Afsana 011 قسمت کی دستک از ساحرہ

کہتے ہیں ہر کسی کی زندگی میں کم سےکم ایک بار قسمت اسکے دروازے پر دستک دینے ضرور آتی ہے۔ بہت کم صاحب نظر ایسے ہوتے ہیں جو اسے پہچان کر دروازہ کھول کے اپنا مقدر سنوار لیتے ہیں مگر ذیادہ تر انجان اور آسمان چھونے کی حسرت رکھنے والے سطحی خوشیوں کے متلاشی زندگی بھر بہتر سے بہتر کی تلاش میں سرگرداں بھٹکتے بھٹکتے آبلہ پائی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ عبرت ناک کہانی بھی ایک ایسی ہی بدنصیب کوتاہ نظر لڑکی کی ہے جو اس دستک کو پہچان نہیں پاتی اور اچانک زبردستی چور دروازوں سے گھر میں گھس آنے والی خوش قسمتی کو اپنے ہاتھوں سے دھکے دے دے کر باہر پھینک دیتی ھے اور جب اپنی اس غلطی کا احساس ہوتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ھے اور وقت ریت کی طرح اسکی مٹھی سے پھسل چکا ہوتا ہے۔

قسمت کی دستک
از ساحرہ (ورجینیا،امریکہ)
ارے ہمارے تو نصیب ہی برے ہیں سسر صاحب تو ساری ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر اس جہان سے گزر گئے اور اماں جان ہیں کہ اپنی جوان بیٹی کو ہمارے سر پر تھوپ کر ویزے کی خاطر امریکہ جا بیٹھی ہیں۔۔ اب بندہ پوچھے جب ہمارے ہنسنے کھیلنے کے دن چھوٹی نند صاحبہ کے ناز اٹھانے میں گزر گئے اور بڑھاپے میں اگر ویزہ مل بھی گیا تو ہمارے کس کام کا ؟ اچار ڈالیں گے کیا؟۔ ارے کمبخت مر تی بھی تو نہیں ۔اگر ویزہ نہیں ملتا تو کم سے کم اسکے مرنے سے وہ کمرہ تو ہمیں ملے۔ ہم کب تک تک دو دو, بچوں کے ساتھ ایک کمرے میں وقت گزاریں۔ بڑی بھابھی شبانہ نے یہ سب کہتے ہوئے چھوٹی بھابھی عالیہ کو آنکھ ماری اور دونوں بات کرتے کرتے سرک کر سونیا کے دروازے کے مزید قریب ہو گئیں تاکہ سونیا بھی اپنے بارے میں اچھی طرح یہ زہر افشانیاں سن سکے اور ہمیشہ کی طرح گھبراہٹ کے مارے کمرے سے نکل کر پوچھے بھابھی کچھ کام ہے کیا ؟ بتائے میں کیا کردوں ؟ وہ دونوں اسی طرح اذیت دے دے کر اسکو اپنا زر خرید بنائے رکھتی تھیں ۔
ابھی بھی ان دونوں نے ملکر اپنے شوہروں سے چوری کمرہ بند کر کے انڈین مووی دیکھنے کا پروگرام بنایا تھا مگر بچوں کے ساتھ ہوتے یہ ممکن نا تھا اس لئے وہ چاہتی تھیں سونیا انکے چاروں بچوں کو سنبھالے جو ابھی ابھی تھکی ہاری کالج سے آنے کے بعد سبکو کھانا بنا کر برتن دھو کر اپنے کمرے میں کپڑے بدلنے گئ تھی۔
حسب توقع اپنے بارے میں یہ سنتے ہی سونیا گھبرا کر باہر نکلی ۔ابھی اس غریب کو کپڑے بدلنے کا وقت بھی نہیں ملا تھا،اسکے دیکھتے ہی چھوٹی بھابی چمک کر بولیں۔ "ہماری شہزادی کو تو بس اپنے کمرے میں گھسنے کا بہت شوق رہتا ہے ہر وقت۔ آخر ایسا کیا ہے وہاں"؟

سونیا خاموش رہی ۔ان سے کیا کہتی وہاں اسکی ماں کی یادوں کے سوا رکھا کیا تھا۔ چند کتابیں ،کچھ اونچے اونچے خواب جہاں ایک امیر شہزادہ آ کر اسکو اس درد بھری زندگی سے نکال لے جائے گا کہیں دور کسی پھولوں خوشبوؤں اور رنگوں کی دنیا۔ اسکے علاوہ ایک ٹوٹا پھوٹا کیسٹ پلئیر جس میں وہ پوری رات ایک ہی گانا بار بار سنتی رہتی تھی۔
مائیں نی میں کینوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی
دکھاں دی روٹی، سولاں دا سالن،آہاں دا بالن بال نی
مائیں نی مائیں نے۔۔۔
ساتھ ساتھ گنگناتے ہوئے جانے کتنے آنسو بہتے چلے جاتے اور اسے خبر تک نا ہوتی۔
سونیا کو رات میں مشکل سے چار یا پانچ گھنٹے ملتے تھے ان میں بھی وہ چاہے سو لے چاہے پڑھ لے مگر بھابیاں دن کا ایک لمحہ بھی اسے دینے کو تیار نا تھیں اور چاہتی تھیں وہ سارا دن بے دام غلام بنی انکے سامنے حاضر رہے۔۔
اب بھی بچوں کو سنبھالنے کا حکم سن کر وہ جواب میں کچھ نہ بول سکی اور اپنی ڈبڈبائ آنکھوں کو سختی سے بھنچتے ھوئے اندر ہی اند آنسو روکنے کی کوشش کرنے لگی۔
"اچھا اچھا ملکہ جذبات! اب یہ ٹسوے بہانا شروع مت کرنا خدا کے لئے چھوٹی بھابی عالیہ نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے ۔ پتہ نہیں اس لڑکی کی آنکھوں میں اتنا پانی کہاں سے آ تا ہے میں تو کہتی ہوں اسکے آنسوؤں سے تو ایک نیا "جھمیلا" ڈیم بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں لوڈ شیڈینگ کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا "۔اس بات پر دونوں بھابھیاں کھلکھلا کر ہنس دیں۔

