021 - یہ سماج یہ تضاد

یہ سماج یہ تضاد

دنیا سے گزرنا ہے تو دامن کو سمیٹو
کانٹوں سے بھری دوستو یہ راہگزار ہے

زندگی کے نشیب و فراز کو دوسروں سے بہتر طریقے سے عبور

جب وقت اور زندگی گزر رہی ہوتی ہے تو اک بے خبری کا سا عالم ہوتا ہے۔ مگر جب اس کا سرا ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے تو تب ہی اس کے اچھے برے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ تو یہی حال اس سماج کا ہے، ایور گرین سماج، معاشرہ، سوسائیٹی، مگرسیاستدانوں کی طرح اس کے بھی کچھ اپنے ہی قاعدے قانون ہیں۔ جو یہ دوسروں پر لاگو کر دیتا ہے۔ اب چاہے اس میں رہنے والے مچھلی کی طرح تڑپیں یا چکی میں پستے رہیں یہ بے خبر انجان سا بن جاتا ہے۔

پہلے وقتوں کچھ لوگ جنم سے ہی تیزطرار، ہوشیار پیدا ہوتے۔ سو ان کی تو بات ہی اور تھی۔ لیکن جو بچارے سیدھے سادے پیدا ہوتے تھے۔ اور انھیں اپنے اردگرد کنویں جیسا ماحول ملتا تھا تو وہ اپنی ذات کے خول میں ہی بند رہ جاتے تھے۔ جن کے بارے میں کہہ دیا جاتا تھا کہ انھیں تو زمانے کی ہوا ہی نہیں لگی۔ لیکن کہنے والے ذرا یہ تو سوچتے کہ اس ہوا کو ان تک نہ پہنچنے میں بھی اسی سماج کا ہاتھ ہے۔ جو ان کے راستے میں ایک دیوار کی طرح کھڑا ہو جاتا تھا۔ اور یہ سب کیا دھرا اسی کا ہی ہوتا تھا۔ جس نے کچھ اصول تو سرے سے بنائے ہی نہیں اور جو بنائے ان میں بھی تضاد کی جھول نظر آتی۔ جس نے ملکی ترقی میں اک رخنہ اور آدم و حوا کی نسل میں تفریق پیدا کر دی تھی۔

پہلے تعلیم صرف لڑکوں کے لیے ہی ضروری سمجھی جاتی تھی۔
ان کے باہر کی دنیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے،
انکے کیریر کے لیے،
انھیں ہی بڑھاپے کا سہارا سمجھ کر دل لگا کر آم کے درخت کی طرح سینچا جاتا تھا۔ اپنی نسل کی پہچان، اپنے نام کی بقاء ، اپنی جائیداد کا وارث اور نگہبان، ان پر من نچھاور کیا جاتا اور دھن بھی کھول کر لگایا جاتا۔ جیسے کسی ریس کے گھوڑے پر، برا مت مانیے پر تھا کچھ ایسا ہی۔

جبکہ ایک لڑکی کی آمد کو بس اللہ کی رحمت اور پرایا مہمان سمجھ کر لیا جاتا تھا اور یہ سوچ تو اور بھی دل ہولانے کو کافی تھی کہ اب اس ان چاہے اور غیر معینہ مدت کے مہمان پر تعلیم اور جہیز کی صورت خرچا بھی کرنا ہو گا۔ سو کٹوتی کدھر سے ہوئی کہ اس کی تعلیم کا خرچہ بچا لیا جاتا اور پڑھ لکھ کر باشعور ہونے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا تھا۔ اور بعد میں بڑے آرام سے اسے اللہ میاں کی گائے کہہ دیا جاتا۔ اور پھر اس گائے کو آرام سے دوسرے کے کھونٹے پہ باندھ دیا جاتا۔ حالانکہ اگر اس وقت لڑکی پر بھی خرچ کیا جاتا تو یقینا کچھ نہ کچھ تو واپس ملتا۔

ادھرلڑکوں میں سے بھی کچھ تو لنگڑا اور چونسہ آم کی طرح نکلتے اور پڑھاکو بنتے اور باقی غنڈے، موالی ٹائپ، ان لڑکوں کو شائد باہر کی ہوا کچھ زیادہ ہی لگ جاتی تھی۔ کہ وہ لوگوں کی رگ رگ اور نفسیات سے واقف ہو جاتے تھے تو انھیں پریشان کرنے لگتے۔ ایک طرح سے معاملہ دونوں اطراف سے خراب تھا۔ ایک کی لگام کس لی اور دوسرے کی ڈھیلی چھوڑ دی۔ یہ معاشرے کا کیسا انصاف تھا بھئ ؟

