Afsana 036 کیسی کیسی محبتیں از آمنہ خورشید احمد

کیسی کیسی محبتیں
از آمنہ خورشید احمد (امریکہ)

پورے تین ہفتے بعد میرا اور درمیان والی بہن کا ملتان واپس آنا ہوا تھا۔ گو کہ خانیوال صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر تھا مگر اپنے گھراور اپنے کمرے میں آکر جو طمانیت کا احساس مجھے ہوا تھا وہ صرف گھر سے دور رہنے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں۔میری سب سے چھوٹی بہن مجھے دیکھ کر خوش تھی مگراس کی درمیان والی سے ذیادہ بنتی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے کان میں کھسر پھسر کر رہی تھیں مگر میں نے گھر آنے کی خوشی میں توجہ نہ دی اور اپنے کمرے میں اپنا سامان رکھنے لگی۔

تھوڑی دیر بعد اماں کی آواز پر باہر نکلی تو وہ چھوٹی بہن کو کہنے لگیں کہ الماری میں سے بھائی کی بھیجی ہوئی چیزیں نکال لاؤ۔

میں نے چونک کر اماں سے پوچھا"کیا امریکہ سے کوئی آیا ہے۔"

اماں نے جواب دیا "اس کا کوئی دوست آیا تھا، جس نےچیزیں یہاں پارسل کی ہیں۔"

چیزیں دیکھنے کی خواہش بھی تھی مگر دل میں بھائی سےدوری کے سالوں کا حساب لگانے لگی۔

چھوٹی (مجھ سے سات سال چھوٹی تھی) اور آپا (درمیان والی جو مجھ سے پانچ سال چھوٹی تھی، کو اس کے حلیے اور رعب و دبدبے کی وجہ سے سب آپا کہتےتھے) ، دونوں چیزیں اٹھائے چلی آئیں۔

اماں نے چیزوں پر نظر ڈال کر کہا "باقی بھی لاؤ"۔

"لاتی ہوں" چھوٹی نے کہا مگر آواز میں کمزوری کاعنصر نمایاں تھا۔

ابھی میں چیزیں دیکھ ہی رہی تھی کہ چھوٹی بولی "یہ والی سینڈلز اورجیولری میری ہیں اور یہ آپا کی۔۔۔۔"۔

میں نے باقی بچی ہوئی چیزوں پر نظر ڈالی تو کچھ خاص پسند نہ آیا سوائے چند ائیر رنگز کے۔مجھے لگا کہ شاید ساری اچھی چیزیں پہلے چن لی گئی ہیں۔ "مگر آپا تو میرے ساتھ ہی تھی نا۔" میں نے دل کو تسلی دی۔

چھوٹی بولی" آپکو پسند نہیں آئیں"۔

"کیوں نہیں، سب ہی اچھی ہیں۔ میں یہ بیگ لے لوں گی۔ویسے بھی میں بغیر ہیل کے سینڈل نہیں پہنتی"۔ مجھے اچھا نہ لگا کہ اپنا آپ ظاہرکروں۔چھوٹی بہنیں سوچیں گی کہ باجی سے برداشت نہیں ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کو آپا اپنے سوٹ کا کپڑا لے کر میرے دوالے ہو گئی، "باجی جلدی سے سوٹ سی دیں کہ کل کالج پہن کر جانا ہے"۔
وہ اپنی طرف سے ہمیشہ درخواست ہی کرتی تھی، مگر انداز ایسا جارحانہ ہوتا تھا کہ درخواست بھی حکم کا درجہ اختیار کر جاتی تھی۔

