Afsana 004 تسلسُل از محمد رضا سلیم

تسلسُل
از محمد رضا سلیم (لاہور، پاکستان)

یہ کیا ہے لفافے میں؟
خط ہے۔
کس کا خط ہے؟
عاصمہ باجی کے نام ہے، اُن کی سہیلی عنبرین نے بھیجا ہے۔
کون دے کے گیا ہے ۔
عنبرین باجی کے بھائی دے کے گئے ہیں ابھی ابھی۔
لاؤ دو اِدھر مجھے، میں خود ہی دے دوں گا عاصمہ کو۔ تم جاؤ۔
عامر اختر کو خط پکڑا کے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے چلا گیا۔
اختر نے خط کھول کر پڑھنا شروع کر دیا اور تسّلی کر لینے کے بعد کہ عنبرین نے ہی لکھا ہے، جا کہ عاصمہ کے حوالے کر دیا کہ تمھاری سہیلی کا رقعہ آیا ہے تمہارے نام۔
عاصمہ کو اندازہ ہو گیا کہ بھائی نے پہلے ہی خط کھول کہ پڑھ لیا ہے۔
پتا نہیں کیوں اختر بھائی ہر کام میں خوامخواہ شک کرتے ہیں۔
پتا نہیں کیا ڈر ہے انہیں میری طرف سے۔
عاصمہ نے دل ہی دل میں سوچا اور خط پڑھنا شروع کر دیا جس میں عنبرین نے اُسے اپنی طرف آنے کی دعوت دی تھی اور کچھ چیزیں بھی منگوائی تھیں۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ٹیلفون ابھی عام نہیں ہوئے تھے اور پیغام رسانی کا کام زیادہ تر خطوں سے لیا جاتا تھا۔

کہاں جا رہی ہو عاصمہ؟
بھائی عنبرین کی طرف جا رہی ہوں۔
کیوں کیا کرنے جانا ہے اُس کی طرف؟
بھائی اُس نے آنے کی دعوت دی تھی، شام تک واپس آ جاؤں گی
نا جاؤ تو بہتر ہے ۔
کیوں بھائی خیریت؟ آ جائونگی نا شام تک ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں بس نہیں جانا، میں نے کہہ دیا ہے۔ آگے سے بحث مت کیا کرو۔ میرا دل نہیں مانتا تمہیں بھیجنے کوکسی کی طرف۔ گھر بیٹھو بس۔

۔"اچھا نہیں جاتی"۔

یہ کہتے ہوئے عاصمہ سر جھکا کہ واپس اندر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

"پتا نہیں کیا ہے یہ۔
یہ نہ کرو، وہ نہ کرو، یہاں نہ جاؤ، وہاں نہ جاؤ۔ پتہ نہیں کیوں شک کرتے ہیں ہر بات میں۔ بھروسہ ہی نہیں ہے مجھ پہ۔ اپنی سہیلی ہی کے ہاں تو جا رہی تھی۔ کونسا کسی میلے میں جا رہی تھی گھومنے پھرنے۔ پتہ نہیں کیا قباحت نظر آتی ہے اختر بھائی کو میرے ہر کام میں۔ میں بھلا کوئی بچی تھوڑی ہوں۔ اپنا اچھا بُرا اچھی طرح سمجھ سکتی ہوں کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں۔ لڑکی ہونے کی سزا دیتے ہیں مجھے۔

ایسا نہیں کرنا چاہئیے ویسا نہیں کرنا چاہئیے۔ ہر کام میں ٹوکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ پاپا نے تو کبھی ایسا نہیں کیا
پتا نہیں کیا سوچتے رہتے ہیں۔
یہی سوچتے رہتے ہوں گے کہ میں باہر جا کہ خدانخواستہ کہیں کوئی چکّر ہی نا چلا لوں کسی کے ساتھ۔
نہیں نہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔
یہ میں کیا بکواس سوچ رہی ہوں اپنے اور بھائی کے بارے میں۔ بالکل بھی نہیں۔ میں نہیں مانتی کہ اُن کا مجھ پہ پہرے بٹھانا کسی ایسی سوچ کے زیرِ اثر ہے۔
کتنی بد تمیز ہوں میں، کیسی بُری بد گمانی کی اپنے بھائی کے بارے میں۔
تو پھر کیا ہے یہ۔
کیوں ہے ایسا، وہ کیوں کرتے ہیں میرے ساتھ ایسا "۔

