008 - ہمارا رویہ

ہمارا رویہ
انا کی آڑ میں اتنا نہ خود کو چاہو تم
کہ دوسروں کے لئے صرف نفرتیں بچیں
ہمارا رویہ
زندگی کے بہتے بہاو میں ہمیں بہت سی چیزوں اور باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ چیزیں ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہوتی ہیں اس لیے ان سے تو آنکھ چرانا ممکن نہیں لیکن کچھ باتیں ہماری زندگی میں سائیڈ فلم کے طور چل رہی ہوتی ہیں، جن پر اگر غور نہ کیا جائے تو ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ان میں ہماری ذات کے کتنے پہلو پنہاں ہیں۔ انھی میں ایک بہت اہم بات ہے ہمارا رویہ، کیونکہ یہ کسی بھی انسان کے،
موڈ کو ظاہر کرتا ہے،
اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے،
اس کی اخلاقیات کو نمایاں کرتا ہے،
اس کی ذات کا مثبت یا منفی پہلو دکھاتا ہے،
دوسرے لوگوں کے ساتھ اس کا رشتہ اور تعلق واضح کرتا ہے۔
معاشرے میں اس کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔
تو یہ رویہ جو اپنے آپ میں اتنی حقیقتیں لیے ہوئے ہے اسے اکثر پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اور انسان صرف اپنے دل کی بات سننے اور ماننے میں اتنا آگے پہنچ جاتا ہے کہ اپنا رویہ کہیں رکھ کر بھول جاتا ہے۔ اپنے آپ میں مگن وہ دوسروں کے حقوق اور اپنے تعلق کو کہیں طاق میں رکھ دیتا ہے۔ اپنی۔۔میں۔۔ کو دکھانے کے چکر میں اس کا غلط استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ اور کچھ باتوں اور سلسلوں میں ہمیشہ دوسروں کی پہل کے انتظار میں رہتا ہے۔ اور خود کبھی کبھی انجانے میں کسی کی حق تلفی بھی کر دیتا ہے اور اپنی شخصیت کے خاص پہلو کو تاریکی میں دھکیل دیتا ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ وہ اک نیکی کمانے کا موقع گنوا دیتا ہے اور وہ لمحہ اس کے ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے۔ حتی کہ سلام جیسے مقدس بول کی ابتدا کے لیے بھی وہ دوسروں کی جانب سے منتظر رہتا ہے اور آغاز گفتگو کے لیے بھی اوروں کی طرف سے پہل کا متمنی ہوتا ہے۔ اور اکثر اسے اپنی انا کا مسئلہ بھی بنا لیتا ہے۔

جس طرح مالی باغ میں موسم کے حساب سے درخت کو چھانگ رہا ہوتا ہے اور اس کی بے کار شاخوں کو تراش دیتا ہے اور نئے پھل پھولوں کے لیے اسے تیار کر دیتا ہے اسی طرح ہر انسان کے اندر بھی ایک مالی کے اوصاف ہیں اور اس کا جسم و جاں بھی بمثل درخت ہے اس کی بھی دیکھ ریکھ بہت ضروری ہے اس کے مزاج میں بھی پھولوں جیسی ملائمت اور شگفتگی کی ضرورت ہے تو اس کی بے کار شاخیں ہم اپنے تجزیے سے ہی تراش سکتے ہیں۔

تو وقت کے پھسلتے لمحوں سے کچھ پل تھام کر جائزہ لیجیے کہ
کہیں آپ اپنے تکبرانہ رویے سے کسی کو ہرٹ تو نہیں کر رہے ؟
سلام میں اولیت اور دوسروں کے معاملات میں معاونی رویہ نہ دے کر آپ اپنی چھوٹی چھوٹی نیکیاں کمانے کے وسیلے تو نہیں ختم کر رہے ؟
اپنی بیمار سوچوں، غیر صحتمند عادتوں، تلخ رویوں کی بدولت دوسروں کے لیے باعث زحمت تو نہیں بن رہے ؟
لمحہ فکریہ ہے تو انداز سوچ بدلیے،
نفسانفسی اور خود غرضی کی پٹی اتار پھینکیے۔ اپنے معاملات زندگی کو قابل قبول بنائیے۔
اسے پھلنے پھولنے والی کھاد ڈالیے اور نئی امید کے پانی سے سیراب کریں اور اگلی نسل کو اک خوبصورت تحفہ دیجیے۔ اچھا سوچیں گے اچھا کریں گے تو اچھا ہونے کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ امید کی لہلہاتی کھیتی بھی آباد رہے گی۔
اپنی شخصیت کو ایسے سجائیے جیسے پرفیوم کی بھینی بھینی مہک لوگوں کو آپ کے معطر وجود کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ اسی طرح آپکا مثبت رویہ بھی آپ کے گرد لوگوں کو مسحور رکھے گا۔ دوسروں کے لیے باعث زحمت بننے سے کہیں اچھا ہے کہ باعث رحمت بنا جائے اور اپنے حصے کی نیکیاں کمائی جائیں۔

سو دوسروں کو بدلنے اور اپنی امیدوں پر پورا اتروانے کی بجائے معاشرے میں اپنے مثبت رویے کا کردار نمایاں کیجئے کیونکہ کسی بھی معاشرے کے لوگوں کا رویہ ہمیشہ ایک اہم رول ادا کرتا ہے اور مزے کی بات کہ اس رویے کو کنٹرول کرنے کی چابی بھی انھی کے پاس ہوتی ہے۔
٭٭٭٭٭