006 - ناشتہ

ناشتہ
جب سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے اس دنیا کی رونق کو دیکھنا شروع کیا تو ایک چیز روزانہ سب کو ایک وقت مقررہ پر کرتے دیکھا۔ ہر انسان کی زندگی میں اس کی بہت اہمیت دیکھی۔ اور یہ روزانہ پوری دنیا کے تعاون سے جاری ہے۔

صحیح پہچانا۔۔۔۔ ناشتہ،
جس کے بغیر بندے کی صبح مکمل نہیں ہوتی۔ اورناشتے کے اہتمام کے بغیر لگتا ہے کہ ابھی شائد رات ہی ہے۔ بستر سے اٹھ کر بھی دوبارہ بستر میں گھس جانے کو دل کرتا ہے۔ چہرہ اترا سا بیماروں کی طرح لگتا ہے۔ آنکھیں نیم باز ہو کر اس دنیا اور اس کے باسیوں کو دیکھنے سے انکاری ہوتی ہیں۔ بندے کی باڈی بغاوت پر اتر آتی ہے۔ پیٹ میں ہارمونز کی گھمسان کی جنگ چھڑ جاتی ہے۔ بادامی، کالی، نیلی، شربتی، براون، سبزآنکھیں صبح کے رنگین، گرین نظارے دیکھنے کے بجائے ابھی خوابوں اور سپنوں کی دنیا کے باغ میں گھوم رہی ہوتی ہیں، باہر آنے کو تیار نہیں ہوتیں۔ اور کچھ گھروں میں تو انھیں باہر لانے کے لیے ڈنڈے کا استعمال بھی کرنا پڑتا ہے۔

چائے کافی کے بغیر دل نہیں مانتا۔ اس لیے بہت سوں کو تو بیڈ ٹی کی رشوت دے کر بستر سے نکالا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ یوگا کرنے والے تو اس دنیا کو ناشتے سے بھی کہیں پہلے صبح پانچ بجے بستر سے گھسیٹ لینا چاہتے ہیں۔ مگر دنیا ان کی ایک نہیں سنتی۔ الٹا انھیں سادھو، ملنگ اور ہوا خور کہہ کر جلے دل کے پھپھولے پھوڑ لیتی ہے۔ جبکہ ساری دنیا کو ناشتے کی طرف راغب کرنے کے لیے بیچاری بھینس صبح صبح دودھ دیتی ہے۔ اور گوالا اس میں پانی ملا کر اپنا دھندہ کب کا شروع کر چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ اسے پتہ ہے کہ ابھی اس وقت اس سستی کی ماری دنیا کو ملک ود واٹر پلانا کافی آسان ہے۔

کچھ لوگ اس وقت نہار منہ وٹامن شٹامن کھا رہے ہوتے ہیں اور کچھ گلوکوز پانی میں ملا کر پیتے ہیں اور اپنے تئیں کمزورناتواں سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ان سے نہار منہ دوائی تو کھائی نہیں جاتی۔ جو ڈاکٹر، حکیم بتا بتا کر تھک جاتے ہیں۔

البتہ اس وقت ناخواندہ اور نیم پڑھے لکھے طبقے کی پھرتیاں عروج پر ہوتی ہیں۔ دودھ دہی کی دکانوں والے فورا شٹر اٹھا کر کجے جیسے برتن میں مدھانی ڈال دیتے ہیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے مکھن کے پیڑے اور ملائی کھوئے والی لسی کا لمبا گلاس تیار۔ جسے دل چاہے تو پہلوان پیئے یا پہلوان بننے کا خواہشمند، اور خود وہ چائے منگوا کر پی رہے ہوتے ہیں۔

حلوائی کی ڈیوٹی اس وقت تھوڑی اور پر کشش ہو جاتی ہے۔ بچارا حلوائی جس کے ہاتھ سارا دن لڈو، گلاب جامن، چم چم، رس گلے، بالوشاہی سے میچ کھیلتے رہتے ہیں اور ان کا ذائقہ چیک کرتے کرتے وہ خود شوگر میں تبدیل ہونے والا ہوتا ہے۔ اس وقت اس کا منہ ۔۔۔۔ کچھ نمکین ہو جائے ۔۔۔ کا متقاضی ہے۔ لہذا وہ گرم گرم پوریاں، چنے چھولے اور قیمے والے پوڑے بڑا دل لگا کر بنا رہا ہوتا ہے اور اپنی اس خوشی کا اظہار پوری بناتے ہوئے زور زور سے تالی بجا کر کرتا ہے۔ ویسے بنانا تو اسے حلوہ بھی پڑتا ہے کیونکہ اس کے بغیر پوریاں ناراض رہتی ہیں مگر لوگ اس وقت حلوے کو تبرک کی طرح کھاتے ہیں۔

بچپن سے اب تک ایک خوش کن جملہ سنتے آ رہے ہیں ۔۔۔ بچو اسکول کو دیر ہو رہی ہے جلدی سے آ کر ناشتہ کر لو۔ نہیں تو مس مارے گی۔ جب کہ میاں کو کیوں نہیں ایسے پیار بھری ڈانٹ دی جاتی کہ جلدی سے آ کر بریک فاسٹ کھا لو ورنہ آفس کو دیر ہو جائے گی اور باس کی ڈانٹ کھانی پڑے گی۔ ادھر میاں بچارے کی شرٹ کا بٹن بھی عین ناشتے کے وقت ہی ٹوٹتا ہے۔ لنچ اور ڈنر کے وقت نہیں ۔ ۔ اور بیوی کے سلیقے سگھڑاپے کے لیے ایک اور سیاپا اور امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ پھر اگر گھر میں بڑے بزرگ موجود ہیں تو ان کی گزری رات کی نیند کی داستاں اور بیماری کی بپتا بھی ناشتے کے وقت ہی سننا پڑتی ہے۔
اوران لمحات میں ہی بیوی کو دوپہر اور رات کے کھانے کی فکر ستانے لگتی ہے۔ اور وہ خاوند کو سنیے آج کیا پکاؤں ؟ کا روزنامہ سنانے لگتی ہے۔ بچوں کے سکول اور گھر کے ہیڈ ممبر کے آفس جانے کی وجہ سے گھر میں اچھا خاصا میچ ۔ ۔ اک ہڑبونگ مچی ہوتی ہے اور وہ بھی عین ناشتے کے وقت،

جبکہ لوگ ابھی تک ناشتے کا صحیح مفہوم بھی ٹھیک طرح سے نہیں سمجھ پائے۔ حکیم لوگ کہتے ہیں کہ غذا ہمیشہ سادہ، ہلکی اور بھوک رکھ کر کھانی چاہیئے۔ اور ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ ناشتا ڈٹ کر بادشاہ کی طرح کرنا چاہیئے۔ سو یہ بھی فقیر اور بادشاہ کے درمیان پیچا پڑ گیا۔ جو لوگ حکیم حضرات کے پیچھے چلتے ہیں وہ چائے میں رس ڈبو ڈبو کر کھا رہے ہوتے ہیں اور ڈاکٹرصاحبان کی اطراف والے انڈے پراٹھے، نان چنے، حلوہ پوری، سری پائے، کلچے، شیرمال سے مزے اڑا رہے ہوتے ہیں۔ اور اک متوازن ناشتے کا مقصد پورا نہیں ہو پاتا۔

ویسے ناشتے کا تصور شہر اور گاؤں کے حساب سے بھی مختلف ہے۔ روایتی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو گاؤں میں لسی اور دودھ کو باقی لوازمات کے ساتھ ترجیح دی جاتی ہے اور شہر میں چائے اور کافی کو۔

ایک اور کلچر کے لوگ کسی بھی وقت کے کھانے کو ناشتہ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ کتنا عجیب لگتا ہو گا جب وہ شادی کے کھانے کے لیے بھی مہمانوں کو کہتے ہوں گے کہ آئیے ناشتہ کر لیجیے۔ ۔ یا ٹرین میں سفر کے دوران آدھی رات کو وہ ناشتہ کرتے ہوں گے۔ اچھنبے کی بات ہے کہ پھر وہ ناشتہ کے وقت کیا کرتے ہوں گے؟

اتنی رونق اورشور شرابا تو دوپہر اور رات کے کھانے پر بھی نہیں ہوتا۔ جتنا صبح صبح اس موقع پر، پر روزانہ طے کیے اس کام کو ذرا سلیقے سے کرنے کی ضرورت ہے اور ایک متوازن ناشتے کا مفہوم جاننے کی، جس میں غذا کے تمام ضروری جزو موجود ہوں۔

بہتر یہ ہو گا کہ غیر ضروری تیل، گھی سے نچڑتے کھانوں کو اپنی صحت کے صدقے ذرا ناشتے سے دور ہی رکھیے۔
٭٭٭