Afsana 005 انا از رضوان

اس افسانے میں بھی زندگی کے ایک ایسے پہلو کو اجاگر کیا گیا ھے ، کہ اگر یہ بڑھنے پر آئے تو اسکی لپیٹ میں پورا گھر برباد ھو جاتا ھے ، اور کبھی دو بول ھی اسکی آگ کو ڈھنڈا کرنے کے لئے کافی ھوتے ھیں ، رشتہ چاھے جتنا مرضی گہرا ھو اسکو برقرار رکھنے کے لئے قربانی دینی پڑتی ھے ، تھوڑا سا ہٹ کر ھے شاید آپ لوگوں کو پسند نہ آئے پر یہ افسانہ میری اپنی کاوش ھے میں نے کسی سے کوئی مدد نہیں لی اور اب یہ اچھا ھے یا برا یہ تو آپ لوگ بتائیں گے۔
انا
از رضوان
وہ اپنے آفس میں کام میں مصروف تھا کہ اسکے موبائل انٹرنیشنل کال آئی۔ وہ کال سنتے ھی بہت پریشان ھوگیا اور پھر جواب میں بولا کہ میں آج رات ھی آنے کی کوشش کرتا ھوں۔ اس نے اسی وقت ٹریول ایجنسی فون کر کے لندن کے لئے ٹکٹ بک کروائی ، اپنا کام بند کیا اور ایمرجنسی چھٹی کے لئے درخواست دی اور اپنے گھر کی طرف روانہ ھو گیا۔
**********
گاڑی چلا تے وقت اس کا ذھن اپنے ماضی میں چلا گیا ۔ اسے وہ سب کچھ یاد آنے لگا۔ حرا سے اسکی شادی محبت کی شادی تھی۔ وہ دونوں پاکستان میں ایک شادی کی تقریب میں ملے تھے ، پھر ان کے درمیان دوستی کی فضا پیدا ھو گئی اور وہ دوستی آھستہ آھستہ کب پیار میں تبدیل ھو گئی یہ دونوں کو پتہ بھی نہیں چلا اور پھر بلا آخر دونوں کی فیملیز کو ان کی محبت کے سامنے ھار ماننی پڑی۔ ان کی شادی ھو گئی، دونوں بہت خوش تھے۔
**********
لندن کے پرائیوٹ ھسپتال کے ایک کمرے میں ایک لڑکا داخل ھوا اور بیڈ پر لیٹی ھوئی لڑکی سے مخاطب ھو کر بولا،" آپی میں نے بھائی کو کال کر دی ھے"۔ احمد نے اپنی بڑی بہن حرا کو دیکھتے ھوئے کہا۔ حرا کے ھونٹوں پر کوئی حرکت نہیں ھوئی، پر اسکی آنکھوں سے بے اختیار آنسو لڑھک پڑے ۔ وہ سامنے دیوار کو دیکھتے ھوئے اپنے ماضی کے دریچوں میں کھو گئی۔۔۔ کتنے پیارے وہ دن تھے جب وہ رخصت ھو کر لندن سے اپنے پیا کے گھر دبئی آئی تھی اور وہ ہواؤں میں اڑتی پھرتی تھی کہ جس سے اس نے پیار کیا اس ھی کو پا لیا۔
بہت سے مہینے بے فکری اور ھنستے مسکراتے ھوئے گزر گئے۔ اسے ابھی بھی یاد تھا جب وہ ایک بار اسی طرح بیمار ھوئی تھی تو وہ کیسے اس کی کئر کرتا تھا، کس طرح اسکو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا تھا، اور اگر کچھ دیر کے لئے بھی دوا لینے میں تاخیر ھو جاتی تو وہ کتنا ڈانٹتا تھا، اور وہ دل ھی دل میں اپنے آپ کو کتنا خوش قسمت سمجھتی تھی، کہ اسکو کتنا پیار کرنے والا شوھر ملا ھے پر پھر کس کی نظر لگی اس کے ہستے بستے گھر کو کسی کو پتہ نہیں چلا اور وہ ایک چھوٹی سے مس انڈرسٹینڈنگ کو اپنی ضد اور انا کا مسئلہ بنا کر لمحوں میں اپنا گھر، اتنا پیار کرنے والا شوھر اور سب کچھ چھوڑ کر واپس اپنے ماں باپ کے پاس لوٹ آئی اور اب انا کی اتنی بڑی دیوار دونوں کے درمیان کھڑی ھو گئی کہ جس کے اس پار اسکی زندگی کا ساتھی کھو گیا۔ جس کی کمی وہ ھر لمحہ محسوس کرتی تھی، جس کے بغیر وہ جینا کیا، جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی اور یہی پچھتاوا اور شوھر سے جدائی ھی تھی جس کی وجہ سے وہ اس حالت میں پہنچ گئی جہاں سے لمحہ لمحہ وہ موت کے منہ جا رھی تھی۔
**********
گھر پہنچ کر اسے نے پہلے پاکستان فون کیا اور بولا،" امی حرا کی طیبعت بہت خراب اور وہ ھسپتال میں داخل ھے ، اس لئے میں لندن جا رھا ھوں"۔
" تم وھاں جا کر کیا کرو گے۔" اسکی امی بولیں،" وہ تو تم کو چھوڑ کر اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی ھے"
وہ بولا،" آپ ٹھیک کہہ رھی ھیں ، پر مجھے پتہ ھے اسے اس وقت میری ضرورت ھے، وہ چاھے نہ بھی بولے مجھے پتہ چل جاتا ھے ، آپ کو پتہ تو ھے وہ بہت ضدی ھے ، کبھی اپنے منہ سے نہیں بولے گی"۔
اس کی امی بولیں،" اچھا بیٹے جاؤ اور خیریت بتاتے رھنا۔"
اس نے اپنا ٹریول بیگ نکلا اور جلدی میں جو کپڑے نظر آئے، ڈالے اور بند کر دیا۔ آج رات اس کی فلائٹ تھی اس نے احمد کو فون کر کے بتایا کہ وہ آج رات کو امارات ائیر لائن سے آ رھا ھے ۔ اب اسے دبئی سے لندن 5 گھنٹے کا مسلسل سفر کرنا تھا۔
**********
ڈاکڑ رپورٹ دیکھتے ھوئی بولی،" ابھی یہ بہتر ھے۔"
اس کے والد بولے،" کیا ھم حرا کو گھر لے جا سکتے ھیں۔"
ڈاکڑ بولی،" ھاں پر اسکو مکمل کیر کی ضروت ھے اس کے ساتھ نرس کو 24 گھنٹے رھنا پڑھے گا۔" وہ حرا سے دیکھتے ھوئی بولی،" یہ بہت کمزرو ھوئی گئی ھے اسکے کھانے کا بہت خیال رکھیں اور اس کو کوئی دکھ اندر ھی اندر کھائے جا رھا ھے آپ اس سے پوچھیں اسکو کیا مسئلہ ھے۔"
اور پھر ڈاکڑ نے کچھ ہدایات دے کر، حرا کو گھر جانے کی اجازت دے دی
**********

دسمبر کی سردیوں میں ہفتے کی صبح جب وہ ہتھرو ائیرپورٹ پر اترا تو ھر طرف دھند کے بادل چھائے ھوئے تھے۔ سردی اتنی تھی کہ اسکا لیدر کا کوٹ بھی ایسی سردی کو جسم میں داخل ھونے سے روک نہیں پا رھا تھا۔ وہ ائیرپورٹ سے فارغ ھو کر باھر نکلا تو احمد کو اپنا منتظر پایا۔ اس سے ملنے کے بعد وہ گاڑی میں سوار ھوئے اور گھر کی طرف روانہ ھوئے ابھی انہیں چیرنگ کراس تک پہنچنے میں مزید 2 گھنٹے درکار تھے۔ اس نے احمد سے پوچھا،" کیسی ھے حرا اب۔"
احمد بولا،"ابھی کچھ بہتر ھے ھم اسکو گھر واپس لے آئے ھیں ، پر وہ بہت کمزور ھو گئ ھے ، کمرے سے باھر نہیں نکلتی، کسی سے بات نہیں کرتی، کسی کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی صرف جو اسکی نرس ھے بس وہ ھی اسکے ساتھ رھتی ھے 24 گھنٹے ، اور ھر وقت پتہ نہیں کیا سوچتی رھتی ھے۔"