"بس کرو بہن یہ رونا دھونا، بچوں کو سنبھالو، ہمیں دروازہ بند کر کے کچھ کپڑے سینے ہیں۔ بچے مشین میں ہاتھ مارتے ہیں سینے نہیں دیتے۔ خبردار جو ایک بچہ ذرا بھی رویا ہو یا ہمارے پاس بھیجا ہو۔ ہم خود کام ختم کر کے باہر آئیں گے۔" بڑی بھابھی نے چاروں بچوں کو اسکے حوالے کرتے ہوئے کہا۔
سونیا نے اپنی سسکیوں کا سینے میں گلا دباتے ھوئے ان چاروں بچوں کو ساتھ لیا اور اپنے کمرے میں آ گئی۔ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی وہ خود کو روک نا پائی اور دیوار سے سر ٹکا کر زور زور سے رونے لگی۔
"امی امی امی" ۔ وہ بار بار یہی تکرار کئے جاتی تھی ۔"کیوں چھوڑ دیا مجھےاکیلا ؟ کاش میں مر جاؤں۔" بچے بھی اسے روتا دیکھ کر سہم گئے اور چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اسکے آنسو صاف کرنے لگے۔ وہ بھی اس روز کے ڈرامے کے عادی تھے ۔ اپنی پھپھو سے بہت پیار کرتے تھے مگر عمر کے اس حصے میں تھے کہ اپنی ماؤں کو غلط سمجھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ مگر اپنی پھپھو کا دکھ کیسے سمیٹیں یہ بھی سمجھ نا پاتے تھے سو بس اسکی گود میں چپکے بیٹھے رہتے۔

باپ کے مرنے کے بعد اسکی امی کو ماموں نے زبردستی اپنے پاس امریکہ بلا لیا تھا تاکہ وہاں ویزہ لینے کے بعد اپنے سب بچوں کو بلا سکیں گی۔ اسے لئے پچھلے سات سال سے اسکی ماں امریکہ میں تھی ۔ وہاں وہ ایک بسکٹ فیکٹری میں کام کر کے پپیسہ پیسہ جوڑ کر ان لوگوں کے آنے کے لئے ٹکٹ اور گھر بنا رہی تھی۔ مہینے میں ایک بار فون پر بات ہوتی تو اتنی مختصر کہ جب اسکی باری آتی بھابیاں سر پر کھڑی ہو جاتیں کہ کوی شکایت نا کر دے۔ وہ بس ریسیور کانوں سے لگائے ہزاروں آنسو لٹاتی اپُنی مجبور اور بےبس ماں کی آواز سنتی رہتی۔

وہ خود ابھی اتنی بڑی نا تھی ابھی سیکنڈ ائیر میں تو تھی۔ ابھی تو اسکا اپنا بچپنا تھا کاش کوئی اسکے ناز اٹھانے والا ہوتا، کاش کوئی دنیا میں ایسا ہو جو اسکا خیال رکھے وہ حسرت سے سوچتی رہ جاتی۔ ورنہ حالات نے اسے اپنی عمر سے بہت بڑا اور سمجھدار بنا دیا تھا ۔الٹا وہ سبکا خیال رکھتی تھی سب کے ناز اٹھاتی تھی۔
اسکے دونوں بھائی ایک جنرل اسٹور کے مالک تھے سارا دن گھر سے باہر رہتے۔ رات 10 بجے آتے تو بیویوں کے ناز نخرے اٹھانے سے فرصت نا ملتی تو ایسے میں بیچاری بہن کے دکھ کیا سنتے یا سمجھتے؟۔
جب بھابھیوں کے ظلم و ستم حد سے بڑھ گئے تو اس نے اپنے بڑے بھائی کو خودکشی کی دھمکی دے کر ہوسٹل میں رہنا شروع کر دیا۔ بھائی نے اس سے بڑی قسمیں لیں کہ وہ اپنے خاندان کی عزت کا پورا پورا خیال رکھے گی جسکا اس نے وعدہ کر لیا۔

ہوسٹل میں اسکے کمرے میں چار لڑکیاں تھیں ۔ سب کی سب بہت شرارتی اور زندگی سے بھرپور۔ ان سب نے ملکر اسکا نام اداس شہزادی رکھا تھا کیونکہ وہ اکثر شام کو وہ نہا کر اپنے لمبے لمبے بال کھولے چپ چاب گھنٹوں سیڑھیوں پر بیٹھی رہتی کسی سے کوی بات نا کرتی نا کسی بات کا جواب ہوں ہاں سے آگے بڑھتا۔
لوگ ایسے بہت مغرور سمجھتے تھے کیونکہ وہ بہت حسین تھی۔ جو بھی اسکو دیکھتا ،دیکھتا ہی رہ جاتا، خاص طور پر گھٹنوں تک لمبے خوبصورت بال اور لمبی لمبی پلکوں والی نشیلی آنکھوں پر تو اسکے کالج کی ساری لڑکیاں فدا رہتی تھیں اور پلکیں ہاتھوں سے کھینچ کھینچ کر یقین کیا جاتا کہ یہ نقلی نہیں بلکہ اصلی ہیں۔ لڑکوں کا تو ذکر ہی کیا۔ جو ایک جھلک دیکھ لیتا تو نظر پلٹانا جیسے بھول جاتا تھا ۔ بیلا اکثر اسے چھیڑتی اور کہتی "کاش میں لڑکا ہوتی میری اداس شہزادی تو تم کو کہیں اور جانے نا دیتی" جواب میں وہ بس جھینپ کر مسکرا دیتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے بچپن سے کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اپنی تمام تر جمع پونجی وہ صرف کتابیں خریدنے میں صرف کرتی۔ ایک دن اس نے دیکھا تھا شملہ پہاڑی کے پاس ایک بابا جی زمین پر کپڑا بچھائے پرانی کتابیں بیچ رہے ہیں۔ بس اس دن سے بار بار وہ انکے پاس جاتی اور ہر بار پرانی کتابوں کا ایک نیا بنڈل خرید لاتی۔ یہ کتابیں ہی اسکی تنہائی کی واحد ساتھی تھیں۔۔ آج چوتھی بار تھی جب وہ کتابیں لینے آئی تو اسی لڑکے کو رحمت بابا کے پاس پھر سے کتابیں چھانٹتے دیکھا جسے پہلے بھی وہاں کئی بار دیکھ چکی تھی۔ اب کی بار وہ اسکو محض ایک اتفاق ماننے کو تیار نا تھی کہ اچانک وہ آج بھی وہاں آ گیا اسکو شک ہو رہا تھا یہ ضرور میرا پیچھا کرتا ہے.
