020 - میں اور مدھوبالا

میں اور مدھو بالا

گزرے ہیں تیرے بعد بھی کچھ لوگ ادھر سے
لیکن تیری خوشبو نہ گئی راہ گزر سے

اک کشتی کے سوار

جیون کے سفر میں راہی ملتے ہیں بچھڑ جانے کو
اور دے جاتے ہیں یادیں تنہائی میں تڑپانے کو

لیکن میں اور مدھو ہم تو کبھی ملے بھی نہیں تھے تو بچھڑے کب ؟
لیکن پھر بھی ظالم وقت، سماج اور قسمت کے ہیر پھیر نے ہمیں جدا کر دیا۔ وہ مجھ سے بہت سال پہلے اس دنیا میں آ گئی تھی۔ کیونکہ خاندان کے افراد کی وہ پسندیدہ اداکارا تھی۔ جس کی تعریف کے لیے ان کے پاس الفاظ بھی کم پڑ جاتے تھے۔ کسی کو وہ مہتاب نظر آتی تھی کسی کو وینس، اور بیوٹی کوئین کے ٹائیٹل پر تو سب ہی متفق تھے۔ پھر بھی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے۔ ان کا بس نہ چلتا کہ سارے چاند تارے وہ اسی کی جھولی میں ڈال دیں۔ لیکن شاعری کا وصف تو صرف ابا کے پاس ہی تھا۔۔۔

ہاں تو، سننے والو میں کہہ رہی تھی کہ مدھو مجھ سے پہلے ہی دنیا کی سیر کر گئی۔ اس کے حسن کی دھوم نے مجھے اس کی جانب متوجہ کیا تھا اوروہ مجھے کسی کہانی کی شہزادی کی طرح لگا کرتی تھی۔ دوسرا فلم مغل اعظم کی شہرت نے اسے دوام بخش دیا تھا۔ کالج میں ہسٹری مضمون میں دل لگا کر پڑھ چکی تھی۔ یہ نواب، شہزادے، بادشاہ ان کی حس، ادب و آداب کو سمجھنا جیسے میرے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا تھا۔ لگتا تھا جیسے میں محلے کی بجائے محلوں میں انھی کے ساتھ رہتی رہی ہوں۔ پھر والد صاحب کو انڈین فلموں کی کافی جانکاری تھی۔ خصوصا تاریخی فلمیں انھیں بہت بھاتی تھیں۔ ان کی زبانی میں نے سہراب مودی کی بھی بڑی تعریف سن رکھی تھی کہ جب وہ اپنے مکالمے ادا کرتا تھا تو اسکی آواز میں توپوں جیسی گھن گرج ہوتی تھی۔ تو میں مدھو بالا کے ساتھ ساتھ اسے بھی دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کیسا شخص ہے دیکھنے میں کیسا نظر آتا ہے ؟جو منہ سے آگ کے گولے برساتا ہے۔ اور پھر کسی فلم میں وہ مجھے نظر آ ہی گیا تو تب میں نے فورا ہی کہہ دیا تھا کہ اچھا یہ ہے سہراب مودی۔۔ یہ تو مجھے پھوپھا جان جیسا نظر آتا ہے۔ تو والد صاحب اس کمنٹ پر مسکرانے لگے تھے۔۔۔

مجھے مدھوبالا میں کیا مماثلت لگی۔ جبکہ ہمارے ناموں میں بھی کوئی تال میل نہیں۔ وہ تو ممتاز جہاں بیگم تھی۔ آپ نے دیکھا اس کا نام بھی ملکہ جیسا ۔۔ خوبصورتی کا مجسمہ، بےنظیر مثال جہاں، جبکہ میں صرف اپنے ماما پاپا کا اک شاہکار تھی۔ لیکن کوئی نہ کوئی بات ایسی ضرور تھی۔ جو ہم دونوں میں مشترک تھی۔ جی ہاں وہ تھی ایک عادت جو میرے لڑکپن میں تھی اور اس کی جوانی میں۔ میں نے اپنی اس عادت پر وقت کے ساتھ قابو پا لیا تھا اور سنجیدگی کا نقاب اوڑھنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس بچاری سے شائد ایسا نہ ہو سکا۔ اور وہ جوانی میں بھی اس عادت کے ہاتھوں کبھی لطف لیتی اور کبھی نادم ہوتی۔ اور کبھی سرعام تماشا بن جاتی۔۔

