022 - ٹرننگ پوائنٹ

ٹرننگ پوائنٹ

لٹا ہے دشت غریبی میں کارواں کس کا
خاک اڑاتی ہے منزل بھی کارواں کے لئے
زندگی ایک صحرا ہے جہاں کوئی کہکشاں نہیں

زندگی کی حقیقت پر نظر ڈالتی تحریر

زندگی کچھ دینے اور کچھ لینے کا نام ہے۔
ایک معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کچھ اصولوں، رواداریوں، نظم و نسق اور قوانین کا پابند ہو جاتا ہے۔ جنگل میں جنگل کا قانون اور انسانی معاشرے میں انسانوں کا۔ یہی چیز ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے، ایک حد بندی بھی مقررکرتی ہے اور ہر ذی شعور کو اسی کے اندر رہ کر اپنی بقا کی جنگ بھی لڑنی پڑتی ہے۔

دنیا میں ہوش سنبھالتے ہی ذمہ داریاں بٹنے لگتی ہے۔ گھر میں اپنا کام سنبھالنا پڑتا ہے اور معاشرے میں بھی اپنے حصے کا بوجھ ڈھونا پڑتا ہے۔ یہ تقسیم کا سلسلہ گھر سے ہی شروع ہوتا ہے۔ جب والدین بچوں کو معاشرے کا ایک مفید رکن اور باشعورانسان بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہوتے ہیں۔ ایک طرح سے وہ مستقبل کے لیے آہستہ آہستہ اپنی ذمہ داریاں آگے منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ بہن بھائیوں کے ساتھ شیئرنگ کرنے کا وصف بچوں میں ڈال کر درحقیقت وہ انھیں دنیا کے تالاب میں تیرنے کا طریقہ سمجھا رہے ہوتے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے کا گر بتا رہے ہوتے ہیں۔
والدین کے بعد استاد بھی اس میں ایک بڑا رول ادا کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں پالش ہو کر آگے بڑھا جاتا ہے۔ پھر وقت کے ساتھ جس طرح عقل وشعور ذات میں اپنی جگہ بناتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح حقوق و فرائض سے بھی آگاہی بڑھتی جاتی ہے۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب والدین اور استاد کا رول بھی کچھ پیچھے رہ جاتا ہے اور اب زندگی کا میدان کارزار ہوتا ہے اور صرف آپ ہوتے ہیں۔
زندگی نے اپنی مسافت تو ہر حال طے کرنی ہی ہے اس چیز سے بے خبر کہ مسافر اپنی دھن میں بے نیاز چلا جا رہا ہے یا ہر قدم سہج سہج کر رکھ رہا ہے۔ کہ کبھی کبھی اچانک زندگی میں ٹرننگ پوائینٹ آ جاتا ہے۔ جو بندے کو کسی اور ہی راہ کا مسافر بنا کر منزل کی اور روانہ کر دیتا ہے۔ حالانکہ اس وقت یہی لگ رہا ہوتا ہے کہ زندگی کا آدھا معرکہ مارا جا چکا ہے تو اب آگے کا سفر سہل ہو گا۔ پر ایسا نہیں ہوتا۔ آس پاس ہی کچھ تلخ حادثات اور حقیقتیں گھات لگائے چھپی ہوتی ہیں۔ جو اچانک ہی حملہ آور ہوتی ہیں اور پھر آغاز ہوتا ہے سفر در سفر کا۔۔