وہ دیکھنے میں کوئی ہیرو بالکل نہیں لگتا تھا ۔ بالکل عام سی شکل و صورت کا عام سا لڑکا تھا۔ جسکے پاس ایک پرانی سی بائیک ہوتی تھی، مگر ایک چیز اس میں بہت خاص تھی، بہت ہی خاص، جو آج تک سونیا نے اپنے طرف اٹھنے والی کسی اور نظر میں نا دیکھی تھی۔ وہ تھی اسکی پاکیزگی اور شرافت۔ وہ سونیا کو اتنے پیار اور احترام سے ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا جیسے وہ کوئی بہت نازک اور ماورائی ہستی ہے اور جیسے ہی سونیا کی نظر سے نظر ملتی گھبرا کر ایسے منہ پھیر لیتا جیسے کوی جرم کرتے ہوئے پکڑا گیا ہو ۔ وہ لاکھ چاہنے پر بھی سونیا کو برا نا لگتا اور نا ہی اس سے کچھ خوف محسوس ہوتا ورنہ وہ عام مردوں کی ہوس میں لتھڑی نگاہوں سے بہت خوف کھاتی تھی اور اشد ضروری کام کے علاوہ ہوسٹل سے باہر کھبی نہیں جاتی تھی۔
ابھی وہ چند ہی کتابیں چھانٹ پائی تھی کہ دیکھتے دیکھتے اچانک بارش شروع ہو گئی ایک دم اندھیرا پھیل گیا اور اتنی تیز بارش کہ پل میں جل تھل ہو گیا ۔ اسکے پورے کپڑے بھیگ کر بری طرح چپک گئے۔ رحمت بابا نے جلدی جلدی اپنی کتابیں پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالنی شروع کیں تو وہ دونوں بھی انکی مدد کروانے لگے۔۔۔ بابا نے اسکی حالت دیکھ کر کہا "عمیر بیٹا تم سونیا کو ہوسٹل چھوڑ دو ایسے اکیلے میں کھڑے ہونا مناسب نہیں لگتا رات بھی ہونے والی ہے"
سونیا نے بہت خوف اور گھبراہٹ میں انکو دیکھا ۔وہ اپنے اصولوں کی بہت پکی تھی اور اپنے بھائیوں سے کیا وعدہ بھی نبھانا جانتی تھی۔ اس لئے ایسا کوئی رسک نا لینا چاہتی تھی۔ اسکا تذبذب دیکھ کر بابا نے کہا "بیٹیا عمیر بہت نیک اور اچھا لڑکا ھے۔ میں برسوں سے جانتا ہوں تم کوی فکر نا کرو اور اسکے ساتھ چلی جاؤ"۔

خیر بہت پریشانی اور الجھن میں وہ اسکے ساتھ ہوسٹل کا پتہ بتا کر آ تو گئی مگر جلدی میں اپنا کتابوں کا تھیلا لینا بھول گئی۔ اگلے دن گیٹ کیپر نے جب کہا اسکا کوئی ویزیٹرآیا ہے تو وہ بہت حیران ہوئی ۔ اسکے بھائی صرف سنڈے کو ملنے آتے تھے آج منڈے کو کون آ گیا وہ دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھ کر جب گیٹ پر آئی تو عمیر کو سامنے دیکھ کر سخت حیران ہوئی بلکہ نا چاہتے ہوئےبھی ناگواریت آنکھوں سے چھلکنے لگی اور دل میں سوچنے لگی۔ اوہ نو۔۔۔ میں یہ فلمی سٹوری شروع کبھی نہیں ہونے دوں گی ۔ میں ایسی نہیں ہوں یہ مجھے غلط سمجھ کر آیا ہے۔ ۔میں ایک شریف خاندان کی شریف بیٹی ہوں اور مجھے اپنے بھائیوں کا سر کھبی نہیں جھکانا ہے ایسی ویسی حرکتوں سے،نا ہی اپنے خاندان کو بدنام کرنا ہے۔ ویسے بھی یہ عام سی شکل و صورت کا غریب سا نوجوان میرا خواب نہیں ہو سکتا۔ مجھے کسی بہت امیر خوب صورت لڑکے سے شادی کرنا ہے تاکہ بچپن کی ساری محرومیاں ختم ہو سکیں۔
ابھی اس نے عمیر کے سامنے پہنچ کر کچھ کہا بھی نہیں تھا کہ عمیر نے اسکی کتابوں والا تھیلا آگے کر دیا۔ یہ آپ کل بھول گئیں تھیں۔ اوہ میری کتابیں؟ یہ دیکھتے ہوئے وہ سارا غصہ بھول گئی اور مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔ اسکی مسکراہٹ سے کچھ حوصلہ پا کر عمیر نے سرخ گلابوں کا گلدستہ اسکے سامنے کر دیا۔
"جی۔۔۔۔ "وہ پھول دیکھ کر پھر سے پریشان ہو کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ اور بولی "۔۔ جی نہیں ہرگز نہیں مجھے یہ پھول نہیں لینے ۔یہ آپ کیوں لائے ہیں؟"
اسکو پیچھے ہٹتے دیکھ کر عمیر بھی شرمندہ سا ہو گیا اور بولا، " مجھے ذیادہ آداب نہیں آتے مگر سنا ہے ہوسٹل میں آنے والے پردیسیوں کے لئے کچھ نا کچھ سوغات ضرور لاتے ہیں۔ آپ شاید اور کچھ قبول نا کرتیں اور خالی ہاتھ آنا مجھے اچھا نہیں لگا اس لئے پھول ہی لے آیا مگر کوئی بات نہیں آپ ناراض مت ہوں میں انکو ابھی پھینک دیتا ہوں۔" وہ پاس ہی بنے ٹریش کین کی طرف بڑھا تو وہ وہ پھولوں کی شیدائی تڑپ اٹھی" نہیں نہیں اتنے خوبصورت پھول۔ پلیز مت پھینکئے رہنے دیں میں رکھ لیتی ہوں۔ مگر آپکو اگر لانا بھی تھا تو سرخ گلاب نہیں لانے چاہیئے تھے ۔ آپکو نہیں پتا ؟ سرخ گلاب دینے کا کیا مطلب ہوتا ھے"؟
