013 - مسافر ہوں یارو

مسافر ہوں یارو

الہیٰ راہ محبت کو طے کریں کیوں کر
یہ راستہ تو مسافر کے ساتھ چلتا ہے

دنیا ایک مسافر خانہ ہے جہاں مسافر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

ایک مسافر کی روداد

زندگی کا سفر تو اس دنیا میں آتے ہی بلکہ آنکھ کھولتے ہی شروع ہو گیا تھا۔ سمجھ لیں مسافر اپنی پٹڑی پرتب ہی چڑھ گیا تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہوش سنبھلتا گیا۔ دیکھا اور بھی ہزاروں، لاکھوں مسافرآپ کے ساتھ اور آس پاس ہیں۔ جن میں سے کچھ خاص مسافر تو میرے ساتھ گھر میں بھی رہ رہے تھے۔ جن میں کوئی دھوتی کرتے میں بے تکلف پھر رہا تھا تو کوئی جینز کی ٹراوزر اور شرٹ میں ملبوس، کوئی شلوار قمیض میں اور کچھ بے تکلف ابھی چڈی میں بھی پھرتے تھے۔

ہوش سنبھالتے ہی بزرگوں کی باتیں سننے کا موقع بھی مل گیا۔ کہ یہ دنیا فانی ہے، اس دنیا میں دل نہ لگایا جائے، یہ تو ایک مسافر خانہ ہے۔ وہ یہ مایوسی کی باتیں شائد اس لیے کر رہے تھے کیونکہ وہ بے یقین ہو چلے تھے کہ شائد اب وہ یہ مسافر خانہ خالی کرنے والے ہیں۔ لیکن انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کی یہ باتیں سن کر باقی راہی بھی بد دل ہو رہے ہیں۔ مانا یہ زندگی چار دن کی ہے مگر وہ باقیوں کو تو گنتی کے یہ دن ہنسی خوشی زندہ دلی سے گزار لینے دیں۔ ورنہ دو آرزو میں کٹ جائیں گے دو انتظار میں۔

میرے لیے تب عمر کا حصہ ہی ایسا تھا کہ یہ دنیا اک رنگ محل بننے جا رہی تھی۔ جس کا ایک ایک رنگ قوس و قزح کا محسوس ہو رہا تھا اور ان سے شعاعیں پھوٹتی محسوس ہو رہی تھیں۔ سو یہ عاشق بے فکری سے۔۔۔ "زندگی اک سفر ہے سہانا یہاں کل کیا ہو کس نے جانا " گنگناتا تھا۔ زندگی کی حقیقت تو وقت گزرنے کے ساتھ بہت بعد جا کے پتہ چلی۔

جب صبح صبح نماز کے لیے مسجد میں جاتا تو دیکھتا۔۔۔ کہ یہاں موجود یہ راہ حق کے مسافر بڑی عاجزی وانکساری کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہو کر نماز پڑھتے ہیں، سجدے پہ سجدہ کر کے حق بندگی ادا کرتے ہیں۔ گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں۔ کوئی آنکھیں بند کرکے رقت سے ہاتھ پھیلا رہا ہے تو کوئی اپنی جھولی، چادر کو پھیلا کر، کچھ عاجز اپنے ہاتھوں کو سر سے بلند کر کے مانگتے، ایک ہی صف میں سب محمود و ایاز کھڑے ہوتے۔ جب میں ان کوبغور دیکھتا۔۔۔ تو۔۔۔ ان عاجزوں، مسکینوں کے چہرے مجھے نورانی لگنے لگتے۔ پھر یہ سفر کرنے والے، دنیا میں اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے آہستہ آہستہ مسجد سے نکل کر پھیلنے لگتے ہیں۔

اور ان میں سے کوئی جا کر اپنی دکان کھول لیتا ہے، سبزی کی، دودھ دہی کی دکان، جنرل سٹور اورپھر چھوٹی سی بات پر اپنے نوکروں پر برسنے لگتا ہے۔ کچھ گھروں کی راہ لیتے ہیں، اور جاب پر جانے سے پہلے بیوی اور بچوں پر رعب جمانے کا محدود وقت بھی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ یا سرراہ کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے بحث کرنے لگتے ہیں اور اپنا نظریہ بیان کرتے الجھنے لگتے ہیں۔ اور بات تو تکار تک پہنچنے لگتی ہے۔