"اُف ایک تو آپا تم کپڑے عجیب و غریب خریدتی ہو۔ اگر مجھے پتا ہوتا کہ مجھے یہ کھدر کا سوٹ سینا پڑے گا تو کبھی نہ لینے دیتی۔" میں نےجھنجھلا کر کہا مگر اس کی شکل دیکھ کر ہامی بھر لی۔سوٹ رات تک تو نہ سل سکا کیونکہ سوئی بار بار ٹوٹ رہی تھی مگر اگلے دن تیار ہوگیا۔ جس دن آپا کالج وہ سوٹ پہن کر گئی تو واپسی پر بہت خوش تھی کہ سب نے تعریف کی ہے کہ اتنا سٹائلش یونیفارم کہاں سےسلوایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"چھوٹی خیریت تو ہے، بڑے چکر لگ رہے ہیں میرے کمرے کے۔" مجھے پتا تھا اسے کوئی کام ہو گا۔

"نہیں تو، ہاں تو۔۔۔۔۔باجی وہ آپ کا سوٹ چاہئے تھا۔۔۔۔۔۔"۔

"کس لئے"۔

"فیئر ویل ہے نا"

"مگر اس کے لئے تو تم نے نیا سوٹ سلوایا تھانا۔"

"ہاں وہ مجھے اب اچھا نہیں لگ رہا۔"

"۔۔۔۔اور میرا کون سا سوٹ چاہئے۔"

"وہ کاٹن کا... مہندی والا، جس پر آپ نے اماں کی کانجی ورم والی پٹی لگائی ہے۔" معصومیت سے کہا گیا۔

"ہاں ، کیوں نہیں"۔میں نے سوٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ سوٹ واقعی خوبصورت بنا تھا۔ جب کپڑا لیا تھا تو اماں سمیت سب نے خشک مہندی اور خاکی کے درمیان اس رنگ کو لینے پر اعتراض کیا تھا۔ مگر جب میں نے اماں کی پرانی ساڑھی کی پٹی اس پر لگائی تو سوٹ ریڈی میڈ سے بھی بڑھ کر لگنے لگا تھا اور اس لئے دونوں بہنوں کی نظر اس پر تھی۔

ہم تینوں عمر کے فرق کے باوجود تقریباً ایک ہی قد کاٹھ کی تھیں اور دونوں چھوٹیاں اکثر ہی میرے کپڑے استعمال کر لیتی تھیں۔ شاید ہی اپنا کوئی نیا کپڑا ایسا ہو جو میں نے پہلے پہنا ہو۔ اور ان کے کپڑے اگر ضرورت پڑ بھی جاتی تو اول تو مجھے پسند نہ آتے یا پھر انہیں خود پہننےہوتے۔ اسی طرح چیزیں بھی ہم تینوں میں بٹ جاتیں مگر زیر استعمال ان کے ذیادہ رہتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

وہ بے فکری کی عمر ایسے ہی گزر گئی اور میری اورچھوٹی کی شادی ہوگئی۔ میں اکثر اکیلے میں یاد کر کے مسکراتی ہوں کہ کیسی بے فکری کی عمر تھی۔ایک دوسرے پر مان اور اعتبار ۔۔۔۔۔۔ مگر ذیادہ کی حرص بھی جیسے پھر کبھی کچھ ملنا ہی نہیں۔ کبھی اتنا مان کہ زبردستی دوسرے سے خود کو منوا لینا اور کبھی محبت اتنی کہ مانتے ہی چلے جاتے ہیں۔

چھوٹی اور آپا میں دو سال کا فرق تھا اس لئے دونوں ایک دوسرے سے بہت قریب تھیں۔ ابو جان کے جانے کے بعد سب نے چھوٹی کو بہت پیار دیا تھا اور آپا توسمجھو اسکی ڈھال ہی بن گئی تھی۔