قرآن پاک سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر ان کی طاقت اور برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ پر وہ اپنے کچھ بندوں کو خاص نوعیت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے منتخب ضرورکر لیتا ہے۔ اللہ جانے، ان لوگوں میں کوئی خاص خوبیاں ہے یا وہ ان کے اعمال کو اس راہ سے گزارنا چاہتا ہے۔
میں دسویں کلاس میں تھی کہ میری ایک کلاس فیلو راحت کی امی اچانک اس جہان فانی سے رخصت ہو گئیں۔ یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ وہ جذباتی نقصان کبھی پورا ہونے والا نہیں تھا۔ اس سے بالا تر گھر میں بھی اب وہی ایک صنف نازک تھی، جو کئی چھوٹے بھائیوں کی پندرہ سالہ بڑی بہن تھی۔ اپنے نام کے مصداق ہمیشہ خوش رہنے والی، ماں کے غم میں نڈھال چند دنوں میں ہی اسے گھر کے حالات کا اندازہ ہو گیا۔ تو اسے اپنی تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ اور چھوٹے بھائیوں کے لیے ایک مامتا بھرا روپ دھارنا پڑا۔ اور یوں ایک پندرہ سالہ بچی وقت سے پہلے مثل خاتون خانہ بن گئی اور اپنی عمر سے دگنی ذمہ داری اس نے سنبھالنی لی۔ اسکا ساتھ چھوٹ چکا تھا اپنی سنگی سہیلیوں سے، اپنی کتابوں سے، اپنی ذات آگہی سے، وقت نے ایک طرف اسکا اپنا پن چھین لیا تھا اور دوسری طرف اس کا وجود باقیوں کے لیے کارآمد بنا دیا تھا۔ اور اسی جگہ، اسی مقام پر ہی اسکی زندگی میں وہ موڑ آ چکا تھا۔

زندگی درحقیقت کیا ہے؟
وقت کا آئینہ ہے، جس میں انسان اپنا ماضی، حال اور مستقبل دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اور زندگی کے بارے میں بس اندازے ہی لگاتا رہ جاتا ہے۔ اسے سمجھنے میں ہی عمر تمام ہو جاتی ہے۔ کبھی معاملات زندگی میں صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔ کبھی اسے امتحان سمجھ کر ہمت جٹانی پڑتی ہے۔ اور خاص طور پر جب اللہ کی طرف سے یہ آزمائش بن کر سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔

امی جان ایک ایسی عورت کا ذکر کرتیں، جن سے وہ بہت متاثر تھیں اور شائد ہمیں بھی بآور کرانا چاہتی تھیں کہ زندگی نشیب و فراز کا ہی نام ہے۔ ایک آدمی کی بیوی تین چھوٹے بچے چھوڑ کر انتقال کر گئی۔ اس نے دوبارہ شادی کر لی۔ دوسری بیوی کے روپ میں صفیہ ایک خوشگوار جھونکے کی طرح اسکی زندگی میں چلی آئی۔ صفیہ ایک سکول میں ٹیچر تھی۔ اس نے آتے ہی بچوں کو خدا ترسی سے فورا گلے لگا لیا۔ جس سے شوہر کے دل تک بھی اس نے رسائی حاصل کر لی۔ زندگی ایک بار پھر خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولنے لگی۔ بچے بھی مطمئن اور میاں بیوی بھی خوش۔۔۔ زندگی کی رونق بڑھاتے ہوئے چھ بچے اور اس گلشن میں آباد ہوئے۔ اور نو بچوں کے ساتھ ایک اچھا خاصا خاندان تشکیل پا گیا۔ کارواں منزل کی اور بڑھ رہا تھا۔ لگتا تھا اب زندگی اپنےعروج پر ہے۔
مگر نہیں۔۔۔
ابھی تقدیر کے ترکش میں کچھ تیر باقی تھے۔ اچانک ہی میاں کو اجل نے کھینچ لیا۔ نقصان پھر ہوا تھا اور پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہوا تھا، مگر اب خسارہ پانے والا کوئی اور تھا۔ اس بار خسارہ صفیہ نے پایا تھا۔ ایک معمولی جاب اور سگے سوتیلے نو بچے اسکے سامنے تھے۔ حالات اسے صبر اور تقدیر آزمائش کے موڑ پر لے آئی تھی۔ اور یہیں سے ہی اس کا صراط کی جانب سفر شروع ہو چکا تھا۔

