023 - اللہ کی مرضی

اللہ کی مرضی

اللہ مطلق العنان ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے اس کی رضا کے بغیر کوئی پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ یہ فقرہ کم عمری میں ہی سننے کو مل گیا تھا۔ جہاں بھی دو چار عورتیں اکٹھی ہوتیں، پہلے خوب کہانیاں بیان کرتیں، دل کے دکھڑے روتیں اور آخر میں کہتیں اچھا اللہ کی مرضی، اور میں دیکھتی رہ جاتی کہ اگر یہ واقعی اللہ کی مرضی تھی تو پھر اس پر اتنا واویلا ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔۔

تھوڑا سا اور آگے بڑھی تو پتہ چلا کہ اللہ جسے چاہے دے، جتنا چاہے نواز دے اور جسے چاہے نہ دے محروم رکھے۔ اس کے لیے سب بندے ایک برابر ہیں لیکن اس کے دینے کی تقسیم سب کے لیے مختلف ہے۔ میں دیکھتی کسی گھر میں بچے زیادہ ہیں تو کسی گھر میں دولت کی ریل پیل، کسی گھر میں سب لوگ ہی خوب پڑھے لکھے ہوتے اور کسی جگہ واجبی سی تعلیم ہوتی یا انگوٹھا چھاپ ۔ یہ بات میرے لیے کچھ اچنبھے کا باعث بنتی کہ اللہ نے سب کو ایک جیسی دولت اور زندگی گزارنے کا طریقہ اور سلیقہ کیوں نہیں دیا۔ جس گھر میں بچے زیادہ ہیں وہاں تو کھانے پینے کی وافر چیزیں اور روپے پیسے کی افراط ہونی چاہیئے لیکن وہاں تو ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے روپیہ پیسہ نہیں۔ کسی بچے کے پاؤں میں جوتی نہیں، تو کوئی سردی میں ناکافی کپڑوں کے ساتھ ہے۔ اس وقت یہ چیز میرے دل میں ایک حسرت کی طرح سر اٹھاتی کہ کاش اللہ میاں سب کوایک جیسا ہی دے دیتا تو زندگی کتنی آسان ہوتی۔ پھر اردگرد کچھ مہربان اللہ کی وافر دی نعمتوں پر خوب اتراتے۔ انہیں لگتا کہ اللہ کی ان پرخصوصی نظرعنایت ہے۔ اور اللہ ان سے بہت راضی ہے۔ ہمارے ایک دور پار کے رشتہ دار ہوا کرتے تھے۔ خوب کوٹھیوں، زمینوں اور بزنس کے مالک اورخود ان کا کہنا تھا کہ اللہ ان پر اتنا مہربان ہے کہ اگر وہ مٹی کو بھی ہاتھ لگاتے ہیں تو وہ بھی سونا بن جاتی ہے۔ اوردوسری طرف کچھ لوگ شاکی رہتے کہ آئے دن مصائب کا سامنا ہے اور وہ مشکلات میں پھنسے رہتے ہیں۔ انھیں لگتا کہ اللہ ان سے ناراض ہے یا ان سے انجانے میں نہ جانے کتنی خطائیں ہو چکی ہیں یا گناہ سرزد ہو چکے ہیں۔

امی جان کے رشتے داروں کی طرف دیکھتی تو وہ بہت امیر اور زمینوں کے مالک نظر آتے۔ مگر وہاں اس جائیداد کو سنبھالنے والے نہ ہوتے اور امی جان کے کچھ کزن دو شادیاں رچا چکے تھے اور دو دو بیویوں کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ سوکن اور اس کا جلاپا مین مدعے سے ہٹ کر کچھ اور ہی داستان گھڑ دیتا۔ اور لوگ اسی داستان کو زبان زد رکھتے۔

کچھ لوگ میں نے رشک و حسد اور حسرت میں بھی مبتلا دیکھے۔ سانولی عورت گورا ہونے کے چکر میں کریم لوشن پر پیسے لٹاتی، چھوٹے قد والی ایڑی والے جوتے پر۔۔ اور ساتھ ہی ان کی زبان پر شکوہ بھی آ جاتا کہ اللہ تیرا کیا جاتا اگر مجھے تھوڑا گورا بنا دیتا۔ فلاں کو اتنا رنگ و روپ دے دیا۔ کاش اس میں سے ہی بچا کرتھوڑا مجھے دے دیتا تو کونسا وہ کالا ہو جانا تھا اورچند انچ مزید قد کی خواہش دل میں پالنے والی ایڑی والے جوتے پہن کر ساری زندگی اپنے آپ کو ایک ان دیکھی سزا کاٹنے پر مجبور پاتی۔ اوپر سے ڈاکٹر کہہ دیتے کہ اسکے استعمال سے بڑھاپے میں کمرکی تکلیف ہو سکتی ہے یعنی الٹے بانس بریلی کو،