ہم دونوں کی یہ مشترکہ عادت تھی بے اختیار ہنسی اور قہقہے لگانے کی۔ مدھو بالا کے ساتھ کام کرنے والے اداکار دیو آنند، نمی، اوم پرکاش، کیدار شرما سب کو تجربہ تھا اور اس کی اس عادت کا پتہ تھا اور اس بات کا لائیو مظاہرہ وہ کئی بار دیکھ چکے تھے اس لیے وہ برا نہیں مانتے تھے۔ اور کئی بار خود مدھو کومد مقابل سے اسکی اس حرکت کی وضاحت کرنا پڑتی تھی
” یقین کرو مجھے اپنی اس عادت پر بالکل قابو نہیں، میں تم پر نہیں ہنس رہی تھی بلکہ اپنی عادت کے ہاتھوں مجبور تھی۔ میرا مطلب تمھیں دکھ دینا یا مذاق اڑانا نہیں تھا۔“
لیکن کچھ لوگ واقعی برا مان بھی جاتے تھے۔
ایک بار ایک فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی جس میں ایک ایکٹر راج مہرہ نے جلتے شعلوں پر اپنا ہاتھ رکھنا تھا۔ فلم کے ڈائریکٹر کے اصرار کے باوجود اس نے ہاتھوں پر ہتھیلی کو آگ سے محفوظ رکھنے والے کیمیکل کو لگانے سے انکار کر دیا، اور جیسے ہی اسکے ہاتھ نے آگ کے شعلوں کو چھوا تو اس کے چہرے کے عجیب و غریب تاثرات بننے لگے۔ مدھو بالا یہ دیکھ کر اپنی ہنسی پرقابو نہ پا سکی اور بے اختیار ہنستی چلی گئی۔ راج مہرہ جو اس وقت سخت تکلیف میں تھا اسے مدھو کی یہ حرکت بہت بری لگی۔ اور مدھو کے باپ کو بھی بیٹی کی اس حرکت پر شدید غصہ آیا۔ اور اس نے مدھوبالا سے کہا کہ وہ فورا مہرہ سے معذرت کرے۔ اگلے دن جب وہ مہرہ سے معذرت کرنے کے لیے گئی اورجیسے ہی دونوں کی آنکھیں ٹکرائیں تو ایک بار پھر مدھو کی ہنسی چھوٹ گئی۔ لیکن اس دفعہ وہ اکیلی نہیں ہنس رہی تھی بلکہ مہرہ سمیت پورا یونٹ اس کے قہقہوں میں شامل تھا۔۔ اور یوں یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا تھا۔

ویسے تو مدھو کے علاوہ بھی دنیا میں بہت سے افراد ایسے ہوں گے، جنہیں اس طرح کی صورتحال سے گزرنا پڑتا ہو گا۔ جب ہنسی پر قابو پانا محال ہو جاتا ہے تو عورتیں ایسے مواقع پر دوپٹہ منہ میں ٹھونس لیتی ہوں گی۔ اور مرد حضرات بظاہر نارمل نظر آنے کی کوشش کرتے ہوں گے، پر ان کے دل ضرور غٹرغوں غٹر غوں کرتے ہوں گے۔ اور بالآخروہ فلک شگاف قہقہہ لگا ہی لیتے ہوں گے۔

