Afsana 007 دہشت گرد از رفعت

دہشت گرد
از رفعت

"چھن،چھن چھن"
گھنگروؤں کی آواز کے ساتھ وہ بےہوشی کا سفر طے کرتی ہوئی ہوش میں آئی۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن شاید کمزوری کی وجہ سے اٹھ نہ پائی۔غور سے سننے کی کوشش کی کہ یہ کون سی جگہ ہے۔لوگوں کی آوازوں کو محسوس کرنا چاہا لیکن وہاں ہر طرف ایک ہی آواز تھی۔
چھن چھن چھن

اس کے دماغ نے کام کرنا شروع کیا اور وہ اپنی پوری طاقت لگا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔دیوار کا سہارا لے کر دروازے تک پہنچی اسے کھولنے کی کوشش کی تو ناکام رہی۔دروازے کی جھری سے جھانکنا چاہا کچھ دکھائی نہیں دیا۔پھر اس کی نظر کھڑکی پر پڑی اس نے آہستگی سے کھڑکی کا تھوڑا سا پردہ ہٹایا اور جو منظر دکھائی دیا وہ دیکھ کر اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔

۔
باہر کچھ لڑکیاں ڈھول کی تھاپ پر رقص کر رہی تھیں اور کچھ عیاش لوگ ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے تھے ۔ان کی نگاہیں ایکسرے مشین کی طرح ان لڑکیوں کے جسموں پر تھیں۔
اس کے ٹانگیں کانپنے لگیں اور اس کو سہارے کی ضرورت محسوس ہوئی وہ جھٹ سے آکر بستر پر گر گئی۔لمبے لمبے سانس لے کر اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی۔اس کو سمجھ آچکی تھی کہ وہ کس جگہ پر ہے اور یہاں اس کی عزت زیادہ دیر محفوظ نہیں ہے۔

لیکن میں تو ایک آرام دہ گاڑی میں تھی ،ایک قابل اعتماد شخص کے ساتھ جس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر یقین دلایا تھا کہ بیٹی تم کو صحیح سلامت تمہارے گھر والوں کے پاس پہنچایا جائے گا۔تم محفوظ ہاتھوں میں ہو۔اور ان محفوظ ہاتھوں نے مجھے یہاں اس بازار میں لا کر پھینک دیا۔
اس کے ذہن پر وہ تمام واقعات گردش کرنے لگے کہ کیسے وہ یہاں تک آپہنچی۔
اس کا نام ماہ جبیں تھا،نام کی ہی ماہ جبیں نہیں بلکہ وہ واقعی ہی بہت خوبصورت اور معصوم تھی۔وہ دو بہن بھائی تھے۔وہ ابھی 15 سال کی تھی اور اس کا 17 سال کا بھائی علی تھا۔ان کا گھر خوشیوں سے بھرا تھا۔ہنستے کھلکھلاتے دن کیسے گزر رہے تھے پتا ہی نہیں چلتا تھا۔کہ اچانک ایک قیامت ان پر گزر گئی۔
۔

آج صبح سے ہی ان کے علاقے پر ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے۔اور سب لوگوں کو محفوظ جگہ پر نقل مکانی کا کہا جا رہا تھا کیونکہ اس علاقے میں دہشت گرد قبضہ کرنا چاہتے تھے۔لیکن لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے تھے،ماہ جبیں کے گھر والوں نے ہمت کر کے گھر چھوڑنے کا سوچا ۔اپنا کچھ سامان اٹھا کر وہ ابھی نکلنے ہی والے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور ہر طرف چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں۔

ماہ جبیں چیخ چیخ کر اپنے امی ابو اور بھائی کو آوازیں دیتی رہی لیکن اس نے جب کچھ فاصلے پر اپنے بھائی کو بے حس و حرکت پایا تو اس کی چیخیں تھم گئیں۔اس کو لگا کہ اب وہ اس دنیا میں اکیلی رہ گئی ہے ۔کوئی نہٰں جو اب اس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ سکے گا۔آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا ۔۔اور وہ بے ہوش ہو گئی۔

امدادی ٹیمیں اپنا کام کر رہی تھی ملبے کے نیچے سے لاشیں نکالی جا رہی تھیں اس علاقے کے "بڑے بااثر لوگ" وہاں پہنچ چکے تھے ۔اور لوگوں کو تسلیاں اور دلاسےدے رہے تھے۔