صاف نظر آتا ہے کہ معاشرے میں ہی توازن نہیں تھا۔ اگر اس وقت لڑکیوں کو بھی خوب پڑھایا لکھایا جاتا تو لڑکوں کے لیے بھی مقابلے کی فضا قائم ہوتی۔ پھر لڑکیاں پڑھ لکھ کر چولہا ہانڈی کے ساتھ کچھ روزگار کا جوگاڑ بھی کر لیتیں، کم از کم اپنا جہیز ہی بنا لیتیں تو گھر اور معاشرے میں ان کا وجود بھی مفید اور کارآمد ثابت ہوتا۔ اور والدین پر بوجھ بننے کی بجائے وہ ان کا ہی بوجھ بٹاتیں۔ کیونکہ اس کی خال خال مثال موجود تھی جسے درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ سوئے اتفاق ایک گھر میں کئی بچے تھے۔ سربراہ فیملی کی معمولی سی جاب تھی کہ گزارا ہی بمشکل ہو رہا تھا۔ گھر میں بڑی اولاد لڑکی تھی اس نے جیسے تیسے میٹرک کیا اور ٹیچنگ شروع کر دی اور اپنے والد کا مالی ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ تو گھر کے حالات بہت حد تک سدھرنے شروع ہو گئے۔ باقی بچوں نے اچھی تعلیم حاصل کی اور جو فارغ ہوتا گیا اچھی جاب لیتا گیا اور زندگی کے وہ مرحلے جو ایک لڑکی کی قسمت کے ساتھ جوڑ دئیے جاتے ہیں وہ مراحل بھی آسان ہوئے۔ ریت رواج کے مطابق ان کے جہیز بھی بن گئے اوربہت اچھے گھروں میں سب بہنوں کی شادیاں ہوئیں۔ اوریہ بات کہنے میں بالکل عار نہیں کہ یہ سب اس لڑکی کی ہمت اور حوصلے کی وجہ سے ہوا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان ذمہ داروں کو نپٹاتے نپٹاتے ان کے باپ کے کندھے اور کمر مزید جھک جاتی۔

حقیقتا پہلا قدم اٹھانا ہی مشکل ہوتا ہے۔ جب یہ سماج پیروں کے نیچے سے زمین کھینچنے کی فکر میں ہوتا کہ،
"لڑکی کو اتنا پڑھانے کی کیا ضرورت ہے۔ ؟
کیا اسے افسر بنانے کا ارادہ ہے؟
کیا اس کی کمائی کھاؤ گے؟
اس نے پڑھ لکھ کر کیا تیر چلا لینے ہیں۔؟
آخر کو چولہا چوکا ہی کرنا ہے۔ اور بچوں کو ہی پالنا ہے۔ ان کی بہتی ناک ہی صاف کرنی ہے۔ ؟"
یا پھرتعلیم کی اہمیت خود کافی پڑھے لکھے لوگ ہی جانتے تھے۔ ایک صاحب خود لیکچرر تھے۔ کالج میں پڑھاتے تھے۔ انھوں نے اپنی لڑکی کو تب ایم اے تک تعلیم دلوائی تھی، جب لڑکیوں کی اوسط تعلیم میٹرک یا ایف اے تک ہوتی تھی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اہل محلہ نے دل کھول کر لڑکی کی ماں کو لڑکی کے زیادہ پڑھ لکھ کر باشعور ہونے بلکہ کچھ کچھ باغی ہوجانے کی قبل از وقت اطلاع دے دی۔
اسکے لیے پڑھے لکھے عنقا لڑکوں کی نوید سنائی۔
اسکے مستقبل کی نوکری اور کمائی کھانے کا طعنہ سنایا۔
پیسے اور وقت کا زیاں بتایا۔
اور لڑکی کے زیادہ وقت گھر سے باہر رہنے کے لیے زمانے کی ہوا سے خوفزدہ کیا۔
مگرعجب بات یہ ہوئی کہ لڑکی کی ماں چٹی ان پڑھ تھی۔ اس نے بات کا سارا وزن اپنے خاوند پر ڈال دیا کہ یہ میرے ان کی خواہش ہے۔ وہ کہتے ہیں میں اپنی بیٹی کو تعلیم کی صورت ایسا تحفہ دینا چاہتا ہوں۔ کہ خدا نہ کرے اگر برا وقت بھی پڑے تو اس کے کام آئے۔ یہ بات سچ ہے کہ نیت کو مراد ملتی ہے۔ اس لڑکی نے ابھی ایم اے ہی کیا تھا کہ اس کے لیے ایک اچھے پڑھےلکھے لڑکے کا رشتہ آ گیا اور اس کی شادی ہو گئی۔ وہ بچوں اور گھر بار میں مصروف ہو گئی۔ اس کے مالی حالات اتنے اچھے رہے کہ اسے آج تک جاب کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ لیکن میں اس باپ سے بہت متاثر ہوں جس نے اس وقت معاشرے سماج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی بیٹی کو اتنا خوبصورت تحفہ دیا۔ یقینا اس تحفے کا استعمال اس نے اپنے بچوں کے تعلیمی کیریر بنانے میں ضرور استعمال کیا ہو گا۔ اور یہ تحفہ نسل در نسل استعمال بھی ہو گا۔

