Afsana 006 بی جان از مونا سید

یہ کوئی مشہور شخصیت تو نہیں ہے ۔۔ مگر میرے نزدیک ان کی اہمیت سب سے زیادہ ہے ۔۔ میں نے ایک چھوٹی سی کاوش کی ہے اپنی دادی جان جن کو سب بی جان کہتے تھے ' کے متعلق لکھنے کی۔۔۔

بی جان
از مونا سید (کراچی، پاکستان)

رادھا سے زہرہ بننے کا سفر اگر سوچیں بھی تو آسان نہیں ہے وہ بھی ایک سترہ سالہ لڑکی کے لیے ۔۔ جس کو حق و باطل کی تمیز عطا ہوئی ۔۔ جس نے کتنی کٹھنائیاں سہی ہوں گی ۔۔
یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان کے مسلمانوں میں یہ شعور بیدار ہوچکا تھا کہ اب ساتھ گزارا نہیں ۔۔
ہر جگہ شورش تھی ۔۔ الہ آباد کے اس وقت کے داروغہ کو ایک درخواست موصول ہوئی کہ ایک برہمنوں کی لڑکی نے اسلام قبول کر لیا ہے اس کی مدد کی جائے ۔۔ اور یہ کہ اس کی جان کو خطرہ ہے ۔۔
داروغہ صاحب اس لڑکی کو اپنے گھر لے آئے اور تحفظ دینے کے لیے اس کو اپنے نکاح میں لے لیا یہ ان کی تیسری بیگم تھیں ۔۔ اور میری بی جان ۔۔
شاہ صاحب اس سے پہلے لاولد تھے۔۔ اللہ نے کرم کیا اور چار بیٹوں اور ایک بیٹی کے والدین ہونے کا شرف بخشا۔۔
عمروں میں بہت فرق تھا ۔ شاید اس لیے دادا جان اور بی جان کا ساتھ مختصر رہا ۔۔ زہرہ کی مشکلات ابھی دور نہیں ہوئی تھیں ۔۔ ایک چھ ماہ کی بیٹی اور دو سال اور چار سال عمر کے ساتھ ہجرت آپڑی ۔۔۔
بڑے دونوں بیٹے روز گار کے سلسلے میں دوسرے شہروں میں تھے ۔۔۔ افراتفری کا عالم تھا ۔۔ ہر طرف نفسانفسی تھی۔۔۔ بہت ہمت والی تھیں جب ہی ان پر کو آزمائش کے قابل سمجھاگیا ۔۔ اپنے تین چھوٹےبچوں کےساتھ اور دونوں بڑوں کو اللہ کے حوالے کرکے اپنے اصل وطن عزیز کا رخ کیا ۔۔ نئی جگہ نئے لوگ ۔۔ ٹرین نے بھاولپور میں اتارا ۔۔۔ وہی قیام کیا ۔۔ ان سے کسی نے پوچھا تھا " بی جان بھاولپور ہی کیوں ؟"
بی جان کا جواب تھا ۔" حضرت علی رض خواب میں آئے تھے اور کہہ گئے ہیں کہ یہی انتظار کرو وہ دونوں بھی یہیں آن ملے گے ۔۔"
اس سے ان کا ایک پہلو اور ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اسلام کا نہ صرف انتخاب کیا بلکہ اس پر عمل بھی بہت سے پیدائشی مسلمانوں سے زیادہ کیا ۔۔۔مگر لوگوں نے یہاں بھی نہیں بخشا ۔۔ ہندوانی کہہ کر ان کا دل جلایا ۔۔ غرضیکہ جو کہہ سکتے تھے برا وہ کہا ان کو ۔۔
اصول و ضوابط کی بڑی پکی تھیں ۔۔ خوبصورت بالکل بھی نہیں تھیں۔۔ مگر ان کی تعلیم و تربیت نے ان کی اولادوں کو ایسے عہدوں پر جن پر بھٹکنے کا خدشہ ہوتا ہے ثابت قدم رکھا۔۔ جب تک بڑے دونوں بیٹے انڈیا سے پاکستان نہیں آگئے ۔۔ قرآن کریم کا علم بانٹ کر گزارا کیا۔۔ ریلوے کی پٹریوں سے کوئلہ چن چن کر گھر کا چولہا جلایا۔۔ مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا ۔۔
ان کے ہر مسلئے کا حل ان کے مصلے اور تسبیح میں ہوتا تھا ۔۔وہ جب بھی کسی مقصد کے لیے اللہ کے حضور حاضر ہوئیں اس سے لے کر ہی اٹھیں ۔۔ کسی نے انہیں کبھی شکوہ کرتے نہیں دیکھا کہ اے اللہ میں نے تو تیرے لیے سب چھوڑا تو نے کیوں یہ مشکل ڈالی ۔۔وہ ہر حال میں شکر گزار رہیں ۔۔ آہستہ آہستہ اولاد سیٹ ہونے لگیں تو ایک اور آزمائش ان کی منتطر تھی ۔۔ کینسر کا موذی مرض ان کو نہ جانے کب سے کھا رہا تھا ۔۔
یہ لیٹ ففٹیز کا زمانہ تھا ۔۔ جب صرف نام ہی سنا ہوگا لوگوں نے شاید اس کا ۔۔
اور یوں وہ صرف چالیس سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملیں ۔۔
میں نے بی جان کو نہیں دیکھا مگر ابا سے ان کا اتنا ذکر سنا ہے کہ ساتھ ہی چلتی پھرتی محسوس ہوتی تھیں ۔۔بی جان ہمارے لیے کسی پری سے زیادہ تھیں جن کو دیکھا تو نہیں ہوتا مگرمحسوس کرکے ان کے کسی تصور میں ڈھال لیا جاتاہے ۔۔ اللہ ان کو بلند درجات عطا فرمائے آمین ۔۔