اور میں سمجھتی تھی کہ مجھے دونوں ہی کی فکر کرنی ہے اور دونوں کو کسی کمی کا احساس نہیں ہونے دینا۔کبھی لگتا کہ دونوں ذیادتی کر جاتی ہیں، مگر ایسا نہیں تھا۔ ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق محبت کرتا ہے، جو جس کے پاس ہوتا ہے وہ وہی دے سکتا ہے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپا کی شادی جب طے پائی تو اماں نے سارے گھر کو رنگ و روغن کروانے کا سوچا اور فالتو کاغذات، رسالوں اور کپڑوں کی چھانٹی میرے ذمہ لگی۔ایک دن ایک دراز صاف کرتے ہوئے پرانے خطوط، کاغذات، تصویریں، اپنے سکول کے رپورٹ کارڈ میرے ہاتھ لگے ۔پرانی یادیں تازہ ہونے لگیں تو پڑھنے بیٹھ گئی۔اماں کی آواز پڑی تو ساری چیزیں ایک شاپر میں ڈال کر اپنے سوٹ کیس کی تہہ میں ڈال دیں کہ فرصت میں چھانٹی کروں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت سے سال چپکے سے گزر گئے ہم سب اپنے گھر بار کے دھندوں میں مصروف ہو گئے ، میں کچھ ذیادہ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیچ میں ایک لمبا عرصہ ایسا آیا کہ میں نے کبھی تردد سے بہنوں کا حال بھی نہ پوچھا کجا کے ان کے لئے کچھ کر پاتی۔ دل میں ایک ملال رہتا کہ بڑی بہن کے ناطے میں ان کا خیال نہیں رکھ پا رہی۔ ایسے میں نامحسوس طور پر سب کچھ الٹا ہو گیا ۔ ان دونوں نے میرا خیال رکھنا شروع کر دیا ۔ایک کا فون پاکستان سے آتا تو دوسری کا انگلینڈ سے باقاعدگی سے آنے لگا۔

اور پھر اچانک مجھے احساس ہوا کہ وہ مجھے پہلے سے بھی ذیادہ اہمیت دینے لگ گئی ہیں۔ اب وہ مجھ سے ہر بات اماں سے پہلے کرتی ہیں بلکہ اکثر ہی اماں کی بجائے مجھ سے اپنے مسائل بانٹ رہی ہوتی ہیں، مشورے مانگ رہی ہوتی ہیں۔

آپا کا فون رات کو آیا تھا وہ پوچھ رہی تھی کہ سب کا کیا حال ہے ، کوئی مسئلہ تو نہیں، کیا بھیجوں پاکستان سے ۔۔۔۔۔ بچوں کے ناپ دے دیں، یہاں سلائی کروانے میں بہت دن لگ جاتے ہیں۔ ساتھ میں اپنے بچوں کے مسائل اور ان کے حل کے لئے سوال در سوال ۔ پہلے ان کے مسئلے ہوتے تھے، اب بچوں کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ مجھے اس کے پہلے بزرگوں کی طرح پریشان ہونے پر ہنسی آئی اور پھر بچوں کی طرح اپنے مسائل سنانے پر۔۔۔۔۔

ابھی چھوٹی کا فون آیا کہ پڑی اچھی شرٹس سیل میں لگی ہیں، دو دو سب کی لے لی ہیں۔ کہیں تو اور لے لوں۔ اور میں اسے منع کر رہی ہوں کہ ابھی گرمیوں میں جب تم آئی تھیں تو اتنا کچھ اٹھا کر لائی تھیں اور جس کپڑے کی میں نے تعریف کی وہ تم چپکے سے میری الماری میں چھوڑ گئی تھیں۔

پھر آخر میں، میں نے اسے چھیڑنے کے لئے کہا" اب بس کرو، وہ بیس بائیس سال پہلے والا قرضہ اتر چکا ہے۔" مجھ سے ذیادہ اس کے قہقہے اونچے تھے اور وہ کہہ رہی تھی "باجی وہ قرض تو نہ اترنا ہے نہ اترےگا"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ََََََََ آپ سوچ رہے ہوں گے کس قرض کی بات ہو رہی ہے یہاں۔ تو وہ میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ آپا کی شادی پر پرانے کاغذات میں اپنے ساتھ اٹھا لائی تھی۔ ایک دن یاد آیا تو بیگ کھول کر بیٹھ گئی۔ چاروں طرف خوبصورت یادیں پھیل گئیں۔ خوشگواریت کے ساتھ ایک کسک سی بھی تھی۔ شاید اسے انگریزی میں " nostalgia " کہتے ہیں۔