یہ زندگی یہ دنیا،
بظاہرتو کائنات کے رنگوں سے جڑی ایک خوبصورت تصویر ہے۔ جس میں قوس و قزح کے رنگ سجے نظر آتے ہیں۔ اک رنگیں گلستاں ہے جہاں رنگا رنگ پھولوں جیسی خوشنمائی ہے۔ پر اب چاہے یہ کوئی اسٹوڈیو ہو یا گلشن، یہ سب فانی ہے۔ جنت، دوزخ، پل صراط، قیامت، آخرت کا حساب کتاب ان سب کو مرنے کے بعد کے مراحل سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ دنیا بھی ایک پل صراط ہے۔ جو اس پر چلنے کا تجربہ کرتا ہے وہ آخرت میں بھی انشاءاللہ گزر جائے گا۔ اسی لیے اس دنیا میں بہت سے لوگوں کا سفر اس جانب کب کا شروع ہو چکا ہوتا ہے۔
بہت سے لوگوں کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ آ جاتے ہیں۔ کبھی موڑ آتے ہیں اور کبھی دوراہے۔ بعض دفعہ موت، طلاق، بیماری، ملازمت اور ایسی بہت سی حقیقتیں جو بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں سامنے نمودار ہو جاتی ہیں ،جن سے زندگی کی ہیئت ہی بدل جاتی ہے۔ مگر بعض لوگ بڑے وقار کے ساتھ ان سانحوں سے گزر جاتے ہیں۔ اور مشعل راہ بن جاتے ہیں۔ یہ بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر ان میں کونسی ایسی خوبیاں ہوتی ہیں، جو انھیں دکھوں کو ہنسی خوشی یا جرات کے ساتھ برداشت کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ میں ایک ایسی ہی پیاری سی ہستی کو جانتی ہوں۔
جو شادی کے تین ماہ بعد اچانک بیوہ ہو گئی۔ اس کا خوبصورت من چاہا ساتھی اچانک چھوٹ گیا۔ اک قیامت ہی تھی جو اچانک برپا ہوئی۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ اسکی دوسری شادی ہوئی۔ بہت سالوں بعد جب میرا اس سے دوبارہ ملنا ہوا۔ اور زندگی کی موجودہ شکل بارے اس سے بات ہوئی۔ تو اس نے کہا کہ زندگی اچھی گزر رہی ہے۔ خاوند اچھا ہے۔ اللہ نے اولاد کی نعمت سے بھی سرفراز کیا ہے۔ اور میں نے دیکھا اسکی زبان پرصبر و شکر کی چھاپ تھی اور آنکھیں نم، پھر اسی نے مجھے ایک اور لڑکی سے ملوایا۔ جس کا پہلا خاوند انتقال کر چکا تھا اب اس کی دوسری شادی ہو چکی تھی۔ ایک پیاری سی بیٹی اسکی گود میں تھی۔ اور وہ زندگی کے نئے رنگ میں رنگی تھی۔ وہ بچی کے کپڑے بدل رہی تھی اور میں انجانے میں ہی اس کے چہرے پر زندگی کے رنگ ڈھونڈ رہی تھی۔ میرے سامنے یہ وہ لوگ تھے، جن کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ آ چکے تھے۔ اور میں عقیدت بھری نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھی۔ طوفان گزرنے کے بعد کیا آثار ہوتے ہیں۔ لاشعوری طور پر کھوجنے کی فکر میں تھی۔ اور ان دونوں کے اندر مجھے صبر، شکر کا عنصر نمایاں محسوس ہو رہا تھا۔ یقینا وہ دل کی دنیا کو تیاگ کر آگے بڑھ چکی تھیں۔ اور واللہ اعلم، کیا پتہ ان کا یہی وصف انھیں اس راہ کا مسافر بنا گیا ہو۔ ؟ یہ راہ کٹھن ضرور ہے لیکن اس کی منزل یقینا بڑی خوبصورت ہو گی۔
، ہم لوگ جو زندگی کی چھوٹی چھوٹی مشکلوں، باتوں سے گھبرا کر زبان پر تلخی سمیٹ لاتے ہیں۔ شکوے شکایات شروع کر دیتے ہیں۔ یقینا زندگی کا یہ روپ دیکھنے والے لوگ ہمارے لیے بمثل ہیں کہ
شمع کی طرح زندگی بسر کرنا سیکھو وہ خود تو جلتی ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔ اور وہ اس بات کی تفسیر بن جاتے ہیں،

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں
٭٭٭٭