024 - گہر ہونے تک

گہر ہونے تک

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لئے
ھم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں

ہر چیز ایک عنوان ہے اور کسی صاحب کمال کی منتظر ہے۔

ایک کلاسک تحریر

قطرے سے گہر ہونے تک اس پہ کیا گزرتی ہے۔ یہی حال کچھ کلاسک چیزوں کے عوامل کا ہے۔ جس کا نام سن کر ذہن میں اک کھلبلی سی مچنے لگتی ہے۔

کلاسک ادب
کلاسک کتاب
کلاسک مصنف
کلاسک اداکار
کلاسک فلم
کلاسک پینٹنگ
کلاسک نوردات

اور ان پر ایک علیحدہ سی چیز کا گمان ہونے لگتا ہے۔ سب سے پہلا اثر تو یہی ہوتا ہے کہ بندہ اپنے آپ کو ماضی میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ لگتا ہے کسی عجائب گھر میں داخل ہونے لگا ہے۔ جہاں کی فضا سونگھتے ہی پرانے دور کی خوشبو ملنے لگتی ہے۔ بغیر ہپناٹائیز ہوئے ماحول آپ کو آباواجداد کے زمانے کے ادور میں لے جانے لگتا ہے۔ جہاں چاروں اطراف احوال و زماں کی چیزیں باہمی کلاسک کلاسک کا شور مچا رہی ہیں۔ چاہے وہ کوئی پرانا برتن ہو تلوار یا کسی جانور کی کھال یا پرانی نوردات یا پینٹنگ، اور اتنے سالوں بعد جا کر اس کے تخلیق کار کو سراہا جاتا ہے۔ یا اس ملکیت کے مالک کا تصور ذہن میں اترنے لگتا ہے۔

ویسے کلاسک میں انسان بھی پائے جاتے ہیں۔ اور کلاسک ہمیشہ ماضی میں پائے جاتے ہیں۔ حال میں تیار ہوتے ہیں اور ان کی رونمائی مستقبل میں ہوتی ہے۔ حال کی بھٹی میں وہ تپ کر کندن بنتے ہیں اور جب وہ ٹھکانے لگ جاتے ہیں تو دنیا یہ میڈل ان کے نام سجا دیتی ہے۔ اور کچھ مصنف کی اپنی لکھی سوانح عمری بھی اسی میں شامل ہو جاتی ہے۔ اور کتنی حیران کن بات ہے کہ ایک مصنف خود اپنی گزری زندگی کو پہلے مستقبل اور پھر ماضی کا حصہ بنانے جا رہا ہے اور حال میں اسے لکھ کر تینوں زمانوں ماضی حال اور مستقبل کا بانی بن جاتا ہے۔

جبکہ درحقیقت اس مصنف، اداکاراور پینٹر کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب بیچاروں کا دور ہوتا ہے تو وہ اپنی تخلیق کے ساتھ زمانے بھر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ صعوبتیں جھیلتے رہتے ہیں۔ سردی میں ٹھٹھرتے ہیں۔ تب کوئی انھیں درخوراعتنا نہیں سمجھتا۔ ان کے شاہکار کو بار بار دنیا ریجیکٹ کرتی ہے۔ اور ان کا نام پس پشت ڈالتی ہے۔ اور وہ اپنی تخلیق کے اچھا ہونے کی دہائی ڈال ڈال کر بتاتے رہتے ہیں۔ مگر لوگ اول تو متوجہ ہی نہیں ہوتے اور اگر ہوں بھی تو ایک نظر ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

مسودے پبلشروں کے پاس رلتے رہتے ہیں۔ اداکار فلمی اسٹوڈیو اور ڈائریکٹروں کے پاس جا جا کر جوتیاں چٹخا کر رہ جاتے ہیں۔ اداکار کسی محفل میں فلم ڈائریکٹر کے گرد بھنورے کی طرح چکر کاٹتے ہیں۔ اسی طرح پینٹر جو پینٹنگ کسی ہل اسٹیشن پر جا کربناتا ہے یا اپنی آنکھوں سے کوئی نایاب منظر ڈھونڈتا کر کینوس پر منتقل کرتا ہے، تو وہ سستے داموں گھومتی رہتی ہے۔ کبھی کسی کے گھر تو کبھی کسی کے، اور جب اس انمول کو جنم دینے والا اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو وہی پینٹنگ کسی کباڑئیے کے ہاں سے برآمد ہوتی ہے۔ اور اہل نظر تب اسے جانچ کر کلاسک کا نام دیتے ہیں اور روپوں کی پینٹنگ ہزاروں ڈالر، پونڈز میں بکتی ہے۔ کتنی بڑی دھاندلی اور بے انصافی اس مصور کے ساتھ ہوتی ہے۔ جس نے جان مار کے یہ بنائی تھی۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ یہ دنیا اندھی ہے، جو نہ دیکھ سکتی ہے اور نہ بر وقت فیصلہ کر پاتی ہے۔ اور اس غریب پینٹر کو کوئی مالی فائدہ نہیں ہوتا۔ اتنا ضرور ہے کہ اسے نام لیوا پھر بہت سے مل جاتے ہیں۔ اور وہ خود اس بات کی تفسیر بن جاتا ہے،
ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گے
بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی نہ جانے ہم کہاں ہوں گے

