005 - کتاب اور قاری

کتاب اور قاری

یہ ورق ورق تیری داستاں، یہ سبق سبق تیرے تذکرے
میں کروں تو کیسے کروں الگ تجھے زندگی کی کتاب سے

کتاب اور قاری

رائیٹر، کتاب اور قاری۔۔۔
سب سے پہلے تو کسی بھی کتاب تحریر، مضمون، آرٹیکل، ناول یا افسانے کے لیے اس کا عنوان بہت بڑا رول ادا کرتا ہے۔ عنوان کو ایک لفافہ سمجھیے، جس سے آپ اندر چھپے مضمون کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

عنوان کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ کتاب کے عنوان نے یا رائیٹر نے قاری کو کھینچ کر لانا ہے۔ سو اسے کتاب کی مارکیٹنگ کا ذریعہ بھی سمجھیے جو آپ کی تحریر کے لیے ریڈرز لاتا ہے۔

کچھ لکھنے والے لوگوں کو اس کی اہمیت کا نہیں معلوم۔ وہ پورا زور تحریرلکھنے پر لگا دیتے ہیں اور آخر میں پھسپھسا سا ٹائیٹل رکھ لیتے ہیں۔ اور کچھ رائیٹر پورا زور عنوان پر لگا دیتے ہیں، پر تحریر میں جان نہیں ہوتی اور قاری یہ کہتا ہوا کتاب پرے رکھ دیتا ہے۔ ہونہہ، کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔۔۔۔ اور اپنے وقت کی بربادی پر اسے علیحدہ ملال ہوتا ہے اور وہ تلملا رہا ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں کو صرف پڑھنے سے مطلب ہوتا ہے۔
انھیں نہ تو عنوان سے کوئی شغف ہے نہ رائیٹر بارے جاننے کا تجسس اور نہ ہی ان کا اپنا کوئی خاص انتخاب ہوتا ہے۔ بس جو بھی کتاب ہاتھ لگی، اٹھائی اور کبھی کھلی آنکھوں سے اور کبھی نیم باز آنکھوں سے اسے پڑھتے رہے۔ نہ تو ان کا شعور حاضر تھا اور لا شعور تو تھا ہی نہیں۔ اور کتاب پڑھ کر ایک جمائی لی پھر انگڑائی لی اور یہ جا اور وہ جا۔ پھر کونسی کتاب کہاں کا رائیٹر اور کیسا عنوان و مضمون، اللہ، ایسے ٹائم پاس قارئین سے رائیٹرز کو بچائے۔

پھر کچھ قاری ایسے بھی ملیں گے۔
جنہیں اپنے کورس، نصاب کی کتابوں سے رغبت نہیں لیکن رسالے اخبار ناول چاٹنے کو ہر وقت تیار، بلکہ وقت گزرنے کا پھر انھیں پتہ بھی نہیں چلتا ان ریڈرز میں لڑکے بھی شامل تھے اور لڑکیاں بھی، لڑکے ابن صفی کی کتابیں اور لڑکیاں رضیہ بٹ کے ناول کورس کی کتابوں میں چھپا کر پڑھتی تھیں۔ ایک پنتھ دو کاج۔ اپنے لیے ناول دنیا کے لیے کورس کی کتاب۔ واہ واہ کتنے ہوشیار قاری۔۔۔۔

کچھ قاری آپ کو ایسے بھی جھلک دکھلائیں گے،جو صرف ٹرین، بس اور پلین میں پڑھنے کا فریضہ ادا کریں گے۔ یہاں بھی وہ اپنے لیے کم اور دوسروں کے لیے زیادہ پڑھیں گے۔ کیونکہ یہاں وہ صرف دوسروں کو اپنی باڈی لینگویج ہی دکھا سکتے ہیں نا، تو کیوں نہ اپنے آپ کو ایک ادبی اور باذوق پرسنیلٹی دکھایا جائے۔ موقع بھی ہے دستور بھی ہے اور حرج بھی نہیں ہے۔ پر یہیں پر کچھ قاریزمانے کی مار بھی کھا جاتے ہیں جب وہ اس علم کے خزانے کو الٹا پکڑ لیتے ہیں یا صرف تصویریں دیکھنے سے کام چلا رہے ہوتے ہیں۔ یا کارٹونوں میں الجھے ہوتے ہیں۔

ممکن ہے،
آپ بھی کچھ ایسے قارئین کی لسٹ میں شامل ہوں۔ جن میں مرد حضرات اخبار لے کر باتھ روم میں گھس جاتے ہیں، حالانکہ پڑھنے کا یہ طریقہ خاصا غیرمہذب ہے، آخر علم کو چھپا کر کیوں پڑھا جائے، علم کے لیے تو چین تک جایا جائے تو صرف باتھ روم تک کیوں ؟ اورادھر قاری عورتیں ہنڈیا بھونتے ہوئے ڈائجسٹ پڑھ رہی ہوتی ہیں۔ جیسے ان کا ایک ایک منٹ قیمتی ہے اور پھر یہی ڈائجسٹ بعد میں ان کے تکیے کے نیچے سے بھی برآمد ہوتا ہے۔

