017 - دور جدید کا ساتھی

دور جدید کا ساتھی

علوم بہت سے ہیں اور عمر کم
تو وہ سیکھ جس میں سب آ جائیں

زندگی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے کبھی کبھی رفتار تیز کرنی پڑتی ہے اور زمانے کے نئے چلن کا ساتھ نبھانا پڑتا ہے تو ایسے میں ہی اک نئی ایجاد سب کی زندگی پرحاوی ہو گئی ہے۔ جی ہاں انٹرنیٹ،

سائنسدانوں نے کمپیوٹر کو ایک بہت بڑی ایجاد قرار دیا ہے۔ اور کمپیوٹر کا ترقی یافتہ قدم انٹرنیٹ ہے، جس کے ذریعے ہم دنیا کے ہر گوشے سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ اور ہمارا پیغام چند لمحوں میں دوردراز جگہوں تک پہنچ جاتا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کا آغاز انیس سو پچانوے میں ہوا۔ انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کے لیے صرف ایک عدد کمپیوٹر، ایک موڈیم اور ایک ٹیلی فون پوائنٹ کی ضرورت ہے۔

موجودہ دور معلومات کا دور ہے اور انٹرنیٹ کا بنیادی مقصد معلومات کا ایک دوسرے سے تبادلہ ہے۔ انٹرنیٹ ایک ایسا دریچہ ہے، جو آپ کے لیے دنیا دیکھنے کی خاطر ایک کھڑکی کھول دیتا ہے۔ یہ معلومات کا ایک ایسا خزانہ ہے جو کبھی خالی نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر سیکنڈ بعد آپ ایک نئی دنیا دریافت کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ ان سب لوگوں کے لیے اہم ہے، جنہیں معلومات کے حصول کی پیاس ہے۔

یہ سچ ہے کہ انٹرنیٹ کی آمد نے ایک انقلاب سا برپا کر دیا ہے۔ خاص کر نئی نسل کے لیے نئے فکرونظر کی نئی دنیائیں پیش کر دی ہیں۔ دنیا بھر کی تہذیب و ثقافت اور اندازحیات واضح کر دئیے ہیں۔ علم کا ایک سمندر ان کے لیے پیش کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ہر اس کتاب تک بآسانی رسائی ہو جاتی ہے، جس کا خریدنا ناممکن ہو۔ محنتی طالب علم اس کے ذریعے اپنی تحقیق کو آگے بڑھا رہے ہیں اور شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس ایجاد کے ذریعے انھیں گھر بیٹھے دنیا بھر کی جدید معلومات مہیا ہو رہی ہیں۔

جو لوگ اعلی تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ملک جانے کے خواہشمند ہیں۔ انھیں اس کے ذریعے دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے مضامین کے بارے میں پوری واقفیت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر، ڈیزائینر، انجینیئرزاور ماہرین ارضیات وغیرہ دوسرے ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے گفتگو کر سکتے ہیں۔ طبی ماہرین بعض پیچیدہ امراض اور ان کے علاج کے بارے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔اور ان سے مشورہ حاصل کر سکتے ہیں۔

موجودہ دور میں پوسٹ یا فیکس کے ذریعے ڈاک بھیجنا اور اپنی باری کا انتظار کرنا اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ دستاویزات کے عکسی خاکے یہاں تک کہ تصاویر بھی ای میل کے ذریعے برق رفتاری سے دنیا کے کسی بھی حصے میں بھیج سکتے ہیں۔ انٹر نیٹ اب ہر بزنس مین اور تاجر کی ضرورت بن گیا ہے۔ اور دنیا میں ہر طرح کا کاروبار بغیر زمان و مکاں کے فرق کے انٹر نیٹ پر ہو رہا ہے۔

مصنفین اپنے مسودے دنیا کے کسی بھی ناشر کو بھیج سکتے ہیں۔ ترسیل کے اس طریقے سے وہ نہ صرف وقت اور روپے کی بچت کرتے ہیں، بلکہ ماحولیات کے لیے بھی یہ مفید ہے۔ کیونکہ اس طرح بہت سا کاغذ بچا لیتے ہیں۔ اور اگر آپ کے اندربھی کچھ لکھنے کی خواہش انگڑائی لیتی ہے تو آپ اپنا بلاگ بنا کر وہاں یہ شوق پورا کر سکتے ہیں۔ اور آپ کو وہاں قارئین بھی آسانی سے میسر آ جائیں گے۔ اور ان کی تعریف و تنقید آپ کو آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