ماہ جبیں اور اس کے گھر والوں کو ملبے کے نیچے سے نکالا گیا اس کا باپ تو اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔لیکن اس کی ماں اور بھائی ابھی زندہ تھے۔
ان کو ہسپتال شفٹ کیا گیا۔ماہ جبیں کو ہوش آیا تو اس نے اپنے بھائی اور ماں سے ملنے کی ضد کی۔لیکن اس کو ملنے نہیں دیا گیا،ایک "بڑے ہمدرد" نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ"بیٹی تم کیمپ میں جاؤ تمہاری ماں اور بھائی وہاں آجائیں گے ۔تم وہاں محفوظ رہو گی بالکل گھر کا سا ماحول ہو گا"

ماہ جبیں اس کی بات پر یقین کرتے ہوئے اس کے کارندے کے ساتھ ایک بہت ہی آرام دہ گاڑی میں آبیٹھی،اس کو جب کچھ تحفظ کا احساس ہوا تو اس پر غنودگی چھانے لگی ۔کچھ ہی دیر میں وہ گہری نیند سو رہی تھی۔اس کو سوتے میں ہی بے ہوشی کا انجکشن دے دیا گیا تھا،اور جب اس کو ہوش آیا تو وہ اس غلیظ جگہ پر موجود تھی۔جہاں کا نام لینا بھی کوئی شریف انسان پسند نہیں کرتا تھا۔
اس نے زور زور سے رونا شروع کر دیا۔اس کی آوازیں سن کر ایک عمر رسیدہ عورت اندر داخل ہوئی۔اور اس کو پیار سے سمجھایا کہ اب تم ہم سے تعاون کرو کیونکہ تم یہاں سے باہر نہیں جا سکتی۔مہ جبین نے اس عورت کے منہ پر تھوک دیا اور کہا۔"میں ایک شریف گھرانے کی بیٹی ہوں میں یہ کام نہیں کروں گی۔"

وہ عورت اپنی بےعزتی برداشت نہ کر سکی اور اس نے کسی کو آواز دی۔مہ جبین نے دیکھا دو ہٹے کٹے مرد دروازے میں کسی جن کی طرح نمودار ہو گئے،عورت نے ان کو کچھ اشارہ کیا اور باہر نکل گئی۔اب ماہ جبین ان دو درندوں کے رحم و کرم پر تھی۔انہوں نے اس کو بہت مارا اور جب وہ بے دم ہو کر گر پڑی تو اس کو بستر پر پھینک کر باہر چلے گئے۔

ادھر جب علی کو ہوش آیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ہسپتال کے عملے سے پوچھ گچھ کی اپنی ماں اور بہن کی نشانیاں بتائیں،آخر ایک وارڈ بوائے اس کو اس کی ماں کے کمرے میں لے آیا۔علی نے اپنی ماں کو پٹیوں میں جکڑا دیکھا تو اس کا دل جیسے تھم گیا۔ماں نے آنکھیں کھولیں بیٹے کو دیکھ کر جیسے وہ جی اٹھی۔اور اس سے اپنے شوہر اور بیٹی کا پوچھنے لگی۔علی نے ماں سے وعدہ کیا کہ وہ ان دونوں کو ڈھونڈ نکالے گا،اور ایک عزم لے کر وہاں سے باہر نکل آیا۔

ماہ جبیں جب ہوش میں آئی تو اس نے اپنے سرھانے ایک بہت ہی پیاری اور نرم صورت لڑکی کو بیٹھے دیکھا،اس نے مہ جبیں کو اٹھایا پانی پلایا اور سہارے سے بٹھا دیا۔ماہ جبیں نے جب ہمدردی دیکھی تو اس کی آنکھوں میں پھر سے آنسو آگئے۔اس لڑکی نے ماہ جبیں کو بتایا کہ اس کا نام سعدیہ ہے اور وہ بھی ایک شریف گھرانے کی بیٹی تھی،جس کو دھوکے سے یہاں پہنچا دیا گیا۔
سعدیہ نے ماہ جبیں کو سمجھایا کہ ان لوگوں کے خلاف جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ،بہتری اسی میں ہے کہ ان کی بات مان لو ،میں تم کو یہاں سے نکالنے کی پوری کوشش کروں گی۔

