015 - جب دل ہی ٹوٹ گیا

جب دل ہی ٹوٹ گیا

دیا جلاؤ جگمگ جگمگ دیا جلاؤ
دیا مناؤ دیا جلاؤ دیا جگاؤ دیا جلاؤ

میں تھوڑی دیر پہلے ہی گھر آیا تھا۔ آفس جانے کے لیے تیار ہونے لگا۔ سو ریڈیو آن کر لیا تو پروگرام شروع ہو چکا تھا۔ یہ میرا شوق تھا کہ میں ریڈیو پر اس وقت گانوں کا یہ پروگرام سن کر ہی دفتر کی راہ لیتا تھا۔
روز کا عمل تھا کہ میں پہلے رب کے حضور جھک کر پھر فطرت کے قریب وقت گزار کر آتا تھا۔ تا کہ مجھے اپنے بندہ بشر ہونے کا احساس ہوتا رہے۔ اس سے بڑھ کر کون مجھے اس بات کا احساس دلا سکتا تھا۔
میں بڑا موڈی سا بندہ ہوں۔ کئی بار ایک پیارا سا گیت میرے اندر خوشی و انبساط کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ اور بعض دفعہ بڑی سے بڑی بات بھی مجھے خوش نہیں کر پاتی۔ کیا کروں میں بس ایسا ہی ہوں۔ اور آپ کے بچے جئیں، آپ بھی مجھے ایسا ہی سمجھیے گا۔

جب دل ہی ٹوٹ گیا
ہم جی کے کیا کریں گے
گانے کے بول جیسے ہی میرے کانوں میں پڑے میں کچھ جذبذ ہوا۔ کچھ عجیب سی کیفیت ہوئی۔ اب میں اتنے پرانے دادا، لکڑدادا کے زمانے کے گیت بھی نہیں سنتا اور وہ بھی کندن لال سہگل کے، دراصل میں ان کی نایاب مونچھوں سے بھی کچھ خائف ہوں۔ میری پسند تو محمد رفیع کے گانوں سے شروع ہوتی ہے پھر کشور کمار کی اوڈلے اوڈلے سے ہوتی ہوئی کمار سانو تک پہنچتی ہے اور پھر واپس پہنچ جاتا ہوں۔ اصل میں کچھ چنیدہ شنیدہ سا بندہ ہوں۔
عموما صبح کو جب حسب عادت ریڈیو آن کرتا ہوں تو بڑے پیارے اور خوبصورت دل کو لبھانے والے گیت لگے ہوتے ہیں۔

چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
جو بھی ہو تم خدا کی قسم لاجواب ہو

تیری پیاری پیاری صورت کو
کسی کی نظر نہ لگے چشم بددور

تو میرا موڈ بھی بڑا رومینٹک سا ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو بیوی ہی چاند کا ٹکڑا لگنے لگتی ہے۔ اس کی سیرت اس وقت صورت کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ لہذا بڑے اچھے موڈ کے ساتھ اپنی جان جاناں کو ایک دو رومانی جملے بول کر آفس کی راہ لیتا ہوں۔ جبکہ وہ مجھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہ جاتی ہے۔ اور اپنا روز کا ”سبق سنیے آج کیا پکاوبھی بھول جاتی ہے۔
راستے میں جاتی کالج گرلز بھی مجھے پریوں کی طرح نظر آتی ہیں اور حوروں کی طرح حیسن، اب آپ مجھے ٹوکیے گا مت، ویسے تو میں بڑا شریف آدمی ہوں۔ کسی کی طرف فضول نگاہ نہیں ڈالتا، مگر اس دن۔۔

میری نظریں ہیں تلوار
کس کا دل ہے روکے وار
توبہ توبہ استغفار

پھر اگر راستے میں ٹریفک جام بھی مل جائے تو خوشگوار موڈ کے باعث نظرانداز کر دیتا ہوں۔ بلکہ اکثر تو گنگنانے لگتا ہوں۔ ”او منچلی کہاں چلی “ اور آنکھوں کے سامنے بیوٹی کوئن اور ڈریم گرل گھومتی رہتی ہے۔
اور آفس میں بھی بڑے اچھے موڈ کے ساتھ داخل ہوتا ہوں۔ سب کو بڑی جاندار مسکراہٹ سے ہیلو ہائے کرتا اپنی سیٹ تک پہنچتا ہوں۔ اور ایک کپ کافی پی کر جو فائلوں میں سر دیتا ہوں تو پھر شام کو ہی جا کر اٹھاتا ہوں۔
مگر آج لگتا ہے کوئی دل جلا اناونسر گیت پیش کر رہا تھا اور صبح ہی صبح جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہا تھا۔ لگتا ہے چارے کو رات بھر نیند بھی آئی ہو گی، جو اسے غمگساروں کی ضرورت پڑی۔
گیت اچھا تھا مدہم مدہم سروں میں بجتا ہوا، جیسے کوئی آرام سے ٹھنڈی ٹھار لسی پی رہا ہو۔ اگر اس کی بجائے کوئی شوخ گیت بج رہا ہوتا۔
پیا تو اب تو آ جا، آ آ آ جا، آ آ آ جا،
تو مجھے یقین ہے کہ بیوی کے ساتھ ساتھ پورے محلے کے بھی کان کھڑے ہو جاتے۔ اور میں بھی آفس جانے کی تیاری تھرک تھرک کر۔۔۔ کر رہا ہوتا۔ شرٹ کے بٹن الٹے سیدھے لگ رہے ہوتے۔ موزے بھی مختلف رنگوں کے پہن رہا ہوتا اور بوکھلاہٹ میں ہیئر سٹائلنگ کریم بھی ضرورت سے زیادہ ہاتھ پر نکل پڑتی۔ پر شکر ہے بچت ہو گئی۔ گانے کے بول پھر اپنی اور بلانے لگے،
الفت کا دیا ہم نے
اس دل میں جلایا تھا
امید کے پھولوں سے
اس گھر کو سجایا تھا
اک بھیدی لوٹ گیا
جب دل ہی ٹوٹ گیا

ہک ہا، بول کی آخری لائن سن کر بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔
یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور نکلا، اک بھیدی لوٹ گیا
یہ تو کچھ زیادہ ہی غمگین سونگ نکلا۔ میں اداس ہو گیا۔ پہلے میں گیت کے سلو ردھم پر سرشار ہو رہا تھا مگر اب میری طبیعت ہی کچھ ڈاون ہو گئی۔ میں صوفے پر بیٹھ گیا بلکہ میرا دل چاہنے لگا کہ میں بیڈ میں لیٹ جاؤں۔
پر ہمت کر کے اٹھا تو بیوی سامنے دکھائی دی۔ مگر آج اس میں وہ بات نہیں نظر آ رہی تھی۔ وہی نارمل سا رنگ و روپ تھا جو اس سے قبل آفس جانے سے پہلے مجھے چودھویں کا چاند لگا کرتا تھا۔ بلکہ مجھے احساس ہو رہا تھا کہ اس کی صورت کی بجائے سیرت زیادہ اچھی ہے۔
آج میں نے اس کا پکانے کا روزنامہ بھی سنا اور جو دل چاہے پکا لو کہہ کر گھر سے نکل آیا۔ نکلتے ہی مجھے سامنے والے فواد صاحب نظر آ گئے۔ جو اپنی بیٹی لائبہ کو گود میں اٹھائے کھڑے تھے۔ جلدی سے ان کی احوال پرسی کی اور اپنے آفس کی راہ لی۔
سردی بڑھ رہی تھی اور آج مجھے موسم کے تبدیل ہونے کا بھی شدت سے احساس ہو رہا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے مجھےموسم عاشقانہ لگا کرتا تھا اور نظارے رنگین،راستے میں ٹریفک بھی جام ملی۔ موڈ مزید خراب ہو گیا۔ گورمنٹ اور اس کے اداروں پر غصہ آنے لگا۔ ان کی ایسی تیسی کرنے کو دل چاہنے لگا۔ اور سیاستدانوں کی مطلبی سیاست پر انھیں دل میں صلواتیں سنانے لگا، کوسنے لگا، صبر کے گھونٹ بھی آخر کب تک بھرتا رہوں۔ سو کچھ لیٹ پہنچا تو کولیگ نے مجھے بتایا کہ صاحب نے مجھے یاد فرمایا تھا۔ لو کر لو گل،
تو دوستو اسی کوفت اور بھاگ دوڑ میں میرا سارا دن گزرا۔ میرا خیال ہے کہ یہ سارا کمال اس صبح کے گیت کا تھا۔ جس نے مجھے سلو اینڈ سلو کر دیا تھا۔ آج مجھے شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ صبح کا آغاز اچھا ہونا چاہیئے۔ نہ تو تڑکتا پھڑکتا ہوا اور نہ ہی موڈ کو نیچے کرنے والا،
اب دیکھتا ہوں کل میری قسمت میں کیا ہے اور کونسا گانا بجنے والا ہے۔۔ کیونکہ اسی کے مطابق میرا موڈ ہو گا اور سارا دن بھی،
اگلی صبح جب کام پر جانے سے پہلے میں نے ریڈیو آن کیا تو۔۔۔ کندن لال سہگل کا ایک اور گیت میرا منتظر تھا،
غم دیئے مستقل کتنا نازک ہے دل
یہ نہ جانا ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ
٭٭٭٭٭