"جی نہیں مجھے تو بالکل نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔" عمیر اپنی شرارت آمیز ہنسی ہونٹوں میں دبا کر بڑی سنجیدگی سے بولا، "میں تو پھولوں کو بس پھول سمجھتا ہوں۔ آپکو پتا ہے تو میرے علم میں بھی اضافہ کر دیجئے پلیز"۔
"اچھا اب غور سے سن لیں۔" وہ بہت ناصحانہ انداز میں گویا ہوئی، "یہ پھول صرف محبت۔۔۔۔۔۔۔"کہتے کہتے جو عمیر کو اپنی طرف بہت پیار اور شرارت سے دیکھ کر مسکراتا پایا تو بری طرح جھنپ کر خاموش ہو گئی اور بات بدلنے کو بولی،" دوبارہ کھبی سرخ گلاب مت لائے گا اگر لانے ہیں تو کوئی اور رنگ لائے گا"
"دوبارہ ؟ تو گویا آپ بھی جانتی ہیں میں دوبارہ ضرور آؤں گا؟"۔ وہ شرارت سے ہنسا تو وہ سٹپٹا گئی اور خود کوسنے لگی کہ انجانے میں خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار بیٹھی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سونیا نے عمیر کو بہت روکنا چاہا۔ اپنی عزت کے واسطے دیئے، بہت روئی پیٹی۔ دھمکیاں بھی دے ڈالیں مگر اسکے طولانی عشق کے سامنے اسکی کوئی پیش نا چلی۔ وہ لاکھ چاہنے پر بھی عمیر کی محبتوں پر کوئی بند نا باندھ سکی اور مجبور ہو کر خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا کیونکہ شاید وہ بھی بچپن سے محبتوں کی ترسی ہوئی تھی۔ زندگی میں پہلی بار اتنا پیار ملا تو خود کو بچانا مشکل ہو گیا۔
عمیر تو سونیا کا جیسے دیوانہ تھا وہ اسکے لئے روزانہ گجرے لاتا ۔ پھولوں کے بڑے بڑے گل دستوں سے ہر وقت اسکا کمرہ مہکا کرتا۔ ۔ اسکے ساتھ ساتھ روم میٹس کے لئے بھی بہت سا کھانا لاتا۔ سونیا کے لئے دیسی انڈے، مکھن،دیسی گھی لاتا کہ ہوسٹل میں اور کون اسکا خیال رکھتا ہو گا بھلا۔ سردیاں آئیں تو نیا کمبل لے آیا۔ گرمی شروع ہوئی تو نیا پنکھا لا دیا۔ وہ چیختی رہتی" مجھے یہ سب نہیں چاہئے۔ پیسہ برباد مت کرو ہم اپنا گھر کیسے بنائیں گے۔ ابھی تو تم پر چھوٹےسات بہن بھائیوں کی ذمہ داری بھی ہے اور تمھاری معمولی سی جاب ہے، پی آر او کی، اور تم پڑھ بھی رہے ہو ساتھ ساتھ، اپنے پیسے بچا کر رکھو۔"

"انکی فکر کرنے کے لئے خدا جو ہے وہ مسبب الاسباب ہے ۔ ہر کوئی اپنے نصیب کا ساتھ لاتا ہے عمیر آسمان کی طرف اشارہ کرتا"۔
عمیر کا بس نہ چلتا کہ سونو کو اپنے کھال کی بھی جوتیاں بنا کر پہنا دیتا۔ ہر روز صبح 4 بجے اٹھ کر نہا دھو کر تیار ہوتا اور 2 گھنٹے سخت سردی میں بائیک چلا کر اسکے ہوسٹل پہنچتا اور جب وہ کالج کے لئے نکلتی تو اسے ہمیشہ انتظار کرتا پاتی ۔ وہ خود اسے کالج چھوڑ کر آتا۔ پھر واپسی پر بھی لے کر ہو سٹل چھوڑ دیتا۔ وہ اسکو زمانے کے سارے سرد و گرم سے کسی مضبوط سائباں کی طرح بچائے ہوئے تھا۔
۔
سونو تو جیسے ہواؤں میں اڑتی تھی وہ بات بات پر بلا وجہ اس سے ناراض ہو جاتی۔ اپنے بہت ناز اٹھواتی اور ان سب کو اپنا حق سمجھ کر لیتی۔ اپنی خوبصورتی کا صدقہ سمجھا کرتی۔ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئی تھی کہ پوری دنیا اسکو ایسے ہی چاہے گی وہ بنی ہی اس لئے ہے لوگ اس سے ایسی ہی محبت کریں۔ اسکو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اسے بھی عمیر سے محبت ہے یا وہ محض اسکی طرف سے محبت قبول کر رہی ہے۔ سونو نے عمیر کی محبت کو اتنی ہی نخوت سے قبول کر لیا تھا جیسے کوئی شہنشاہ اپنے حقیر درباریوں کا تحفہ قبول کرتا ہے۔۔
عمیر بار بار اسکو کہتا " میری سونو میری پیاری سونو۔ میں تمھاری خوش قسمتی ہوں۔ گھڑی بھر کے ساتھی تو ہزاروں مل جائینگے مگر مجھ سا سچا عاشق صدیوں میں ایک پیدا ہوتا ہے۔ اس پیار کی قدر کرو پلیز میری محبت کو فار گرانٹیڈ مت لو ورنہ بہت پچھتاؤ گی ایک دن" سونو اسکی بات کو ہنسی میں اڑا دیتی۔