اِسی اُدھیڑ بُن میں آنسو ٹپ ٹپ عاصمہ کی آنکھوں سے گرنے لگے اور وہ تکیے میں منہ چھُپا کے روتی روتی سو گئی"۔

****

اختر کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سال ہے۔ منگنی ہو چکی ہے۔ اور شادی بھی ہونے والی ہے۔
عاصمہ اختر سے چار سال چھوٹی ہے اور عامر ابھی سولہ سال کا ہے۔
اختر بہت سُلجھا ہوا نیک سیرت لڑکا ہے۔ بہت سے معاملات میں آزاد خیال اور ایزی ٹو گو ہے۔ ہر کسی کے ساتھ بے حد اخلاق سے پیش آتا ہے۔ اچھی تعلیم حاصل کر چُکا ہے، والدین کا فرمانبردار, بہت ہی ہنس مُکھ اور ملن سار ہے۔ لیکن پتہ نہیں عاصمہ کے معاملے میں کیوں اتنا تنگ نظر ہے, اگرچہ بے حد پیار بھی کرتا ہے اُسے۔
عاصمہ میک اپ کر لے تو اُسے اچھا نہیں لگتا، بازار چلی جائے اکیلی تو بھی اچھا نہیں لگتا، ایف کرنے کے بعد کالج جانے پر بھی پابندی لگوا دی والدین سے جھگڑا کر کے۔ حالاںکہ عاصمہ کی دلی خواہش تھی کہ کم از کم بی اے تک تعلیم حاصل کر لے لیکن بھائی کے فیصلے کہ آگے بے بس ہو گئی۔
کہیں بھی آنے جانے کے لئے وہ عاصمہ کو برقعے کے استعمال پر زور دیتا رہتا۔
القصہ یہ کہ اختر چاہتا ہی نہیں تھا کہ کوئی نا محرم عاصمہ کو دیکھے یا اُس کی آواز تک سُنے۔ بڑی عجیب فطرت پائی تھی عاصمہ کے حوالے سے اُس نے۔ یا شاید ودیعت کر دی گئی تھی ایسی فطرت کہ جسے وہ خود بھی نا جانتا تھا کہ ایسا کیوں ہے۔ حالانکہ عاصمہ تو خود بڑی محتاط تھی اِس معاملے میں۔ لیکن اُس کی لاکھ احتیاط کے باوجود بھی اختر کی تسّلی نہیں ہو پاتی تھی۔

****
خیر سے اختر کی شادی ہو گئی اور ہما اختر کی دُلہن اور عاصمہ کی بھابھی بن کے گھر آ گئی۔
بڑی پیاری اور بڑی اچھی دلہن تھی اختر کی لیکن تھوڑا فیشن ایبل اور آزاد خیال واقع ہوئی تھی۔ بہت جلد عاصمہ اور ہما میں دوستی ہو گئی۔ دونوں کی عمریں بھی تقریباً ایک جتنی تھیں۔
اختر نے ہما کو کبھی کسی کام سے نہیں ٹوکا۔ وہ اکیلی بازار جا رہی ہو یا اپنی کسی سہیلی کے گھر جا رہی ہو، اختر اُس کے کسی فعل پہ قدغن نہ لگاتا، بلکہ خود چھوڑ کر آتا۔ لیکن عاصمہ کے حوالے سے اُس کا رویہ ہنوز وہی تھا۔
عاصمہ سب دیکھ رہی تھی لیکن خاموش تھی۔ اس نے کبھی اختر کو جتایا نہیں تھا کہ میرے ساتھ آپ کیا کرتے رہے ہیں اور اپنی بیگم کو کچھ بھی نہیں کہتے۔ بہرحال عاصمہ نے اسے قسمت کا لکھا جان کر اب سڑنا کُڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ حیران تھی کہ ایک ہی شخص کی طبیعت کے دو اتنے متضاد رُخ کیسے ہو سکتے ہیں۔
آخر وہ دن آ گیا کہ اختر اور اُس کے والدین نے عاصمہ کو دلہن بنا کر اُس کے اصلی گھر رُخصت کر دیا۔
اپنے نئے گھر میں عاصمہ کو بہت عزت ملی۔ عاصمہ کے حوالے سے اُس کے شوہر کی طبیعت اختر سے بالکل مختلف تھی، اُن دونوں کی ازدواجی زندگی بہت خوشگوار گزرنا شروع ہو گئی۔