یہ سب سن کے اسے چہرے پر فکر کی ایک گہری لہر آئی اور لوٹ گئی گھر پہنچ کر وہ سب سے ملنے کے بعد اوپر اسکے کمرے میں آیا اور دروازہ کٹکھٹایا۔
**********
بازؤں سے آنکھوں کو بند کئے ناجانے کن خیالوں میں گم تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ کسی نے کٹکھٹایا۔ اس نے نرس کو بولا کہ دروازہ کھولو۔ نرس نے دروازہ کھولا تو وہ ایک لمحے کے لئے ساکت ھو گئی ، سانس لینا بھول گئی ،اس کی نظریں دروازے پر مرکوز تھیں جہاں اس کا میسحا، اس کی خوشی اور غم کا ساتھی کھڑا تھا،اور نرس سے اندر آنے کی اجازت طلب کر رھا تھا۔ نرس نے ایک لمحے کے لئے حرا کی طرف دیکھا تو حرا نے نگائیں جھکا لیں۔ نرس راستے سے ھٹ گئی ، وہ جونہی کمرے میں داخل ھوا تو رائیل رساسی کی خوشبو جو وہ ھمیشہ استعمال کرتا تھا اور اسکی مخصوص پہچان تھی پورے کمرے کے چاروں سو پھیل گئی ، حرا کو وہ خوشبو اپنے جسم کے اندر داخل ھوتی محسوس ھوئی۔
**********
جب وہ کمرے میں داخل ھوا تو اس کے دل کو ایک دھچکا لگا، جب اس نے بیڈ پر ایک انتہائی لاغر سی لڑکی کو لیٹے دیکھا ، وہ اپنی حرا کو دیکھ کر ایک دم پریشان ھو گیا۔ وہ صرف یہ سوچ رھا تھا کہ کیا یہ وہ ھی حرا ھے جس کا چہرا ماہ نور کی طرح چمکتا تھا، اور جسکی آنکھوں میں اسے ہمیشہ زندگی کی چمک دکھائی دیتی تھی اور جس کے ہونٹوں پر وقت مسکراھٹ بکھری رھتی تھی وہ بس اسے کھڑا دیکھتا رھا اور اس کو آنکھوں سے آنسو بہتے رھے۔
کچھ لمحوں بعد اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور کمرے میں ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو نیم تاریک بند کمرہ اسکو بہت عجیب سا لگا، حرا کو تو وہ یہ سب کچھ پسند نہیں تھا وہ تو ہمیشہ روشن اور کھلے اور ہوا دار کمروں میں رھنے والی تھی ۔
سب سے پہلے اس نے نرس کو کہہ کر وہیل چیئر کو کمرے سے اٹھوایا اور پھر خود جا کر کھڑکی کے پردے ہٹائے اور کھڑکی کھولی تو سردیوں کی میٹھی دھوپ لمحوں میں پورے کمرے میں پھیل گئی۔
**********
وہ بس اسے دیکھتی جا رھی تھی ، کتنے ھی مہینوں بعد اسکو دیکھا تھا، ویسا ھی لاپروا سا، بکھرے بکھرے بال اور بلیو جینز اور وائٹ شرٹ میں ہمیشہ کی طرح بہت پر اعتماد اور مار دینے کی حد تک پیارا لگ رھا تھا، اس کے دل سے یہ آواز مسلسل آ رھی تھی کی یہ لمحہ یہیں رک جائے
وہ کمرے کی سیٹنگ تبدیل کر رھا تھا، جو کہ کتنی دفعہ حرا کے گھر والوں نے تبد یل کرنے کی کوشش کی تھی پر ھر دفعہ وہ ان کو منع کر دیتی تھی ، نرس حیران تھی کہ یہ کون ھے کہ جس کے کسی کام پر نہ تو حرا کچھ بول رھی ھے اور نہ ھی غصہ کر رھی ھے۔