پھرمعاشرے کے عفریت میں جہیز کی لعنت بھی موجود تھی۔ جو لڑکی کے ساتھ ایک مہر کی طرح چپکی رہتی تھی۔ لڑکی کو اک بہت بڑا ذہنی اوربوجھ بنا دیا جاتا۔ بیٹے کا باپ اکڑ اکڑ کر چلتا اور لڑکی کا باپ زیر بار ہو کر، اور جس گھر میں ایک سے زیادہ لڑکیاں ہوتیں۔ وہ بےچارے والدین تو ساری زندگی اک ان دیکھا قرض ہی چکاتے رہتے۔ کبھی جہیز کی صورت، کبھی رسموں رواجوں کی بدولت، کبھی لین دین کی معرفت، کبھی ویلا نکما داماد ملنے پر ساری زندگی اک ٹیکس دینے کی شکل، یہ کیسا تضاد تھا سماج کا ؟ تبھی مائیں بچی کے بچپن سے ہی اس کا جہیز بنانے میں جٹ جاتیں۔ ایک ماں نے اپنی بیٹی کا جہیز اسکے بچپن سے ہی بنانا شروع کر دیا تھا۔ اور جب تک لڑکی بڑی ہوئی۔ تو جہیز بھی اچھا خاصا تیار ہو چکا تھا۔ کہ لڑکی کا ایک بھائی باہر ملک چلا گیا تواس نے اپنے بہن بھائیوں کو باہر ملک بلا کر سیٹ کر دیا۔ اور اپنی اس مڈل پاس بہن کو ایک جیکٹسں سینے کی فیکٹری میں کام پر لگوا دیا۔ اس کا جہیز پاکستان میں دھرا کا دھرا رہ گیا اور لڑکی نے وہاں ایک سال میں ہی کام کر کے اپنا جہیز خود تیار کر لیا۔ اور شادی کے بندھن میں بندھ گئی۔ سو کہا جا سکتا ہے کہ تب بھی لڑکی میں وہ ہمت اور حوصلہ موجود تھا جسے سماج نے دبا کر رکھا تھا۔ اور اسے معاشرے کے لیے مفید نہیں بنایا۔

کہنے والے اس زمانے میں خاموش رہے اب کہتے ہیں کہ زمانہ بگڑ گیا ہے۔ آزاد ہو گیا ہے۔ اونہوں، زمانے کو بگاڑنے والے اور اس کی ہوا کو چلانے والے لوگ تو ہمیشہ رہے ہیں اور رہیں گے۔ یہ سماج ہی تو تھا جو اس وقت بھی لڑکے اور لڑکی کی عزت میں اتنا فرق دکھاتا تھا۔ کہ لڑکی پر چار اطراف سے پابندی ہوا کرتی تھی اور لڑکے کو اس سے بالاتر کر دیا جاتا تھا۔ مگر سمجھنے والو، عزت تو لڑکے کی بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے لیے کچھ رول سماج نے وضع ہی نہیں کیے۔ اسی لیے جب شادی کا مرحلہ آتا تو لڑکے سے پھر بھی اس کی مرضی پوچھ لی جاتی۔ چاند سی دلہن کی اسکے لیے تلاش ہوتی۔ مگر لڑکی پر اپنی پسند ڈال دی جاتی۔ اور اس کے شوہر کے روپ میں مرد کا قبول صورت ہونا ہی کافی سمجھا جاتا۔ گھر میں لڑکا پیدا ہوتا تو ہمیشہ باپ کے نام کے حوالے سے مٹھائیاں بنٹتیں کہ امتیاز کے ہاں بیٹا ہوا ہے اور لڑکی کی خبر ہوتی تو ہمیشہ ماں کے حوالے سے پھیلتی کہ نگہت کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ پھر لڑکے کے لیے والدین اپنی ہمت سے بڑھ کر جان مارتے، گھربار جائیداد بناتے۔ اور اپنی وراثت کا اسے جائز حقدار سمجھتے اور لڑکی کو وراثت میں حصہ دینے سے بھی گریز کیا جاتا، کبھی اسکے جہیز، اور کبھی معمولی تعلیم کا بدل کاٹ لیا جاتا اور کبھی قرآن سے اسکی شادی کر دی جاتی۔ ایسا کیوں کیا جاتا یہی تو سماج کے کا فرق تھا۔
قصہ مختصر، کسی بھی ملک کے معاشرے اور سماج کو سب سے پہلے خود اپنے لیے قانون اورحدود وضع کرنا ہوں گی۔ پھر ہی وہ سماج میں رہنے والوں کا بھلا کر سکتے ہیں۔۔

٭٭٭