۔
رات کو ماہ جبیں کو خوب سجایا گیا اور اس کو کمرے سے باہر نکالا گیا۔باہر ایک بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔اور بڑھ چڑھ کر اس کی بولی لگا رہے تھے۔اس کو محسوس ہوا کہ وہ ایک بکاؤ مال کی طرح بازار میں کھڑی ہے اور "گاہک"اس کی قیمت لگا رہے ہیں۔پھر ایک مالدار آسامی نے اس کی قیمت لگائی اور ماہ جبین کو اس کے آگے پھینک دیا گیا۔اس نے ذرا سی نظریں اٹھا کر اپنے"مالک"کو دیکھا۔اور اندر تک کانپ کر رہ گئی

۔
وہ وہی "بڑا آدمی"تھا جو اس کو بیٹی کہہ کر یہاں پہنچا گیا تھا۔اب وہ اس کے رحم و کرم پر تھی۔صبح ہوئی تو وہ ایک الگ ماہ جبیں بن چکی تھی۔جس کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا۔وہ اپنی بربادی پر آنسو بہاتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔سعدیہ نے اسے دیکھا تو اس کو گلے لگا کر اس کو تسلی دی اور ساتھ ہی کہا کہ تم آج رات یہاں سے نکل جاؤ گی۔

وہاں جو پناہ گزین ہسپتال میں تھے ان کو ضروری ٹریٹ منٹ دے کر کیمپوں میں بھیج دیا گیا تھا۔اب علی کا مقصد صرف اپنے باپ اور بہن کو ڈھونڈنا تھا۔وہ سارا دن پھرتا رہا اور شام کو اسے پتا چلا کہ اس کے باپ کی لاش ہسپتال میں پڑی ہے اور اس کی بہن کا کچھ پتا نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مر گئی۔علی اور اس کی ماں ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے رہے لیکن کب تک جانے والوں کے ساتھ کون جا سکا ہے آہستہ آہستہ ان کے آنسو بھی خشک ہو گئے۔
اگلی رات جب باہر شراب اور شباب کی محفل زوروں پر تھی۔سعدیہ اس کے کمرے میں آئی اور اس کو ایک چادر دی اور اس کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔اس کے کمرے میں ایک دروازہ تھا جو سعدیہ کے کمرے میں کھلتا تھا ،وہ اس کو اپنے کمرے میں لے گئی،اور پچھلے دروازے سے اس کو باہر نکال دیا۔کچھ پیسے اس کے ہاتھ میں تھمائے اور اس کو رخصت کر کے روتی ہوئی واپس چلی گئی۔

ماہ جبیں جانے کس طرح اسی ہسپتال میں پہنچی وہاں سے اس نے زخمیوں کے بارے میں پوچھا تو اس کو بتایا گیا کہ وہ تو کیمپ میں منتقل ہو چکے ہیں،وہ کیمپ کا پتہ لے کر اپنوں کی تلاش میں ادھر کو چل نکلی۔کیمپ میں پہنچ کر اس نے لوگوں سے اپنے گھر والوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔کسی نے اس کو انتظامیہ کے دفتر کا پتہ دی اکہ وہاں پتا کرو ،وہ دفتر میں گئی اور اپنے بھائی اور ماں کا نام بتا کر ان کو پتا پوچھا۔انتظامیہ والا کوئی بھلا آدمی تھا اس کو ساتھ لے کر چلا اور اس کے خیمے کے دروازے پر پہنچا گیا۔

علی اور اس کی ماں اداس اور پریشان بیٹھے تھے،کہ اچانک ماہ جبیں اندر داخل ہوئی۔ان دونوں کی آنکھوں میں حیرانی اور خوشی کے تاثرات صاف دیکھے جا سکتے تھے۔ماہ جبیں دوڑکر ماں کے گلے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔علی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کو پوچھا کہ وہ کہاں تھی اور یہاں کیسے پہنچی۔
ماہ جبین نے سب کچھ ان کو بتا دیا۔علی کی رگوں میں ایک غیرت مند بھائی کا خون تھا۔اس سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا،لیکن اس نے اپنے چہرے سے کچھ ظاہر نہیں ہونے دیا۔اور ماہ جبین کے سر پر ہاتھ رکھا اسے گلے سے لگایا اور کہا کہ تم ہمارے لیے آج بھی وہی ہو۔اب تم کو کوئی کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔"