**********
کمرے کی سیٹنگ تبدیل کرنے کے بعد اس نے ایک لمحے کو حرا کو دیکھا اور پھر نرس سے انگلش میں مخاطب ھوا اور بولا کہ آپ جائیں اب آپ کی ضرورت نہیں ھے ، نرس نے حیرانگی سے پھر حرا کی طرف دیکھا اور جب اسکو خاموش پایا تو چپ چپ کمرے سے نکل گئی ۔ وہ پھر بیڈ کی سائیڈ پر آیا اور حرا کی میڈیکل رپورٹس اور فوڈ کی ہدایات پڑھ کر تھوڑی دیر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ھو گیا اور اپنے ذھن میں سارا ٹائم ٹیبل بناتا رھا، اس کو کمرے میں آئے تقریبا 2 گھنٹے سے زیادہ ھو چکا تھا پر وہ ایک بھی بار حرا سے مخاطب نہیں ھوا۔
**********
وہ اسکو دیکھے جا رھی تھی پھر اسے نے جب نیچے امی کو آواز دے کر حرا کے ناشتے کا بولا تو وہ پریشان ھو گئی کیونکہ اسکا بالکل دل نہیں کر رھا تھا۔ ناشتہ کرنے کو ، لیکن وہ سوچ رھی تھی اگر اس نے اپنے ہاتھوں سے کھلانا شروع کر دیا تو وہ پھر اسکو روک نہیں پائے گی۔ حرا کو بہت بے چینی ھو رھی تھی ، وہ اس سے بات نہیں کر رھا تھا، اور وہ اس کے ھر موڈ سے بخوبی واقف تھی۔ اسے پتہ تھا کہ اس چپ کے پچھے بہت بڑا طوفان اس وقت اگر اسکو کسی بھی کام سے روکا تو پھر وہ طوفان نہیں تھمے گا ، بس حرا نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ وہ جو بھی کرے اسکو کرنے دیا جائے۔
**********
حرا کی امی اسے ناشتہ دے کر گئی تو وہ کچھ دیر سوچتا رھا اور پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر باتھ روم تک لے کر آیا اور خود باھر انتظار کرنے لگا ، کچھ لمحوں بعد جب وہ باھر نکلی تو تب تک وہ بیڈ پر ناشتہ لگا چکا تھا، حرا آہستہ سے بیڈ کی سائیڈ پر بیٹھ گئی ، پھر اس نے ایک لمحے حرا کو دیکھا اور ایک نوالہ بنا کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
**********
حرا کی آنکھیں اس پر مرکوز تھیں جب اس نے نوالہ اس کی طرف بڑھایا تو حرا نے چپ چاپ اپنا منہ کھول دیا، وہ نوالے بنا بنا کر کھلاتا جا رھا تھا، اور وہ کھاتی جارھی تھی، اس کے ہر نوالے پر حرا کو نئی زندگی مل رھی تھی ، وہ خود حیران تھی کہ جتنا ناشتہ آج اس نے کیا ھے ، پچھلے کئی مہینے سے نہیں کیا، پھر جب حرا کا کھانے کو دل نہیں کر رھا تھا وہ ابھی سوچ ھی رھی تھی کہ کیسے منع کرے ، کہ اس نے اپنا ھاتھ روک لیا، ایک خفیف سی مسکراھٹ حرا کے لبوں پر پھیل گئی ، ایسا ہمیشہ ھوتا رھا تھا کہ جب وہ کسی چیز کو ختم کرنے کا سوچتی اسے پہلے پتہ چل جاتا ، اور حرا کو اسےکچھ بولنا نہ پڑتا وہ اس کی ھر سوچ کو پڑھ لیتا تھا ، حرا کا بہت دل کیا کہ وہ بھی اسکے ساتھ ناشتہ کرے پر انا کی دیوار اتنی اونچی تھی کہ وہ پار نہ کر پائی اور اسکی سوچ سوچ بن کر رھی گئی اور وہ اسکو لفظوں میں ڈھال نہ پائی۔