پھرکسی گھر میں اللہ کی نعمت لڑکے ہی لڑکے کرکٹ ٹیم کی طرح نظر آتے تو کسی گھر میں لڑکیوں کے گروپ نظر آتے۔ امیر لڑکیوں کی شادی خوب دھوم دھام سے ہو جاتیں۔ جہیز کے نام پر انہیں دنیا جہان کی چیزیں دی جاتیں، دولت کی نمائش کی جاتی۔ اور یہی چیز غریب کی بیٹی کی شادی کو اور مشکل بنا دیتی۔ بچاری لڑکیاں ماں باپ کی چھاتی پر سل کی طرح دھری رہتیں جس سے باپ کی کمرمزید جھک جاتی اور ماں دن رات انھیں دیکھ کرآہیں بھرتی دکھائی دیتی۔ پر یہ تو اوپر والے کے کام تھے۔ اوریہ اسی کی منشاء کے مطابق ہو رہا تھا۔

پھرمجھے طبقاتی فرق بھی نظر آنے لگے۔ امریکہ سپر پاور نظر آتا، انڈیا پاکستان کا دشمن دکھائی دیتا اور اسرائیل فلسطین کا، ہیما مالنی کی قسمت میں دھرمیندر کی دوسری بیوی بننا لکھا تھا۔ مدھو بالا، دلیپ کمار کی محبت بھری داستان کو کوئی عنواں نہ مل سکا۔ وحیدہ رحمان گورودت کی دوسری بیوی نہ بن سکی اور گورودت کو اسی کی وجہ سے خود کشی کرنا پڑی۔ ہاں بھئ یہ سب تواللہ کی مرضی تھی۔

پھر وہ گھڑی آ ہی گئی جب شعور کا دروازہ دھیرے دھیرے کھلنا شروع ہو جاتا ہے۔ تب میں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ یہ اللہ کی طرف سے کوئی ناانصافی یا زیادتی نہیں کہ کسی کو کم مل رہا ہے اور کسی کو زیادہ، بلکہ اللہ نے ایک نظام اور سسٹم کے تحت کچھ فارمولے بنائے ہیں جس کے مطابق دنیا کا یہ کاروبار زندگی چلایا ہے اور اپنے بندوں کو ان میں سے گزارنا چاہا ہے۔ اسی لیے کچھ لوگوں کے لیے دنیا شداد کی جنت جیسی بن گئی ہے اور کچھ کے لیے پل صراط جیسی،

اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک چیز نہ دے کر اس کے بدلے اللہ اوربہت سی چیزوں سے نواز دیتا ہے۔ جسے جاننے کے لیے بصیرت کی آنکھ چاہیئے۔ ویسے بھی سب کے پاس سب کچھ نہیں ہوتا۔ میں نے دولت اور طاقت کو اکثر یکجا دیکھا ہے اور اسی طرح تعلیم اور شرافت کو ایک جگہ پایا ہے۔ یقینا اس میں بھی ضرور کوئی نہ کوئی مصلحت ہو گی۔ کیونکہ دولت، طاقت، تعلیم، شرافت یہ چاروں کبھی ایک جگہ اکٹھی نہیں ملیں گی۔

پھراللہ کبھی کبھی نہ دے کربھی بندے کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور آزماتا ہے اسکے صبر اور شکر کے وصف کو، کبھی وہ بندے کو حالات کی بھٹی میں ڈال کر کندن بنانا چاہتا ہے۔ کبھی دنیا میں ہی سب کچھ نواز کر اس کے لیے آخری منزل کی سیڑھی چڑھنا مشکل بنا دیتا ہے اور کبھی دنیا میں اسے تکالیف اور مصائب دے کر آخرت کی منزلیں سہل بنا دیتا ہے۔ اور یہ کوئی انہونی یا ڈھکی چھپی باتیں نہیں۔ یہ سب باتیں اللہ کی کتاب میں موجود ہیں۔ سمجھیے وہ امتحانی پیپر حل کرنے کے لیے دے چکا ہے۔ اب تو باری ہے اسے سوچ سمجھ کر حل کرنے کی اورضرورت ہے اس پر عمل پیرا ہونے کی۔

بے شک سب کام اللہ کی رضاعت سے ہوتے ہیں۔ پھر بھی اس نے کہیں نہ کہیں بندے کو بھی یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنا اچھا برا جانے، اپنی منزل پانے کے لیے اس کے بتائے صراط مستقیم پرقدم بڑھائے اور یوں اللہ کی مرضی کو پا لے۔۔۔
٭٭٭٭