وہ کھبی کھبی شام کو باغ جناح میں چلے جاتے تو دونوں پر درخت اور پھولوں کے کنج کے پاس بیٹھ کر کہتے بانو قدسیہ نے "راجہ گدھ" میں جن جگہوں کا ذکر کیا ہے وہ شاید یہ والی ہو گی یا پھر وہ والی۔
"تم میرے ساتھ ایسا تو نہیں کرو گی سونو ؟ عمیر آنکھوں میں ہزاروں وسوسے لئے بڑی امید و نا امیدی کی کشمکش میں اسے دیکھ کر پوچھتا ؟ مجھ سے وعدہ کرو میری قسم کھاؤ "راجہ گدھ" جیسا انجام تو نا ہو گا میری محبت کا ؟ ایسا نا ہو آج سے بیس سال بعد ہم بھی ایسا ہی کوئی ناول لکھ رہے ہوں وہ ایکدم انجانےخدشوں سے بےکل ہو جاتا تو وہ ہنس کر کہتی،
"نہیں میں ایسی نہیں ہوں عمیر۔ دیکھ لینا میں میں لوٹ کر ضرور آؤں گی تمھارے پاس چاہے آنے میں کچھ دیر کیوں نا ھو جائے"
اس پر عمیر بہت جذب کے عالم میں خدا سے وہی اپنی فیورٹ دعا مانگے جاتا اور کہتا " میری خدا سے دعا ھے جب میں مروں تو تمھاری گود میں میرا سر ہو۔ یہ دعا پوری ہونے کے لئے ضروری ہے تم زندگی بھر میرے ساتھ رہو تب ہی تو مرنے کے وقت بھی ساتھ ھو گی نا۔ دیکھا میں نے کتنی چالاکی سے دو دعائیں ایک ساتھ مانگ لی ہیں اب تو اللہ کو آخری والی پوری کرنے کے لئے پہلی والی بھی ضرور پوری کرنی پڑے گی۔"

وہ دونوں اکثر باغ جناح کی کنٹین میں بیٹھ کر چائے پیتے اور ہمیشہ وہاں ایک ہی گانا لگا ہوتا
دسمبر کا سماں وہ بھیگی بھیگی سردیاں
گزاری تیرے سنگ جو لگا کے تجھے انگ جو
وہ پل سب کیا ہوئے؟ ناجانے کہاں کھو گئے
بس یادیں باقی
ایک دن جب وہ بیٹھے تھے اور حسب معمول یہی گانا لگا ہوا تھا تو سونو نے اپنے بیگ سے شوخ سے گانوں کی کیسٹ نکالی اور کینٹین بوائے کو دے آئی کہ پلیز اب سے یہ بجانا ۔ وہ رونے دھونے والا گانا سن سن کر کر ہماری روح بھی فریاد کرنے لگی ہیں ۔ہمیں خواب میں بھی یہی گانا سنائی دیتا ہے ابھی تو ہماری زندگی میں کوئی یادیں نہیں ہیں۔ نا کوی رونا پیٹنا ہے۔ ہم بہت خوش ہیں اور صرف خوشی کو ہی سلیبریٹ کرنا چاہتے ہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن تیزی سے پر لگا کر اڑتے جا رہے تھے کہ ایک دن اچانک سونو کے ویزے کے پیپر آ گئے۔
عمیر کا بس نہیں چل رہا تھا سونو کو زنجیروں سے باندھ کر روک لیتا۔
"نہیں مجھے ایک بار تو جانا ہے اپنی ماں سے ملنے وہ چیخی ، مگر میں واپس آ ؤں گی تم دیکھ لینا میں ضرور آؤں گی، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو بدل جاتے ہیں جن کا خون سفید ہو جاتا ہے" سونو نے ہزار بار کا کہا جملہ ایک بار پھر سے دہرایا ۔
"اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ مگرمیری ایک شرط پوری کر دو۔، اگر تمہارا پیار سچا ہے تو جانے سے پہلے مجھ سے نکاح کر لو تاکہ تمہارے پاس وہاں جا کر وآپس آنے کی مضبوط وجہ تو ہو اور دنیا کی کوئی رکاوٹ تمھارا راستہ نا روک سکے "عمیر بہت اداسی سے بولا۔
"کیا۔۔۔۔۔۔۔۔سونو کے ہاتھوں سے پھول نیچے گر گئے، میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم مجھے اتنا گھٹیا مشورہ دے بھی کیسے سکتے ہو؟۔ مجھے تو یقین ہو رہا ہے تمہیں مجھ سے محبت نہیں بلکہ گرین کارڈ چاہئے اسی لئے ایسے غیر اخلاقی مشورے دے رہے ہو"
یہ سننا تھا کا عمیر کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا ۔وہ خود کو روک نا پایا اور بہت زور سے سونو کو چانٹا رسید کر دیا۔ اتنا رکیک الزام میری محبت پر لگاتے تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آئی۔" وہ بہت دکھ سے بولا۔
اور وہ جو صرف اسکی بے پناہ محبتوں کی عادی تھی چہرے پر ہاتھ رکھے گنگ کھڑی رہ گئی۔ یہ پہلی بار تھی ان چودہ مہینوں میں جب وہ اس سے ناراض ہو کر چلا گیا ایک بار مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ سونیا کو سخت غصہ تھا وہ اس ذلت کو بھول نہیں پا رہی تھی۔ غصہ تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