عاصمہ کی شادی کو قریباً اٹھائیس سال گزر چکے ہیں اور ماشااللہ دو بچے ہیں، "قاسم اور آمنہ"۔
قاسم ستائس سال کا ہے اوراُس کی منگنی ایک بہت اچھے اور سُلجھے ہوئے گھرانے میں ہوچکی ہے۔
یاسمین، قاسم کی منگیتر ہے۔
یاسمین بہت ہی سُگھڑ، طرح دار اور گھریلو قسم کی بہت ہی خوبصورت اورخوب سیرت لڑکی ہے۔ گھر والوں کی باہمی رضامندی سے قاسم اور یاسمین ایک دوسرے سے فون پہ گفتگو بھی کرتے رہتے ہیں۔
آمنہ چوبیس سال کی ہے۔ ایم اے کر رہی ہے۔ والدین چاہتے تھے کہ بس بی اے کر کے گھر داری کرے لیکن قاسم نے زبردستی ایم اے میں داخلہ دلوایا کہ تعلیم بہت ضروری ہے۔ ورنہ اچھے رشتے نہیں ملتے۔
آمنہ کہاں جا رہی ہے، کس سے مل رہی ہے، قاسم نے کبھی اُسے روکا نہیں اور نہ ہی کبھی کسی بات پہ ٹوکا۔ ایسا نہیں تھا کہ آمنہ موڈ سکوڈ فیشن ایبل آزاد خیال لڑکی تھی مگر قاسم نے کبھی اُس کے کسی کام پہ بے جا قدغن نہیں لگائی۔
عاصمہ خوش تھی اور شکر ادا کرتے ہوئے سوچتی تھی کہ، "جو سلوک اختر بھائی نے میرے ساتھ روا رکھا، شکر ہے میرا بیٹا اپنی بہن کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرتا"۔
"کیسی ہو یاسمین"؟ قاسم نے فون پہ سلام کے بعد یاسمین کا حال پوچھا۔
میں ٹھیک ٹھاک ہوں۔ آپ کیسے ہیں؟
میں بھی بالکل ٹھیک ہوں۔
اچھا ایک بات کہنی تھی قاسم آپ سے۔۔۔۔۔۔۔۔
جی بولو یاسمین۔ اختر نے نرم لہجے میں پوچھا۔
وہ مجھے نازیہ نے انوائٹ کیا ہے اپنی طرف آج۔ چلی جائوں؟ کافی دن سے ٹال رہی تھی اُسے لیکن آج جب اُس نے بے حد اصرار کیا تو نا چاہتے ہوئے بھی میں نے حامی بھر لی آپ سے پوچھے بغیر۔
قاسم کو غصہ آ گیا۔
تھوڑی سی سختی کے ساتھ بولا کہ جب میں نے تمھیں منع کیا ہے کہ کسی کی طرف نہیں جانا، مجھے تمھارا دوسروں کے گھر جانا یا باہر نکلنا بالکل بھی پسند نہیں۔ تو پھر کیوں تم نے حامی بھر لی؟
کیوں؟
قاسم میں بھائی کے ساتھ جاؤں گی اور جلدی آ جاؤں گی نا۔
نہیں، کوئی نہیں جانا۔ میں نے کہہ دیا ہے بس نہیں جانا۔ گھر بیٹھو آرام سے۔ یہ کہہ کر قاسم نے فون بند کر دیا۔ یاسمین دل مسوس کے رہ گئی۔ آنکھیں نم ہو گئیں۔

"پتہ نہیں کیوں اعتبار نہیں مجھ پہ۔ ناجانے کس بات کا شک کرتے ہیں خواہ مخواہ۔ سہیلی ہی کی طرف تو جانا تھا۔ ہر بار ایسا ہی کرتے ہیں۔ کہیں جانے کا کہہ دوں تو جان نکل جاتی ہے۔ کیا اتنی بھی اجازت نہیں مجھے۔
پردہ کیا کرو۔ صحن میں نا ٹہلا کرو، سہیلیوں سے زیادہ بات نا کیا کرو، کسی میل ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے نہیں جانا، رشتے داروں کی طرف رہنے نہیں جانا، کیا ہے یہ سب۔
آخر میری بھی زندگی ہے۔ میری بھی مجبوریاں ہیں۔ میرے ساتھ اور لوگ بھی وابستہ ہیں۔ جب سے منگنی ہوئی ہے یہی کرتے ہیں میرے ساتھ۔"

