Afsana 008 جنگل از سلمان سلو

جنگل
از سلمان سلو
جنگل میں کانفرنس جاری تھی سب جانور دائرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک درخت کے گرے ہوئے تنے پر مسٹر بھیڑیا کھڑا دھواں دار قسم کی تقریر کر رہے تھے۔ سب جانور ہمہ تن گوش انکی تقریر سن رہے تھے۔ وہ جنگل کے امن کو برقرار رکھنے اور ہر قربانی دینے کے عزم کا اظہار کرکے بیٹھ گئے۔تو جناب چیتا صاحب اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے ظالموں کی بیخ کنی اور مظلوموں کی داد رسی پر پُرمغز مکالمہ پیش کیا۔۔تالیوں کی گونج میں جب وہ بیٹھے تو شاعر جنگل علامہ ریچھ صاحب اٹھ کھڑے ہوئے پہلے تو انہوں نے مظلموں کے حق میں اور ظالموں کے خلاف کچھ زوردار قسم کی نعرے بازی کی پھر اپنی مختصر تقریر پیش کی اور آخر میں ایک دردناک نظم نما غزل بھی ترنم سے پڑھی۔کئی جانوروں کے دل دہل گئے ،بہت سوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے بی لومڑی نے تو شیشم کے پتے کا رومال آنکھوں پر رکھ کر باقاعدہ آنسوؤں سے رونا شروع کردیا۔۔سبھی اس نظم نما غزل سے بہت متاثر نظر آرہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر عالی مقام تیندوا صاحب،محترمہ بلی خالہ اور ہز ہائینس شیر صاحب،سب نے اپنے اپنے طور پر مظلوم گائے کی حمایت کی۔جو ایک طرف بیٹھی دم ہلا ہلا کر اپنی قسمت پر آٹھ آٹھ آنسو بہا رہی تھی۔۔اب جناب کتے صاحب نے کھڑے ہو کر ایک عرض داشت پیش کی جس میں تمام جانوروں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ مل کر ظالم کے خلاف عملی اقدام کریں۔

قصہ کچھ یوں تھا کہ شیر صاحب کا بدقماش سالا سفید گائے کی ''حسین کنواری'' بچھیری کو اغواء کرکے بلکہ اٹھا کر لے گیا تھا۔اگرچہ ہز ہائینس شیرنی صاحبہ نے دبے الفاظ میں کہا بھی کہ گائے کی بچھیری بڑی سمارٹ بنی پھیرتی تھی کالا چشمہ لگا کر اور ''رسی نما'' دوپٹہ گلے میں ڈال کر خود کو الٹرا ماڈرن ثابت کرنے کی کوشش کرتی تھی، وہ خود بھاگی ہوگی، مگر چشم دید گواہوں کا اشتعال دیکھ کر چپ رہیں۔اب سب جانور مل کر امن و سلامتی کے مسئلے پر غور و خوض کر رہے تھے۔
ابھی محترم کتے صاحب کا تقریر جاری تھا کہ اعلٰی حضرت محترم برادر نسبتی صاحب مٹر گشت کرتے ہوئے ادھر آنکلے۔۔۔۔۔
ایک دم چار سو خاموشی چھا گئی۔
خان بہادر ہاتھی صاحب مست شرابی کے جیسے ہولے ہولے اپنے قدموں پر کھڑے ہوئے اور مستانہ چال چلتے ہوئے شیر کی طرف بڑھے۔دوسرے تمام جانور جو کتے کے دل پذیر تقریر اور علامہ ریچھ صاحب کی دردناک نظم نما غزل سے جوش میں آچکے تھے ایک دم اٹھ کھڑے ہوگئے اور خطرناک تیوروں کے ساتھ سالا شیر صاحب کی جانپ پیش قدمی شروع کردی۔۔۔۔۔۔
بردار نسبتی صاحب کا اطمینان دیدنی تھا وہ ایک نہ گھبرائے چاروں طرف ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر انہوں نے ببانگ دہل فرمایا۔۔''پیارے دولہا بھائی،بھائی جان شیر صاحب،عزیز چیتے میاں،مسٹر بھیٹریئے جی اور علامہ ریچھ حیرت ہے کہ اسقدر شکار یہاں موجود ہے اور تم سب آرام سے بیٹھے ہو۔''
اتنا سننا تھا کہ ہز ہائینس شیر صاحب،چیتے میاں اور مسٹر بھیٹریا سمیت تمام خونخوار درندوں نے ہجوم پر وارننگ دیئے بغیر حملہ کردیا۔ہجوم میں ایسے ہی بھگدڑ مچ گئی جیسے پولیس کی آنسو گیس سے مچتی ہے جس کا جدھر منہ اٹھا بھاگ نکلا درندوں نے چرندوں کا جی بھر کر شکار کیا۔
اچانک وہاں نہ شیر تھا نہ چیتا نہ بھیٹریا اور نہ ریچھ نہ ہی وہ جنگل رہا۔جنگل سے دنیا بن گئی اور جانوروں سے ملک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