آج علی رات کو سونے لیٹاتو اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی،کافی دیر تک وہ کچھ سوچتا رہا اور پھر ایک گہری سانس لے کر جیسے کسی نتیجے پر پہنچا اور سو گیا۔صبح فجر کے وقت اٹھ کر نماز پڑھی اور اللہ سے گڑگڑا کر جانے کیا مانگتا رہا۔اس کا چہرہ پر سکون تھا۔اس نے ماں اور بہن کے ساتھ ناشتہ کیا اور ان کو کام کا کہہ کر باہر نکل گیا۔اپنے ایک دوست سے ملا اور اس سے کہا کہ ایک ریوالور کا بندوبست کر دے،دوست پریشان ہو گیا لیکن علی نے کہا کہ وہ کچھ غلط نہیں کرے گا۔دوست نے اس کو ریوالور دینے کا وعدہ کر لیا اور کہا کہ شام کو آکر لے لینا۔واپس آکر علی نے سارا دن اپنی فیملی کے ساتھ گزارا ،ان سے ڈھیروں باتیں کیں،شام کو وہ ریوالور لے کر اپنے پاس محفوظ کر چکا تھا۔۔

آج آج صبح سے ہی کیمپ میں ہلچل ہے۔لوگ جوق در جوق ایک جگہ اکٹھے ہو رہے ہیں۔سنا ہے آج یہاں کی ایک"بڑی معزز ہستی"یہاں تشریف لانے والی ہے۔اور وہ پناہ گزینوں سے خطاب کریں گے ان کے مسائل جانیں گے اور ان کی بھرپور مدد کریں گے۔۔انتطار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور ایک بڑی سی گاڑی میں ایک"معزز آدمی"وہاں آ پہنچا اور بڑے اعتماد کے ساتھ لوگوں سے مخاطب ہوا ۔ابھی وہ ان لوگوں سے بڑے بڑے وعدے کر رہا تھا ،ان کو سبز باغ دکھا رہا تھا۔ان کو خوشخبریاں سنا تھا کہ وہ جلد اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے،اور ان کی بہو بیٹیوں کی عزتوں کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا،لوگ تالیاں پیٹ پیٹ کر اپنے ہاتھ سرخ کر رہے تھے۔

اچانک ایک طرف سے ایک گولی آئی اور سیدھی اس "معزز شخصیت "کے ماتھے میں سوراخ کر گئی۔ایک دم سے افراتفری مچ گئی۔پولیس سیکیورٹی گارڈ سب حرکت میں آگئے،اور انہوں نے گولی چلانے والے "دہشت گرد "کو پکڑ لیا۔اور اس کو گھسیٹ کر اپنے ساتھ لے گئے۔

صبح کے اخبار میں ہیڈ لائن یہ تھی۔
"ایک سترہ سال کے دہشت گرد نے ایک نرم دل اور انسان دوست شخصیت کو گولی مار کر شہید کر دیا۔پوری قوم شہید کے اچھے کاموں پر اس کو سلام پیش کرتی ہے۔وہ غریبوں کے ہمدرد اور مجبوروں کا خیال رکھنے والے تھے۔"

اس "دہشت گرد" پر مقدمہ چلا اس کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سائی گئی۔اس کی ماں اور بہن عدالت میں چیخ چیخ کر رو رہی تھیں ،لیکن لوگوں نے ایک حیران کن منظر دیکھا کہ اس "دہشت گرد "کے چہرے پر ایک نا سمجھ میں آنے والی مسکراہٹ تھی۔اور ایک انوکھا سا احساس جو اس کے چہرے کو بہت پر سکون اور پر نور بنا رہا تھا۔وہ بڑے آرام سے کٹہرے سے اترا اور ماں کے گلے لگا بہن کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کے کان میں آہستہ سے کہا کہ "تمہارے گناہ گار کو سزا مل گئی۔"
اور پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ اپنی سزا بھگتنے کے لیے خوشی سے چل پڑا۔