Afsana 003 ایک خواب ایک حقیقت از حفیظ بندھانی

ایک خواب ایک حقیقت
از حفیظ بندھانی
پاکستان زندہ باد۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان پائندہ باد
ان نعروں سے گونجتے میرے شہر کے لوگوں کے بارے میں جب بھی سوچتا ہوں تو میری آنکھیں بھر آتی ہیں۔ یہ سن 65 کا واقعہ تھا۔ میری عمر کوئی سات سال ہوگی اور لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا مجھے کچھ مناظر یاد ہیں۔ ۔
کپڑے والے عمران بھائی کا آرمی کے جوانوں کے لئے اپنی دکان میں عطیات اکٹھے کر کے ان تک لے جانا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو عطیات کرنے کی ترغیب دینا۔
نائی کی دکان پر محاذ کی خبروں کی کاروائی ریڈیو پر سننے کے لئے ٹھیک آٹھ بجے مجمع کا اکٹھا ہونا۔
وہ بھلے وقتوں کی باتیں تھیں۔
پھر میں نے بیچلرز کیا اور ملک کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی غرض سے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے سوئیڈن چلا آیا۔ یہاں میں نے جب اچھے گریڈ سے ماسٹرز کیا اور اگلے ہی دن جاب آفر مجھے تھما دی گئی جو ایک سالہ کنٹریکٹ پر تھی۔ گھر والوں کی رضامندی سے میں نے ایک سال اور یہاں رکنے کا پلان بنایا۔ اچھی انکم کے ساتھ دوسری ضروریات کا بھی خیال رکھا جاتا تھا، چنانچہ یہ ایک سال جیسے پر لگا کر اڑ گیا۔
جب واپسی کے دن قریب آنے لگے تو باس نے مجھے بلایا اور مجھے اس جاب پر مستقل کرنے کی آفر کی۔ میں نے یہ کہہ کر ٹرخا دیا کہ مجھے گھر کی بہت یاد آرہی ہے لہذا میں واپس آکر فیصلہ کروں گا۔ باس نے یہ بات رضامندی کے ساتھ قبول کر لی۔

*****************

میرا پاکستان سے واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،وہ تو بس باس کی خوشی کے لئے میں نے انہیں کہہ دیا تھا۔ جب اپنی سرزمین پر قدم رکھا تو ایک عجیب ہی وارفتگی کا احساس ہوا۔ دل چاہتا تھا اس دھرتی کو چوم لوں لیکن لوگوں کی جگ ہنسائی سے بچنے کے لئے یہ ارادہ بعد کے لئے موقوف کر دیا۔
گھر پہنچنے پر انتہائی جذباتی انداز میں استقبال کے بعد ادھر ادھر کی باتیں اسٹارٹ ہوگئیں۔ کچھ دیر بعد بڑے بھیا نے من کا سوال پوچھ لیا " فواد واپسی کا کب کا ارادہ ہے"۔
میں بوکھلائی ہوئی نظروں سے سب کو دیکھنے لگا۔ لیکن جیسے سب میرے ہی جواب کے منتظر ہوں۔
مجھے چپ دیکھ کر بھیا بولے، "میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں بلکہ میں تو اس لئے پوچھ رہا تھا کہ تمہارے پرانے دوست وغیرہ تمہاری پارٹی کرنا چاہ رہے تھے انہیں کچھ وقت دے سکوں"۔
میں نے فی الحال عافیت خاموشی میں ہی جانی اور "کچھ کرتے ہیں" کہہ کر چپ رہا۔
محلے میں نکلنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ میں شاید یہاں کے لوگوں کا رول ماڈل بن چکا ہوں ہر کسی کی توصیفی نظریں بن کہے مجھ سے بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔
بہرحال اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد تعریف کا تو میں مستحق تھا ہی یہ سوچ کر مجھے بھی اپنے آپ پر فخر محسوس ہونے لگا۔
اب یہ پاکستان پہلے والے پاکستان سے نسبتا تبدیل ہوچکا تھا نہ ناشتے میں لسی کے گلاس تھے اور نہ ہی دیسی گھی کا کوئی پتا تھا اور لوگ اتنی گرم جوشی اور اخلاص کے ساتھ کسی کا استقبال بھی نہیں کرتے تھے۔
میں نے بھائی کی خواہش کے عین مطابق دوستوں کو جلد سے جلد کا ٹائم دے دیا تھا اور آج ان کی پارٹی میں سلیم اور اشفاق نے باتوں باتوں میں مجھ سے وہاں پہنچنے کا کوئی آسان طریقہ بھی پوچھ لیا تھا اور یہ بھی بتا کر میری خوش فہمی دور کر دی تھی کہ تم یہاں پر ہیرو اس لئے بن گئے ہو کہ تمہارے پاس باہر کی نیشنلٹی ہے۔
آج پاکستان میں میرا گیارہواں دن ہے اور صبح جب سے اٹھا ہوں مجھے گھر کے افراد کے چہرے کچھ اترے ہوئے سے نظر آ رہے ہیں۔
بالاخر ایک بار پھر بھائی نے ہمت کرتے ہوئے مجھ سے میرے فیوچر پلان کے بارے میں پوچھ لیا۔
میں نے یہ کہہ کر تسلی دینے کی کوشش کی کہ ابھی مجھے آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں تو پپا نے بھی کہہ دیا "بیٹا تو پلان تو بتا دو نا تاکہ ہم کچھ راہنمائی کر سکیں"۔
میں نے جب یہ بتایا کہ میرا پاکستان میں ہی رہنے کا اور یہاں کوئی بزنس کرنے کرنے کا ارادہ ہے تو ان کے منہ اور زیادہ اترے محسوس ہوئے۔ پپا بولے، "بیٹا باہر جا کر کمانا کوئی آسان کام نہیں تمہیں یہ موقع ملا ہے تو اسے ضائع مت کرو ہاں اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو ہمیں بتاؤ"۔
رات الٹے سیدھے خیالات میں گذارنے کے بعد صبح میں نے گھر والوں کی رضامندی سے ایک بار پھر جانے کا فیصلہ کر لیا تھا جو یقینا "ہم سب کے بہتر مفاد میں تھا"۔
جہاز میں بیٹھ کر یہی خیالات مجھے آنے لگے کہ میں کچھ عرصہ گذارنے کے بعد واپس وطن جاؤنگا اور گھر والوں نے قبول نہ کیا تو اپنا الگ جگہ پر جاکر کام اسٹارٹ کروں گا۔
واپس پہنچ کر میں پھر سے جانوروں کی طرح پیشہ ورانہ زندگی میں مصروف ہوگیا اور کچھ دن بعد ساری باتیں میرے زہن سے محو ہونے لگیں۔