**********
جب وہ حرا کو ناشتہ کروا کر فارغ ھوا تو وہ حرا کی وڈارب کی طرف گیا اور اپنی پسند کا ایک سوٹ ہمیشہ کی طرح بلیک کلر کا نکالا اور جا کر باتھ روم میں لٹکا دیا، وہ سب دیکھ رھی تھی اور اسکو پتہ تھا کہ اس کا کیا مطلب ھے ، وہ نہ چاھتے بھی اٹھی اور باتھ روم میں گھس گئی اور بلیک سوٹ پہن کر آ گئی اس پھر بلیک کلر بہت جچ رھا تھا، گو اس بیماری نے اس کا حسن مانند کر دیا تھا پر وہ اسکو جس نگاہ سے دیکھ رھا تھا، وہ بالکل اپسرا لگ رھی تھی۔
**********
اس نے سارا دن حرا کے کمرے میں گزارا ، وہ بیڈ پر بیٹھ کر اسے دیکھتی رھی ، وہ اس کو اگنور کر رھا تھا، جب حرا کو کسی چیز کی ضرورت پڑتی وہ اتنا قریب ھو جاتا کہ وہ اسکی سانسیں محسوس کر لیتی پر پھر دوبارہ اتنا انجان بن جاتا کہ جیسے جانتا ھی نہ ھو، بہت ناراض تھا۔
کیوں نہ ھو ایک چھوٹی سی بات پر وہ سب کچھ چھوڑ آئی ، اور کچھ بھی نہ سوچا اس کے بارے میں ، اسے اپنے کئے پر افسوس تھا پر آج کچھ زیادہ ھی تھا، اسے رہ رہ کر اپنے پر غصہ آ رھا تھا کہ وہ اس شخص کا دل توڑ کر آئی تھی کہ جو صرف یہ سن کر کہ حرا بیمار ھے ، اتنے گھنٹوں کی مسافت طے کر کے اسکے پاس آیا ھے حرا کی نظر بار بار اسکی طرف اٹھتی پر ھر دفعہ ناکام لوٹتی، وہ کھڑکی کے پاس کوئی کتاب کھولے پڑھ رھا تھا، حرا کا دل کیا کہ وہ دوڑ کے جائے اور اسکے قدموں میں جا کر اسے معافی مانگ لے، پر بھر انا کی دیوار اتنی اونچی تھی کے وہ اپنی پوری کوشش کے باوجود اسے پار نہ کر پائی۔
**********
کتنے دنوں بعد آج رات وہ دونوں ایک ھی کمرے میں اکھٹے تھے ان کے درمیان اتنا قریبی رشتہ تھا پر پھر بھی وہ انجان تھے ، جب رات کو حرا سو گئی تو وہ اسکے بیڈ کے پاس آیا اور کتنی ھی دیر اسکو دیکھتا رھا، اور اپنی حرا تلاش کرتا رھا، جو کہ اس بیماری میں نجانے کہاں کھو گئی تھی ان حالات میں نیند کا تو کو ئی سوال ھی نہیں پیدا ھوتا تھا نیند تو اسکو ویسے بھی نہیں آتی تھی تو ان حالات میں کب آنے والی تھی، سو یونہی پلکیں جھپکاتے اور اسے دیکھتے صبح ھو گئی ،اور وہ اپنی کرسی سے اٹھا اور صبح کی نماز کے لئے چلا گیا۔
**********
جب حرا صبح بیدار ھوئی تو اس نے اپنے آپ کو بہت ہلکا محسوس کیا، گزری ھوئی رات میں بہت عرصے بعد وہ گہری نیند سوئی، جیسے وہ پہلے اس کے ساتھ رھتے ھوئی سوتی تھی۔ اسطرح کئی دن اور راتیں گزر گئیں وہ اور حرا آپس میں بات چیت نہیں کرتے تھے، پر وہ اس کی ھر چیز کا خیال رکھتا تھا، اسکو ٹائم پر کھانا کھلاتا ، دوائی دیتا، کبھی کبھی وہ اسکا ہاتھ پکڑا کے نیچے لان میں بھی لے جاتا ، حرا کو اس کے ساتھ چلنا بہت اچھا لگتا تھا۔ حرا کو ہمیشہ پورے چاند کو دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا اور جب وہ اسکے ساتھ تھی تب وہ دونوں ساری رات کھڑکی کے پاس کھڑے ھو کر چاند کو دیکھ دیکھ کر گزارتے تھے آج کی رات بھی چاند کی چودھویں تھی وہ آیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر کھڑکی کو طرف لے گیا اور پاس پڑی کرسی پر بیٹھا دیا سردیوں کے دنوں میں تو لندن کا موسم ویسے ھی بہت سرد اور ابرآلود ھوتا ھے اور چاند کم ھی نظر آتا ھے پر آج رات ھر چیز صاف صاف نظر آ رھی تھی پورا آسمان تاروں سے بھرا پڑا تھا، لیکن حرا کو اسکی آغوش کے بغیر کچھ اچھا نہیں لگ رھا تھا۔