اسی طرح کلاسک نوردات میں جب کوئی نایاب چیز مل جاتی ہے تو اسی پر اکتفا کر لیا جائے۔۔۔۔ نہیں پھر اس کی جوڑی کی تلاش شروع کر دی جاتی ہے۔ جس کے لیے کافی بھٹکنا پڑتا ہے اور جوڑی کا دوسرا حصہ کسی جھونپڑی یا دوردراز کسی آبادی سے ہٹ کرایک سنسان گھر سے برآمد ہوتا ہے۔ اور ایسی اشیاء میں اکثر کوئی موتی، نیکلس، ایش ٹرے یا کوئی ڈیکوریشن پیس ٹائپ کی کوئی معمولی سی چیز نکلتی ہے۔ پہلے تو اسے اس بندے سے نارمل طریقے سے ہتھیانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پھر بھی بات نہ بنے تو ہزاروں خرچ دیئے جاتے ہیں۔
اب اگر کلاسک چیز دریافت ہو ہی گئی ہے تو جہاں ہے بھئ وہیں پڑی رہنے دو۔ اس پر اتنے خرچنے کا فائدہ؟ گھر لا کر بھی تو وہ پڑی ہی رہے گی۔ مگر نہیں گھر کو عجب خانہ بنانے کا ارادہ پیش فرما ہوتا ہے۔

بعض دفعہ کسی گھر میں جو چیز ڈارائنگ روم کی باقی چیزوں سے مماثلت نہ رکھتی ہو۔ وہ دیکھنے والوں کو یونیک سی نظر آنے لگتی ہے۔ اور ایسے میں اگر آپکو کوئی بڑا عجیب و غریب سا گلدان یا کوئی ٹیڑھا میڑھا بھدا سا ڈیکوریشن پیس نظر آئے یا ایسی تصویر جو بار بار نظر ٹکا کر دیکھنے پر بھی اپنا مقصد واضح نہ کرتی ہو اور آنکھوں کو اک خوشنمائی کا احساس ہونے کی بجائے عجیب سی فیلنگ دیتی ہو تو سمجھ جائیے کہ یہ کلاسک یا تو حاصل کیا گیا ہے یا یہ مسقبل کا کلاسک بننے جا رہی ہے۔ سو نظر بھر کر ابھی سے ہی اسے دیکھ لیجیے۔ کیونکہ ممکن ہے یہ مستقبل میں لاکھوں کی قرار پا جائے۔

کلاسک نوردات رکھنے والوں کو دنیا بھی ایک نایاب ذوق رکھنے والا دولتمند انسان سمجھنے لگتی ہے۔
پہلے سائنسدان آنے والے وقت کے لیے ایجادات بناتے تھے۔ مگر اب لوگ ماضی کی چیزیں اٹھا کر حال میں لے آتے ہیں۔ کلاسک کی ایک سچی تعریف یہ بھی ہے کہ یہ کسی غریب کے پاس نہیں ملے گی۔

کلاسک کی ایک اور صنف پردہ اسکرین کی کلاسک ہٹ فلم بھی ہے۔ مشہور زمانہ فلم ۔۔۔ شعلے ۔۔۔ پرفلم میکر رمیش سپی نے اپنا سب کچھ داو پر لگا کر یہ فلم بنائی تھی مگر ریلیز ہوتے ہی شعلے فلم کو بڑی فلاپ فلم قرار دے دیا گیا۔ اس موقع پر رمیش سپی نے شعلے کے اہم اداکاروں اور رائٹرز کی میٹنگ طلب کی۔ لیکن اس میں سوائے سلیم جاوید، امیتابچن اور رمیش سپی کے کوئی نہیں آیا۔ یاد رہے کہ امجد خان کو کال ہی نہیں کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت تک فلم کی ناکامی کا ذمہ دار ناتجربہ کار ولن امجد خان کو سمجھا جا رہا تھا۔ میٹنگ کے دوران امیتابچن نے تجویز پیش کی کہ فلم کو مکمل ناکامی سے بچانے کے لیے تمام سینماوں سے فوری طور پر اتار لیا جائے اور ان حصوں کی شوٹنگ دوبارہ کی جائے، جس میں امجد خان ہے۔ لیکن رائٹر سلیم جاوید نے اس کی سخت مخالفت کی اور یہ دھمکی دی کہ اگر اس تجویز پر عمل کیا گیا تو وہ فلم کی کریڈٹ لسٹ پر سے اپنا نام ہٹا لے گا۔ دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور رمیش نے فلم کو جوں کا توں چلنے دیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے، فلم تاریخ کا حصہ بن گئی۔ اور امجد خاں کلاسک ولن،
اوئی اللہ ۔۔۔۔ اگر اس وقت اس تجویز پر عمل ہو جاتا تو سب گھبر سنگھ جیسا کلاسک کردار کھو دیتے۔ اوراس طرح ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ کلاسک کو زمانہ ایک بار ٹھکراتا ضرور ہے۔

کلاسک ادب پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ انیس سو سے پہلے کی تخلیقات کا شمار کلاسک ادب میں ہوتا ہے۔یا پھر وہ فن پارے تشکیل دینے والے مصنف جو اب اس دنیا میں نہ رہے ہوں۔ صد افسوس جن ہاتھوں نے انھیں جلا بخشی، وہی بروقت اس سے مسرت اور صلہ نہ پا سکے۔
کلاسک کو پسند کرنے والا زیادہ تر امراء کا طبقہ ہے۔ کلاسک انھی کا مہنگا شوق ہے اور انھی کی جاگیر، جو ایک معمولی سی چیز پر لاکھوں روپے لگانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اور وہ چیز حاصل کر کے شہرت انھیں بونس میں مل جاتی ہے