قارئین کی ایک ننھی منی قسم بھی رہی۔
جو کسی زمانے میں نونہال، تعلیم و تربیت، بچوں کی دنیا، الف لیلی، انار شہزادی، کوہ قاف کی پریاں ، مکار جادوگرنی، کانا دیو وغیرہ پڑھ کر جوان ہوئی۔ پھر اس کے ہاتھوں میں ابن صفی، عمران سیریز، انوارعلیگی کی انکا، شکاری اور نسیم حجازی کے ناولز آئے ہیں۔ اور ان ہونہار پڑھنے والے سپوتوں کے بعد جو اگلی ننھی قوم آئی، اس نے ہاتھوں میں بچوں کے رسائل ، میگزین کی جگہ ویڈیو گیمز تھام لیں۔ سو یہیں سے قارئین کی تعداد میں کچھ کمی آنا شروع ہو گئی۔

اخبارات کے قارئین کی ایک بڑی تعداد ان شوہروں کی ہے،
جو صبح آفس جانے سے پہلے اتنے محدود وقت میں بھی لازمی اخبار پڑھ کر جانا چاہتے ہیں۔ جب بیوی۔۔۔ سنیے، ذرا سنیے آج کیا پکاؤں ؟ کی پکار کر رہی ہوتی ہے۔ اور وہ سنی ان سنی کر رہے ہوتے ہیں، حالانکہ صبح ہی صبح اخبار میں کون سی سواد کی خبر انھیں مل جانی ہوتی ہے۔ آفس سے آ کر بھی تو وہ تسلی سے اخبار کا قاری بن سکتے ہیں۔ مگر کہاںجی، اسی لیے تو میاں بیوی کی آدھی لڑائیاں ناشتے کی میز پر ہوتی ہیں۔
ویسے اخبارات کے قارئین کی ایک تعداد بڑی سلجھی ہوئی ہے۔ جی ہاں آپ صحیح سمجھے، جاب لیس لوگوں کی اورجاب سے ریٹائرڈ لوگوں کی۔ جنہیں کسی بات کی جلدی نہیں ہوتی۔ وہ صحیح پڑھنے کا حق ادا کرتے ہیں، اور اخبار کو دن میں کئی کئی بار پڑھ لیتے ہیں۔ بھءآخر پڑھنے میں کیا حرج ہے؟
یہ تو تھے اخبارات و رسائل پڑھنے والے قارئین،
جنہیں ایور گرین قاری کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ہر دور میں دستیاب ہوں گے۔ بے شک زمانے کا چلن بدل گیا ہے، مگر اخبار کے بغیر ان کی صبح بے کار ہے، موڈ خراب ہے، دل بیزار ہے۔
اور جو بدیسی قاری ہیں،
وہ آفس جاتے جاتے نیٹ پر موٹی موٹی سرخیوں پر نظر ڈالتے جاتے ہیں۔ جیسے ان کے کندھے پہ کسی نے بندوق رکھی ہو کہ آفس پہنچنے سے پہلے پہلے ان کے پاس خبروں کا نادر ذخیرہ موجود ہو۔

قارئین کی ایک بڑی تعداد صنف نازک کی ہے، جن کی شمولیت بنا ادب کی دنیا خالی رہے گی۔ اور یہ بڑی اور بھاری تعداد ناول اور ڈائجسٹ کو ترجیح دیتی ہے۔
پہلے اس نرم و نازک قاری کا دل بہلانے کے لیے مرد حضرات ہی ان کے لیے لکھا کرتے تھے، مگر وہ عورتوں والے جذبات، رومانیت، رونا دھونا، واویلا کہاں سے ڈالتے۔ سو یہ بیڑہ بھی پھر ان خواتین نے خود سنبھال لیا۔ اور اتنی اچھی طرح سے سنبھالا کہ اب وہی لکھنے والے مرد رائیٹر خود ان کو شوق سے پڑھتے ہیں۔
قارئین کی ایک بڑی تعداد شاعری پڑھنے والوں کی بھی ہے۔ جو اسے پڑھ کر وجد کے عالم میں جھومنا چاہتے ہیں۔ اس کیٹیگری میں ان قارئین کی تعداد زیادہ ہے، جنہیں اظہار میں مشکل کا سامنا ہو۔ جو اپنا ہوم ورک دوسروں کی مدد سے کرتے آئے ہوں، تھوڑے سے چھپے رستم ہوں اور اپنے دل کی دل میں رکھنے والے ہوں۔ دنیا والوں کو وہ۔۔۔۔ "میں شاعر تو نہیں " نظر آتے ہوں۔ مگر شاعری پڑھ پڑھ کر اندر سے خود اتنے حساس، لطیف اوررومانیت پسند ہو چکے ہوتے ہیں کہ پھر ان کا قلم بھی پھسلنے لگتا ہے۔ اور کبھی کبھی یہ قاری سے رائیٹر میں بدل جاتے ہیں۔

سو اب تو آپ کو اندازہ ہو گیا نا۔ یہ تینوں ایک ہی دائرے میں ہیں اور اسی میں گھومتے رہیں گے۔

٭٭٭٭٭