**********
دن گزرتے گئے اور آہستہ آہستہ حرا تندرست ھوتی گئی اب اس نے نیچے جانا بھی شروع کر دیا تھا گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانا بھی شروع کر دیا تھا ، وہ اپنی زندگی میں لوٹ رھی تھی بس اسکو فکر تھی تو صرف یہ کے وہ اس سے بات کرے ، اس سے لڑئے اپنا غصہ نکالے ، لیکن اس نے بھی اپنے لبوں پر چپ کی مہر لگائی ھوئی تھی وہ بھی انتہا کا ضدی تھا۔
**********
جب اس نے محسوس کیا کے حرا پھر نارمل زندگی میں واپس آرھی ھے اپنے بھائیوں سے کھلتی بھی ھے، ماں باپ سے ملتی ھے ، لان میں بھی جاتی ھے اور چلنے پھرنے کے قابل ھو گئی ھے تو پھر ایک دن جب سب کھانے کے ٹیبل پر تھے کہ اچانک وہ حرا کے ماں باپ سے مخاطب ھوا اور بولا کہ اب یہ ٹھیک ھو گئی ھے اور مجھے نہیں لگتا اسکو اب میری ضرورت ھے ، اب مجھے واپس جانا چاھئے ، یہ سن کر حرا کے تو جسم سے جیسے جان نکل گئی اور اسکے ہاتھ میں ششے کا گلاس فرش پر گر کر چکنا چور ھو گیا۔ جب اس نے حرا کی طرف دیکھا تو اسکی آنکھوں سے آنسو کی لڑی رواں تھی وہ اسے زیادہ دیر تک دیکھ نہیں سکا اور دوبارہ اسکے والد سے مخاطب ھوا اور واپس جانے کی اجازت مانگی ، اسکے والد نے غمگین لہجے میں بولا کہ بیٹے مجھ پتہ ھے کہ حرا ناداں ھے پر اسکو اسکی غلطی کی اتنی بڑی سزا تو نہ دو، لیکن وہ خاموش رھا پھر کچھ دیر بعد بولا کہ انکل آپ جمعرات کی شام کو میری واپسی کی ٹکٹ کنفرم کرا دیں اور یہ بول کر وہ اٹھا اور اوپر روم میں آگیا۔
**********
حرا کے جسم سے اپنی جان نکلتی محسوس ھوئی آج بدھ کا دن تھا اور وہ کل جا رھا تھا، اسکی کی زندگی کا ساتھی ، ھر دکھ ، ھر خوشی میں ساتھ دینے والا
اسے بے اختیار کسی شاعر کے بول یاد آنے لگے

وجہ زندگی جب بھی پوچھا اس نے
لبوں پر خامشی ، آنکھوں میں تھا چہرہ اسکا
اتنا سنگدل تھا ، کہ جان کر بھی جان نہ پایا
سینے میں دھڑکتا ، پر دل تھا اسکا
اسے نے کتنی ھی بار سوچا کہ وہ اسکو روک لے اس سے اپنی تمام غلطیوں کی معاف مانگے لے ،پر انا کی دیواروں نے دل اور دماغ کو اتنا جکڑ لیا تھا کہ اس کی ہمت نہ ھوئی اسکے پاس جانے کی۔ اور اب ھر گزرتی گھڑی حرا کے لئے ایک نیا امتحان تھی۔
**********
رات کی تاریکی میں اس نے حرا کے والد کے کمرے کا دروازہ کٹکھٹایا اور انکو بولا،" انکل آپ حرا کی سیٹ بھی میرے ساتھ کنفرم کروا دیں۔"
اور ان سے حرا کو نہ بتانے کا وعدہ لے کر وہ کمرے میں لوٹ آیا۔