********************
سارا ایک مسلمان لڑکی تھی۔ اسکا تعلق مذہب سے برائے نام ہی تھا۔ ہم دونوں کی آپس میں بڑھتی دلچسپی کو دیکھ کر دوستوں نے اس سے شادی کا مشورہ دیا۔ لیکن میں نے گھر والوں کی مرضی کے بغیر انکار کر دیا۔ کچھ دن بعد جب مما سے بات ہوئی تو انہوں نے یہ کہہ کر "اپنی پسند سے شادی کر لو، جب گھر آؤگے تو بہو رانی کو بھی دیکھ لیں گے" میرا دل خوش کردیا۔
اب ہم دونوں میاں بیوی تھے اور ایک پیارا سا بچہ جہانزیب ہماری اکلوتی اولاد۔
شادی کے کچھ دن بعد جب میں اپنی بیوی کو ویکیشنز پر پاکستان لایا تو سب نے یہاں اس کی نظر اتاری اور میری پسند کی خوب تعریف ہوئی۔ البتہ سارا پاکستان اور یہاں کے لوگوں سے جلد گھبرا گئی اور فوراً واپسی کا مطلبہ کرنے لگی، چناچہ مجھے ویکیشنز کے دوران ہی واپس آنا پڑا۔
جہانزیب کی تربیت میں ہم دونوں نے ملکر یہاں کی ثقافت کا اثر غالب نہ آنے دیا اور مجھے آج بھی فخر ہے کہ وہ یہاں کے عموماً مسلمانوں سے زیادہ مذہب کے بارے میں جانتا ہے۔

*******************

جہانزیب تبلیغی جماعتوں کی نقل و حرکت سے کافی متاثر ہوا اور فارغ وقت میں اس نے بھی ان کے ساتھ کافی دعائیں اور تعلیمات سیکھ لی تھیں۔ مجھے یہ دیکھ کر کافی اچھا لگتا کیونکہ یہاں کی گندگی سے وہ بچاہوا تھا۔
اب جہانزیب کافی بڑا ہوگیا ہے اور اس نے داڑھی بھی رکھ چھوڑی ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ میرے نبی کی سنت ہے۔
صبح صبح پتا نہیں دروازے پر کون آ گیا۔ ۔ ۔
جب میں نے دروازہ کھولا تو ایک لمحے کے لئے ٹھٹک کر رہ گیا سامنے پولیس کی ایک موبائل اور علاقے کے انسپکٹر صاحب میرے سامنے کھڑے تھے۔ انہوں نے جہانزیب کے بارے میں استفسار کیا ، میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
میں نے حواس کو بحال رکھتے ہوئے وجہ پوچھی تو وہ بولے "اس نے یہاں ہوٹل میں دھماکہ کرنے کی سازش کی ہے اور اس کا ہمارا ایک پلین بھی اغواء کرنے کا منصوبہ ہے"۔
میرے آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنے لگا ہے میں چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوں "تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے" لیکن وہ جواب میں یہی کہہ رہے ہیں، "تم پاکستانی کبھی مخلص نہیں ہوسکتے یہ شک نہیں ہماری پکی اطلاعات ہیں"۔
آج میں جیل میں اس سے مل کر آیا ہوں،وہ امید بھری باتیں کرنے والا کافی اداس ہے۔ وہ مجھ سے کہہ رہا تھا "پپا یہ کبھی مسلمانوں کو چین سے جینے نہیں دے سکتے۔ یہ کبھی ان کو مذہبی تعلیمات پر عمل کرتا نہیں دیکھ سکتے۔"
اسے ملک سے غداری اور چھ لوگوں ہوٹل میں ہلاک کرنے کی سازش کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا ہوگئی ہے۔
میں اب تنہا بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ مجھ سے کہاں غلطی ہوئی ہے میں تو ہمیشہ محتاط رہ کر کام کرنے والا بندہ ہوں
کیا پاکستان سے دوبارہ واپس آنے کی یا پھر جہانزیب کو اس ثقافت سے دور رکھنے کی،
پاکستان میں پیدا ہونے یا پھر مسلمان ہونے کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