اور وہ بھی اپنی مرضی سے ان کے پپو، ببلو، گڈو، گڑیا، پدا، پدی جیسے نام رکھ لیتے تھے۔ تب سکول میں داخلے کے وقت تک گھر والوں کو بھی کافی وقت مل جاتا تھا۔ تب یا تو وہ کوئی فیشنی نام رکھ لیتے یا اپنے کسی خاندانی بزرگ کا رکھ کر برکت ڈال لیتے۔ ورنہ اسلامی نام تو ہر دور میں ہر وقت موجود رہتے ہی ہیں۔

علم واعداد والے ہمیشہ اپنی ہی کہتے رہے کہ نام ان کے لگائے حساب سے رکھا جائے۔ تو کیا پتہ کل کو اس نام کا مکین عزت و شہرت کے آسمان کو چھونے لگے۔ اور دولت اس کے گھر کی لونڈی بن جائے۔ ورنہ کہیں یہ نہ ہو کہ ایک کا عدد نو کے عدد سے بھڑ جائے۔ ویسے ان کے تجویز کردہ ناموں کو رکھنے میں حرج تو نہیں مگر اپنی پسند کے حروف ابجد کو پیچھے ڈالنا پڑتا ہے۔ اور دوسری قباحت یہ ہے کہ ان کے بتائے نام صدیوں پرانے محسوس ہوتےہیں۔ وہی کمال، جمال، انور، اصغر، اختر اور نسیم، بلقیس، یاسمین، طاہرہ، شاہدہ وغیرہ، کچھ لوگ بڑے سیاستدان ہیں وہ نام توعلم واعداد کے مطابق رکھ لیتے ہیں مگر پھر اسے عرفیت اپنی پسند کی دے لیتے ہیں۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ساری زندگی اصل نام عرفیت کے پیچھے ہی چھپا رہتا ہے۔ اور اس سے پیچھا چھڑائے نہیں چھٹتا اور جب نکاح ہو رہا ہوتا ہے تو وہ بھی بقول دنیا کسی منا، کاکا، ننھا یا بلو شلو کا ہو رہا ہوتا ہے۔ ویسے شادی کے بعد زوجہ محترمہ کو میاں کو بلانے میں آسانی رہتی ہے۔ منے کے ابا، بلو کے ابا،ایک لڑکی اس جہان کی رونق ہوئی جس کی آنکھیں سبز تھیں تو سب نے اسے جھٹ بلی کی عرفیت دے دی۔ اب وہ خاتون کئی بچوں کی ماں ہے۔ اور ذکر کرنے والے کچھ یوں انجانے میں بات کر جاتے ہیں۔ پہلے بلی کے تین بچے تھے اب چار ہو گئے ہیں۔
کوچہ۔۔۔ میں ایک منشا نام کے صاحب تھے مگر اہل محلہ عورتوں کی زبان پر وہ ہمیشہ۔۔۔ حسب منشاء۔۔۔ ہی رہے۔
میری کھوج مسکرائے بنا نہیں رہتی جب اچھے بھلے ناموں کو لوگ بالکل اور طرح پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ یا انھیں نام کو نظر لگنے کا ڈر ہوتا ہو گا۔ جیسے پھجے کے پائے نام کی شہرت تو سنی تھی غور کیا تو اچھا بھلا فضل نام برآمد ہوا۔

کچھ اہل جہاں بڑے باذوق ہیں۔ وہ خوب چھان پھٹک کرغوروفکر کے بعد نام رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان ناموں سے نسل چلنی ہے اور یہ اگلی پیڑھی تک بھی پہنچنے ہیں کہیں یہ نہ ہو کہ اگلی نسل ان ناموں کو چھپاتی پھرے۔ اس لیے وہ شہنشاہوں اور بادشاہوں کے نام رکھنے کو ترجیح دیتی ہے۔ ممتاز بیگم، نور جہاں، بابر، ہمایوں، شاہ جہاں،جہانگیر، جہاں زیب وغیرہ یا وہ رانی، شہزادی، ملکہ کو نام میں شامل کر کے باوزن بنا لیتے ہیں۔ میری حیرانی کا ٹھکانہ نہیں تھا جب ایک گھر میں دو بچوں کے نام اکبراوراعظم دیکھے۔ درحقیقت انھوں نے اکبر اعظم کواپنے گھر کا باسی بنا لیا تھا۔
نام رکھنے کی سہولت کے لیے ڈرامے، فلمیں اور ناول بھی بہت بڑی آفر دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں رضیہ بٹ نے لڑکیوں کے نام اور عمیرہ احمد کے ناولز نے لڑکوں کے نام رکھنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اور ایک طرح سے لوگوں کی بڑی مشکل بھی حل کی۔ ایک طرف ناہید، نورین، عاشی، انیلا، نائیلہ، سارہ، شائنہ جیسے نام زبان زد ہوئے اور دوسری طرف شہیر، ذالعید، سالار، اظفر،زارون، معیز جیسے نئے نام سامنے آئے۔ اور مشہور مصنفہ رفعت سراج کو تو حرف ابجد۔۔۔ ظ۔۔۔۔ اتنا پسند آیا کہ ایک ناول میں انھوں نے ایک گھر میں پانچ، چھ لڑکوں کے نام میں اسے خوب استعمال کیا۔ مظاہر، اظہار،مظفر، مظہر، اظہر، ظہیر وغیرہ وغیرہ
سب سے زیادہ رائیٹر اور شاعر حضرات خوش قسمت نکلتے ہیں۔ ان کے پاس نام تو والدین کا دیا موجود ہوتا ہے مگر وہ تخلص رکھ کر اپنا نام کرن خود کر لیتے ہیں۔
سو نام رکھنا چنداں مشکل نہیں۔۔۔ اور نہ ہی اس کی کمی ہے۔
بس یہ سوچ لیں کہ نام نہ صرف زندگی میں ساتھ نبھائے گا بلکہ بعد میں بھی دوسروں کے لیے اک یاد بن کر رہے گا۔ اچھا خوبصورت بامعنی نام اک یادگار پہچان ہے تو یہ تحفہ ضرور سوچ سمجھ کر نئی نسل کو دیجئے۔
٭٭٭٭٭