011 - ذات کا آئینہ

ذات کا آئینہ

نہ ملا سراغ منزل کہیں عمر بھر کسی کو
نظر آ گئی ہے منزل کہیں دو قدم ہی چل کر

اچھی اور نیک عادات نرم اور شیریں گفتگو بہت سی مشکلیں حل کر دیتی ہے۔

"آئینہ روبرو"

میری آنکھ کھلی تو ابھی ہلکا سا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ نیند پوری ہونے کی بدولت جسم میں تھکاوٹ، کسلمندی بھی نہیں تھی۔ اللہ تیرا شکر، کلمہ پڑھا اور اٹھ گیا۔ تمام کام آرام و سکون سے کیے۔ نماز پڑھ کر واپس آیا۔ ٹریک سوٹ پہنا اور نکل کھڑا ہوا فطرت کے قریب جانے کو۔

فطرت سے میری یاری اپنے بابا جان کی بدولت تھی جو مجھے بچپن سے نماز کے لیے اپنے ساتھ مسجد لے کر جاتے اور ویک اینڈ پر سیر کے لیے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ اس وقت نہ تو سیر کی افادیت کا علم تھا اور نہ ہی فطرت کی رنگینیوں کا۔ بس بابا جان کہتے اور میں ان کے ساتھ چل دیتا۔ لیکن آج مجھے احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے بچپن سے ہی میرے اندر تین اچھی عادات کا بیج بو دیا تھا۔ صبح جلدی اٹھنا، نماز پڑھنے کے لیے مسجد جانا اور پھر سیر کی عادت، ورنہ آج میں بھی رات دیر تک ٹی وی دیکھتا رہتا یا انٹرنیٹ پر اپنی رات کو دن اور دن کو رات بنا کر لمبی تان کر سو جاتا۔ بھئی ظاہر سی بات ہے رات ان خرافات میں گزرتی تو لازمی دن کو سویا رہتا۔ اور پھر کہاں کی فطرت، کہاں کے نظارے، کہاں کی سیر۔۔۔ بلکہ زندگی میں کبھی ہم اجنبی کی طرح ملا کرتے۔

بچ گیا ورنہ میں کتنی باتوں سے محروم رہ جاتا۔ چڑیوں کی موسیقی جیسی چہچہاٹ اور کوئل کی بانسری جیسی مدھر کوک سننے سے میرے کان محروم رہ جاتے۔ اور صبح سحر کی مہکی مہکی ہوا اپنے اندر جذب کرنے سے رہ جاتا۔ اور یوگا کرنے والے میرا خیال کیے بغیر بے دریغ اسے کھینچ جاتے۔ اور میری شربتی آنکھیں رنگا رنگ پھولوں اور سبز سبز خوشنما گھاس کو دیکھنے سے محروم رہ جاتیں۔ آپ کو ایک راز کی بات بتاوں، مجھے پورا یقین ہے کہ صبح صبح سبز گھاس اور اس پر موتیوں کی طرح پڑی شبنم کو دیکھ کر ہی میری آنکھوں کو اک تازگی ملتی ہے۔ اور جب آس پاس کا ماحول اتنا اچھا احساس دلا رہا ہو تو من کی دنیا بھی سندر لگنے لگتی ہے اور من کا باورا پنچھی بھی بولنے لگتا ہے۔