**********
بدھ کی رات تھی، اسکی آخری رات لندن میں اگلے دن اسکو واپس دبئی جانا تھا ، اس وقت باھر برف باری نے ھر چیز کو سفید چادر کی مانند بنا دیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا ہمیشہ سے خواب تھا برف باری میں دور تک اکھٹے چلنا ، وہ ابھی سوچ ھی رھی تھی کہ وہ اس کی طرف آیا اور اپنا ہاتھ حرا کی طرف بڑھا دیا ، جس کو اس نے بے اختیار تھام لیا وہ اس کو گھر سے باھر لے آیا اور دور تک ھاتھ تھامے چلتا گیا ، اور ایک تاریک سٹرک جہاں دور دور تک کوئی نظر نہیں آ رھا تھا ان دونوں کے علاوہ۔ اس سرد موسم میں کوئی پاگل ھی گھر سے باھر آ سکتا تھا، ھاں وہ بھی تو پاگل تھے ، ایک دوسرے کو اتنا چاہنے کے باوجود صرف اپنی ضد اور انا کے لئے زندگی کے سنہری پل اسطرح گنوا رھے تھے حرا کو اس کے قرب میں زرا سردی محوس نہیں ھو رھی تھی وہ تو چاھتی تھی کہ وہ اس میں سما جائے لیکن سوچوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکی اور پھر وہ دونوں رات گئے واپس آگئے۔ حرا سو گئی پر وہ نہیں سویا ، اسکو یہی سوچ پریشان کر رھی تھی کہ پتہ نہیں وہ دوبارہ حرا سے مل سکے گا کہ نہیں، اسکو کو دیکھ سکے گا کہ نہیں پھر وہ دیر گئے تک حرا کے چہرے کو دیکھتا رھا ، اور اپنی آنکھوں میں بساتا رھا۔
**********
اور پھر جمعرات کا دن آیا وہ رخصت ہونے والا تھا، اپنا سامان پیک کر رھا تھا اور حرا سامنے بیٹھی رو رھی تھی ، وہ کتنے ھی ہفتے اس کے پاس رھا اس کا خیال رکھا پر اس نے حرا سے ایک لفظ نہ بولا اس نے یہ بھی نہ پوچھا کہ وہ کیسی ھے پر جس طرح اس نے اسکا خیال رکھا، شاید شوھر سے بڑھ کر کوئی نہیں رکھ سکتا تھا
پھر اس نے ٹھہر کر ایک لمحہ حرا کی طرف دیکھا اور دیکھتا رہ گیا، اسکی آنکھیں بول رھی تھی کہ حرا میرے ساتھ چلو اپنی دنیا میں میں واپس چلیں لیکن اسکے لب خاموش تھے وہ بھی بلا کا ضدی تھا۔ وہ بس یہی چاھتا تھا کہ حرا خود اپنے منہ سے بولے کہ مجھے ساتھ لے چلو مگر ایسا کچھ نہیں ھوا اور اسکی ساری امیدیں دم توڑ گئی اور پھر وہ کمرے سے نکل گیا تو حرا ایک دم نڈھال ھو کر بیڈ پر گر گئی۔
**********
کتنے ھی لمحے وہ ایسے پڑی رھی پھر وہ اچانک اٹھی اور بھاگتی ھوئی نیچے گئی وہ جا رھا تھا کہ حرا پیچھے سے اس سے لپٹ گئی اور روتے ھوئے بولی مجھے چھوڑ کر مت جاؤ، مت جاؤ وہ دھاڑیں مار کر رو رھی تھی ، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتی رھی تھی اور معافیاں مانگتی رھی تھی ، پر وہ چپ چاپ کھڑا رھا اور سب سنتا رھا وہ کچھ نہیں بولا پھر وہ چلا گیا پر دروازے پر پہنچ کر وہ مڑا اور حرا سے مخاطب ھوا۔ وہ جو کہ پچھلے 8 ہفتوں سے چپ تھا وہ صرف اتنا بولا کہ حرا چلو اپنے گھر چلیں ۔