لیکن کچھ لوگ واقعی اللہ ھو کا ورد کرتے واک کرتے اپنی چھڑیاں گھماتے نیچر کے قریب جانے لگتے ہیں، کسی باغ میں کسی پارک میں۔ جہاں کچھ اور لوگ اچھلتے نظر آنے لگتے ہیں۔ ارے نہیں وہ تو جاگنگ کر رہے ہیں۔ اور اس دنیا کی صبح کی تازہ ٹھنڈی ہوا اپنے اندر کھینچ رہے ہیں اس سے پہلے کہ کوئی اور اسے اپنے اندر کھینچ لے۔

صبح کی سیر اور تازہ ہوا کھا کر گھر میں داخل ہوتا تو دیکھتا مسافرنی بھی نماز پڑھ کے ناشتہ بنانے میں مصروف ہوتی مگر دوپٹہ ابھی تک پیشانی اور کانوں کے پیچھے اڑسا ہوتا۔ جس سے صاف پتہ چل جاتا کہ وہ بھی اللہ اللہ کر چکی ہے۔ اور اب پیٹ پوجا کی فکر میں ہے۔

گھر کا سوداسلف لانا اور بلوں کی ادائیگی کرنا بھی اس خاکسار کو ہی کرنا پڑتا ہے۔ سو جب بنک کی لمبی لائن میں لگتا ہوں۔ اور دھکم پیل، گرمی، شور شرابے کا سماں ہوتا ہے، تو مسافر کو واقعی حشر کا میدان نظر آنے لگتا ہے۔

جنرل سٹور پر کچھ چیزیں خرید کر مہنگائی کا سوچتے نکلتا ہوں۔ گوشت کی دکان پر قصائی سے بد دل ہو کر آتا ہوں کہ اس نے گوشت کے نام پر ہڈیاں اور چھیچھڑے دے کر پیسے بٹور لیے ہیں۔ ابھی صبح ہی تو مسجد میں اس سے ملاقات ہوئی تھی، اس نے کھدر کی قمیض اورچھوٹی ڈبیوں والی دھوتی پہنی ہوئی تھی۔
اور سبزی والے نے باسی سبزی پر پانی چھڑک کر تازہ کہہ کے میری تسلی کر دی تھی۔ اور فورا سے پیشتر میرے تھیلے میں ڈال دی، جبکہ فجر کی نماز میں یہ میرے دائیں ہاتھ ہی تو بیٹھا ہوا تھا۔ سارا راستہ یہی ان کے بارے سوچتا آتا۔ ہم بھی مسافر تم بھی مسافر۔۔۔۔ پھر یہ ہیرا پھیری کیوں ؟

گھر آتا تو دیکھتا نصف بہتر کا وہ نمازی دوپٹہ غائب ہو چکا ہوتا، اب تو خوبصورت لباس کے ساتھ ایک میچنگ ندوپٹے کا بوجھ شانوں پر ہوتا، اور بیگم صاحبہ پورے گھر میں دندناتی پھرتیں اور نوکرانی پر رعب جماتیں۔ اور میں دیکھتا رہ جاتا زوجہ محترمہ کو جو صبح بڑی مسکین سی نظر آ رہی تھی۔

دوپہر کواگلی جنریشن کے بچوں کو اسکول سے لانے چل دیتا، اور لنچ کے بعد میں کچھ آرام کرنے لگتا تو پھر مستنصر حسین تارڑ کے سفر نامے پڑھنے لگتا۔ واہ گھر بیٹھے ہی کبھی ہنزہ، کبھی سوات، شمال شمشال اور کہاں کہاں کے تصوراتی سفر کر لیتا اور اپنے کو مستنصر حسین تارڑ کا ایک ساتھی سمجھنے لگتا۔

سو یہ سفر جاری و ساری ہے جسے میں سالوں سے طے کر رہا ہوں۔ بچپن کا سفر معصوم تھا۔ لڑکپن کا کچھ جوشیلا اور جوانی کا تو بھاگتا چلا گیا۔ عمر کا میچور پن کب کا شروع ہو چکا، اب اس سفر میں بھی کچھ ٹھہراؤ آ گیا ہے۔ پڑاو کم ہوتے جا رہے ہیں۔ منزل کے قریب ہو رہا ہوں۔ اب آپ کو کچھ تو میرے بارے اندازہ ہوا ہو گا۔ جی ہاں۔۔۔ پہلے میں خود پڑھا کرتا تھا، پھر دوسروں کو پڑھانے لگا اور اب میں ایک ریٹائرڈ لیکچرر ہوں۔
لیکن ایک ازلی مسافر۔۔۔ جس کا ایک بڑا سفر ابھی باقی ہے۔
٭٭٭٭٭