وہ غصے میں پیچ وتاب کھا رہی تھی اس سے ملے بغیر امریکہ جانے کے منصوبے بنا رہی تھی۔ صبح جب کالج جانے کے لئے نکلی تھی حسب معمول سامنے موجود تھا مگر بے حد سرخ آنکھوں کے ساتھ رویا رویا لٹا لٹا سا۔ اسکو دیکھتے ہی سامنے آیا اور بولا "مجھے معاف کر دو پلیز ۔ ورنہ میں اپنا ہاتھ کاٹ دوں گا" وہ سختی سے اسکا ہاتھ جھٹک کر آگے بڑھ گئی تو وہ اس کے سامنے آ کر زمین پر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھ جوڑ دیئے اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ "مجھے معاف کرو پلیز۔ میری محبت کو پہچانو ۔اتنی ظالم نا بنو۔ خود کو خدا مت سمجھو ۔ ایسی محبتیں ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتیں۔ جو تمہیں ملی ہے تو اسکی قدر کرو ،اس سے منہ مت موڑو ایسا نا ہو اپنی بے قدری پر محبت تم سے ناراض ہو کر ہمیشہ کے لئے منہ موڑ لے اور تم زندگی بھر سر پٹختی رھو۔" ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سونوکو امریکہ آئے آج تیسرا دن تھا جب ممانی اسے اپنی دوست آنٹی فاری کے کر گھر چھوڑ گئیں کہ وہاں وہ بےبی سٹینگ میں ہیلپ کر کے انکی مدد کر سکتی تھی اور کچھ پیسے کما سکتی تھی۔
فاری آنٹی کا گھر بہت بڑا تھا اور بہت خوبصورت بھی بالکل اسکے خوابوں کی طرح، انکی دو بیٹیاں پا س ہی بیاہ کر گئیں تھیں جو ہر وقت اپنے میکے میں پائی جاتی تھیں اور دو بیٹے پڑھنے کے لئے دوسری اسٹیٹ میں رہتے تھے۔ ان میں سے بڑا بیٹا اسد اپنی انجینئرنگ ختم کر کے اگلے ہفتے واپس آنے والا تھا جسکے لئے وہ کب سے پاکستان سے اپنی بھانجی بیاہ کر لانے کو بےتاب تھیں۔
آخر وہ دن دن آگیا جب اسد کو آنا تھا، سونو نے آنٹی کے ساتھ مل کر بہت سے اچھےاچھے کھانے بنائے ۔ جب اسد آیا اور سونو کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اتنی پیاری لڑکی اور اتنی سلیقہ مند بھی۔ بس اس نے نے تو ماں کا پیچھا لے لیا شادی ہو گی تو سونیا سے ورنہ کسی سے نہیں۔اپنی بیٹے کی ضد سے مجبور ہو کر انھوں نے شادی کا پیغام دے تو دیا مگر دل میں بدلہ لینے کی ٹھان لی کہ وہ بھی اسکو جلدی طلاق دلوائیں گی اور اپنی بھانجی کو ضرور لا کر رہیں گی۔
جب سونیا کو پتہ لگا تو وہ بہت پریشان سی ہو گی۔ گھر والوں کا بھی بہت ذیادہ دباؤ تھا کہ وہ امریکہ میں ہی اسد سے شادی کرے اور اسے پاکستان میں شادی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے، چاہے کچھ بھی ہو جائے ہر حال میں اسکو امریکہ میں شادی کرنی ہے تو اسد ہی کیوں نھیں۔
اسکا ضمیر عمیر کے پاس جانے پر مجبور کرتا مگر دل گھر والوں کے دباؤکےعلاوہ فاری آنٹی کے گھر کی چمک دمک میں الجھ رہا تھا اور پھر کہاں ایک عام سی شکل و صورت والا عمیر اور ناولوں کے ہیرو جیسا خوبصورت اسد۔ ۔ ان دونوں کا کیا مقابلہ ہے؟۔
تین دن تک وہ سخت شش و پنج میں رہی کبھی اسد اور کھبی عمیر۔ اس سے فیصلہ نا ہو کے دیتا تھا ۔ آخر کار دستور دنیا کے مطابق محبت ہار گئی اور دولت جیت گئی۔
ایک مہینے کے اندر اندر وہ اسد کی دلہن بن گئی۔ نکاح نامے پر سائن کرتے وقت اسکو بالکل اندازہ نہیں تھا اس نے کتنے گھاٹے کا سودا کیا ہے اور وہ اپنی خوشی نہیں بربادی کے پروانے پر سائن کر رہی ہے۔۔ اپنے تئیں وہ خود کو اس وقت فاتح عالم سمجھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکو پتہ تو تھا وہ ان چاہی بہو ہے مگر شادی کے تیسرے دن ساس اسے کچن میں کھڑا کر دیں گی ہمیشہ کے لئے خود چھٹی کر لیں گی اسکا یقین نا آتا تھا، سارا سارا دن دن انکی بیٹیان اپنے بچوں کو لے آتیں۔ اپنے دوستوں کو لاتی۔ انکی شوہروں کی فرمائش پر کھانے پکانے میں وہ ہلکان ہوتی رہتی۔ اسد کا شوق تو جیسے شادی کے پہلے دن ختم ہو گیا تھا۔ ہر وقت ماں بہنوں کے شکوے سن سن کر اپنی بیوی سے نفرت کرنے لگا تھا اور اسکو ایک نوکرانی سے ذیادہ اہمیت دینے کو تیار نہ تھا۔ وہ ایک ایک پیسے کے لئے ترستی۔ اپنی انتہائی ذاتی ضرورت کی چیزیں بھی نہیں لے سکتی تھی وہ ڈرتے ڈرتے اسد سے کہتی تو وہ چلا کر کہتا۔ "پسے درختوں پر نہیں اگتے ملکہ عالیہ۔۔ کچھ نہیں مل سکتا تمہیں ۔ دو وقت کا کھانا ملتا ھے یہ بھی احسان مانو"۔ سونو کی ماں نے کچھ پیسے جوڑ کر شادی میں اپنی بیٹی کو کار بھی دی تھی جو اسد نےصرف اپنے نام ٹراسنفر کروا لی اور جب اچانک سونیا نے پیپرر دیکھ کر پوچھا تو وہ بڑی ڈھٹائی سے بولا۔ ہمارےخاندان میں لڑکیوں کے نام کچھ نہیں کرتے۔
سونیا کی پوری زندگی جیسے ایک بہتا ہوا ناسور بن چکی تھی۔ اسکا حسن ماند پڑ گیا تھا ۔ کوئی اسکو دیکھتا تو پہچان نا سکتا۔ عمیر کے جملے بار بار اسکے کانوں میں گونجتے، میری محبت کی بے قدری نا کرو ، کوی اور تم کو اتنا نہیں چاہ سکے گا۔
اسکی حثیت گھر میں ایک زر خرید سے ذیادہ نہیں تھی سارا دن اسکے دل کا درد آنکھوں سےقطرہ قطرہ بن کے بہتا رہتا اور دل کی دھڑکن تو جیسے ہر بار عمیر کا نام پکارتی تھی ہر سانس کے ساتھ ۔ جیسے جیسے ماہ وسال گزرتے جا رہے تھے عمیر کے لئے اسکا پیار بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اسکو اچھی طرح علم ہو چکا تھا عمیر ہی اسکی زندگی میں خوش قسمتی لایا تھا مگر اپنی کم عقلی سے اس نےکھو دیا تھا۔ اب پچھتانے سے کیا ہو سکتا تھا۔ کھبی کھبار اسد اسکو جیسے ٹریش کین کے طور پر استعمال کر کے حق زوجیت ادا کر دیتا اور بس۔ اسکی اپنی بے شمار مصروفیات تھیں اور اس سے بھی ذیادہ گرل فرینڈزتھیں ۔ اسکی زندگی میں سونو کی کوئی جگہ نا تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بھی اس نے اپنی نندوں اور انکے شوہروں کی پسند کا کھانا بنایا ۔ پورا گھر صاف کیا، بچوں کو سارا دن سنبھالا ۔ اسکی کمر ٹوٹ رہی تھی پھر بھی سارے کپڑے دھوئے۔ استری کر کے رکھے اور کمر کو دونوں ہاتھوں سے تھامے شام کو اپنے کمرے میں جانے لگی تو ساس بولیں۔ تم جا کر نہاری کا گوشت لے آؤ ۔ نازلی کے ساتھ ایک دوست فیملی بھی آ رہی ہے ۔انکو نہاری بہت پسند ہے ابھی بنانا ھو گی تم کو ان کے آنے سے پہلے پہلے۔
وہ کچھ بھی بول نا سکی خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی آنسو پیتی چابیاں اٹھا کر گوشت لینے نکلی تو ہسپتال کے سامنے کار کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ اسکو کوستی باہر نکلی تو ایک پاکستانی عورت کو سجدےمیں پڑے بلکتے دیکھا تو رہ نا سکی۔ اپنا غم بھول کر اسکے سامنے بیٹھ گئی اور جب اس نے چہرہ اٹھایا تو حیران رہ گی وہ بیلا تھی اسکی ہوسٹل کی روم میٹ جو ہمیشہ اسے عمیر کی محبت کا یقین دلاتی تھی اورباقی لڑکیوں کی طرح عمیر کی غربت یا کم صورتی کا مذاق نہیں اڑاتی تھی۔

"سونو تممممممممممممممممم۔" بیلا کے لبوں سے جیسے آہ سی نکلی۔ "بہت برباد کیا تم نے مجھے بھی اور عمیر کو بھی۔، ہماری زندگی سے جا کر بھی ہمیشہ میری سوکن بنی رہی۔۔ تمہارے جانے کے بعد عمیر بار بار ہوسٹل آتا اور گھنٹوں اس بنچ پر اکیلا بیٹھ کر ہچکیوں سے روتا رہتا تھا۔ مجھ سے اسکی تکلیف برداشت نہیں ہوتی تھی، تمھاری شادی کے بعد میں نے خود اسکی منتیں کر کے اس سے شادی کر لی تاکہ وہ اس طرح بلک بلک کر تمھاری ہر چیز کو دیکھ کر رونا چھوڑ دے ورنہ وہ تو اتنے غم میں مر ہی جاتا۔
کیا تمہیں یقین آئے گا میں اسکے ساتھ باغ جناح میں جا کر گھنٹوں اس بنچ کے پاس بیٹھی رہتی جہاں تم بیٹھتتی تھیں اور وہ اسکو چھو چھو کر روتا رہتا۔ تمھارے بنچ پر بیٹھ کر تمہارے لئے اسکا رونا اور تڑپنا دیکھا کرتی تھی۔۔ میں آج تک فیصلہ نہیں کر سکی تم دنیا کی سب سے ذیادہ خوش نصیب لڑکی ہو(جسکو اتنی شدت سے چاہا گیا ہے( یا دنیا کی سب سے ذیادہ بدنصیب لڑکی ہو (کہ جس نے اس پیار کو ٹھکرا دیا ہے)؟۔