گھر کے کام کاج سے فارغ ہونے کے بعد خواتین انٹر نیٹ سے بہت کچھ حاصل کر سکتی ہیں۔ اسے استعمال کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی تربیت کی ضرورت نہیں، کیونکہ آج کے کمپیوٹر خود ہی یہ سب سکھا دیں گے۔ ویسے بھی انٹرنیٹ پر سرچ انجن گوگل، یا ہو، لائیکوس کسی مددگار سے کم نہیں۔ انھیں صرف لاگ ان ہونا سیکھنا ہے۔ اور پھر اپنی پسندیدہ کرسی پر بیٹھ کربس دنیا کی سیر کرنی ہے۔ اور اگر چاہیں تو انٹرنیٹ سے ہی یو ٹیوب سائٹ سے اپنا پسندیدہ میوزک سننے کے لیے کانوں پر ہیڈ فون بھی لگا لیں، آپ کا سفر اور بھی پر رونق دوبالا ہو جائے گا۔

انٹرنیٹ ہماری زندگی کا ایک اہم آلہ، مددگار بن چکا ہے۔ اگر کھانا پکانے سے دلچسپی ہے تو ایسی بہت سی سائیٹس ملیں گی۔ جہاں روایتی کھانوں سے لے کر کانٹی نینٹل کھانے بنانے تک سیکھے جا سکتے ہیں۔ اور ان سے متعلقہ ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں۔ پھر چاہے وہ کھانا پکانا ڈاٹ کام ہو یا کھانا خزانہ ڈاٹ کام، ترلا دلال کی سائٹ ہو یا مصالحہ چینل کی، ماہرین طرح طرح کے کھانے پکانے کی ترکیبیں بتاتے ہیں۔ شیف راحت، شیف گلزار، شیف ذاکر تک کے پروگرامز آپ آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔ ان پروگرامز سے جہاں خاتون خانہ فائدہ اٹھا سکتی ہے، وہاں بہت سے کنوارے، سنگل حضرات، سٹوڈنٹس کی بھی مدد ہو جاتی ہے۔

اچھا کھانے کے بعد یقینا وزن بھی بڑھ سکتا ہے، لیکن فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ہی ہیلتھ اور ڈائٹ کے حوالے سے مختلف سائٹس مل جاتی ہیں، جو ڈائٹ کے چارٹس اور ٹپس بتاتی ہیں۔ کسی کسی سائیٹ پر ڈائٹیشن تک موجود ہوتے ہیں۔ جو آن لائن آپ کے پرابلمز کے حل بتاتے ہیں۔ زیادہ انفارمیشن فری میں ہی موجود ہوتی ہیں۔ مگر کچھ سائیٹس پر وہ اپنی پروفیشنل ایڈوائس اور مشورہ جات کے لیے فیس کی ڈیمانڈ بھی کرتے ہیں۔ سو اگر آپ کو وہ بھروسہ کے قابل لگیں تو بھی آپ گھر بیٹھے کچھ معاوضے کے عوض اپنا مقصد پا لیتے ہیں اور وقت کی بچت بھی۔

اس کے علاوہ خواتین کو فیشن سے لے کر گھر کو ڈیکوریٹ کرنےاور اپنے پسندیدہ ہر ٹاپکس تک رسائی ہو سکتی ہے۔ گھر بیٹھے ہی لیڈیز نئے شوز، بیگز، جیولری اور ڈریسز بارے معلومات کی جانکاری لے لیتی ہیں۔ انٹرنیٹ کو ہولیڈے کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کسی ٹریول ایجنٹ کو بیچ میں ڈالے بغیر آپ اپنی چھٹیاں گزارنے کے منصوبے خود پلان کر سکتے ہیں۔ آپ صرف اس ملک، جگہ پر کلک کر دیں، جہاں آپ جانے کے خواہشمند ہوں۔ پھر آپ کو ساری معلومات حاصل ہو جائیں گی۔ جن میں ہوٹل اور گھومنے کی جگہیں بھی شامل ہیں۔

