016 - اقلیت اور سماج

اقلیت اور سماج

بہت سالوں سے یہ بات اک روایت کی طرح چلی آ رہی تھی۔
اقلیتوں کے ساتھ سماج کا سلوک اور برتاو، جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ جنہیں کسی اچھوت کنیا کی طرح سمجھا جاتا کہ ان کے ساتھ کوئی کپڑا یا برتن نہیں لگنا چاہیے ورنہ وہ پلید ہو جائے گا ناپاک ہو جائے گا۔ ستم در ستم اقلیتیں خود بھی اس حقیقت کو مان کر اپنے آپ کو ایک دائرے کی حدود میں رکھتی تھیں۔نہ کوئی اختلاف کرنے والا اور نہ کوئی احتجاج کرنے والا اور معاشرے کی واضح اقلیت عیسائی کرسچئن لوگ تھے۔

کئی سال پہلے کی بات ہے ایک آبادی والے علاقے سے ہٹ کر ایک فیکٹری ایریا ہوا کرتا تھا۔ جہاں بہت سے کارخانے اور فیکٹریاں ہوا کرتی تھیں۔ صبح ہوتے ہی اس علاقے میں مزدوروں کی آمد ہونے لگتی۔ پھر مشینوں کا شور شرابا شروع ہو جاتا اور سارا دن جو تھا تھیا چلتا تو شام ڈھلے ہی جا کر یہ ہنگامہ رکتا۔ انھی کارخانوں اور فیکٹریوں کے بیچ ایک ڈھابہ بھی موجود تھا۔ لوکیشن کے حساب سے تو مس فٹ مگر بہت کار آمد،جب دوپہر کے وقت
مزدوروں کو چھٹی ملتی تو یہاں اک رش کا سماں بندھ جاتا۔جس آدمی کا یہ ڈھابہ تھا اسے سب سائیں کہتے تھے سو یہ ڈھابہ بھی سائیں کے ڈھابے کے نام سے مشہور تھا۔
راہ چلتے مسافروں اور ورکرز کے لیے کیسی نعمت سے کم نہ تھا۔ جہاں دوپہر کو انھیں گرم دال روٹی مناسب پیسوں میں مہیا ہو جاتی ۔

تھی۔اس ڈھابے کی خاص ڈش چنے کی دال تھی جسے وہ سائیں خود بڑے خاص طریقے سے دل لگا کر بڑے سے دیگ نما پتیلے میں پکاتا تھا۔خوب گھوٹ کر مزیدار سا تڑکا دیتاتو گرم تندوری روٹی کے ساتھ وہ دال بہت مزہ دیتی۔

یہ روز کا معمول تھا کہ دوپہر کھانے کے اوقات سے پہلے پہلے وہ اپنی سپیشل دال تیار کر لیتا۔اور دو تین لڑکوں سے تندور میں روٹیاں لگوانا شروع کرواتا اور خود دال کے پتیلے کے آگے بیٹھ جاتا اور جیسے ہی مزدور آنا شروع ہوتے تو وہ روٹی کھولتا۔اور اتنے رش اور شور شرابے میں وہ سب کی پلیٹوں میں دال ڈال کر انھیں بھگتائے جاتا۔

یہیں پر ایک فیکٹری میں ایک عیسائی لڑکا بھی کام کرتا تھا، جس کی عمر گیارہ یا بارہ سال تھی۔ غموما وہ کھانا گھر سے ساتھ لے کر آتا تھا۔ مگر کبھی کبھار وہ آگے پیچھے کے اوقات میں ڈھابے پر دال لینے بھی چلا جاتا۔تو اپنا خاص برتن ایک پیالہ ساتھ لے جاتا تھا۔ اور سائیں دو فٹ اوپر کے فاصلے سے اپنے کفگیر سےدال اس کے پیالے میں ڈال دیتا۔ اس طرح دونوں کا مطلب پورا ہو جاتا۔

کرنی خدا کی، ایک روز ایسا ہوا کہ وہ عیسائی لڑکا دوپہر کو ہی اس کے ڈھابے پر اپنا خاص پیالہ لے کر دال لینے چلا گیا۔ سائیں روز کی مانند اپنے پتیلے کے آگے بیٹھا تھا۔ چھٹی کا وقت تھا اور مسافر اور مزدوروں کا رش لگا ہوا تھا، سائیں ان کے درمیان بیٹھا اپنے کام میں مصروف تھا۔ شور شرابا جاری تھا ہر کوئی پہلے میں کے چکر میں دال حاصل کرنے کی کوشش میں تھا۔
سائیں پہلے مجھے دال۔۔۔
نہیں سائیں پہلے مجھے دو۔۔۔
او سائیں چھٹی کا وقت ختم ہو جائے گا پہلے مجھے۔۔۔۔

ہر طرف سائیں اور دال کی پکار ہو رہی تھی۔ وہ لڑکا بےچارہ حیران پریشان دیکھ رہا تھا۔پھر کچھ سوچ کر ہمت کر کے وہ بھی لوگوں کی بھیڑ میں گھستے ہوئے آگے جانے کی کوشش کرنے لگا۔ اور اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھا کر بولاسائیں مجھے بھی دال دو۔۔۔

پر اتنے شورشرابے میں اس کی کمزور سی آواز کہاں سائیں تک پہنچتی۔ بلکہ الٹا دھکم پیل میں دھکا لگنے سے اس کا پیالہ ہاتھ سے چھٹ کر دال والے پتیلے میں گر گیا۔ یہ دیکھتے ہی اس کا رنگ فق ہو گیا وہ بری طرح گھبرا گیا۔ اب یا تو خود اسے پتہ تھا یا سائیں کو کہ وہ عیسائی ہے۔ سو اس سے پہلے کہ سائیں کی اس پر نظر پڑتی اور کوئی فساد برپا ہوتا۔اس نے گبھرا کر وہاں سے دوڑ لگا دی۔

دال تو کیا ملنی تھی وہ پیالہ بھی چھوڑ آیا تھا۔بھوکا علیحدہ رہنا پڑا اور یہ خدشہ بھی ستاتا رہا۔کہ کہیں سائیں اور لوگوں کو پتہ نہ چل گیا ہو۔

دوسرے دن صبح اس نے ڈرتے ڈرتے ڈھابے کی طرف چکر لگایا تو سائیں کل والا دال کا پتیلہ مانجھ رہا تھا اورساتھ ساتھ بڑبڑا رہا تھا کہ یہ پتہ نہیں کل کون دال لینے آیا تھااور اپنا پیالہ ہی یہاں چھوڑ گیا۔ اور پاس ہی وہ پیالہ بھی صاف دھلا پڑا تھا۔

سائیں کو حقیقت کا پتہ نہیں چلا یہ سن کر اس کی جان میں جان آئی۔اور وہ اپنا پیالہ ہمیشہ کے لیے سائیں کی نذر کر کے مسکراتا ہوا واپس فیکٹری آ گیا۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭٭