Afsana 009 موت کا رقص از ماظق

موت کا رقص
از ماظق
پورے گاؤں میں سب پیار سے اسے گُڈی کہتے تھے اور ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہتے تھے۔ وہ لگتی بھی تو جاپانی گڑیا جیسی ہی تھی۔۔۔۔خوبصرت چہرہ،ہلکے براؤن بال،سبز آنکھیں گوری رنگت بالکل کسی مصور کی بنائی ھوئی جیتی جاگتی تصویر کا گمان ھوتا تھا۔جتنی صورت اچھی تھی اتنی ہی وہ سیرت کی بھی اچھی تھی اسی لئے سارا گاؤں اس کا گرویدہ تھا۔گھر میں وہ کل چار بہن بھائی تھے اس کا نمبر دوسرا تھا۔اس سے بڑا ایک بھائی عمران تھا پھر ایک چھوٹی بہن امینہ اور پھر ایک اور چھوٹا بھائی عرفان تھا۔۔۔۔۔سب ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے۔۔

خدا نے جتنی اچھی صورت بنائی تھی نصیب اس قدر اچھے نہ تھے۔۔۔۔باپ کی کچھ زمین تھی جس پر کھیتی باڑی سے ان کی ضروریات پوری نہیں ہوتی تھیں۔ بڑے بیٹے نے گاؤں میں موجود اسکول سے مڈل پاس کی۔ باپ نے اپنے ایک جاننے والے کے توسط سے اسے شہر محنت مزدوری کے لئے بھیج دیا۔ اب وہ وہاں جی ٹی روڈ کے کنارے بنے ھوئے ایک ریستوران میں ویٹر کا کام کرنے لگا۔ اس طرح کچھ اضافی آمدنی سے ان کے حالات قدرے بہتر ہو گئے تھے۔

*******
وقت کا پہیہ چلتا رہا۔عمران کی عمر اکیس سال ہو گئی تھی اسے ریستوران میں کام کرتے ہوئے پانچ برس ہو گئے۔ اس دوران وہ ھر عید وغیرہ پر اور اس کے علاوہ دو مہینے بعد بھی ایک دو روز کے لئے گاؤں چلا جاتا تھا۔ وہ جب اپنی تنخواہ ماں کے ہاتھوں پر رکھتا تو ماں اسے ڈھیر ساری دعائیں دیتی اور وہ خوش ہو کر بالکل بچوں کی طرح ماں سے لپٹ جاتا تھا۔
اب کی بار جب وہ گھر آیا تو اس کی ماں نے اسے کہا بیٹا "گڈی" اب سیانی ہو گئی ہے اور اس کے رشتے آ رہے ہیں ہم سوچ رہے ہیں جلدی سے اس کے ہاتھ پیلے کر کے اپنا فرض پورا کر دیں۔ لیکن اس کے لئے ہمیں کافی پیسوں کی ضرورت ہو گی۔میں نے کچھ پیسے جوڑ رکھے ہیں لیکن اتنی ذیادہ مہنگائی میں وہ رقم بہت معمولی ھے۔ میں اپنی بیٹی کو بہت سارا جہیز دینا چاہتی ہوں تا کہ بعد میں کوئی اسے طعنے نہ دے سکے۔ وہ یہ کہہ کر بیٹے کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگی۔

میں بھی یہی چاہتا ھوں ماں مگر سمجھ نہیں آتا کہ اتنی رقم کا بندوست کیسے کریں گے۔میں اگر اپنے مالک سے قرضہ بھی مانگوں تو چند ہزار سے زیادہ نہیں ملے گا۔ وہ کچھ تفکر انگیز انداز میں بولا۔ اس کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی۔

بیٹا کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔ آج کل لوگ شادی سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکی جہیز کتنا لائے گی۔ غریب کی بیٹیاں تو گھر میں رشتے کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ اس کی ماں نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا۔

میں کوشش کروں گا کہیں سے کچھ پیسے ہاتھ آ جائیں۔ اپنے دوستوں سے بھی بات کروں گا۔ آپ فکر نہ کریں اللہ نے چاہا تو سب بہتر ہو گا۔ وہ ماں کو تسلی دیتے ہوئے بولا۔ بات کرتے ہوئے اس کی آواز اس کے چہرے کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

******************
جب بھی چاہیں اک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پر نیا چہرہ سجا لیتے ہیں لوگ
ریستوران میں گونجنے والی ٹیپ کی آواز کے ساتھ ساتھ عمران بھی گنگنا رہا تھا۔اسے موسیقی سے اتنی دلچسپی نہیں تھی لیکن وہ جب بھی پریشان ہوتا تھا تو خود کو بہلانے کے لئے ایسا ہی کیا کرتا تھا۔ پچھلے چند دنوں سے ریستوران میں کچھ پراسرار سے لوگ آنے لگے تھے۔وہ وہاں کھانا کھا لینے کے بعد بھی کافی دیر تک بیٹھے رہتے تھے۔ عمران جب بھی انہیں "سرو" کرتا تو وہ اسے اچھی خاصی ٹپ بھی دیتے تھے۔ آج بھی عمران ان کے پاس کھانا لے کر آیا تو ان میں سے ایک فوراً بولا "کیا بات ہے "نکے" ہم نے تو فرائی گوشت کا آرڈر نہیں دیا ہم نے چکن تکے کے لئے کہا تھا اور تم فرائی گوشت لے آئے ہو۔ سب خیریت ہے نا۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔بات کرنے والے کے لہجے میں غصہ نہیں تھا۔
عمران چونکتے ہوئے بولا،"معافی چاہتا ہوں جناب، غلطی ہو گئی۔ آج واقعی میری طبعت ٹھیک نہیں ہے۔"

آج نہیں پچھلے دو تین سے یہی حال ہے تمہارا۔ ہم پچھلے ایک مہینے سے یہاں آ رہے ہیں۔۔۔تم پہلے تو ایسے نہ تھے۔اگر کچھ پریشانی ہے تو ہمیں بتاؤ۔ہو سکتا ہے ہم تمہارے کسی کام آ سکیں۔ آخر بندہ ہی بندے کا وسیلہ ہوتا ہے۔ اس آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
عمران کو تو جیسے موقع چاہیئے تھا۔ اس نے اپنے تمام حالات سے ان لوگوں کو آگاہ کر دیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے چند دنوں سے وہ رقم کے لئے اپنے دوستوں اور رشتے داروں تک سے کہہ چکا ہے لیکن سب نے اپنی اپنی مجبوریاں بتا کر انکار کر دیا ہے۔۔سمجھ میں نہیں آتا کہ اب کیا کرے۔
اچھا۔ ۔ ۔۔ اچھا تو یہ بات ہے۔کچھ کرتے ہیں۔۔تم پچھلے ایک مہینے سے ہماری خدمت کر رہے ہو تو ہم بھی کوشش کریں گے کہ تمہارے کسی کام آئیں۔شام کو کسی وقت ہمارے ڈیرے پر آؤ۔۔وہاں حاجی صاحب سے ملو۔۔وہ بہت اچھے ہیں ہمیشہ غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔۔ضرورت مندوں کے کام آتے ہیں۔۔وہ ضرور تمہاری مدد کریں گے۔۔اب پریشان مت ہو اور ہمیں جلدی سے کھانا کھلاؤ۔۔

عمران بے یقینی کے عالم میں شام ہوتے ہی ان کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچ گیا۔۔وہ ایک حویلی نما گھر تھا جسے وہ لوگ ڈیرہ بولتے تھے۔وہاں ان لوگوں کے علاوہ جو ریستوران میں کھانا کھانے آتے تھے اور بھی کچھ لوگ موجود تھے۔۔عمران جیسے ہی وہاں پہنچا ان لوگوں نے اسے فوراً حاجی صاحب کے پاس پہنچا دیا۔عمران حاجی صاحب کو دیکھ کر کچھ نروس ہو گیا۔۔اس کے ساتھ آنے والے نے عمران کا رسمی تعارف کروایا۔اس کے رخصت ہونے کے بعد حاجی صاحب مسکراتے ہوئے بولے،" مجھے سب پتا لگ چکا ہے۔ان لوگوں نے تمہاری پریشانی سے مجھے کل ہی آگاہ کر دیا تھا۔۔۔دیکھو بیٹا۔ ۔ ۔ اس دنیا میں رہنے کے لئے صرف محنت کی نہیں اپنے حق کے لیے لڑنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔یہاں سب ایک دوسرے کو لوٹنے ایک دوسرے کو کھانے میں لگے ہوئے ہیں۔تم سارا دن ریستوران میں کام کرتے ہو لیکن تمہیں اتنی اجرت نہیں ملتی کے ڈھنگ کے کپڑے پہن سکو یا دو وقت کی اچھی روٹی کھا سکو جب کہ ریستوران کا مالک لاکھوں میں کھیلتا ہو گا۔ہر طرف یہی ہو رہا ہے۔ان لٹیروں سے سب چھین لینا چاہیئے۔۔معاشرے میں موجود بھیڑیوں کا خاتمہ کرنا چاہیئے۔لٹیروں کو ان کے انجام تک پہنچانا چاہیئے۔ہم بھی یہی کرتے ہیں۔بس ہمارا طریقہ ذرا مختلف ہے۔۔اگر تم چاہتے ہو کہ اپنی بہن کی شادی اطمینان سے دھوم دھام سے کر سکو تو تمہیں ہماری جدو جہد میں ہمارا ساتھ دینا ہو گا۔ہم وعدہ کرتے ہیں تمہیں تمہاری محنت کا پورا معاوضہ دیا جائے گا"۔حاجی صاحب نے قدرے تیز لہجے میں کہا
"مگر مجھے کام کیا کرنا ہو گا"عمران کے لہجے میں الجھن تھی۔
اطمینان رکھو تم سے جو بھی کام لیا جائے گا وہ تم اور تمہارے جیسے لوگوں کی بہتری کے لئے ہی ہے۔ یاد رکھو سر اٹھا کر جینا ہے تو اپنے حق کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔ اب تم جاؤ اور اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔ تمہارے پاس ابھی وقت ہے ہمارے ساتھ شامل ہونے کے بعد پھر واپسی کا راستہ نہیں ہو گا۔اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک ہم اپنے ملک کو ظالموں کے شکنجے سے آزاد نہ کروا لیں۔
واپسی پر عمران تمام رستے پریشان رہا۔خدا جانے کیسا کام لینا چاہتے ہیں مجھ سے۔کیا میں ان کی مرضی کے مطابق کام کر سکوں گا۔کیا میں ان لوگوں سے انتقام لے سکوں گا جو بقول حاجی صاحب لٹیرے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے گھروں میں اندھیرے ہیں۔جن کی وجہ سے ہمیں اکثر بھوکا سونا پڑتا ہے۔جو ہم سے کام پورے سے زیادہ کرواتے ہیں لیکن اجرت میں ڈنڈی مارتے ہیں۔۔میں کیا کروں،کون ہے جو مجھے صحیح مشورہ دے۔۔

پتا نہیں رستہ کب ختم ہوا وہ اس وقت چونکا جب اس کے ساتھ ہی کام کرنے والے ایک لڑکے نے اسے بتایا کہ گاؤں سے اس کا باپ بہت دیر سے آیا ہوا ہے اور اس کا انتظار کر رہا ہے۔۔وہ فوراً ریستوران میں ہی موجود اپنے چھوٹے سے کمرے کی طرف گیا۔۔اپنے باپ کو سلام کیا اور گھر کے حالات دریافت کرنے لگا۔

گھر میں ویسے تو سب خیریت ہی خیریت ہے لیکن تمہاری بہن کی طرف سے ہر وقت فکر رہتی ہے۔جب سے نمبردار کا بیٹا شہر سے آیا ہے وہ اکثر ہمارے گھر کے آس پاس کھڑا رہتا ہے۔زمانہ خراب ہے بیٹا۔میں چاہتا ہوں "گُڈی" کی رخصتی جلد سے جلد ہو جائے۔بس کچھ پیسے ہاتھ آ جائیں۔۔عمران کے باپ کے لہجے میں پریشانی واضح تھی۔
"آپ فکر نہ کریں بابا۔۔میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ کہیں سے کچھ انتظام ہو جائے۔اللہ بہتر کرے گا"۔عمران اپنے باپ کو تسلی دیتے ہوئے بولا۔
"کہاں سے ہو گا انتظام۔۔کم از کم ایک لاکھ روپیہ چاہیئے سوچتا ہوں زمین بیچ دوں دو ڈھائی لاکھ کی تو بک ہی جائے گی لیکن پھر سوچتا ہوں زمیں کے سہارے ہمارے دن گزر رہے ہیں۔زمین نہ ہو گی تو پھر کیا کریں گے اور پھر میری ایک بیٹی تو نہیں ہے امینہ بھی ہے۔۔عرفان ابھی بہت چھوٹا ہے بڑا ہوتا تو کچھ ذمے داری وہ بھی اٹھاتا۔۔دن رات ان پریشانیوں کی وجہ سے تمہاری ماں بھی بیمار رہنے لگی ہے۔" عمران کے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "آج سمجھ میں آ رہا تھا کہ لوگ بیٹی کے ساتھ خدا سے اس کے نصیب کیوں مانگتے ہیں۔ دور جہالت میں لوگ بیٹیوں کو زبح کر دیا کرتے تھے۔ زندہ درگور کر دیتے تھے مگر آج انہیں ایک پاکیزہ رشتہ دینے سے پہلے دولت میں تولا جاتا ہے۔ وہ بھی باپ تھا۔ وہ بھی مجبور تھا۔"

عمران بولا،"بابا میں نے ایک اور جگہ نوکری کے لیے کہا ہے۔ ایک جگہ بات بنتی نظر آ رہی ہے۔ ابھی بھی وہیں سے آ رہا ہوں۔ اگر مجھے وہ نوکری مل گئی تو تو اچھی تنخواہ کے ساتھ وہ مجھے کچھ ایڈوانس بھی دیں گے۔۔۔بس آپ دعا کریں میں وہاں کامیاب ہو جاؤں"۔ عمران نے وہیں بیٹھے بیٹھے فیصلہ کر لیا کہ کچھ بھی ہو وہ ضرور حاجی صاحب کی بات مان لے گا۔ وہ ان کے لیے کام کرنے پر تیار ہو گیا تھا۔
آج حالات اسے اس بازار میں لے آئے تھے جہاں مجبوریاں بکتی ہیں۔ جہاں رشتوں کی قیمت پر زنگی خرید لی جاتی ہے۔ جہاں ایک ظلم کو ختم کرنے کے لئے ایک اور ظلم کیا جاتا ہے۔
اگلے دن وہ شام سے پہلے ہی حاجی صاحب کے ڈیرے پر پہنچ گیا۔حاجی صاحب کل کی طرح آج بھی بڑے تپاک سے ملے۔عمران نے جھجکتے ہوئے اپنے آنے کا مدعا بیان کیا اور حاجی صاحب کے ساتھ کام کرنے پر اپنی آمدگی ظاہر کی۔حاجی صاحب سنجیدگی سے بولے،"دیکھو بیٹا! یہ کام بہت خطرناک ہے لیکن اگر ہمت سے کام لو گے تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔ ابھی کچھ دن ٹریننگ کے لیے ہمارے ساتھ رہو۔ پھر کچھ دنوں بعد تمہیں ایک کام سونپا جائے گا۔ بس یوں سمجھ لو تمہارا امتحان ہو گا۔ اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو ہم تمہیں مالا مال کر دیں گے۔۔اس وقت تمہیں ایک لاکھ روپے بطور ایڈوانس دے رہے ہیں تا کہ تم اپنے گھر والوں کو یہ پیغام دے سکو کہ اب تم اچھی جگہ کام کر رہے ہو۔ یوں تمہاری بہن کی شادی بھی ہو جائے گی۔" یہ بات کرتے ہوئے عمران نے پہلی بار حاجی صاحب کے چہرے پر خباثت کے آثار دیکھے تھے۔کہتے ہیں شیطان کبھی اپنے اصلی صورت کے ساتھ سامنے نہیں آتا۔ ہمیشہ خوبصورتی کا لبادہ اوڑھ کر گمراہ کرتا ہے۔ پرہیز گار اور ایمان والے اس کے دھوکے میں نہیں آتے اس لیے شیطان پہلے ایمان پر وار کرتا ہے۔ آج عمران کے ایمان پر وار ہو گیا تھا۔

********

عمران جلد ہی وہاں سے لوٹ آیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں ایک لاکھ روپے تھے تو دوسرے ہاتھ میں مجبوریوں کی ہتھکڑی۔ ایک ہاتھ میں بہن کا سہاگ تھا دوسرے ہاتھ میں اپنی ہی بے کفن لاش ۔ آج یوں لگ رہا تھا جیسے ایک پہاڑ سے نکل کے وہ کسی دوسرے پہاڑ کے نیچے آ گیا ہے۔ اس کا باپ اسی کا منتظر تھا۔ اس نے باپ سے آنکھیں چراتے ہوئے کچھ سچ اور کچھ جھوٹ پر مبنی اپنی کہانی کہہ دی۔ اسے اطمینان دلانے کے لیے آج اس نے پہلی بار جھوٹ بولا تھا۔ ان روپوں میں کتنی طاقت تھی۔ ساری عمر ایمان کا درس دینے والا،سچ بولنے کی تاکید کرنے والا باپ ناکام ہو گیا اور کاغذ کے چند بے جان نوٹ جیت گئے۔ کبھی کبھی ہم اپنوں کے لئے بھی جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔
اگلی صبح اس نے ایک لاکھ روپے دے کر باپ کو رخصت کیا۔ بہن کا بوجھ اس کے کاندھوں سے اتر چکا تھا۔ اس نے سکھ کی ایک گہری سانس لی اور آئیندہ کے لئے تیاری کرنے لگا۔ آج سے اسے ٹریننگ شروع کرنی تھی۔ اس کا امتحان بس شروع ہونے ہی والا تھا۔ اب وہ اس امتحان کے لیے تیار تھا۔

******
سارا گاؤں "گڈی" کی شادی کی تیاری کر رہا تھا۔ایک بہت اچھی جگہ اس کا رشتہ طے پا گیا تھا۔ اگلے مہینے شادی کی تاریخ رکھی جا چکی تھی۔ آج صبح ہی صبح "گڈی" کے ماں باپ اس کی شادی کی خریداری کے لیے اس کے ہمراہ شہر کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