یاسمین روتے روتے رہ گئی۔
وہ بہت پسند کرتی تھی قاسم کو۔ لیکن اُس کی اِس ایک عادت سے بہت دُکھی اور پریشان رہتی تھی کہ کیوں ایسا کرتے ہیں میرے ساتھ۔ بہرحال ایک بات یاسمین اچھی طرح سمجھتی تھی کہ جو بھی ہے اب اُسے قاسم کے ساتھ نباہ کرنا ہے ہر حالت میں۔ کہ اسی میں اُس کی اور اُس کے خاندان کی عزت ہے۔
قاسم خود بھی اپنی اِس فطرت کہ بارے میں کافی پریشان تھا کہ اپنی بہن کہ حوالے سے تو اس طرح کے جزبات کبھی پیدا نہیں ہوئے اُس کے دل میں۔ اُسے تو کبھی نہیں ٹوکا۔ پھر یاسمین کے حوالے سے ایسا کیوں ہے۔ حالانکہ وہ جانتا اور محسوس بھی کرتا تھا کہ اُسے یاسمین پہ پورا بھروسہ ہے اور اُس کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات وہ سوچ بھی نہیں سکتا مگر پھر بھی پتا نہیں کیوں جب یاسمین اُس سے کہیں جانے کی اجازت مانگتی وہ نا چاہتے ہوئے بھی اُسے ٹوک دیتا۔ اُس کے ہر کام پہ پہرے بٹھاتا رہتا۔ اور دل ہی دل میں اِس بات کا جواز یہ نکالتا کہ وہ یاسمین سے بے پناہ محبت کرتا ہے، بے حد چاہتا ہے اُسے۔ اس لئیے قطعاً یہ نہیں چاہتا کہ کوئی اور دیکھے بھی اُس کی یاسمین کی طرف یا کوئی بات بھی کرے اُس سے، چاہے اُس کی سہیلی ہی کیوں نا ہو۔ اور وہ گاہے بگاہے یاسمین کو احساس دلاتا رہتا کہ میں ہوں نا تُمہارا سب کچھ۔ میں ہوں نا تمھارے لئے۔ مجھے دیکھو بس، مجھ سے بات کرو صرف۔
وقت کا پہیہ چلتا رہا اور آخر کار وہ دن بھی آ گیا جب یاسمین، قاسم کی دُلہن بن کے اپنے اصلی گھر آ گئی۔

دن گزرنا شروع ہو گئے۔ یاسمین کا خیال تھا کہ اختر کا رویہ آمنہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا لیکن اُسے یہ دیکھ کہ حیرانی ہوئی کہ وہ آمنہ کو کچھ نا کہتا تھا۔ نہ روکتا نہ ٹوکتا جبکہ یاسمین کے لئے اُس کا رویہ ہنوز وہی تھا۔ لیکن آفرین یاسمین پر کہ کبھی اُس نے اپنے خاوند سے گلہ تک نا کیا۔ اور اپنا دل بھی صاف کر لیا کہ اللہ پاک کو شاید میرے ساتھ ایسا ہی منظور تھا کیونکہ اگر ایک طرف قاسم کا رویہ ایسا تھا تو دوسری طرف وہ بے حد پیار کرنے والا شوہر بھی تھا۔ یاسمین اپنے خاوند کی فطرت کے اتنے رنگ دیکھ کر حیران بھی ہوتی لیکن بہر حال خوش تھی۔

****

آج قاسم اور یاسمین کی شادی کو پچیس سال گزر چکے ہیں۔
اُن کے تین بچے ہیں۔
سلیم، پہلوٹھی کا ہے اور چوبیس سال کا ہے۔ نیلم، سلیم سے دو سال چھوٹی ہے۔ اور احمد ابھی دس سال کا ہے۔

"بھائی آج آپ بڑی جلدی واپس آ گئے آفس سے"۔ نیلم نے سلیم سے جلدی آجانے کا سبب پوچھا۔
ہاں بس سر درد ہو رہی تھی تو جلدی نکل آیا آفس سے۔ سلیم نے جواب دیا۔
بھائی ایک بات کہنی تھی آپ سے۔
ہاں جی بولو۔
وہ بھائی اِرم نے مجھے آج انوائیٹ کیا ہے اپنی طرف۔ چلی جائوں۔ نیلم نے معصومیت سے التجائیہ انداز میں سلیم سے درخواست کرنی چاہی۔
میں نے تمھیں کتنی بار منع کیا ہے۔ تمھہیں سمجھ نہیں آتی کیا؟

نہیں جانا، نہیں جانا، نہیں۔۔۔۔۔