عمیر نے زندگی میں مجھے کھبی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی نا کھبی کسی چیز کے لئے ترسنا پڑا۔ خدا نے دولت بھی بہت دی بس ایک عمیر نے اپنا دل کھبی مجھے نہیں دیا ۔ وہاں آج بھی تم ہو۔ ۔اس سے ذیادہ ظلم کیا ہو گا کہ جب میں دو بار ماں بننے والی تھی تو اس نے میرے کمرے میں تمہاری بڑی سی تصویر لگا دی اور رو رو کر مجھ سے کہا "۔ تم تو میرا دکھ سمجھتی ہو بیلا۔ پلیز مجھے مایوس مت کرنا، کہتے ہیں ماں اگر کسی تصویر کو بہت ذیادہ دیکھے تو بچے بالکل ویسے ہوتے ہیں۔ پلیز میری خوشی کی خاطر تم کو سونو کی تصویر کو مسلسل دیکھنا ہو گا اور تم کو یقین نہیں آئے گا میں نے نو مہینے تمھاری تصویر کو بہت دیکھا اپنی محبت کی خوشی کے لئے۔ یہ دیکھو میرے دونوں بچوں کی شکل تم سے کتنی ملتی ہے۔" وہ پرس سےاپنے دونوں بچوں کی تصویر نکال کر اسے دیکھاتے ہوئے بولی۔ بچوں کی شکل حیرت انگیز طور پر سونو سے ملتی تھی۔ وہ تڑپ اٹھی،" عمیر کہاں ہے وہ دل کے درد کو دباتے ہوئے چیخی۔؟"
"وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے اسکے گردے فیل ہو چکے ہیں۔ ہارٹ اٹیک ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ تمہارے غم نے اسکو اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیا ھے، چلو مرے ساتھ چلو شاید تمہیں دیکھ کر اسکی کچھ سانسیں بڑھ جائیں۔" بیلا اسے گھسیٹنے لگی۔
ہہ سننا تھا کہ سونو دیوانہ وار بھاگی۔ ایک چپل راستے میں گر گئی مگر اسکو ہوش کہاں تھا۔ وہ ٹھوکریں کھاتی گرتی پڑتی اسکے کمرے کی طرف بھاگ رہی تھی
۔ نہیں نہیں عمیر میں آ گئی ہوں۔ میں نے محبت کو پہچان لیا ہے ۔ دیکھو میں نے سارے دروازے کھول دیئے ہیں۔ میں بیلا کی نوکرانی بن کر رہ لوں گی مگر مجھے قبول کر لو۔ میری محبت کو میری معافی کو قبول کر لو ورنہ مجھے چین سے موت بھی نصیب نا ہو گی۔
وہ چیخ چیخ کر اپنا سر دیواروں سے ٹکرا رہی تھی۔ آج میں واپس نہیں جاؤں گی جب تک تم مجھے قبول نا کرو گے میں اپنی جان دے دوں گی۔ ڈاکٹر اسکو کمرے سے باہر دھکیل رھے تھے مگر اس نازک سی لڑکی میں محبت کی اتنی طاقت آ چکی تھی کہ کوئی اسے روک نا سکا وہ آکسیجن لگے ماسک کو ہٹا کر عمیرکو جھنجھوڑنے لگی۔ وہ اسکے ہاتھوں کو دیوانہ وار چوم رہی تھی۔ اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا ۔اسکا بس نھیں چل رہا تھا وہ اپنا دل اور گردے نکال کر عمیر کے جسم میں فٹ کر دے۔ ڈاکٹر بالکل مایوس تھے جب عمیر نے اچانک آنکھیں کھول کر سونو کو دیکھا۔ سب لوگ خوشی سے چیخنے لگے۔ عمیر نے سونو کو اپنے پاس دیکھا ایک ہلکی غیر محسوس آسودہ سی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر پھیل گئی۔ سونو نے آج اسکی محبت کا اعتبار کر لیا تھا وہ زندگی ہار کر اپنی محبت جیت گیا تھا یہ احساس ہوتے ہی اس کے جسم اور روح کا ناطہ ٹوٹ گیا، کم سے کم اسکی ایک آخری خواہش تو پوری ہو گئی تھی اور اس نے اپنی خواہش کے عین مطابق اپنی سونو کی بانہوں میں دم توڑا تھا۔

سونو پھر ویسے کی ویسے تہی دامن رہ گئی تھی۔ عمیر نے تو اسے معاف کر دیا مگر محبت نے اسکو معاف نہیں کیا تھا قسمت اب کی بار اپنی مرضی سے راستہ بدل کر نکل گئی تھی۔
اسکو اپنی آخری سانس تک یہ سزا اٹھاتے رہنا تھا۔ باہر اسکی گاڑی میں ابھی بھی ایک گانا بج رہا تھا جو وہ پچھلے سترہ سال سے مسلسل سنتی آ رہی تھی۔ جب بھی پرانی کیسٹ ٹوٹ جاتی وہ ایک نئ کیسٹ کے دونوں سائیڈز میں ایک ہی گانا ریکارڈ کروا لیتی تھی
دسمبر کا سماں وہ بھیگی بھیگی سردیاں
گزاری تیرے سنگ جو لگا کے تجھے انگ جو
وہ پل جانے کیا ہوئے ،وہ دن کہاں کھو گئے
بس یادیں باقی۔