******

عمران کو ابتدائی طور پر ایک "مشن" سونپ دیا گیا تھا۔ وہ اس کے لیے پوری طرح تیار تھا۔ اسے ایک بہت اہم سیاسی شخصیت کی گاڑی میں بارود رکھنا تھا۔ کام بہت ہوشیاری سے کرنے کی تاکید کے ساتھ حاجی صاحب نے اسے رخصت کیا تھا۔خطرہ بہت تھا لیکن بقول حاجی صاحب یہ سیاست دان عوام کی تقدیروں سے کھلتے ہیں۔ان کی وجہ سے آج مہنگائی ہے،بے روز گاری ہے۔۔عمران ان لوگوں کو شیطان کا دوسرا روپ سمجھنے لگا تھا۔وہ ایک شیطان کو ختم کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھا۔اسے اس کی گاڑی میں ٹائم بم فٹ کرنا تھا۔ وہ بہت ہوشیاری سے اس سیاستدان کی گاڑی تک پہنچ چکا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں ایک سفری بیگ تھا جس میں بم رکھا ہوا تھا۔ اسے بتا دیا گیا تھا کہ وہ سیاستدان آج ایک مارکیٹ میں ایک نئی تعمیر ہونے والی سڑک کا افتتاح کرنے جا رہا ہے۔۔جس وقت عمران وہاں پہنچا تو سیاستدان آ چکا تھا۔ اس کی گاڑی قریب ہی پارک کی گئی تھی۔ عمران کسی طرح چھپتے چھپاتے اس کی گاڑی تک پہنچا اور اپنا کام مکمل کر دیا۔ اس نے پہلا ہی معرکہ سر کر لیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا۔ اسے حاجی صاحب سے انعام کی توقع تھی۔ ٹھیک ایک گھنٹے بعد خبر آنے والی تھی کہ ایک مشہور و معروف سیاستدان کی گاڑی میں بم دھماکہ ہوا ہے جس میں وہ انتقال کر گیا۔

*********
پنڈھال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ یوں تو یہ سڑک کی افتتاحی تقریب تھی لیکن الیکشن کے دن قریب آنے والے تھے اس لیے یہ تقریب انتخابی جلسے کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ اس سیاستدان کے سپورٹر اس کے حق میں تقریریں کرنے لگے۔ ایک کے بعد ایک آتا گیا اور سیاستدان کو دیر ہوتی گئی۔ اسے بھی جانے کی جلدی نہیں تھی۔ موت برحق ہے لیکن اس کا آخری وقت ابھی نہیں آیا تھا۔

********

"گُڈی" شہر میں آ کر بہت خوش تھی۔ وہ پہلے بھی کئی بار شہر آ چکی تھی لیکن آج اسے اپنے لیے خریداری کرنے کا موقع مل رہا تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بہت دیر سے مختلف سامان خرید رہی تھی۔ اس نے اپنی پسند سے اپنی شادی کا ایک عروسی لباس بھی خریدا تھا۔ حقیقت میں اب وہ تینوں تھک گئے تھے۔ آج دھوپ بھی قدرے تیز تھی اور سہ پہر ہونے کو آئی تھی کہ انہوں نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ وہیں قریب ہی ایک سڑک پر وہ ایک شربت کے ٹھیلے کو دیکھ کر رک گئے۔۔۔وہاں سے "گڈی" کے باپ نے شربت کے تین گلاس لیے اور قریب ہی کھڑی ہوئی ایک گاڑی کے سائے میں بیٹھ کر پینے لگے کہ اچانک اس گاڑی میں زور دار دھماکہ ہوا اور آس پاس کھڑے ہوئے لوگ چیخ و پکار کرنے لگے۔ کچھ کی لاشیں وہیں سڑک پر بکھر گئیں اور بہت سے زخمی مدد کے لیے پکارنے لگے۔"گُڈی" اور اس کے ماں باپ پیاس بجھانے آئے تھے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ کہ جن گلاسوں میں شربت پی رہے تھے ان میں موت اپنا رقص کر رہی ہے۔ وہ تینوں اب اس دنیا میں نہیں تھے۔ قریب ہی بجلی کی تاروں پر ایک عروسی لباس یوں لہرا رہا تھا جیسے اپنے پہننے والے کے نہ ملنے پر ماتم کر رہا ہو۔ کچھ لوگ عروسی لباس خریدنے نکلتے ہیں لیکن کفن لے کر آ جاتے ہیں۔ کچھ بیٹے زندگی کی تلاش میں موت لے آتے ہیں۔ آج عمران ان کے لیے موت ہی تو لے آیا تھا۔