ایک کاغذ کھول کر دیکھا تو چھوٹی کا خط تھا آپا کے نام۔ کبھی ہم بہن بھائیوں نے ایک دوسرے کے خط نہیں پڑھے تھے مگر یہ خط تقریباً بارہ تیرہ سال پرانا تھا۔ یہی سوچ کر میں نے خط پڑھنا شروع کر دیا کہ اگر اتنا اہم ہوتا تو بیکار کاغذوں میں نا پڑا ہوتا۔ جیسے جیسے خظ پڑھتی گئی پہلےتو ایک لمحے کو غصہ آیا مگر پھر میری ہنسی چھوٹ گئی۔

میں نے سوچا کہ اب کی بار جب ہم سب بہنیں بھائی اکٹھے ہوں گے تب تک کے لئے سنبھال رکھتی ہوں اور ایک بار ہی سب کو سناؤں گی۔تین سال اور گزر گئے اور بہت مدت کے بعد ہم سب کو اکٹھے ہونے کا موقع ملا۔ ایک رات ہم گپ شپ کس لئے بیٹھے تھے کہ مجھے اس خط کا خیال آگیا۔ میں خط اٹھا لائی اور اماں کو تاکید سے بیٹھے رہنے کو کہا۔جب سب لوگ متجسس ہو گئے تو میں نے خط پڑھنا شروع کیا۔۔۔ جیسے جیسے خط کا مضمون واضح ہوتا گیا ، سب کے چہروں کے رنگ بدلتے گئے۔۔۔۔۔۔۔

چھوٹی، آپا ، اور اماں پہلے تو میری شکل دیکھتی رہیں اور پھر جو ہم سب نے ہنسنا شروع کیا تو ہمارے بچوں نے پریشان ہو کر ہماری شکل دیکھنا شروع کردی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملتان

۵۔۶۔۱۹۸۹

السلام علیکم۔ آپا کیا حال ہے؟ جاکر بیٹھ ہی گئی ہو اور میں تمھارے بغیر اداس ہو رہی ہوں، بس اب آ بھی جاؤ۔

میں تمھیں ایک راز کی بات بتاؤں، باجی کو نہ بتانا۔بھائی جان نے چیزیں بھیجی ہیں۔ بہت ہی زبردست ہیں۔ میں نے اچھی اچھی اپنے لئے چن لی ہیں۔ اس کے بعد کم اچھی تمھارے لئے الگ کر لی ہیں اور باقی کی بچی کھچی باجی کے لئے رکھ دی ہیں۔

تمھیں پتا ہے باجی نے کچھ نہیں کہنا مگر پلیز تم انہیں پہلے سے نہ بتا دینا۔

وہاں سب کیسے ہیں۔ سب کو سلام دینا۔ اب بس جلدی سےآجاؤ، مجھ سے صبر نہیں ہو رہا اور ہاں باجی کو نہ پتا لگے۔

والسلام

تمھاری بہن

چھوٹی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اب بھی دونوں کو وہ خط یاد دلا کر شرمندہ کرنے کی کوشش کرتی ہوں جو وہ مشکل ہی ہوتی ہیں ، خاص کر کے چھوٹی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت کو سینچتے رہیں تو پنپ ہی جاتی ہے۔ کبھی لگتا ہے کہ یک طرفہ ہے مگر یہ تو آب رواں ہے بہتی جاتی ہے اور سیراب کرتی جاتی ہے۔محبت بھی بھلا قرض ہو سکتی ہے؟ یہ تو ہدیہ ہے، تبرک ہے، آب زم زم ہے۔ مشکل سے ملتی ہے،ہاتھ لگے تو جانے نہ دیں!