میں روزانہ سیر کو جاتے ہوئے مختلف سمتیں بدلتا رہتا ہوں۔ تا کہ مجھے بوریت نہ ہو اسی لیے ہر روز مجھے لگتا ہے کہ میں اک نئی دنیا کی کھوج میں جا رہا ہوں۔ کبھی کسی پارک کی راہ لیتا ہوں، کسی دن آبادی کے باہر جانے کا راستہ منتخب کرتا ہوں اور کسی دن جوگنگ کرتے ہوئے اپنے علاقے کا ہی چکر لگا لیتا ہوں اور صبح ہی صبح لوگوں کے کموں کاروں سے بھی آگاہی ہو جاتی ہے۔ اور نوٹ کرتا ہوں کہ پڑھا لکھا طبقہ یا تو سو رہا ہوتا ہے یا انگڑائی لے رہا ہوتا ہے اور اس کے برعکس کم پڑھا لکھا طبقہ بھاگ رہا ہوتا ہے۔ کوئی دودھ دہی کی دکان کوئی گوشت کی کوئی سبزی کی دکان کھولنے میں مصروف، لگتا ہے جیسے رات کو سوئے ہی نہیں اور بستر کو ہاتھ لگا کر اٹھ کھڑے ہوئے ہوں۔ البتہ اللہ کی بندگی کرنے والے اور واک گروپ ضرور نظر آتے ہیں۔ ہاں بھئی اللہ جسے ہدایت دے اور جسےتوفیق دے۔ اسے نیند کی کیا پرواہ۔۔۔ ممکن ہے یہ دن کو تھوڑی آنکھ لگا لیتے ہوں۔ لیکن آخر مجھ جیسے لوگ بھی تو ہوتے ہیں جو سارا دن چل سو چل۔

آج میں نے آبادی سے باہر جانے والا راستہ منتخب کر لیا تھا۔ اس طرف جانے کا بھی ایک اپنا مزہ تھا۔ بلکہ لوگوں کا خیال ہے اس طرح ہمیں زیادہ نیچر نظر آتی ہے اور ہم فطرت کے اور قریب ہونے لگتے ہیں اور اس میں کوئی مبالغہ بھی نہیں۔ شمالی علاقہ جات میں اسی لیے تو فطرت کے اتنے حسین خزانے چھپے نظر آتے ہیں۔ اوروہ ہر سال مستنصر حسین تارڑ کو اپنی اور اس طرح بلاتے ہیں جیسے کسی ساقی کو مے خانہ۔لیکن میں جب بھی پارک کی طرف نکلتا ہوں تو پارک میں سبز سبز گھاس کے علاوہ خوبصورت رنگا رنگ پھولوں کے قطعے نظر آتے ہیں اور ان میں مجھے ایک منظم خوبصورتی کا احساس ہوتا ہے جو یقینا باغباں کے ہاتھوں کا کرشمہ ہے کہ وہ ان کی روزانہ دیکھ بھال کرتا ہے، پھر بھی جو خودرو پودے، بیلیں اگ آتی ہیں اور پھولوں پودوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ تو وہ انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہےاور دوسرے پھولوں اور نظام کی ترتیب قائم رکھتا ہے۔

تو آج میں آبادی کے باہر جانے والے راستے پر جوگنک کرتے یہی دیکھ رہا تھا کہ راستے کے اطراف پر مجھے خود رو پودے جڑی بوٹیاں سی نظر آ رہی تھیں اور انھی کے بیچ کہیں کہیں پھول بھی کھلے ہوئے تھے۔ ایک نظر میں تو یہ بھی فطرت کا شاہکار ہی لگ رہے تھے۔ مگر وہ ترتیب نہیں نظر آ رہی تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے زندگی میں ہمیں بھی اپنے والدین کی طرف سے بہت سی خوبصورت عادات ملتی ہیں۔ جو پھولوں کی طرح ہماری ذات کا احاطہ کر لیتی ہیں، پر کبھی کبھی باہر کے ماحول سے متاثر ہوکر کچھ خراب عادات بھی خودرو پودوں کی طرح ہمارے اندر جگہ بنانے لگتی ہیں اور ہماری ذات میں ضم لگتی ہیں۔ تو یہی وہ مقام فکر ہے۔ کہ اگر اس وقت ان سے چھٹکارا نہ پایا گیا تو ممکن ہے کہ یہ اتنی بڑھ جائیں کہ ہمارے اصل کو ہی ڈھانپ لیں۔ پہلے والدین یہ فرض نبھاہتے رہتے ہیں۔ مگر جیسے ہی ذمہ داری سنبھالنے کی عمر آئے تو اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی سمجھ لینا چاہیئے۔ عقل مند را اشارہ کافی است۔
تو دیر کس بات کی، آپ اس نکتے پر غور کیجیے اور میں گھر کی راہ لیتا ہوں۔ جہاں حلوہ پوری، نان چنے، سری پائے کی جگہ ایک متوازن ناشتہ میرا منتظر ہو گا۔

٭٭٭٭٭