میں تب نہ تو مدھو کو جانتی تھی اور نہ ہی اسکی اس عادت کو، تو ہوا کچھ یوں کہ، میرے لڑکپن کی بات ہے کہ ہمارے سامنے والے گھر میں ایک آنٹی رہا کرتی تھیں کہ ان کی ساس کے سر پر چوٹ لگنے کی خبر ملی۔ امی جان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ انھوں نے خالہ کو انکی عیادت کے لیے بھیج دیا تو میں بھی ان کے ساتھ چلی گئی۔ وہ اندر کمرے میں لیٹی ہوئی تھیں۔ انھوں نے اپنا حال زاربتانا شروع کیا کہ،
چنگا بھلا دن چڑھیا ۔۔۔۔۔ میں نے یہ کام کیا ۔ میں نے وہ کام کیا ۔۔۔ بچوں نے یہ یہ آفتیں مچائیں، بندے کموں کاروں پہ چلے گئے۔ میں نے بہو کو سبزی بھی لا کر دی، پکانے کے مشورے بھی دئیے۔ گرمی نے علیحدہ سے مت ماری ہوئی تھی۔ میں پسینے میں شرابور ہو گئی۔ دل کو گھبرا پےنے لگ پڑا۔ میں جلدی سے اندر کمرے میں آئی۔ چھت والے پنکھے کا بٹن مروڑا۔ اور دیوار کے ساتھ کھڑی کرسی کو اس کی طرف دیکھے بغیر گھسیٹ کر عین کمرے کے درمیان میں پنکھے کے نیچے لے آئی اور اس پر بیٹھنے کی جلدی کی۔ اب مجھے کیا پتہ تھا کہ نادانوں نے کرسی کی ایک ٹانگ ہی توڑی ہوئی تھی اوراب وہ تین ٹانگوں والی کرسی بن چکی تھی اور کسی کم بخت نے دیوار کے ساتھ اس کی ٹیک لگوا کر کھڑی کر دی تھی۔ کرسی تو میرے بیٹھتے ہی اتنے بیڑے طریقے سے پیچھے کو الٹی کہ میں تو بری طرح پیچھے کو نیچے جا گری۔ میرا سر زمین پہ ٹھاہ کر کے بجا اور پگانے کے پھٹنے کی طرح آواز آئی اور میری ٹانگیں اوپر آسمان کی طرف ہو گئیں۔۔۔۔۔
ابھی انھوں نے اتنی ہی رام کہانی سنائی تھی کہ میرے منہ سے قہقہوں کا طوفان شروع ہو گیا۔ ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔ ہی ہی ہی ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔۔ ہوہوہوہوہو۔ وہ آپ بیتی سنانے والیں ایک دم چپ ہو گئیں اور ادھر خالہ جان نے مجھے گھوری ڈالی۔ لیکن میں کہاں رکنے والی تھی۔ میں نے خوب ہی اپنے دل کی پوری کی۔ اور دل کھول کر قہقہے لگائے۔ ہنسی کا ذرا زور ٹوٹتا تو مجھے پھر یاد آ جاتا اور میں پھر سے شروع ہو جاتی۔ پھر میں نے خالہ کو بھی نظریں نیچی کیے ہونٹ دبا کے مسکراتے ہوئے دیکھا۔ یوں ایک عیادت کی گئی۔ گھر آ کر مجھے کہا گیا کہ ہم انکی خیریت معلوم گئے تھے۔ وہ کیا سوچتی ہوں گی۔ واقعی سوچنے والی بات تو تھی کہ لوگ کیا کہیں گے؟ لیکن میں جب بھی دوبارہ ان کو کبھی دیکھتی تھی تو مجھے پھر وہی بات یاد آ جاتی تھی۔ تو آپ نے دیکھا کہ میں انجانے میں ہی مدھو سے جا ٹکرائی تھی۔۔

ویسے ہنسنے اور قہقہہ لگانے کی ممانعت تو نہیں، یہ تو طبیعت کی شگفتگی کی علامت ہے۔ انسان کے زندہ دل ہونے کی نشانی ہے۔ زندگی کے مسئلے مسائل کو ایک طرف رکھ کر کچھ پل ہنسی مسکراہٹ میں گزارنے سے من بھی شاداب ہو جاتا ہے۔ اور انسان کو خوش مزاجی بھی عطا ہوتی ہے جو یقینا اللہ کی دین ہے۔ اور ہر کسی کو نہیں ملتی۔ جیسے ایک دوست سے اسکی پریشانی کی وجہ پوچھنے پر اسکا جواب ملا تھا کہ میری سب سے بڑی ناخوشی یہ ہے کہ میں کبھی خوش نہیں رہتا۔ سو کہا جا سکتا ہے کہ خود کو خوش کرنے کا وصف بھی ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا۔ اور کچھ لوگوں کو یہ گاڈ گفٹڈ کی طرح مل جاتا ہے۔ اسکا مطلب کسی دوسرے انسان کی دل آزاری، دل شکنی نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کے اندر چھپا بچہ چنچل موڈ میں آ جاتا ہے، جسے اس وقت اپنی کھلکھلاتی روح پر کنٹرول پانا ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر ایک انسانی عادت کو شائد اسی ترازو میں تولا جاتا ہے کہ وہ انسان کتنا سلجھا ہوا ہے اور اپنے اوپر کتنا کنٹرول رکھ سکتا ہے۔ ویسے میں نے اس عادت پر بروقت قابو پا لیا۔ اب بھی خود پر کافی کنٹرول کر لیتی ہوں اتنا کہ اسی کوشش میں دو تین بار آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ کاش مدھو بھی یہ گرجان پاتی تو مغل اعظم بنانے والے فلم میکر کے آصف کی بیوی نگارسلطانہ پر ایک بار ہنسنے سے جوابا معاملہ کے بہت سنجیدہ ہو جانے کا اسے سامنا نہ کرنا پڑتا۔

٭٭٭