انٹرنیٹ کے ذریعے آپ آن لائن بینکنگ کر سکتے ہیں۔ کسی ٹریول ایجینسی میں جائے بغیر گھر بیٹھے اپنے ٹکٹس بک کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔ شاپنگ کر سکتے ہیں۔ مختلف کورسز کر سکتے ہیں۔ موبائل کے بعد اب کمپیوٹر، انٹرنیٹ کا استعمال بھی لوگوں کی زندگیوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ جوں جوں لوگوں کو اس کی افادیت کا علم ہو رہا ہے تو لوگوں کا رحجان بھی اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب کس کا دل چاہے گا بل جمع کروانے کے لیے لمبی لمبی لائینوں میں جا لگنے کا۔ اگر ان کے پاس متبادل آن لائن سہولت ہے تو۔

آج کل تو اخبار بھی انٹرنیٹ پر پڑھا جا سکتا ہے۔ بس انٹرنیٹ پر جا کر صرف نیوزپیپر کے انٹرنیٹ نمبر لکھتے ہیں، جس کے بعد پورا کا پورا اخبار کمپیوٹر کی اسکرین پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ معلوماتی، تفریحی، تعلیمی، کھیلوں کی خبریں، موسم کی خبریں اور اس جیسی دوسری بہت سی اہم ضرورتوں کو حاصل کرلیتے ہیں۔ پردیس میں بیٹھ کر آپ اپنے دیس سے جڑے رہتے ہیں۔ ہزاروں میلوں کے فاصلے سیکنڈوں، منٹوں میں بدل گئے ہیں۔ بلاشبہ کمپیوٹر کی ایجاد اور انٹرنیٹ کی سہولت نے انسانی زندگی کو بہت سہل بنا دیا ہے۔ وقت اور پیسے کی بچت دی ہے۔ یہ انٹرنیٹ کے مثبت پہلو ہیں، جن سے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

کوئی بھی چیز بذات خود اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ انٹرنیٹ ایک بحربیکنار ہے۔ جس کے کچھ تاریک پہلو بھی ہیں۔ نو عمر بچے جو ابھی اچھائی برائی کے دوراہے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ مناسب رہنمائی کے بغیر اس کا بے جا استعمال ان کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ اور ایسی عمر میں اگر ان کو یہ چیزیں بآسانی دستیاب ہوں گی تو یہ انھیں ان کی راہ سے بھٹکا دیں گی۔ ایک سروے کے مطابق کافی والدین نے کہا کہ ان کے بچے اپنی پڑھائی سلسلے انٹرنیٹ سے مستفید ہو رہے ہیں اور ان کے سکول کی رپورٹس بھی شاندار ہیں۔ وہ اپنے سکول میں بہترین کارکردگی کے حامل ہیں۔ جبکہ بہت سارے والدین نے یہ بھی کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود خرافات نے بچوں کو متاثر کیا ہے۔

انٹرنیٹ نے زندگی ضرور آسان بنا دی ہے، وقت کی بچت کروا دی ہے۔ تنہائی اور بوریت بھی ایک حد تک دور کر دی ہے۔ مگر اس سے کچھ جذباتی نقصانات بھی ہو رہے ہیں۔ ایک محبت بھری اشتراکیت جو انسان کی اپنے بزرگوں سے فیملی سے دوستوں سے ہونی چاہیئے، وہ کم ہو رہی ہے۔ ہم اپنے آپ میں ہی گم ہوتے جا رہے ہیں۔ خوشی تو تبھی ملے گی جب ہم خود اسے بانٹیں گے۔ سو اس نئی ایجاد کو اپنا ساتھی ضرور بنائیے مگر اپنے وقت کی بربادی اور رشتوں کے نقصانات سے بچئیے۔ اسے ذریعہ بنا کر اپنی زندگی کی رفتار تیزتر ضرور کریں مگر سہل پسندی اور خسارے کی نظر ہرگز نہیں۔۔
٭٭٭